مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والے سے نتیش کو الفت کیوں؟

Share Article

اشرف استھانوی
امریکہ میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے حلاف توہین آمیز باتیں کہی گئی ہیں۔ ہندستان کی گجرات ریاست میں نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت اس پر پابندی عائد کر دیتی ہے۔ بہار میں بی جے پی کی مدد سے لگاتار دوسری بار اقتدار میں آنے والی نتیش حکومت پابندی کا نہ صرف خیر مقدم کرتی ہے بلکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار میڈیا کے سامنے سیر حاصل تبصرہ بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کی باتیں لکھنے او رکہنے والے سر پھرے لوگ ہوتے ہیں جو مادی فائدے یا سستی شہرت کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے اپناتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق مہاتما گاندھی جیسے لوگ سیکڑوں نہیں ہزاروں سال میں پیدا ہوتے ہیں، لیکن اسی بہار کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے فرقہ پرست اور مفاد پرست ڈاکٹر جے پی سنگھ اپنی رسوائے زمانہ اور بد نام زمانہ کتاب ’’ آدھونک بھارت میں سماجک پریورتن ‘‘میں محسن قوم و ملت سرسید احمد خاں اور ہندستان کو سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا جیسا قومی ترانہ عطا کرنے والے حکیم الامت او رشاعر مشرق علامہ اقبال کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں۔ انہیں فرقہ پرست اور علیحدگی پسند قرار دے کر مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں اور بہار جیسی پر امن ریاست کو مسموم کرتے ہیں تو وزیر اعلیٰ نتیش کمار ان کے خلاف کوئی کارروائی ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔ بہار میں گذشتہ 3 ماہ سے اس نفرت انگیز کتاب پر پابندی عائد کئے جانے اور اس کے رسوائے زمانہ مصنف جے پی سنگھ کے خلاف تادیبی کارروائی کے لئے مختلف تنظیموں کی طرف سے دھرنا ، مظاہرہ اور عرضداشتیں پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے، لیکن نتیش حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ الٹا وہ تمام اجتماعی مظاہروں کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کر رہے ہیں اور عرضداشتوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرتے جا رہے ہیں۔ انہیں یہ نہیں سمجھ میں آرہا ہے کہ سرسید احمد خاں اور علامہ اقبال ؒہندوستانی مسلمانوں کے دلوں میں دھڑکن بن کر دھڑکتے ہیں او ران جیسی عظیم ہستیاں نہ آزادی سے پہلے اور نہ آزادی کے بعد اب تک سامنے آئی ہیں۔ سرسید اور علامہ اقبال بھی روز روز پیدا نہیں ہوتے اور نہ ہی سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا جیسا ترانہ اور مادر علمی علی گڑھ ، مسلم یونیورسٹی عظیم دانش گاہ روز روز عالم وجود میں آتی ہے۔ آزادی کے حصول او رتقسیم ہند کے بعد آزاد ہندستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو مین اسٹریم میں جوڑنے اور انہیں عصری علوم حاصل کرکے ملک کی تعمیر نو اور ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لائق بنانے والی درسگاہ مہیا کرانا اتنی بڑی ذمہ داری تھی جسے آزاد ہندستان کی حکومت بھی انجام دینے سے قاصر رہتی۔ ویسے بھی ملک کی اقلیت کو تعلیم یافتہ بنانے کا جو کام حکومت کا تھا وہ سرسید نے انجام دے کر پوری قوم پر احسان کیا ہے۔  جسے رہتی دنیا تک چکایا نہیں جا سکتا۔ مگر سیکولرزم کا دعویٰ کرنے والے اور نریندر مودی کے ساتھ تصویر کی اشاعت پر سارا بہار سر پر اٹھا لینے والے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اسی نریندر مودی کے عمل کو سراہتے ہیں اور اس کا جواز بھی پیش کرتے ہیں۔ مگر وہ خود اپنی ریاست میں کسی سر پھر ے کی سر کوبی کرنے کی بجائے اس کی خاموش درپردہ حمایت کرتے نظر آرہے ہیں اور بہار کے امن پسند سیکولر عوام بالخصوص مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نتیش کو جے پی سنگھ جیسے امن کے دشمن سے الفت کیوں ہے؟
حکومت کے منفی رویہ کے خلاف اور نفرت انگیز کتاب پر پابندی کے لئے گذشتہ دنوں راجدھانی پٹنہ میں شہیدان وطن کی یاد  کارگل چوک پر آل بہار اردو جرنلسٹ فورم کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان دھرنا اور راج بھون مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں سماج کے ہر طبقہ اور فرقہ سے تعلق رکھنے والے سیکولر اور امن پسند عوام اور خواص نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور جے پی سنگھ کے خلاف اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف ان کی کتاب پر بلا تاخیر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا بلکہ جے پی سنگھ کے خلاف تادیبی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس بڑے احتجاجی پروگرام میں ریاست کے ممتاز صحافیوں کے علاوہ ادبائ، شعرا، اساتذہ، طلبا، ماہرین قانون اور دانشوران ملت نے سرگرم حصہ داری نبھائی اور اس لڑائی کو انجام تک پہنچانے اور قانونی چارہ جوئی کا بھی سہارا لینے کا عزم کیا۔ بعد میں ریاست کے نامور صحافی خورشید ہاشمی اور راقم الحروف کی قیادت میں مظاہرین نے راج بھون مارچ کیا اور گورنر دیوا نند کنور کو ایک عرضداشت پیش کرکے نفرت انگیز کتاب پر پابندی عائد کرنے اور رسوائے زمانہ مصنف کے خلاف حکومت کو تادیبی کارروائی کرنے پر مجبور کرنے کے لئے اپنے آئینی حقوق کے استعمال کی درخواست کی گئی۔
اس سے قبل بجٹ اجلاس کے دوران بہار قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں بھی یہ معاملہ پوری شدت کے ساتھ اٹھایا گیا تھا ۔ قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کے اختر الایمان اور قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر پروفیسر غلام غوث نے یہ معاملہ اٹھایا۔ جس کی حمایت اپوزیشن کے تمام ارکان نے بلا امتیاز مذہب و ملت پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر اس کے خلاف احتجاج کیا او رنفرت انگیز کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ خود وزیر اعلیٰ بہ نفس نفیس ایوان میں بیٹھے رہے مگر اس سلسلہ میں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جس سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگرامن پسند اور سیکولر عوام میں بھی حکومت کے تئیں بیزاری اور ناراضگی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس معاملے کو عدالت میں لے جانے اور پٹنہ ہائی کورٹ میں پی آئی ایل دائر کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ اس معاملے کی سرپرستی کے لئے بھاگلپور فساد سے متعلق مقدمات میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکے مشہو رایڈووکیٹ صلاح الدین خاں کی خدمات حاصل کی گئی ہیںاو ران کی مدد کے لئے ریاست اور بیرون ریاست کے کئی نامور ماہرین قانون تیار ہیں۔
اس سلسلہ میں ملزم جے پی سنگھ (جناردن پرساد سنگھ) کے کلاس فیلو رہ چکے شکیل حسن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جے پی طالب علمی کے زمانے سے ہی فرقہ پرست او رزہریلے خیالات و نظریات کا حامل تھا اور اب جب کہ ریاست میں اس کی ہم خیالی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بر سر اقتدار ہے وہ اپنے زہریلے نظریات کو عام کرکے اور اپنی مسلم دشمنی کو اجاگر کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی تاک میں ہے، مگر اس کی اس سازش کو ریاست کے امن پسند سیکولر عوام ناکام بنا دیں گے۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی کابینہ میں شامل رہ چکے او روزیر اعلیٰ کے مسلم مخالف رویہ سے ناراض ہو کر حکومت او رپارٹی کو لات مار دینے والے جمشید اشرف کا کہنا ہے کہ نتیش کمار بی جے پی ، آر ایس ایس کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ وہ سیکولر ہونے کا صرف ڈھونگ کرتے ہیںاور مسلمانوں کو بے وقوف بنانے میں یقین رکھتے ہیں انہیں سیکولرازم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ وہی کرتے ہیں جس کی اجازت انہیں ان کے سنگھی آقا دیتے ہیں۔ میں نے بھی انہیں سمجھنے میں غلطی کی تھی، لیکن جیسے ہی میرے سامنے ان کا اصلی چہرہ آیا میں نے پارٹی اورحکومت دونوں کو لات مار دی، کیوں کہ میں سیاست میں پیسے کمانے کے لئے نہیں آیا تھا۔ اللہ کا دیا میرے پاس بہت کچھ ہے۔ میں تو بطور وزیر بھی سرکاری تنخواہ نہیں لیا کرتا تھا ۔ اس کے باوجود جب انہوں نے مجھے غلط اور بد عنوان ثابت کرنے کی کوشش کی تو مجھے ان سے کنارہ کش ہونا پڑا۔ اس لئے بہار کے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان کے بہکاوے اور بہلاوے میں نہ آئیں بلکہ اپنے بہتر مستقبل کے لئے اپنی صوابدید سے کام لیں۔ جے پی سنگھ کی کتاب پر پابندی کے معاملے میں بھی انہیں حکومت سے مایوسی ہی ہاتھ لگے گی،اس لئے عدالتی متبادل اپنانے کا فیصلہ درست ہے۔ مسلمانوں کو عدالت سے ہی انصاف مل سکتا ہے، کیوں کہ تمام خامیوں کے باوجود عدلیہ آج بھی مسلمانوں کے لئے امید کی واحد کرن ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *