بہار اسمبلی: شرم تم کو مگر نہیں آتی

Share Article

وسیم راشد
جوتے، چپلیں، کرسیاں، میزیں، جوتم پیزار، ہاتھا پائی، یہ ہے بہار اسمبلی کا سین اور اس سین کو دیکھ کر ہمیں یاد آرہا ہے سرسید احمد خاں کا مشہور مضمون ’بحث و تکرار‘ جس میں انہوں نے انسان کی بحث و تکرار کی شروعات کا موازنہ کتوں کی لڑائی سے کیا ہے اور انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ جب دو آدمی بحث و تکرار شروع کرتے ہیں تو بالکل اسی طرح کرتے ہیں جیسے دو کتے۔ ایک کتا دوسرے کو دیکھ کر آہستہ آہستہ بھونکتا ہے اور پھر عجیب عجیب آوازیں نکال کر آہستہ آہستہ غراتا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد دونوں اپنی جگہ سے اٹھ کر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ سرسید کے مطابق انسانوں کی تکرار کی شروعات بھی ایسے ہی ہوتی ہے اور پھر جب یہ تکرار بڑھ جاتی ہے تو دونوں ایک دوسرے سے لپٹـ جاتے ہیں۔ اس کی ٹانگ اس کی گردن پر اور اس کی گردن اس کے شکنجے میں اور لپّا ڈگی ہونے لگتی ہے۔ بہار اسمبلی کا نظارہ دیکھنے کے بعد بار بار ہمیں سرسید کا لفظ لپّا ڈگی یاد آرہا ہے۔ بالکل یہی سین بہار اسمبلی کا تھا جس میں اسمبلی کی کارروائی شروع ہوتے ہی اسپیکر نے فروغ انسانی وسائل کے وزیر ہری نارائن سنگھ کو جب یونیورسٹی آف نالندہ کی تجویز 2010باضابطہ طور سے اجلاس میں رکھنے کو کہا اور اسپیکر نے اس متنازعہ رپورٹ پر بحث کرائے جانے کی جیسے ہی اجازت دی، حزب اختلاف کے اراکین بہک گئے اور پھر اسپیکر کے ڈیسک کے پاس آکر حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے اور پھر وہی ہوا بالکل ویسا ہی منظر جیسا کہ سرسید نے بیان کیا ہے کہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوگئے اور لپا ڈگی ہونے لگی۔
’اور میرے آنے کے بعد بہار میں جنگل راج کا خاتمہ ہوگیا ہے۔‘ یہ کہنے والے نتیش کمار کے بہار میں جنگل راج کا جو نظارہ سامنے آیا، اس نے تو یہ ثابت کردیا کہ بہار میں تو تہذیب و اخلاق کا جنازہ ہی نکل چکا ہے۔
جمہوریت میں یوں تو عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعہ ہوتی ہے اور اس میں عوام ہی اپنے نمائندہ کو نہایت بھروسہ اور عقیدت کے ساتھ چنتے ہیں، لیکن یہی عوام جب جمہوریت اور قانون کو اس طرح پامال ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔ بہار یوں تو ہمیشہ سے ہی سرخیوں میں رہا ہے۔ لالو یادو اور رابڑی دیوی کی وجہ سے بہار کو صرف ہندوستان میں ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ لالو یادو کے مضحکہ خیز انداز اور ان کے نہایت سادہ اور بے باک لب و لہجے کے لیے ان کو لوگ پسند کرتے ہیں اور یہی لالو یادو بھی جب اپنے ملک سے باہر دوسرے ممالک میں جاتے ہیں تو اپنے ساتھ بہار کا نام بھی لے کر جاتے ہیں۔ اسی بہار میں جب اسمبلی میں جوتے چپلیں چلتے ہیں اور قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں تو دکھ ہوتا ہے کہ یہ وہی ہمارے نمائندے ہیں ،جن کے لیے ہم نے اپنے قیمتی ووٹ کو ضائع کردیا۔ ہندوستان کا ایک بڑا حصہ گاؤں میں بستا ہے۔ گاؤں کے سادہ لوح لوگ تو یہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ کون امیدوار اچھا ہے کون برا۔ وہ تو بس شخص کو جانتے ہیں ،اس کی پارٹی کو جانتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر ووٹ بھی ڈالتے ہیں، لیکن شہروں میں تو لوگ سوچ سمجھ کر اپنا نمائندہ چنتے ہیں، حالانکہ یہ ووٹ ڈالنے کا عمل بھی کبھی کبھی ذات برادری یا مذہب کی آڑ لے لیتا ہے، مگر جو لوگ مذہب یا ذات برادری کے نام پر حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں، ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ ہر شخص اس کوووٹ ڈالتا ہے جو اس کے نزدیک عوام کے دل سے قریب ہوتا ہے اور عوام کو اس پر پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ یہ ضرور ان کے کام آئے گا اور ان کی مشکلات حل کرے گا۔ یہ سبھی اس امید پر ووٹ ڈالتے ہیں کہ علاقہ خوشحال ہوگا، ملک خوشحال ہوگا تو ہم بھی خوشحال ہوںگے، مگر جب ان سب کا الٹا ہوتاہے تو عوام کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔بہار اسمبلی میں جوشرمناک واقعہ ہوا وہ تاریخ بن گیا، جس کی شروعات پہلے چپل سے ہوئی اور بات پھر کرسی اور میزوں تک آگئی اور پھر ایک کانگریسی خاتون جیوتی صاحبہ نے تو گملے تک اٹھا اٹھا کر مارنے شروع کردئے اور جب ان کو روکنے کے لیے مارشل کو بلایا گیا تو ان اراکین اسمبلی نے ان کو بھی نہیں بخشا اور ان پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس  مارپیٹ میں کوئی ایک پارٹی یاکوئی ایک شخص شامل نہیں ہے کہ اس کو لعن طعن کرکے یا پھٹکار کر اسمبلی سے نکال دیا جاتا۔ اسمبلی کو مچھلی بازار بنانے والوں میں آر جے ڈی، ایل جے پی، کانگریس، بی ایس پی، سی پی ایم، سی پی آئی(ایم ایل) اور سی پی آئی کے تمام اراکین شامل ہیں اور یہ سبھی عوام کے نمائندے ہیں۔ یہاں یہ بحث کرنا کہ ہنگامہ شروع کس نے کیا ہے بے کار ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ آپ کو منتخب کر کے آپ پر بھروسہ کر کے آپ کو اس عزت و احترام کے قابل بناتے ہیں کہ آپ لال بتی کی گاڑی سے نکلتے ہیں تو لوگ آپ کے لیے راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ کسی بھی پروگرام میں شرکت کرتے ہیں تو لوگ آپ کو سر آنکھوں پر بٹھالیتے ہیں۔ یہی لوگ جب اپنے پسندیدہ نمائندے کو جوتے چپلیں برساتے اور گالی گلوچ کرتے دیکھتے ہوںگے تو کتنا دل ٹوٹتا ہوگا، اگر ہم ہندوستان کا مستقبل سنوار نہیں سکتے، اگر ہم آنے والی نسلوں کو کوئی بہتر مثال نہیں دے سکتے، اگر ہمارے رہنما ہی سفید کھادی کے پیچھے سیاہ دل اور مجرمانہ ذہنیت رکھتے ہوئے ہندوستان کا مستقبل سنوارنے کا دعویٰ کریںگے تو ہماری نوجوان نسل کیا سیکھے گی۔ بس اب چھری چاقو اور ریوالور کی ہی کمی رہ گئی ہے اور یہ کمی بھی جلد ہی پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
حالانکہ ہمارے ملک میں پارلیمنٹ یا اسمبلی میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ مہاراشٹر، یوپی، اڑیسہ ، بہار وغیرہ میں بھی ایسا کئی بار ہوچکا ہے، مگر یہاں ہم صرف یہی سوال کرنا چاہتے ہیں کہ اگر اختلاف یا ناراضگی کے اظہار کا طریقہ اس طرح کا بن جائے گا تو پھر تو عوام کا بھروسہ بالکل ہی ختم ہوجائے گا۔ پولس اور لیڈر یہ دو طبقے ایسے ہیں، جن پر سے عوام کا اعتماد کافی حد تک اٹھ چکا ہے۔ پولس اور لیڈران دونوں ہی طبقوں پر بدعنوانی اور استحصال کا الزام لگایا جاتا ہے، مگر ابھی بھی کچھ لیڈر ایسے ہیں، جن کا عزت و وقار قائم ہے۔ ہمارے کچھ سینئر لیڈران نے ہمیشہ پارلیمنٹ اور اسمبلی کا وقار قائم رکھا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ایوان میں ہماری اسمبلیوں میں کچھ ایسے افراد پہنچ گئے ہیں، جن کو قانون و آئین کے وقار کا تو پاس ہے ہی نہیں،خود اپنے وقار کو بھی داؤ پر لگاچکے ہیں اور یہی لوگ ہمارے قانون ساز اداروں میں پہنچ گئے ہیں،جو قانون کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں۔ احتجاج کا جمہوری طریقہ کیا ہے، یہ بھی ان کو سکھانا پڑے گا۔ اس جمہوری ملک میں جہاں اپنی بات کہنے اور اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے، وہاں اختلاف رائے کے لیے بحث و مباحثہ یا مذاکرہ کا طریقہ بھی دیا گیا ہے، اگر اسمبلی میں کسی کو اپنی بات کہنی ہے تو اس کے لیے جمہوری قانونی طرز عمل ہی اپنانا چاہیے، اگر سبھی قانون کو اپنے ہاتھ میںلے لیںگے تو پھر عام انسان کو کس بات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ عوام بھی ان سے ہی سبق لیںگے اور اگر ان کی بات نہیں مانی جائے گی تو پھر تو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجائے گا۔ یہ قانون ساز ادارے، یہ اسمبلیاں، یہ پارلیمنٹ ہمارے لیے اصول و ضوابط کے نفاز اور قانون سازی کے لیے بنائے گئے ہیں۔ان کو مچھلی بازار بنادینا نہایت شرمناک ہے۔
نتیش کمار کا رپورٹ کارڈ کچھ بھی رہا ہو۔ نتیش نے بہار کے لیے ترقیاتی کام کئے ہوں یا نہیں۔ یہاں ہم اس سے بحث نہیں کرتے، کیوںکہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں بہار میں بار بار مظاہرے ہوئے ہیں۔ کبھی اساتذہ کی تقرری کا معاملہ اٹھتا ہے تو کبھی اندرا آواس یوجنا کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ یہ وہی بہار ہے جہاں روزانہ آبروریزی کے کئی کسی درج کئے جاتے ہیں، اگر نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو ان کے مطابق 2005سے 2010تک آبروریزی کے 5324واقعات ہوئے ہیں، یعنی بہار وہ ریاست ہے، جہاں نہ تو ترقیاتی کام ہوئے ہیں اور نہ ہی وہاں کے عوام کو سکون میسر آیا ہے۔ ایسے میں جب کروڑوں کی بدعنوانی کا معاملہ سامنے آئے تو لیڈران سے زیادہ عوام کا رد عمل سامنے آنا ضروری تھا۔ سرکاری خزانہ میں کروڑوں روپے کے ریکارڈ کی عدم موجودگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے جو ٹیکس حکومت کو دیتے ہیں، حکومت وہ بھی کھا جاتی ہے اور خود حکومت کے ذریعے غریب عوام کی بازآبادکاری راحت اور بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے جو پیسہ دیا جاتا ہے، انہیں بھی ہڑپ کرجاتی ہے۔ بہار میں محکمہ جاتی بدعنوانیاں بھی زوروں پر ہیں اور ساتھ ہی جرائم کا گراف بھی اوپر کی طرف ہی جارہا ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی کے سربراہ رام ولاس پاسوان اور راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو نے بھی بہار سرکار پر کروڑوں روپے کی بدعنوانی کا الزام لگایا ہے۔ ایسے میں جب کہ بہار میں الیکشن ہونے والا ہے، اب یہ سب سیاسی داؤ پیچ تو کھیلے جائیںگے ہی۔ ہر بڑا لیڈر دوسرے پر کیچڑ بھی اچھالے گا،ا س کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش بھی کرے گا۔ خود نتیش کبھی مودی کا ڈرامہ کر کے، کبھی مسلمانوں کی قربت کا دعویٰ کر کے ہر طرح سے انتخاب کے لیے راستے ہموار کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مگر افسوس صرف اس بات کا ہے کہ اگر یہی سیاسی داؤ پیچ کھیلے جاتے رہے اور اس طرح زوال کے نمونے سامنے آتے رہے تو نوجوان نسل جسے آگے ہندوستان کا مستقبل سنوارنے کے لیے آگے آنا ہے۔ اس نسل کو ہم کیا سکھائیںگے اور اس نسل سے ہم کیوں یہ امید رکھیںگے کہ وہ ہمیں ووٹ دے کر اسمبلی یا پارلیمنٹ میں پہنچائے گی۔ دراصل بہار ہو یا اڑیسہ ، بنگال ہو یا گجرات حالات سب جگہ ایک جیسے ہیں۔ بدعنوانی کا ہر طرف بول بالا ہے۔ ایسے میں بس نوجوان نسل سے کچھ امید باقی ہے کہ وہ آنے والے ہندوستان کو بہتر قیادت اور بہتر حکمراں دے گی تاکہ ہندوستان کو جو شرمندگی دوسرے ترقی پسند ممالک سے اٹھانی پڑتی ہے، اس سے نکل کر ہندوستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور آنے والے ہندوستان کی بہتر شبیہ دنیا کے سامنے آسکے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *