بہار کا ہرلاکھی ضمنی انتخاب:این ڈی اے کو راحت

Share Article
سروج سنگھ
p-10بہار کی سیاست کو ہر لاکھی اسمبلی انتخابی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے نتیجے کا بے چینی سے انتظار تھا۔ یہ سیٹ این ڈی اے کی اتحادی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) کے کھاتے میں گئی۔ برسراقتدار مہا گٹھ بندھن کے کانگریس امیدوار محمد شبیر ساڑھے اٹھارہ ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارے۔ اسمبلی انتخابات میں بھی یہ سیٹ ضمنی انتخابات میں جیتنے والے سدھانشو شیکھر کے والد وسنت کشواہا کے کھاتے میں ہی گئی تھی، لیکن حلف لینے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس بار این ڈی اے کی جیت کا فاصلہ پچھلی جیت کے مقابلہ میں تقریباً پانچ گنا زیادہ رہا۔ اس انتخابی نتیجہ نے فوری طور پر کوئی ہلچل تو پیدا نہیں کی ہے، لیکن اس میں دورائے نہیں کہ اس جیت سے اپوزیشن این ڈی اے کا سیاسی حوصلہ کافی بڑھا ہے۔ این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں نے تو فوری طوری پر ایسا کہا بھی ہے۔ اس ضمنی انتخاب کی تشہیر اور سیٹ نکالنے کے سیاسی نظم میں سنجیدگی سے لگے آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد نے حالانکہ اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن کانگریس اور جنتا دل یونائٹیڈ نے اسے ہمدردی کی لہر اور بی جے پی کے ہتھکنڈے کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان جماعتوں کے لیڈروں نے اسے سرے سے ہی خارج کیا ہے کہ یہ نتیجہ ریاست کی مہا گٹھ بندھن سرکار کے کام کاج اور ریاست کے عام حالات پرووٹروں کا کوئی فیصلہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آر ایل ایس پی کے امیدوار ہمدردی کی لہر پر تو سوار تھے ہی، انتخابی حلقہ میں پولرائزیشن بنانے میں بھی این ڈی اے (بی جے پی ) کامیاب رہا او راس سے پولنگ گہرائی کے ساتھ متاثر ہوئی۔
یہ محض اتفاق ہی تھا کہ مدھوبنی میں ہر لاکھی ضمنی انتخاب کے نتیجہ کا اعلان ہورہا تھا او ر ادھر اپوزیشن این ڈی اے ، مہا گٹھ بندھن سرکار کے خلاف سڑک پر تھا۔ این ڈی اے نے ریاست میں قانون کا راج بنائے رکھنے میں سرکار کی ناکامی کو لے کر پوری ریاست میں احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ پٹنہ میں بی جے پی اور این ڈی اے کی دیگر اتحادی جماعتوں کے مشتعل مظاہرین کو پُرامن کرنے کے لیے انتظامیہ کو بڑی مشقت کرنی پڑی۔ اس سلسلے میں واٹر کینن کا بھی استعمال کرنا پڑا۔ بہار کے تقریباً ایک درجن ضلع ہیڈکوارٹرز میں مشتعل این ڈی اے کے کارکنوں نے پولیس بیری کیڈنگ کو تہس نہس کردیا او رممنوعہ علاقے میں گھس گئے۔ این ڈی اے کی دیگر کسی اتحادی جماعت نے تو نہیں، لیکن لوک جن شکتی پارٹی نے بہار میں مرکز کی مداخلت یعنی صدر راج کی مانگ کردی۔ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت کیا ہے، یہ بتانے کے لیے بہت کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔جس دن این ڈی اے کا احتجاجی مظاہرہ تھا، اس دن صبح سویرے ہی سمستی پور ضلع میںآر جے ڈی کے سینئر کارکن اور دبنگ ویریندر یادو کو اسی علاقے کے ایک دوسرے دبنگ کے شوٹرو ں نے گولیوں سے چھلنی کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا۔ ویریندر یادو کے ساتھ اس کا باڈی گارڈ بھی مارا گیا۔ ایک ماہ کے دوران سمستی پور میںیہ ایسی دوسری مجرمانہ واردات ہے۔ اس سے پہلے ایک دیگر مقامی آر جے ڈی لیڈر چھنو بھگت کا بھی دن دہاڑے قتل کردیا گیا تھا۔ قتل تو ہوتا ہی ہے، لیکن لوک جن شکتی پارٹی لیڈر ورج ناتھی سنگھ کی پٹنہ کی کچی درگاہ میں او ربی جے پی کے ریاستی نائب صدر وشویشور اوجھا کی بھوج پور ضلع کے شاہ پور علاقے میں ہوئی ہلاکتوں نے ریاست کی سیاست کو گرما دیا ہے۔ ان وارداتوں نے اسمبلی انتخابات کی ہار سے پست حوصلہ بی جے پی (این ڈی اے) کو سڑک پر اترنے کی نئی طاقت دے دی۔ حالانکہ اپوزیشن نے مہا گٹھ بندھن سرکار کو چھ ماہ تک موقع دینے کا وقت مقرر کیا تھا۔ لیکن ریاست کے حالات کے سبب اسے سڑک پر آناپڑا۔ ایسا بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے۔ ایسے میں ہرلاکھی اسمبلی ضمنی انتخاب کے نتیجہ کو وہ اپنے سیاسی اسٹینڈ کی عوامی مقبولیت کے طور پرپیش کر رہے ہیں۔یہ کہنا تو صاف ہے کہ این ڈی اے کے لیڈروں کا یہ دعویٰ صحیح ہے یا غلط، لیکن اتنا تو صاف ہے کہ ہرلاکھی ضمنی انتخاب کے کئی سیاسی مضمرات ہیں۔ اس کا ایک سرا مہاگٹھ بندھن سرکار کے کام کاج کو چھوتا ہے، تو ایک سرا مہا گٹھ بندھن کے اندر سیاسی انا کو لے کر بن رہے ماحول کو۔ ضمنی انتخاب کا نتیجہ اپوزیشن این ڈی اے میں بہتر تال میل کے دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔ حالانکہ آر ایل ایس پی کی اس جیت میں اس کے امیدوار کے حق میں ہمدردی کی لہر کا کردار بھی کم بڑا نہیں رہا ہے۔
ہر لاکھی اسمبلی حلقہ میں عام انتخابات کے دوران آر ایل ایس پی کی جیت چار ہزار سے بھی کم ووٹوں سے ہوئی تھی۔ اس وقت کہا گیا کہ اس وقت کے ایم ایل اے شالی گرم یادو کے بطور آزاد میدان میں آجانے سے مہا گٹھ بندھن کے کانگریسی امیدوار محمد شبیر الیکشن ہار گئے۔ راماشیش یادو نے اس الیکشن میں تقریباً اکیس ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس ضمنی انتخاب میں مہا گٹھ بندھن کی جیت یقینی بنانے کے خیال سے آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد نے اپنی حیثیت کا استعمال کیا اور راماشیش یادو کو نہ صرف الیکشن لڑنے سے روک لیا، بلکہ ان سے مہا گٹھ بندھن کے حق میں تشہیربھی کرائی۔ کانگریس کے وزیروں او رارکان اسمبلی کے ساتھ ساتھ آر جے ڈی کے ریاستی صدر رام چندر پوروے سمیت اس کے دیگر وزراء بھی علاقے میں سرگرم رہے۔ انتخابی مہم کی کمان کانگریس کے قد آور لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد کے ہاتھ میں تھی۔ یہ ان کے لیے بھی وقار کا الیکشن تھا۔ لہٰذا انھوں نے پوری طاقت جھونک دی تھی۔ لالو پرساد تو پرچار کرنے خود گئے ہی، ان کی پارٹی کے سبھی لوگ گئے اور سبھی لگے رہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ نتیش کمار اس ضمنی انتخاب کے درمیان ہرلاکھی کیا، اس علاقے میں ہی نہیں گئے۔ حالانکہ کانگریس کی چاہت تھی کہ وزیر اعلیٰ انتخابی مہم پر ہرلاکھی جائیں، لیکن وہ نہیں گئے۔ جے ڈی یو کی طرف سے کہا گیا کہ نتیش کمار کی طبیعت ناساز ہونے کے سبب وہ انتخابی مہم میں نہیں گئے۔ لیکن یہ بات کتنی صحیح ہے، یہ کہنا مشکل ہے۔ اس دوران وہ اتر پردیش کے دورے پر گئے،وہاں کے آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو کے لیے سیاسی جگہ کی تلاش میں ممکنہ اتحاد کو لے کر کچھ جماعتوں سے بات چیت بھی کی، پھر دہلی بھی گئے۔ خود کو ہرلاکھی ضمنی انتخاب سے الگ رکھنے کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے کیا اسباب رہے، یہ وہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔لیکن اس نے بہار کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کے پر لگادیے ہیں۔ اس سیاسی قیاس آرائی کے دو پہلو ہیں۔ اسے مسقبل کے پارلیمانی انتخاب سے جوڑا جارہا ہے۔ایسا بتایا جارہاہے کہ وہ اپنے پرانے سماجی اتحاد’ لوکش‘ یعنی کرمی اورکشواہا کے اتحادکو نئے سرے سے مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ سمتا پارٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی انھوں نے اس سماجی اتحاد پر بھروسہ کیا تھا اور اس کا سیاسی فائدہ بھی انھیں ملا تھا۔ لیکن یہ پچھڑتا چلا گیا او ردونوں کمیونٹیز ایک نہیں رہیں۔ نتیش کمار اب پھراسے سیاسی کھاد دینا چاہتے ہیں۔ اس بار پھر اسمبلی انتخابات میں کشواہاکمیونٹی کا ووٹ عام طور پر مہا گٹھ بندھن کو ملا او رانتہائی پسماندہ لوگوں کی ان کی سماجی حمایت کی بنیاد کو مضبوط کیا، لہٰذا اسے وہ پھر کھونا نہیں چاہتے۔ہرلاکھی میں این ڈی اے کاامیدوار اسی کمیونٹی کا ہے۔ لیکن قیاس کا دوسرا سرا زیادہ سیاسی مانا جارہا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں مہا گٹھ بندھن کی بھاری جیت کے لیے آر جے ڈی ہی نہیں، بلکہ کئی دیگر حلقوں میں بھی آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد کی سیاست کو زیادہ اہم ماناگیا۔یہ بات اس وقت کافی تیزی سے کہی جانے لگی جب جے ڈی یو نے اپنے اس لیڈر کو ’’پی ایم میٹریل‘‘ بتا کر اگلے پارلیمانی انتخابات کے لیے قومی سطح پر بہار کے اسٹائل میں بی جے پی مخالف گٹھ بندھن تیار کرنے کے لیےآتھرائزڈ کردیا۔ یہ بالواسطہ طور پر نتیش کمار کو وزیر اعظم کے عہدے کے مستقبل کے امیدوار کے طور پر پیش کرنا تھا او ریہ آر جے ڈی کو ناگوار لگا۔ ایسے میں نتیش کمار کے لیے خود ہی سیاسی وقعت کا احساس کراناضروری تھا۔ ضمنی انتخاب کے نتیجہ کے بعد سیاسی حلقوں میں مانا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اس میں کامیاب رہے۔ یہ محض سیاسی قیاس آرائیاں ہی ہیں، اصلیت تو مستقبل میں ہیسامنے آئے گی۔
ہرلاکھی میں مہا گٹھ بندھن کی ہار سے ریاست کی سیاست میں کچھ نہیں ہونے جا رہا ہے۔ ریاست کی موجودہ سرکار کو بھاری اکثریت حاصل ہے۔ ایک سیٹ کی ہار سے طاقت کم نہیں ہوگی۔ اپوزیشن کی طاقت میں بھی کوئی فرق نہیںآرہا ہے۔لیکن اس نے کئی اشارے دے دیے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ آر ایل ایس پی کے امیدوار نئے منتخب ایم ایل اے سدھانشو شیکھر کو ووٹروں کی ہمدردی کا فائدہ ملا ہے۔ الیکشن جیت جانے کے باوجود ان کے والد وسنت کمار اسمبلی کا حلف نہیں لے سکے تھے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ لالو پرساد کی محنت اور ان کی جماعت کے لیڈروں کی انتہائی سرگرمی، کانگریس کے قدآور لیڈر شکیل احمد کا وقار اور کانگریس کاسب کچھ داؤں پر لگے ہونے کے باوجود مہا گٹھ بندھن سیٹ حاصل نہیں کرسکا۔ اس کے برعکس این ڈی اے شروع سے آخیر تک زیادہ متحد دکھائی دیا۔ اس کے سبھی اتحادیوں نے اپنی ساری طاقت جھونک دی۔ پھر بھی یہ کہنا مبالغہ ہوگا کہ برسراقتدار مہا گٹھ بندھن کی چمک کہیں سے ماند پڑ رہی ہے یا ووٹروں نے تین ماہ کی موجودہ سرکار کو لے کر اپنا فیصلہ دیا ہے۔ ایسا فی الحال کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ مہا گٹھ بندھن سرکار کے کام کاج اور ریاست کے عام حالات نے ووٹروں کو کچھ بھی متاثر نہیں کیا ہے۔ ایک حد تک چھوٹی سطح پر ہی سہی، اس سے پولنگ تو ضرور متاثر ہوئی ہے۔ مہا گٹھ بندھن کے لیڈر سرکار کی سیاسی قیادت یاانتظامی افسر جو بھی دعویٰ کریں، ریاست کے عام حالات تو یقینی طور پر سنجیدگی سے متاثر کررہے ہیں۔ رنگداری کو لے کر ہلاکتیں جاری ہیں، کنسٹرکشن کمپنیوں کو خوف زدہ کرنے کی مجرم سرغناؤں کی مہم جاری ہے۔ قانون کو توڑنے کابرسراقتدار گٹھ بندھن کی اتحادی جماعتوں کے لیڈروں اور ارکان اسمبلی کا کام جاری ہی ہے۔ عوام کی شکایت کا حل یا لوگوں کو راحت دینے میں انتظامیہ کی لاپرواہی کی سب سے بڑی مثال وزیر اعلیٰ کا جنتا دربار ہے،جہاںآٹھ سو سے گیارہ سو تک لوگ ہر سوموار کو پٹنہ آتے ہیں۔ جنتا دربارکے فریادیوں کے حل کی شرح بھی راحت دینے والی نہیں ہے۔یعنی لگاتار مایوس کن حالات ہونے کا کچھ تو اثر پڑنا ہی ہے۔صرف ہمدردی سے آرایل ایس پی(این ڈی اے کہنا مناسب ہوگا) کے ووٹ میں اتنا اضافہ ہونا آسان نہیں لگتا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ہرلاکھی میں انتخابی لہر کتنی رہی اور ریاست کے عام حالات کا کس حد تک اس پر اثر پڑا ہے۔ لیکن اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ریاست کا برسر اقتدار مہا گٹھ بندھن اس نتیجہ کو گویا اپنی ہار کو کیسے لیتا ہے۔ یہ آنے والے مہینوں میں پتہ چلے گا کہ مہا گٹھ بندھن کی قیادت اسے چیلنج کے طور پر لیتا ہے یا آسان سیاسی واقعہ کے طور پر ، یا پھر کسی شکل میں دیکھتا بھی ہے یا نہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *