بہار کی ترقی میں: رکشہ پلروں کا حصہ کہاں ہے؟

Share Article

وسیم احمد
نتیش کمار کہتے ہیں کہ بہار میں ترقی ہوئی ہے۔ 6 برسوں  میں یہاں فی کس آمدنی میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔صوبہ میں ترقی کا اوسط 13-14 فی صد  ہے۔لیکن ریاست کی صورت حال کچھ اور ہی کہتی ہے۔ بہار میں ہائی پروفائل لوگوں کی حالت بیشک اچھی ہوئی ہو اور ان کی آمدنی میں اـضافہ ہوا ہو لیکن غریبوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔غریب آج بھی غریب ہی ہے اور انہیں دو وقت کی روٹی کے لئے سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔پٹنہ میں سائیکل رکشا چلانے والے کو ہی لے لیجئے۔ تین دہائی پہلے ان کی جو حالت تھی آج بھی ان کی وہی حالت ہے،ان کی زندگی میں نہ تو کوئی ترقی ہوئی ہے اور نہ ہی ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بہار کی ترقیاتی منصوبوںکا فائدہ انہیںملا ہے۔بہار کی راجدھانی پٹنہ  میں تقریباًساٹھ ہزار رکشا پولر ہیں ۔اقتصادی ،جسمانی ،سماجی اور تہذیبی و تعلیمی اعتبار سے  یہ رکشا ڈرائیور پچھڑے ہوئے ہیں۔ ان کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے اور مالکوں کے چنگل سے آزاد کرانے کے لئے بہار کی کانگریس حکومت نے 1976میں ایک آرڈیننس جاری کیا تھا۔اس آرڈیننس کی رو سے ہر رکشا پولر کو کم سے کم ایک رکشا کا مالکہونا چاہئے، لیکن آج تک  تمام پولروں کو نہ تو رکشا کا مالک بنایا جاسکا ہے اور نہ ہی ان کے جینے کے طریقے میں کوئی بدلائو آیا ہے۔ شہر میں زیادہ تر رکشا والے  پورا دن رکشا کھینچتے ہیں اور اپنے پسینے کی کمائی میں سے 20  روپے پرانی رکشہ کا کرایہ اور 30-35 روپے نئے رکشے کا کرایہ مالکوںکو ادا کرتے ہیں جبکہ ان کی روز کی کمائی-200 150 روپے تک مشکل سے ہی ہوتی ہے۔ بچے ہوئے پیسوں میں اپنے گھر ،خاندان کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔کانگریس کے دور اقتدار میں تقریباًپچاس ہزار رکشا پولروں کو حق مالکانہ  دینے کی شروعات کی گئی تھی،اس میں کسی حد تک کامیابی تو ملی لیکن جلد ہی حالات پھر  ایسے بن گئے کہ رکشا  پولر مالکان کے چنگل میں واپس پھنس گئے ۔ ان کو دوبارہ ما لکوں  کے چنگل سے نکالنے کے لئیسنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔دراصل ان رکشا والوں کو مالکانہ حق حاصل کرنے  کے لئے پیسے کی ضرورت تھی مگر ان کی مالی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ رکشے کی قیمت ادا کرسکیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے انہیں کچھ شرطوں کے ساتھ قرض دیے گئے۔75 فیصد رقم بینک سے اور 25 فیصد سیڈ منی کے طور پر، اس وقت کی حکومت نے 30 لاکھ روپیمختص کیے۔حکومت کی اس پالیسی کی وجہ سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ بہت سے رکشا پولر جن کو اپنی محنت کی کمائی کا اچھا خاصا حصہ مالکوں کو دینا پڑتا تھا اب وہ یہ کرایہ ادا کرنے کی زحمت  سے محفوظ ہوگئے۔لیکن اس کا نقصان ان لوگوں کو ہو ا جو اب تک مالکانہ حق حاصل نہیں کرسکے تھے  ایسے لوگوں کی تعداد پٹنہ شہر میں تقریباً 10 ہزار تھی۔  ان کے گھروں میں فاقہ کشی ہونے لگی۔نتیجتا ً یہ دوبارہ انہیں رکشا مالکوں کے پاس واپس جانے لگے جہاں  سے انہیں شفٹوں میں کرایہ پر رکشہ مل جاتی تھی ،لیکن مالکوں کے پاس رکشا کی تعداد کم اور طلب زیادہ ہونے کے سبب انہیں کرایہ زیادہ ادا کرنے کے بعد مالک  سے رکشا ملتی تھی۔اس طرح ان کی زندگی پریشانیوں اور الجھنوں میں گھری رہی اور تقریباً تین دہائی گزرنے کے بعد بھی ان کے حالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔جن کے پاس اپنی رکشا تھی وہ بھی زیادہ دنوں تک مالک کی حیثیت سے رکشہ نہیں رکھ سکے،کیونکہ وہ بینک سے قرض لے کر رکشا کے مالک تو بن گئے تھے لیکن ان کی روز کی کمائی اتنی نہیں ہوتی تھی کہ وہ گھر کے اخراجات سے پیسے بچا کر بینکوں کو قسط ادا کرسکیں ۔اگر کسی طرح ادا کر بھی دیتے تھے تو ایک رکشا پانچ سال سے زیادہ سڑک پر چلنے کے قابل نہیں رہتی ہے، ایسے میں وہ دوبارہ مالکوں کے پاس ہی لوٹ  کر جانے لگے۔اس کے علاوہ مالکوں کی رکشا چلانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں اپنی رکشا رکھنے کی صورت میں قدم قدم پر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اگرکبھی کسی رکشے کو ٹریفک نظام میںغلطی کرنے یا نمبر درج نہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے پکڑلیا تو ان کی شامت آجاتی تھی۔ ان سے یہ سوال کیا جاتا کہ بینک میں قسط جمع کرنے کی رسید دکھائو۔ ان پڑھ ہونے کی وجہ سے قسط اور رکشے کے کاغذات ان کے پاس محفوظ نہیں ہوتے۔اگر ہوتے بھی تو پولیس پیسہ اینٹھنے کے لئے ان کاغذات میں کمی نکال دیتی اور انہیں پریشان کرتی۔اگر رکشا میںکوئی بڑی خرابی ہوجاتی تو  دو تین روز تک رکشہ ورکشاپ میں ہی کھڑی رہتی،جبکہ ایک رکشا ڈرائیور روز کماتا ہے اورروز کھاتا ہے ۔بے روزگاری کے ان دنوں میں بچوں پر فاقہ کی نوبت آجاتی۔رکشا کی مرمت میں خاصی رقم خرچ ہوتی ہے، جبکہ ان تمام صورت حال میں اگر رکشا کرایے کی ہے تو مالکان کو ہی اس سے نمٹنا پڑتا ہے۔چونکہ اس طرح کی صورت حال بارہا پیش آتیہے ،بلکہ سڑک پر چلتے ہوئے اگر کبھی ٹریفک جام ہوجاتا تو پولیس انہیں کو ٹریفک جام ہونے کا قصور وار سمجھتی اور تھپڑوں سے ان کو زود کوب کیا جاتا  اور ٹائر پنکچر کردیا جاتا  ہے،کبھی کبھی لاٹھی مار کر پولیس والے رکشا کے کسی پارٹ کو توڑ بھی دیا کرتے ہیں،جس کی مرمت پولروں کو اپنے پاس سے کرانی پڑتی ہے ۔ اس صورت حال  کا مقابلہ کرنے کے لئے ان غریبوں کے پاس وسائل نہیں ہوتے ہیں ،لہٰذا انہوں نے عافیت اسی میں محسوس کی کہ مالکان کی رکشے ہی چلائی جائیں تاکہ ایسی صورتوںسے مالکان خود ہی نمٹ لیا کریں ۔  انجام یہ ہوا کہ دھیرے دھیرے رکشے واپس مالکان کے پاس چلے گئے اور اب پٹنہ شہر میں زیادہ تر رکشے مالکوں کے ہی ہیں جن کو کرائے پر لے کر چلائی جاتی ہے۔
چونکہ رکشا چلانا انتہائی محنت کا کام  ہے اور ان کے چلانے والے بہت غریب ،یہی وجہ ہے کہ وہ  دن بھر جو بھی مزدوری کرتے ہیں، اس سے صرف اپنے بچوں کا ہی پیٹ بھر پاتے ہیں،مزید یہ کہ اپنی تھکن کو دور کرنے اور ذہنی پریشانیوں کو بھلانے کے لئے اکثر رکشا چلانے والے نیکوٹن کے عادی بن جاتے ہیں۔دوسری طرف ان کے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہوتے ہیں لہٰذا نیکوٹن ان کے رگ و پَے میں سما کر ان کے جسم کو بیماریوں کی آماجگاہ بنا دیتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق پٹنہ شہر میں ایک رکشا والا ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 200 روپیہ کماتا ہے،جن میں سے 20-30-35 روپیہ مالک کو کرائے کے طور پر دیتا ہے باقی اپنے اور اپنے بچوں کے اوپر خرچ کرتا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے یہ رقم مہنگائی کے اس دور میں یومیہ ضروروتوں کو پوری کرنے کے لئے کافی نہیں ہے،اب ایسی صورت میں اگران کو کوئی مرض  لاحق ہوجاتا ہے تو لازمی طور پروہ اپنا علاج کرانے سے قاصر ہوتے ہیں ۔نتیجتاً بیماریاں ان کے جسم میں روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہیں اور ان کا جسم لاغری و کمزوری کا شکار بن جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر رکشا چلانے والوں کے جسم کمزور نظر آتے ہیں  ۔اس پر مزید یہ کہ رکشا پولر نیکوٹن خاص طور پر کھینی، بیڑی اور بھانگ کے عادی ہوتے ہیں،ان میں سے کچھ لوگ تاڑی (نشہ آور مشروب)بھی پیتے ہیں۔لہٰذا ان میں تپ دِق، کھانسی، ٹی بی  وغیرہ کی شکایت عام بات ہے۔ایک عجیب بات ان رکشا والوں میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مخصوص طرزِ زندگی سے باہر آنا  نہیں چاہتے ہیں۔ان کا اپنا معاشرہ ،اپنی تہذیب اور رہن سہن کا طریقہ عام معاشرے سے بالکل الگ تھلگ ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ اس معاشرے کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے ،بلکہ ان کی غربت  و بد حالی اور نیکوٹن کی بری عادت ان کو عام لوگوں سے الگ تھلگ رکھتی ہے۔چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ یہ لوگ جب پورا دن رکشا چلانے کے بعد شام کو گھر لوٹتے ہیں تو  کسی فٹ پاتھ اور بس اسٹینڈ پر اکٹھا ہوتے ہیں اور پھر قوالی، فلمی گانے اور آلہا ( ایک قسم کا گانا جس میں بہادروں کے تذکرے ہوتے ہیں) کا لطف اٹھاتے ہیں۔ان کی زندگی کے طرز کو بدلنے کے لئے 2007 میں  عرفان عالم نام کے ایک شخص نے جو بیگوسرائے کا رہنے والا ہے  ’’سمان فائونڈیشن ‘کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس کا مقصد رکشا پولروں کی خستہ حال زندگی کو بہتر بنانا تھا۔ اس نے 100 رکشوں کا رجسٹریشن اپنی تنظیم میں کیا اور ان رکشوں پر  اشتہار اور روز مرہ کی ضروریات کے سامان رکھنے کا ایک نیا طریقہایجاد کیا۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ سواری لانے لے جانے کے علاوہ پولروں کو اشتہار اور سبزی وغیرہ ایک دکان سے دوسری دکان لے جانے، موبائل ریچارج ماڈرن رکشا کے مخصوص خانے میں رکھ کر بیچنے، کی وجہ سے آمدنی میں اضافہ ہونے لگا،اس کے لئے اس نے رکشا میں کچھ نئی ڈیزائننگ کی اور اس رکشے کا نام رکھا ’’ ماڈرن رکشا‘‘۔اس کا یہ طریقہ اتنا مشہور ہوا کہ100 رکشوں کے رجسٹریشن سے اپنی تنظیم کا آغاز کرنے والے عرفان عالم کی تنظیم سے آج  ملک کے سات صوبوں بہار، جھارکھنڈ، دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش، ہریانہ اور اترپردیش کے تقریبا ً  تین لاکھ پولرجڑے ہوئے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ ہر جگہ یونین ہوتی ہے لیکن غریب رکشا پولر ہی ایک ایسا طبقہہے جس کی کوئی  مضبوط یونین نہیں تھی جبکہ مجموعی لوکل مسافروں کے 30فیصد کے نقل و حمل کی ضرورتیں رکشہ سے پوری ہوتی ہیں اس کے باوجود نہ تو ان کی کوئی مدد کرتا ہے اور نہ ہی مصیبت کے دنوں میں ان کے لئے کوئی کھڑا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مالکان ان کی کمائی کا معتدبہ حصہ کرایے کے طور پر وصول کر لیتے ہیں جبکہ ان کی تنظیم ان رکشہ والوں سے  عام کرائے سے کم 10-20 روپیہ ہی وصول کرتی ہے۔یہی نہیں اگر کوئی رکشا پولر قرض لے کر رکشا خریدنا چاہے تو وہ اس میں بھی اس کی مدد کرتی ہے۔رکشا ڈیزائننگ کے لئے عرفان عالم نے R&D نام سے ایک سینٹر پٹنہ میں کھول رکھا ہے جس میں 3 انجینئر اور 15 ملازم کام کر رہے ہیں۔اس نے پولروں کے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے  ایوننگ کلاس کا بھی بندوبست کر رکھا ہے۔ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے پولروں کی بیویوں کو سلائی،کڑھائی،امبرائڈری کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔غریبوں کے لئے ایک مثالی کارنامہ انجام دینے کی وجہ سے اس کی شہرتملک اور بیرون ملک تک پہنچ چکی ہے چنانچہ 2010 میں  جب امریکی سفیر تیموتھی جے رومر پٹنہ گئے تو ماڈرن رکشا کو دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکے اور ماڈرن رکشا پر اپنی بیوی کو بیٹھا کر کچھ دور چلانے کا لطف لیا۔یہی نہیں رومر نے امریکی صدر براک حسین اوبامہ کی طرف سے  عرفان عالم کو امریکہ میں presidential summit on enterpreneurship میں  شرکت کی دعوت بھی دی۔ یہاں پر ایک نوجوان کے جذبوں کو سلام کرنا چاہئے کہ جس کام کو حکومت نہیں کر پائی، اس کام کو ایک نوجوان نے کر کے دکھلا دیا ۔ اگر حکومتی سطح پر اس کام کو انجام دیا جاتا اور رکشا پولروں کی  زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی جاتی تو  آج ان کی یہ حالت نہیں ہوتی جس  سے وہ دوچار ہیں۔نتیش حکومت اپنی سرکار کو غریبوں کی سرکار تو کہتی ہے ، بہار میں ترقی کے دعوے تو کرتی ہے مگر انہیں ان رکشا پولروں کی خستہ حالی نظر نہیں آرہی ہے ۔پٹنہ سبزی منڈی میں جب میں نے ایک رکشہ پولر جس نے اپنا نام کلو بتا یا، بات کی تو اس نے جو باتیں کہی، وہ نتیش سرکار کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔اس نے کہا کہ’’سنتے ہیں کہ نتیش جی کی سرکار میں بہار کی ترقی ہوئیہے مگر میںتو پہلے بھی کرائے کے رکشے پر اپنے بچوں کی پرورش کرتا تھا اور آج بھی کررہا ہوں ،نہ جانے جس ترقی کی بات ہورہی ہے وہ ترقی کہاں ہے‘‘۔میرے یہ کہنے پر کہ تم اپنی رکشا کیوں نہیں  خرید لیتیکہ کچھ بچت ہو تو انتہائی افسردگی سے اس نے جواب دیا کہ ’’بابو جی اس وقت رکشا کم سے کم 8 ہزار میں ملتی ہے۔اگر میرے پاس پیسے ہوتے تو پہلے اپنی بیمار بیوی کاعلاج کرواتا جو صحت کے لئے ترس رہی ہے تو بھلا رکشا خریدنے کی بات کیا سوچوں‘‘۔اس کی بات سن کر کچھ دیر کیلئے میں سکتے میں رہ گیا۔ریاست کی سرکار غریبوں کو بی پی ایل کارڈ اور مفت دوائوں کا  دعویٰ کرتی ہے مگر حقیقت  اس سے مختلف نظر آرہی ہے۔ہوسکتا ہے بہار نے ترقی کی ہو۔ہو سکتا ہے بہار میں فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا ہو لیکن وہ کون لوگ ہیں جن کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ،انہیں تلاش کرنا ہوگا۔
ملک کیمختلف صوبوں میں تقریباً 10 ملین رکشہ  چل رہی ہیں۔ان تمام صوبوں میں پولروں کوایک پریشانی ہر جگہ مشترکہ طور پر ہے۔ وہ پریشانی ہے سواری کی طرف سے کرایہ کا نہ بڑھنا۔پٹنہ میں پانچ سال پہلے جو کرایہ تھا آج بھی تقریباً اتنا ہی ہے۔اگر کچھ بڑھا ہے تووہ ہے مہنگائی ،جو ان کے کرائے سے  کئی گنا زیادہ بڑھی ہے۔بوری روڈ چوراہا سے انکم ٹیکس گلمبر تک تقریباً ڈیڑھ کیلو میٹر کا فاصلہ ہے،جس کا کرایہ 10 روپیہ ہے۔ جبکہ یہی کرایہ آج سے پانچ سال پہلے بھی تھا۔ یہی حال پٹنہ کے دوسریجگہوں کا  ہے ،جبکہ اس پانچ سال میں مہنگائی  نے کئی گنا چھلانگ لگائی ہے۔ظاہر ہے ایسی صورت میں رکشا پولروں کا گزارہ یومیہ کمائی سے مشکل سے مشکل ترین ہوتا جارہا ہے۔اس کے علاوہ  دن میں ایک دو سوار ایسے بھی مل جاتے ہیں جو دبنگ قسم کے ہوتے ہیں ،وہ  مناسب کرایہ سے بھی کم دیتے ہیں ۔اگر ان سے پوری رقم دینے کو کہا جائے تو مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔اگر اس کی شکایت چوراہے پر تعینات پولیس سے کی جائے تو وہ بھی کوئی نوٹس نہیں لیتی۔دراصل پولیس اس بات کو جانتی ہے کہ رکشا پولر ایک ایسا غریب طبقہ ہے جو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔  اس سلسلے میںجولائی 2011 کو ’’بھارتیہ راجیہ رکشہ ،ٹھیلا چالک کلیان سمیتی‘‘نے ایک مظاہرہ کیا تھا جس میں  انہوں نے اپنے حقوق اور تحفظ کا مطالبہ کیا تھا ،مگر ان کے مطالبے  صدا بصحرا ثابت ہوئے۔
بہار کے وہ مزدور جو کاشتکاری اور بلڈنگوں میں مزدوری کرتے ہیں ،جب تعمیر کا کام نہیں ہوتا ہے یا کھیتوں میں کام کا موسم نہیںہوتا ہے تو وہ خالی دنوں میں رکشہ چلا کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔لیکن پٹنہ اور بہار کے دوسرے شہروں میں کم مزدوری ملنے اور دبنگوں کی دبنگئی کی وجہ سے یہ مزدور صوبے سے باہر ملک کے  دیگر صوبے مدھیہ پردیش،دہلی، پنجاب جاکر رکشہ چلاتے ہیں ۔جہاں انہیں مناسب مزدوری مل جاتی ہے اور وہ یومیہ 250-300 تک کما لیتے ہیں۔ایک سروے کے مطابق ملک کے دس صوبے جہاں رکشہ کثرت سے  استعمال ہوتی ہے۔ ان کے چلانے والوں میں 70فیصد بہار کے مزدور ہوتے ہیں،بقیہ 30 فیصد میں یوپی، بنگال  راجستھان اور اوڑیسہ کے مزدور ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے اتنی بڑی تعداد میں بہاری پولروں کا ہونا صوبے میں بے روزگاری اور نتیش کمار کے  جھوٹے دعووں  کی منہ بولتی تصویر ہے۔
سائیکل رکشا لوکل ٹرانسپورٹ کی ایک اہم ضرورت ہے۔چھوٹے ،بڑے شہروں میں یہاں تک کہ چنئی اور دہلی جیسے میٹرو پولیٹن شہر میں بھی اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیںکیا جا سکتا ۔اگرچہ کچھ شہروں میں میٹرو اور گرامن سیوا کے طرز پر لوکل گاڑیوں کی وجہ سے  رکشے پر انحصا ر کم ہوا ہے مگر پھر بھی رکشے کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے۔ کیونکہ قرب و جوار کے نقل و حمل کے لئے رکشا کا کوئی متبادل نہیں ہے۔جہاںتک پٹنہ کی بات ہے تو یہاں گرامن سیوا اور پبلکآٹو رکشا چلائے جانیکے باوجود  سائیکل رکشا کی طلب میںکوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔چڑیا گھر، میوزیم  اور سکریٹریٹ  کے علاقے میں رکشے قطار میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں نظر آتی ہیں۔کہیں کہیں پر سڑک کے کنارے کسی رکشا والے کو دنیا سے بے خبر تھکا ہارا اپنے رکشے کی سیٹ پر سمٹا ہوا گہر ی نیند میں سویا  دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ تھکا ہوا جسم آرام دِہ گدے نہیں ڈھونڈتا ،بالکل اسی طرح جس طرح بھوکا پیٹ تازہ اور باسی کھانے کی تمیز کو بھول جاتا ہے۔ اگر نتیش کمار جی نے جیسا کہ وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ بہار میں ترقی ہوئی ہے،اگر ان کا دعویٰ سچ ہے تو پھر انہیں اس کمزور طبقے کے لئے بھی کچھ سوچنا چاہئے  جو سرد و گرم ہوائوں سے لڑ کر سواریوں کو  ان کی منزلوں تک پہنچاتے ہیں  اس امید پر کہ شاید ان کے بھی دن بدل جائیں اور وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم  سے آراستہ کرکے ایکمہذب شہری کی طرح زندگی بسر کریں۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *