بہار الیکشن: مسلمانوں کے لئے لمحۂ فکریہ

Share Article

وسیم راشد
جون 2010کے ایک اردو اخبار کی خبر یاد آ رہی ہے جس میں لکھا ہوا تھا کہ بہار الیکشن میں مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے نتیش کمار نے خانقاہوں اور مولویوں کو پٹانا شروع کر دیا ہے۔ مسلم اور دینی اداروں کو ایک طرح سے خرید لیا ہے۔ بہار کا سب سے بڑا مسلم ادارہ امارت شرعیہ ہے جس کی آواز پر مسلمان لبیک کہتے ہیں۔ اس کے جنرل سکریٹری مولانا انیس الرحمن قاسمی کو حج کمیٹی کا چیئر مین بنا کر لال بتی والی گاڑی پر بٹھا دیاہے۔ تبلیغی جماعت کے امیر کلیم عاجز کو مشاورتی کمیٹی کا چیئر مین بنا دیاہے۔ ادارت شرعیہ کے جنرل سکریٹری مولانا غلام رسول بلیاوی کو ایل جے پی سے بدل کر جے ڈی یو میں شامل کر دیاہے۔ پٹنہ کی دو بڑی خانقاہوں کو 75-75لاکھ روپے دے کر ان کی زبان بند کر دی ہے۔ یہ تمام خبریں پڑھ کر اور باتیں سن کر افسو س ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ انتخابی بگل بجتے ہی سبھی پارٹیوں کو مسلمان اچانک یاد آ جاتے ہیں،ان کا ووٹ بنک ان کو اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے اور وہ مسلمانوں کی معصومیت اور غربت کا فائدہ اٹھانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔ مسلمانوں کی غربت، ان کی پسماندگی، ان کے اداروں میں فنڈز کی کمی اور اقتدار میں مسلمانوں کی کم حصہ داری، یہ تمام چیزیں ان کے ایجنڈے میں شامل ہو جاتی ہیں۔ بہار میں مسلمانوں کی تقریباً 16فیصد آبادی ہے اور جہاں 243سیٹوں میں سے کم سے کم 80-85سیٹوں پر تو مسلم ووٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور اس لحاظ سے کم سے کم 40 سے 42فیصد مسلمانوں کی نمائندگی ہونی چاہئے۔ مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ حالانکہ رام ولاس پاسوان جی نے تو ایسا غضب کا ترپ کا پتہ پھینکا ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ا نھوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر آر جے ڈی اور ایل جے پی کی سرکار بنتی ہے تو نائب وزیر اعلیٰ مسلمان ہوگا۔ اور بھی بہت سے وعدے کئے ہیں جو مسلمانوں کو لبھانے کے لئے کئے گئے ہیں لیکن بہار کے مسلمانوں کے لئے کس کے دل میں کتنا درد ہے اور کون کتنے وعدے نبھاتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ لالو کا تو یہ حال ہے کہ وہ مسلم ووٹروں کو بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ مسلم علاقوں کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور نہ جانے کیسے ان کو یہ یقین ہے کہ مسلم ووٹ ان ہی کو جائے گا۔ نتیش کا وعدہ اپنی جگہ اہم ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومت نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے کام کئے ہیں۔ جن میں بہار میںاردو ٹیچرس کی تقرری کا بھی وعدہ ہے جو ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے۔اسکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے۔ مسلم علاقوں میں تو اسکول نام کو نہیں ہیں اور جو ہیں بھی توان کی حالت یہ ہے کہ وہاںپینے کا پانی نہیں ہے، بیت الخلاء نہیں ہے، بیٹھنے کے لئے دریاں نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ حالت پورے بہار کی نہیں ہے۔ کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جن میں آس پاس اکثریتی طبقہ رہتا ہے اور اس کو کافی حد تک سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ مگر اس کے پاس کے اقلیتی علاقوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اب اگر اس الیکشن میں ان کے ایک ایک ووٹ کی قیمت لگ جاتی ہے اور ان کے علاقوںاور قصبوں کی قسمت چمک جاتی ہے تو کیا کہنا۔ نتیش کمار کا یہ کہنا کہ ان کے دور حکومت میں بہار میں بہت کام ہوئے ہیں صرف اپنا منھ میاں مٹھو بننے والی بات ہے۔ بہار الیکشن میں مسلمانوں کا بہت بڑا رول ہے اور اس کی اہمیت وہاں پر رہنے بسنے والے مسلمانوں کو سمجھنی ہوگی۔ ان کو چاہئے کہ وہ کسی جذباتی ایشو پر فیصلہ نہ کریں۔ ان کو چاہئے کہ وہ کسی کے وعدے وعید پر بھروسہ نہ کریں، بلکہ اس الیکشن میں مسلمانوں کو 2اہم نکات کو مدنظر رکھنا چاہئے۔
(1)پارٹیوں سے معاہدہ کر لینا چاہئے کہ وہ پارٹیاں ان کے لئے کیا کریں گی ، ان کے علاقوں کی حالت زار کو بہتر بنانے، ان کے بچوں کی تعلیم وتربیت نیزان کو بنیادی سہولیات فراہم کرانے میں پارٹیاں کس حد تک مددگار ثابت ہوں گی۔ اورمسلمان سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ کہیں یہ وعدے الیکشن ختم ہوتے ہی ختم تو نہیں ہو جائیں گے۔ لہٰذااپنے اپنے علاقے کے معتبر لوگوں کو اکٹھا کر کے ان پارٹیوں سے بات کرنی چاہئے اور تبھی ووٹ دینے کا فیصلہ کرنا چاہئے۔
(2)امیدواروں سے بھی معاہدہ کر لینا چاہئے کہ ہماری یہ تمام پریشانیاں ہیں، ہماری یہ بنیادی ضروریات ہیں ۔ اب یہ امیدوار بتائیں کہ ان کے لئے وہ کیا کریں گے؟ یہی نہیں ان امیدواروں سے باقاعدہ قصبے، علاقے،محلے کے معتبر اور اہم شخصیات پوری طرح سے جب تک ان سے Commitmentنہ کرالیں ووٹ دینے کا فیصلہ نہ کریں۔
اس ضمن میں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ مسلمانوں کو اپنے سیاسی دبائو اور اپنی سیاسی طاقت کو بڑھانا چاہئے اور یہ بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ کہہ کر ووٹ دیں اور جن امیدواروں کو آپ ووٹ دیں گے و ہی آپ کے ساتھ ایمانداری سے رشتہ بنا پائیںگے۔
بہار کے تعلق سے جب بھی کوئی آرٹیکل پڑھنے میں آتا ہے یا وہاں کے مسلمانوں کی حالت زار پر جب بھی کوئی اخبار لکھتا ہے تو یہ بات بار بار سامنے آتی ہے کہ مسلم محلوں اور علاقوں کی سڑکیں پکی نہیں ہیں، حالانکہ ایک بات تو ہے کہ نتیش کی حکومت نے سڑکوں کی تعمیر کی طرف خاصی توجہ دی ہے مگر پھر بھی مسلم علاقوں اور محلوں کو جوڑنے والی سڑکیں ابھی تک کچی ہیں۔ آخر مسلم علاقے کیوں نتیش کمار کی اس سڑکوں والی دریا دلی سے محروم رہ گئے ہیں۔ ان علاقوں میں اگر دلت رہتے ہیں اور ان کی سڑکیں مختلف این جی اوزنے تعمیر کرائی ہیں یا امبیڈ کر وغیرہ کے نام پر بن گئی ہیں تو ان ہی علاقوں کے مسلم ووٹرس کو اپنے امیدوار سے یہ سوال ضرور کرنا چاہئے کہ آخر ان کے ساتھ یہ سوتیلا برتائو کیوں؟
ایک بات اور بہت اہم ہے کہ مسلم ووٹروں کو یہ سوچ کر کہ ان کے حلقے سے مسلم امیدوار الیکشن لڑ رہا ہے کبھی بھی ووٹ نہیں دینا چاہئے۔ بلکہ اس امیدوار کو ووٹ دینا چایئے جو حقیقت میں ان کے دکھ درد کو سمجھ سکے اوران کے مسائل کو حل کرسکے اور اگر یہ امیدوار مسلمان نہ بھی ہو  اور وہ جیت جائے تو وہ ہمیشہ مسلمانوں کا ممنون و احسان مندرہے گااور مسلمانوں کی بہتری کے لئے کام کرے گا۔ مگر اس کی جگہ کوئی نا اہل مسلم امیدوار اگر جیت جاتا ہے تو وہ سوچے گا کہ میرے علاقے کے مسلمانوں کے ووٹ تو میرے حق میں ہی جانے تھے تو کون سی بڑی بات ہوگئی۔ اس وقت بہار میں 24فیصد، گیا میں تقریباً25فیصد ، سیتا مڑھی ضلع کے پریہار، سرسنڈ اور سیتا مڑھی میں مسلمانوں کی تعداد 18سے 32فیصد کے درمیان ہے۔ دربھنگہ کے دیہی حلقوں میں جیسے بینی پور، حیا گھاٹ وغیرہ میں بھی 35فیصد تک مسلمان ہیں۔ ان تمام حلقوں میں ہو سکتا ہے کہ مسلم امیدوار ہی چنا جائے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ یہ دیکھ لیا جائے کہ وہ مسلم امیدوار اس لائق بھی ہے کہ وہ جیتنے کے بعد وہاں کے عوام کا بھلا کر سکتا ہے۔اگر وہ اس لائق ہے تو پھر وہاں کے معتبرو معزز لوگوں کو مل کر یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ ایک تو اس کے مقابلے میں دوسرے مسلم امیدوار کھڑے نہ ہوں اور دوسرے اس کی جیت یقینی ہو ۔ بہار اسمبلی میں مسلم نمائندگی بڑھنی چاہئے یہ تو صحیح ہے مگر یہ مسلم نمائندے چور اچکے اور غنڈہ گردی کرنے والے نہ ہوں بلکہ عوام کا دکھ درد سمجھنے والے ہوں۔ تبھی اس نمائندگی کا فائدہ ہوگا،کیونکہ بہار کے تعلق سے بار بار ہمارے مسلم رہنما یہی راگ الاپتے رہتے ہیں کہ بہار اسمبلی میں مسلم نمائندگی بہت ضروری ہے اور یہ نمائندگی بڑھنی چاہئے، بے شک بڑھنی چاہئے کیونکہ اعداد و شمار کے لحاظ سے 243سیٹوں میں سے کم سے کم 40سے 45سیٹیں تو مسلمانوں کی ہونی ہی چاہئیں مگر یہ نمائندگی اچھے امیدواروں کی  ہو تو سود مند ہو گی۔ اس لئے ہر علاقے، محلے، قصبے، گائوں اور دیہاتوں کے مسلمانوں کو یہ بات بھی ضرور سوچنی ہوگی کہ اگر ان کے علاقہ کا نمائندہ ان کی امیدوں پر کھرا نہیں اترتا ہے اور اس کا رپورٹ کارڈ بھی مجرمانہ ہے تو اس کے مقابلہ میں اسی کو ووٹ دیں جو بے شک مسلمان نہ ہو مگر اس کی شبیہ اچھی ہو ،جو ان کے لئے کام کر سکے۔چھ مراحل میں ہونے والے اس الیکشن میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر بہار کے مسلمانوں کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے اور انہیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *