بہار کے وزیر اعلیٰ کو جگدانند کی صلاح

Share Article

سروج سنگھ

کسی  ڈرامے کاکردار مت بنئے۔جانکاری  نہ ہونے کی معافی مانگئے۔ راشٹریہ جنتا دل کے ممبر پارلیمنٹ جگدانند سنگھ کم بولتے ہیں، لیکن جب بولتے ہیں تو دو ٹوک۔ گزشتہ انتخاب کے موقع پر جب انہوں نے کہا تھاکہ بیٹے کا نہیں، پارٹی کا ساتھ دوں گا تو لوگوں کو یقین نہیں ہوا، لیکن جب راشٹریہ جنتا دل کے امیدوار نے ان کے بیٹے کو ہرا دیا تو صوبے کے عوام نے مانا کہ جگدا نند بابو جو کہتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔ ان دنوں فَرَکَّا  بیراج سمجھوتہ اور تیستا کے پانی کی تقسیم کو لے کر صوبے کے وزیروں کی بیان بازی سے جگدانند سنگھ ناخوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیرو ںاور ان کے قائد کی لاعلمی صوبے کو لے ڈوبے گی۔جگدانند سنگھ گنگا  کے پانی کی تقسیم کے معاملے میں اپنے اوپر لگائے گئے الزاموں کو خارج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیستا ندی کے پانی کے ساتھ بہار کا مفاد بھی جڑا ہوا ہے۔اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اپنی خاموشی توڑنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو صوبے کے مفاد کی جانکاری نہیں ہے۔یاد رہے کہ بہار اور بنگال کے ساتھ ہوئے سابق معاہدے کے مطابق مہانندا بیراج کو تیستا ندی کا پانی ملنا ہے۔ اس بیراج سے صوبے کے کئی سرحدی علاقوں کو پانی ملے گا، لیکن تب، جب بیراج کو خود پانی ملنا شروع ہو جائے گا۔

کوسی ندی سے واٹر ٹرانسپورٹ کی مانگ نیپال سے زیادہ بہار کے لیے فائدہ مند تھی۔کوسی ندی سے گنگا  ندی کے ذریعہ سمندر تک ایک بین الاقوامی تجارت کا راستہ ہونا شمالی بہار کے لیے فائدہ مند تھا۔واٹر اسٹور کنسٹرکشن کا راستہ بھی کھل گیا، یہ ہماری کوششوں سے ہی ممکن ہوسکا۔ برہم پتر کے ذریعہ نیپال کو راستہ دینے کے بدلے کوسی کا انتظام بہار کی مالی صورت حال کو اونچائی پر لے جانے والی ثابت ہوگی۔

جگدا نند کہتے ہیں کہ محکمہ آبپاشی نے بکسر میں گنگا ندی میں پانی کی کمی کا اندازہ لگایاتھا۔اس لیے بہار کی اس وقت کی سرکار کی پوری کوشش اس بات کی تھی کہ گنگا ندی سے ملحق اوپر کی ریاستیں بکسر میں طے شدہ مقدار تک پانی دیں اور بہار کو فرکّا کے لیے اپنے حصے سے زیادہ پانی نہ دینا پڑے۔ فرکا میں گنگا کے پانی کی تقسیم سے متعلق 1996 کے سمجھوتے کی پہلے اوربعد میں مخالفت کرنے کے بعد ہی اس وقت کی سرکار نے اپنے مفاد کی حفاظت کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ وزیر برائے آبی وسائل وجے چودھری کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سال 1996 کے سمجھوتے کے بعد گنگا سے پانی لینے کا بہار کا حق ختم ہو گیا تھا، تو 2001-02 میں اس وقت کی سرکار نے باڑھ تھرمل پاور پروجیکٹ کے لیے گنگا سے پانی کیسے دیا تھا؟انہوں نے کہا کہ کوسی ندی پر بننے والے اعلیٰ سطحی باندھ کا ہند نیپال سمجھوتہ ہی بہار کی شرط پر ہوا۔چودھری اس فائل کا مطالعہ کریں۔ نیپال کی مانگ کوسی سے واٹر ٹرانسپورٹ کی تھی اور ہندوستانی سرکار برہم پتر سے ٹرانسپورٹ کی بات پر بضد تھی۔کوسی ندی سے واٹر ٹرانسپورٹ کی مانگ نیپال سے زیادہ بہار کے لیے فائدہ مند تھی۔کوسی ندی سے گنگا  ندی کے ذریعہ سمندر تک ایک بین الاقوامی تجارت کا راستہ ہونا شمالی بہار کے لیے فائدہ مند تھا۔واٹر اسٹور کنسٹرکشن کا راستہ بھی کھل گیا، یہ ہماری کوششوں سے ہی ممکن ہوسکا۔ برہم پتر کے ذریعہ نیپال کو راستہ دینے کے بدلے کوسی کا انتظام بہار کی مالی صورت حال کو اونچائی پر لے جانے والی ثابت ہوگی۔ نیپال کو صرف ایک بندرگاہ ملے گی، مگر بہار کو کُرسیلا-ویر پور کے درمیان کئی بندرگاہیں ملیں گی۔ کیا کبھی کسی سرکار نے ایسا سوچا بھی تھا۔ انہوں نے سرکار پر اندیکھی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ موجودہ سرکار کے ذریعہ حقائق کو جھٹلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تیستا معاملے کے ذریعہ ممتا نبرجی کو ہیروبنانے کی کوشش نہ کی جائے۔گنگا سے بہار کو پانی ملتا رہے، یہ بات بھی اس وقت کی سرکار کے سوا کبھی کسی کی سمجھ میں آئی ہو تو اس کی مثال پیش کرنی چاہیے۔ 1996 کے سمجھوتے کو لے کر موجودہ وزیر اعلیٰ اور اٹل بہاری واجپئی کا رول محض ایک مداح کا تھا۔ 1997 سے لے کر 2004 تک مرکز ی سرکار میں وزیر اور 2005 سے 2011 تک صوبہ کے وزیر اعلیٰ رہے نتیش کمار اپنا رول بہار کے باشندوں کے سامنے کیسے جائز ٹھہرائیں گے؟ممتا نے آج کچھ کیا ہے، لیکن اس سے زیادہ اس وقت کی سرکار نے گنگا  اور گنگا  بیسن کی سب سے بڑی ندی کوسی کے تعلق سے اپنا رول ادا کیا۔ چودھری اگر تیستا اور گنگا کے فرق کو سمجھیں گے تو ممتا اور اس وقت کی سرکار کے کاموں اور ملک میں مرکزی اور صوبوں کے آئینی رول کو بھی سمجھ پائیں گے۔
دوسری طرف وزیر برائے آبی وسائل وجے کمار چودھری نے کہا کہ فرکا سمجھوتے کی تاریخ بتا کر راشٹریہ جنتا دل کے ممبر پارلیمنٹ جگدانند اپنی اور اس وقت کی سرکار کی کمیاں چھپا رہے ہیں۔بات دسمبر 1996 میں ہندو بنگلہ دیش کے درمیان ہوئے فرکا سمجھوتے سے متعلق ہے۔سب کو معلوم ہے کہ اس وقت بہار اور مرکز میں جنتا دل کی حکومت تھی۔ وزیر اعلیٰ لالو پرساد اور وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا تھے۔ سابق وزیر برائے آبی وسائل نے یہ مانا کہ فرکا سمجھوتے میں بہار کے مفاد کی اندیکھی کی گئی۔ یہ سچ ہے کہ اس وقت بہار کے لیے گنگا ندی میں پانی مہیا کرنے کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب بہار کے مفاد کے خلاف یہ سمجھوتہ ہو رہا تھا تو اس وقت صوبے اور مرکز میں بر سر اقتدار جماعت کے لیڈر کیوں منہ چھپائے بیٹھے تھے، بہار کے مفاد کے ساتھ کھلواڑ کیوں ہوا، ریاستی اور مرکز ی سرکار کی آخر کیا مجبوری تھی؟ جگدانند سنگھ کہتے ہیں کہ گنگا ندی کے پانی کو لے کر بنگلہ دیش سے ہوئے سمجھوتے کے لیے اس وقت کے وزیر اعظم سے جواب طلب کیا جانا چاہیے۔ جس دن پارلیمنٹ میں اس معاملے کو لے کر بحث ہو رہی تھی، وہاں اس وقت کے موجودہ وزیر اعلیٰ بھی موجود تھے۔ وہ دیگر موضوعات پر تو بولے ، لیکن اس موضوع پر ایک لفظ نہیں بولے۔ جگدانند کہتے ہیں کہ پروجیکٹوں کو نافذکرنے والوں کے خلاف مقدمہ نہیں کیا جانا چاہیے اور صوبے کے مفاد میں کام کرنے والوں پر نکتہ چینی نہیں ہونی چاہیے۔ دُرگا وتی آبی پروجیکٹ نتیش اس لیے شروع نہیں کر پائے، کیونکہ جن بد عنوان افسروں کو میں نے سزا دی تھی، ان کی مدد سے وہ مجھے جیل بھیجنا چاہتے تھے۔ جگدانند بابو نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ آپ کا عہدہ بڑا ہے، دل اور دماغ کو بھی بڑا کیجئے، ڈرامے کا کردار مت بنئے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *