بہار: صد سالہ جشن کے دوران بھی مسلمان نظر انداز

Share Article

اشرف استھانوی
بہار اپنے قیام کے 100 ویں سال میں قدم رکھ چکا ہے۔ اس کا صد سالہ جشن گذشتہ 22 مارچ کو شروع ہوا اور آئندہ سال22 مارچ تک جاری رہے گا۔ اسی موقع پر بہار قانون ساز کونسل کی صد سالہ تقریبات کا بھی آغاز ہوا جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے صدر جمہوریہ پرتبھا دیوی سنگھ پاٹل شریک ہوئیں۔ صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب میں بہار کو گوتم بدھ، تیرتھنکر مہاویر، مخدوم جہاں اور گرو گووند سنگھ کی انسان دوستی اور مذہبی رواداری کا ذکر کرتے ہوئے ان کے دکھائے ہوئے آپسی اتحاد، بھائی چارہ ، خیر سگالی اور انسان دوستی کے راستے پر چلنے کی تلقین کی۔ صدر جمہوریہ کا کہنا تھا کہ جس طرح ان عظیم ہستیوں نے سماج کے ہر طبقہ کا یکساں طور پر خیال رکھا اور کسی تفریق اور امتیاز کے بغیر سب کو ساتھ لے کر چلے اسی طرح ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنا چاہئے اور ترقی و خوشحالی کا فائدہ سماج کے کمزور طبقہ کے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
صدر جمہوریہ نے بہار کی قابل فخر تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہار نے کئی معاملوں میں ملک کی رہنمائی کی ہے۔ اس کا ماضی انتہائی شاندار اور تابناک رہا ہے۔ مگر آج حکمراں چاہیں تو مستقبل اس سے بھی زیادہ روشن اور تابناک ہو سکتا ہے۔ تحریک آزادی میں بہار کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ مہاتما گاندھی کو اسی بہار سے طاقت ملی اور آزادی کی لو بہار سے ہی تیز ہوئی۔ بہار نے آزادی سے لے کر ملک کی تعمیر نو تک ہر معاملے میں نہ صرف روشنی دکھائی ہے بلکہ سرگرم کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹاتا رہے گا۔ خواتین کو تعلیم یافتہ اور با اختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر جمہوریہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بہار نے پہلی بار پنچایتی راج اداروں میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دے کر او ران کی تعلیم پر توجہ دے کر پورے ملک کو نئی راہ دکھائی ہے۔ صدر جمہوریہ کا ماننا تھا کہ بہار نے حالیہ چند برسوں کے دوران قابل ذکر ترقی کی ہے اور اسے مزید آگے بڑھانے کے لئے صنعت اور زراعت پر خاص دھیان دینا چاہئے اور مذہب، ذات اور فرقہ سے اوپر اٹھ کر ریاست اور ملک کے وسیع تر مفاد میں کام کرنا چاہئے۔ تعلیم کو ترقی کا زینہ قرار دیتے ہوئے صدر جمہوریہ نے نالندہ او روکرم شیلا بین الاقوامی یونیورسٹی کی گولڈن تاریخ کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ نالندہ بین الاقوامی یونیورسٹی کا پھر سے احیا ہو رہا ہے اور اس میں بھار ت سمیت کئی ممالک تعاون کر رہے ہیں۔
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے صد سالہ جشن کو اپنی شرکت سے چار چاند لگانے کے لئے صدر جمہوریہ کا بطور خاص شکریہ ادا کیا ہے اور زراعت کے فروغ سے متعلق ان کے مشورے کو بھی کافی اہمیت دی اور اس سلسلے میں اب تک کی گئی کارروائی کی تفصیل پیش کی۔ وزیر اعلیٰ نے صدر جمہوریہ کو یاد گاری نشان اور تحائف بھی پیش کئے۔ وزیر اعلیٰ نے صد سالہ جشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار شروع سے ہی دنیا کو راہ دکھاتا رہا ہے۔ درمیان میں کچھ مایوسی کے بادل چھائے تھے لیکن بہار ایک بار پھر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہم مرکزی حکومت سے لگاتار بہار کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اگر مرکز نے بہار کے ساتھ تعاون کیا ہے تو بہار جلد ہی ترقی یافتہ ریاستوں میں سر فہرست ہوگا اور اگر مرکز کی طرف سے عدم تعاون کا سلسلہ جاری رہا تب بھی ہم ہار نہیں مانیں گے اور اپنے وسائل اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے لگاتار آگے بڑھتے رہیں گے۔ نالندہ بین الاقوامی یونیورسٹی کے احیا کا ذکر کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ یہ یونیورسٹی مستقبل میںملک او ربیرون ملک کے لوگوں کے لئے تعلیم اور فن کا ایک بڑا مرکز رہے گا۔ اس وقت تک شاید میں نہ رہوں لیکن مجھے اس بات کا یقین ہے کہ یہ ملک کا امتیازی او رعلامتی تعلیمی ادارہ ہوگا جو بہار کو ایک بار پھر ملک اور بیرون ملک میں وقار اور اعتبار بخشے گا۔
بہار او ربہار کی قانون ساز کونسل کی صد سالہ تقریب کے دوران صدر جمہوریہ کی طرف سے تو مساوات، رواداری اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صحیح تلقین ہوئی مگر نتیش حکومت اور قانون ساز کونسل کی طرف سے مسلمانوں اور اردو کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جشن کے دوران بھی نظر آیا۔ قانون ساز کونسل کی طرف سے صد سالہ تقریب کے دوران صدر جمہوریہ کے ہاتھوں کتابوں کا اجرا عمل میں آیا، لیکن اس میں ایک کتاب بھی اردو کی نہیں تھی۔ جب کہ اردو نہ صرف بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے بلکہ اسے قانون سازیہ کی زبان ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ پورے جشن کے دوران بہار کو آزادی دلانے والے اور بہار کی تعمیر نو میں اپنا خون جگر صرف کرنے والے مسلم رہنمائوں کو پوری طرح نظر انداز کر دیا گیا۔ حتی کہ پوسٹر ، بینر اور ہوڈنگ اور کٹ آئوٹس میں بھی مسلمان اور اردو کو بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ بہار کو بنگال سے آزاد کرانے اور بہار میں بَہار لانے والے مسلم جیالوں کا ذکر صرف اردو اخبارات تک محدود رہا ۔ مسلمانوں اور اردو کے معاملے میں صدر جمہوریہ کی مداخلت بھی بے اثر رہی۔
صدر جمہوریہ کی پہل پر 2007 ء میں ہندوستانی خواتین فٹبال ٹیم کی ملک کے باہر بطور نائب کپتان بہار اور ہندستان کی نمائندگی کرنے والی مدھو کو تو ملازمت ملنے کی امید نظر آئی مگر ریاستی قانون ساز کونسل میں اردو رپورٹر کے عہدہ سے غیر قانونی طور پر ہٹائے جانے  والے سید جاوید حسن کو انصاف کی کرن تک نظر نہیں آئی۔ جاوید حسن کی اہلیہ زیبا تبسم نے نئی دہلی میں صدر جمہوریہ کے سامنے تمام حقائق رکھتے ہوئے ان سے انصاف کی فریاد کی تھی اور صدر جمہوریہ نے قانون ساز کونسل کی صد سالہ تقریب میں شرکت کی منظوری دینے سے قبل مظلوم کو انصاف دینے کی ہدایت جاری کی تھی اور پھر اس سلسلہ میں ہوئی پیش رفت سے انہیں مطلع کرنے کی تلقین کی تھی ۔ صدر جمہوریہ کو ڈپلو میسی سے کام لیتے ہوئے مطمئن کرایا گیا مگر جاوید حسن کو انصاف نہیں دلایا گیا۔
جشن سے چند روز قبل جب اس نا انصافی کا خلاصہ کرنے اور اسے عوام کے سامنے لانے کی کوشش کرتے ہوئے زیبا تبسم نے پریس کانفرنس بلائی اور میڈیا کے سامنے تمام دستاویزات اور حقائق پیش کرتے ہوئے اپنا دکھڑا سنایا تو اس کی آواز قومی میڈیا نے بڑی بے رحمی کے ساتھ دبا دی۔ اردو اخبارات کے علاوہ ہند اور انگریزی کے کسی اخبار نے اس معاملے کو اہمیت نہیں دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جاوید حسن آج بھی بے روز گاری کا کرب جھیل رہے ہیں اور جس طرح مدھو نے صدر جمہوریہ سے ان کے بہار دورہ کے دوران مل کر ان کا شکریہ ادا کیا اس طرح کا موقع جاوید حسن کی اہلیہ زیبا تبسم کو نہیں مل سکا۔ مدھو کا معاملہ یہ تھا کہ اس نے اسپورٹس کو ٹاپر ملازمت کی درخواست دی تھی جو منظور بھی کر لی گئی تھی مگر بعد میں فٹبال ایسوسی ایشنزکے آپسی ٹکرائو کے سبب یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا تھا، لیکن صدر جمہوریہ کی مداخلت اور قومی میڈیا کے سرگرم تعاون سے اب اس کا مسئلہ حل ہو چکا ہے اور اسے جوائننگ لیٹر ملنے والا ہے۔ مگر جاوید حسن کو غلط طریقے سے پہلے تنخواہ سے محروم کیا گیا اور بعد میں حاضری بنانے سے بھی روک کر اسے ملازمت سے محروم کر دیا گیا۔ جب کہ ایڈووکیٹ جنرل تک ریویو کے بعد جاوید حسن کو ملازمت سے محروم کرنے کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں سابقہ پوزیشن پر بحال کرنے کی سفارش کردی ہے ،پھر بھی قانون ساز کونسل کے موجودہ صدر نشیں پنڈت تارا کانت جھا اسے شاید وقار کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں اور فائل کو دباکر بیٹھے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ صدر جمہوریہ کیا پھر اس معاملے کو انجام تک پہنچانے کے لئے مداخلت کریں گی او رجاوید حسن کو مدھو کی طرح انصاف دلاپائیں گی یا یہ معاملہ ہمیشہ کے لئے فائل میں دب کر رہ جائے گا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صدر جمہوریہ کی تلقین کے مطابق انصاف کے ساتھ ترقی کا نعرہ دینے والی نتیش حکومت سب کے ساتھ انصاف کرنے کا عہد کرے گی اور ترقی کا فائدہ مسلمانوں اور دیگر محروم طبقات تک پہنچائے گی یا صرف نعروں میں ہی وکاس دکھانے کی کوشش کرے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *