بہار مدرسہ بورڈ میں بدعنوانی حکومت کی شہ پر؟

Share Article

اشرف استھانوی
بہار میںبد عنوانی کے خلاف جنگ کے سرکاری دعوے اور گھن گرج کے درمیان سرکاری کنٹرول والے بہار مدرسہ ایجو کیشن بورڈ میں جس بڑے پیمانے پر بد عنوانی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے بورڈ کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ مگر میڈیا کے لگاتار احتجاج کے باوجود نتیش حکومت نے جس طرح اس حوالے کی طرف سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کیا ہے ۔ اس سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی مرضی اور منشا سے مدارس کے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کی غرض سے چل رہا ہے ۔
مدارس کے تعلیمی نظام کو تباہ و تاراج کرنے کی اس سازش کا آغاز نتیش کمار کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں اس وقت ہوا جب ابتدائی سطح کے ایک معمولی مدرس مولانا اعجاز احمد کو مدرسہ ایجو کیشن بورڈ کا چیر مین بنا دیا گیا۔ موصوف کے پاس اس عہدہ کو حاصل کرنے کے لئے ضروری کوئی اہلیت نہیں تھی سوائے اس کے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے خوشامد پسند، سیاست دانوں کے چمچہ اور گھوٹالہ مینجمنٹ کے گرو گھنٹال ہیں۔ ان کے پاس دلالوں کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے۔ جو پورے بہار میں چوبیسوں گھنٹے سرگرم رہتا ہے۔ ریاستی حکومت کو مدرسہ ایجو کیشن سے متعلق ہر معاملے کو ریاستی کابینہ میں لے جانا پڑتا ہے۔ اور وہاں سے منظور کرانا پڑتا ہے۔ مگر بورڈ کے چیر مین اور ان کے دلالوں کو کسی قاعدے قانون یا ضابطہ کی خانہ پُری کے چکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ وہاں ہر کام سامنے والے کی جیب کے وزن کے مطابق آسانی سے انجام پاتے ہیں۔ پھر چاہے وہ مدارس کی منظوری کا معاملہ ہو مدارس میں اساتذہ کی بحالی، منیجنگ کمیٹی کی منظوری ، طلبا و طالبات کا رجسٹریشن اور امتحان کی کاپیوں کی جانچ کے لئے مراکز کا تعین کا ۔ تمام کاغذات اور اسناد ریڈی میڈ ہر وقت دلالوں کی جیب میں پڑے رہتے ہیں۔ ادھر جیب خالی ہوئی اُدھر مطلوبہ کاغذ آپ کے ہاتھوں میں۔ یعنی مدرسہ بورڈ نہ ہوا، کھانے کمانے بلکہ کالا دھن جمع کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ بورڈ کے بد عنوان اسٹاف چیر مین کے چہیتے ہیں۔ کیوں کہ وہ کالی کمائی میں چیر مین کی مدد کرتے ہیں اور اپنی بھی دنیا سنوارتے ہیں ۔بھلے ہی عاقبت بگڑ جائے۔ اس کی انہیں کوئی فکر نہیں ہوتی ہے اور جو لوگ ایماندار ہیں وہ بُری طرح نظر انداز ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد حالاں کہ بہت کم ہے۔ انہیں ضابطہ کے مطابق پرموشن بھی نہیں ملتا ہے۔ جب کہ بد عنوانوں کو انعام کے طور پر دھڑادھڑ پرموشن ملتا ہے۔
گذشتہ سال مئی میں ویجلینس نے چھاپہ مار کر چیر مین مدرسہ بورڈ کے پرائیوٹ سکریٹری ایس صادق کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا اور جیل رسید کیا۔ ان کے قبضے اور گھر سے ویجلینس کو 60 بھر سونا، 8 لاکھ نقد، 5 لاکھ کا فکسڈ ڈپازٹ، دو گاڑیاں اور کروڑوں کی غیر منقولہ جائداد کے دستاویزات ملے۔ جب کہ وہ 1989 ء میں صرف1900 روپے ماہانہ پر بحال ہوئے تھے۔ لیکن جیل سے رہائی کے بعد انہیں ترقی دے کر بورڈ کا اسسٹنٹ سکریٹری بنا دیا گیا۔ او روہ ایک بار پھر پوری سرگرمی سے لوٹ کھسوٹ کرکے چیر مین اور اپنی جھولی بھرنے میں مصروف ہیں۔ اسی طرح موجودہ پرائیوٹ سکریٹری رضوان اسلام ہیں جو 1993 میں صرف 1600/- روپے ماہانہ تنخواہ پر بحال ہوئے تھے ۔ آج کروڑوں کے مالک ہیں۔ اکزامنیشن کنٹرولر محمد مصطفی 1979 میں ملازمت میں آئے تھے۔ آج پٹنہ میں ان کی کروڑوں کی جائداد ہے۔ طاہر حسین اسسٹنٹ ہیں1989 میں بحال ہوئے۔ آج کروڑوں کے آدمی ہیں۔  یہ بھی رنگے ہاتھوں ویجیلنس کی زد میں آئے تھے اور گیارہ مہینے جیل کی ہوا کھانے کے بعد لوٹے ہیں۔محمد اکرم اسسٹنٹ، مشتاق احمد خاں اسسٹنٹ اور شکیل احمد اسسٹنٹ بھی کروڑ پتی بننے کی دوڑ میں شامل ہیں اور چیر مین کے خاص الخاص اور منظور نظر مانے جاتے ہیں۔ قصہ صاف ہے۔ فی الوقت امتحانات او رریزلٹ کی تیاری کا کام چل رہا ہے۔ امتحان کی کاپیوں کی جانچ میں بھی بڑے پیمانے پر پیسے کا کھیل ہوتا ہے اور اس کھیل سے ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ چیر مین کی تجوری میں جاتا ہے۔ اس لئے کاپیوں کی جانچ کے مراکز اور نگراں کے تعین میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوتی ہے۔ اس بار بھی ہوئی ہے۔ پہلے تو ضابطے کی اندیکھی کرتے ہوئے دور دراز کے چھوٹے، مدارس کو مرکز بنایا گیا اورپھر نگراں کے تعین کے معاملے میں بھی امتیاز کیا گیا۔ مثلاً فوقانیہ امتحان کی کاپیوں کی جانچ کے لئے مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ سٹی، مدرسہ یتیم خانہ امام باڑی، لہریا سرائے دربھنگہ، مدرسہ انوار العلوم سرملا، سہرسہ اور جامعہ صدیقیہ ڈگروا گھاٹ پورنیہ کو مرکز بنایا گیا اور چاروں مراکز کے لئے نگراں مقرر کئے گئے مگر بعد میں اول الذکر ۳ مراکز کے نگراں واپس بلا لئے گئے اور صرف پورنیہ مرکز کے نگراں کو چھوڑ دیا گیا۔ کیوں کہ وہاں چیر مین کے خاص آدمی یعنی ایس صادق مامور تھے۔
اسی طرح مولوی امتحان کی کاپیوں کی جانچ کے لئے مدرسہ نصیریہ، کٹیہار کو جو وسطانیہ معیار کا مدرسہ ہے اور شہر سے 25 کیلو میٹر دور ہے ، جائے مرکز بنایا گیا ہے اور وہاں کے لئے بھی افسر انچارج یعنی نگراں ایس صادق کو ہی بنایا گیا ہے۔ اسی طرح کشن گنج میں مدرسہ فیض العلوم کو مرکز بنایا گیا ہے جو مرکز بننے کی شرائط پوری نہیں کرتا ہے۔ شہر سے بھی کافی دور ہے اور جس کے بارے میں وہاں کے سابق ضلع مجسٹریٹ فراق احمد کی منفی رپورٹ ہے۔ پھر بھی اسے مرکز بنایا گیا ہے تاکہ ریزلٹ بہتر کرانے والوں کی حسب منشا اور حسب نقد بھر پور خدمت کی جا سکے اور بورڈ کے چیر مین اور ان کے قریبی لوگوں کی جھولی بھی بھری جا سکے۔  لیکن ان سب سے بڑا معاملہ 2459+1 مدارس کی منظوری سے متعلق ریاستی حکومت کے محکمہ فروغ انسانی وسائل کے نوٹی فکیشن نمبر 162 مورخہ15.2.11 سے پیدا شدہ غلط فہمی سے فائدہ اٹھانے اور بھولے بھالے مدارس کے اساتذہ اور منتظمین کو لوٹنے کی کوشش کا ہے جو اس وقت بورڈ کی سرپرستی میں چل رہا ہے اور اس کا تاـزہ ثبوت مدرسہ بورڈ کے سکریٹری مصطفی حسین منصوری کی طرف سے ریاست کے تمام ضلع ایجو کیشن افسران کو جاری مکتوب 11.4.11 ہے جس میں اُن سے منظوری کی آس لگائے ضلع کے تمام مدارس کی جانچ کرکے رپورٹ مدرسہ بورڈ کو پیش کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ کام بورڈ کے ذمہ نہیں ہے اور نہ ہی بورڈ کو اس کا مکتوب جاری کرنے کا حق ہے۔ یہ معاملہ براہ راست محکمہ کے پرنسپل سکریٹری اور ضلع ایجو کیشن آفیسر کا ہے۔ مگر بورڈ نے محض مدارس سے جڑے لوگوں کو ورغلانے اور انہیں یہ تاثر دینے کے لئے یہ کارروائی کی ہے کہ دیکھو یہ معاملہ بورڈ کے ہاتھوں میں ہے اور بورڈ کو خوش کئے بغیر تمہارے مدارس کی منظوری نہیں مل سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں پہلے سے ہی لمبی داڑھی کرتا اور صافہ والے لوگ امید وار مدارس کے ذمہ داروں اور اساتذہ سے خراج وصولنے کا کام کر رہے ہیں۔ حالاں کہ اس معاملے میں ہوگا وہی جو مدرسۃ البنات کے معاملے میں ہوا تھا۔ کیوں کہ شرائط اس قدر سخت تھیں کہ 500 مدرسہ البنات میں سے صرف 9 کو ہی منظوری مل سکی تھی۔ اس بار بھی وہی ہوگا۔ لیکن لوٹنے والوں کا کام بھر پور ہوگا۔ کیوں کہ وہ نوٹی فکیشن کے بعد ہی سرگرم ہو چکے ہیں۔ اور تمام شرائط پوری کرنے والے جن معدود ے چند مدارس کو منظوری مل سکے گی ان کے اساتذہ کو سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے مساوی تنخواہ بھی نہیں ملے گی بلکہ کنٹریکٹ پر بحال اساتذہ کے مساوی تنخواہ دی جائے گی۔ لیکن چوں کہ بورڈ کے دلالوں کے ذریعہ قلع بندی اور فضا بندی بڑے پیمانے پر ہوئی ہے۔ اس لئے منظوری دلانے کے نام پر متعلقہ افراد سے بڑی بڑی رقمیں وصول کی جا رہی ہیں اور مدارس کی منیجنگ کمیٹی کی طرف سے اساتذہ کی فہرست میں کیش کے مطابق تبدیلی کی جا رہی ہے۔ مطلب یہ کہ منظوری کے لئے اگرمنیجنگ کمیٹی کو بھاری رقم دلالوں کو دیتی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اس رقم کا انتظام مستفید ہونے والے اساتذہ کے چندے سے ہی کریں گے اور جو اساتذہ مطلوبہ رقم دینے سے قاصر رہیں گے ان کا نام فہرست سے ہٹا کر ان نئے اساتذہ کا نام شامل کیا جائے گا جو مطالبات پوری کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بڑے پیمانے پر لوگ پیسوں کے انتظام میں جٹے ہیں، کوئی گھر اور کھیت کاغذات گروی رکھ رہا ہے تو کوئی بیوی کے زیورات اور کسی کے پاس اور کچھ نہیں ہے تو وہ سود پر رقم لینے کی تیاری میں ہے اس امید پر کہ منظوری کے بعد اسے بھاری بھرکم رقم ملے گی اور وہ قرض چکادے گا ۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوگا اور بہتوں کے ہاتھ صرف بربادی اور مایوسی ہاتھ لگے گی۔ مگر افسوس کہ اس صورت حال پر قابو پانے اور غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے عوام کو گمراہ ہونے سے بچانے کی کوئی سرکاری کوشش نہیں ہو رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *