بہار اسمبلی انتخابات: پسماندہ ذاتوں کے پاس ہے اقتدار کی چابی

Share Article

سنتوش بھارتیہ
بہار میں اسمبلی انتخابات میں اعلیٰ ذات کا ووٹ کس کو ملے گا اس پر سب کی نظر جمی ہے۔کس اتحاد کو کتنی سیٹیں ملیں گی اس کا اندازہ اس بات پر ٹکا ہے کہ براہمن، راجپوت، بھومی ہار اور کائستھ کس کو ووٹ دیں گے۔دراصل اس بار کے انتخاب میں اقتدار کی چابی اعلیٰ ذات نہیںبلکہ پسماندہ ذات کے پاس ہے۔پسماندہ ذات تعداد میں پہلے سے ہی زیادہ ہیں لیکن انتخابات میں ان کی موجودگی کم تھی۔ بہار کی انتخابی حکمت عملی میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ اس الیکشن میں ذات برادری کا ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے، جس کے دوراندویش سیاسی نتائج برآمد ہونے کے اشارات مل رہے ہیں۔
دوسری کسی بھی ریاست سے بہار کی سیاست میں ذات کی اہمیت زیادہ ہے۔ بہار غریب ہے، پسماندہ ہے، یہاں بے روزگاری ہے، روزی روٹی کے لئے سب سے زیادہ بہار کے لوگ ہی دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں۔ انتخابی حکمت عملی میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کی بھرمار ہے۔بہار کے انتخابات پر جب بھی بات ہوتی ہے تو انہیں ایشوز پر بیشتر تجزیہ نگاروں کا دھیان جاتا ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی انتخابات میں ذات کا اہم رول رہا ہے۔ پسماندہ ذات کے با اختیار ہونے کے نظریہ سے بہار ملک میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والی  ریاست ہے۔بہار میں اعلیٰ ذات کے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 1952میں56.4فیصد سے گھٹ کر 2004میں27.5فیصد ہو گئی، وہیں پسماندہ ذات کے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 1952میں5.5فیصدی سے بڑھ کر 2004میں37.5فیصد ہو گئی ہے۔بہار ملک کی ایسی  واحد ریاست ہے جہاں15سال سے پسماندہ ذات کا وزیر اعلیٰ رہا ہے۔بہار کی سیاست میں پسماندہ ذاتوں کا اثر بڑھا ہے۔ پسماندہ ذاتوں کا ایک اعلیٰ طبقہ ہے جو سیاسی اور اقتصادی نظریہ سے کافی مضبوط ہے۔ لالو یادو نے اپنے دور اقتدار میں نسلی استحصال کا خاتمہ کرنے کی بجائے اسے اقتدار میں قائم رہنے کا ایک اوزار بنایا۔لالو یادو نے سماجی انصاف کا مطلب ہی تبدیل کر دیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ لالو یادو نے نسلی استحصال کا اوزار تلاش کرلیا۔پندرہ سال کے دور اقتدار میں سماجی ترقی حکومت کے دائرے سے باہر ہی رہی۔ سماجی انصاف کا مفہوم استحصال کو ختم کرنے کی جگہ اعلیٰ ذات کو اقتدار سے باہر رکھنا ہو گیا۔ پسماندہ ذاتوں کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں لالو یادو نے توجہ نہیں دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پسماندہ ذات، دلت اور مسلمان جو راشٹریہ جنتا دل کے حامی تھے انھوں نے لالو یادو کو چھوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2005کے انتخابات میں سیکولر ڈیموکریٹک فرنٹ ہار گیا۔ اس فرنٹ میں آر جے ڈی، کانگریس، این سی پی اور سی پی ایم جیسی اہم پارٹیاں شامل تھیں۔ لالو یادو کی حالت اس لئے کمزور ہوئی کیونکہ پارٹی میں پسماندہ ذات کے ممبران اسمبلی کی تعداد کم ہو گئی۔ 1995کی جیت کے بعد لالو یادو نے سماجی انصاف کا نعرہ دیا اور پسماندہ ذاتوں، دلتوں اور خواتین کی حمایت سے انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے،لیکن کسانوں کے مسائل پر حکومت نے توجہ نہیں دی۔ بھوجپور، جہاں آباد اور پلامو جیسے علاقوں میں کسانوں نے تحریک شروع کر دی جسے طاقت کے زور پر دبایا گیا۔نتیجتاً  2000کے انتخابات میں لالو یادو کی پارٹی کی 49سیٹیں کم ہو گئیں۔ آر جے ڈی 124سیٹوں میں سمٹ کر رہ گئی۔ اس الیکشن میںپسماندہ ذاتوں کے ممبران اسمبلی کی تعداد میں کمی آئی۔ اسی طرح درج فہرست ذاتوں کی تعداد میں کمی آئی۔ بی جے پی کی وجہ سے اعلیٰ ذات کے ممبران اسمبلی کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن بی جے پی نے پسماندہ ذاتوں خاص کر یادئوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کی، جس کا انہیں فائدہ بھی ملا۔بی جے پی کے ممبران اسمبلی میں10.4فیصدی یادو ہیں جو راج پوتوں کے بعد سب سے بڑا گروپ تھا۔ نومبر 2000میں جھارکھنڈ کو الگ کر دیا گیا،تو بہار کی سیاست سے درج فہرست ذاتوں کا صفایا ہو گیا۔جس سے دو تبدیلی ہوئیں۔ ایک بہار کی سیاست میں پسماندہ ذاتوں کی پکڑ مضبوط ہو گئی اور دوسری یہ کہ پسماندہ اور اعلیٰ ذات کے درمیان راستہ اور بھی صاف ہو گیا۔ فروری 2005کے انتخابات میں لالو یادو کی پارٹی 74سیٹوں کی رہ گئی۔ رام ولاس پاسوان کو 29سیٹیں ملیں اور این ڈی اے اتحاد کو 92سیٹیں ملیں۔ کسی کی حکومت تو نہیں بنی لیکن اس الیکشن میں پسماندہ ذات کے ممبران اسمبلی کی تعداد کم ہو گئی لیکن اعلیٰ ذات کے ممبران اسمبلی کی تعداد میں4.9فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس کی اہم وجہ ایل جے پی تھی۔ 2005کے انتخابات میں لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کی دشمنی کی وجہ یہ رہی کہ مسلم اور دلتوں کے اتحاد سے لالو یادو کا مقابلہ کرنے نکلے رام ولاس پاسوان کی پارٹی کے 30فیصد امیدوار اعلیٰ ذات کے تھے۔ مسلمان اور دلتوں سے صرف 20فیصد امیدوار تھے۔ اس لئے ایل جے پی میں اعلیٰ ذات کے ممبران اسمبلی اکثریت میں آ گئے اور ایک بھی مسلمان الیکشن نہیں جیت سکا۔ رام ولاس پاسوان بہاری سیاست میں پسماندہ ذات کی اہمیت کا صحیح اندازہ نہیں کر سکے اس لئے جب نومبر میں الیکشن ہوا تو انہیں فروری جیسی کامیابی نہیں ملی۔
جب نومبر 2005میں انتخابات ہوئے تو این ڈی اے کو 144سیٹیں ملیں اور وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، جب حکومت بنی تو نتیش کمار نے پسماندہ ذات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ذات کے لوگوں کو بھی حکومت میں حصہ داری دی۔ اسمبلی کے اندر پاور کی ایک نئی سیاسی جوڑ توڑ ابھری۔ 2000کے الیکشن کے بعد سے تمام ذاتوں کی فہرست بدلی، لیکن صرف مسلمان اکیلے رہ گئے جن کی سیٹیں کم ہوئیں۔لالو یادو کی ہار کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہار میں یادو ممبران اسمبلی کی تعداد کم ہو گئی لیکن کرمیوں اور کوئری کی سیٹیں بڑھ گئیں۔یہی دونوں برادری  جے ڈی یو کی اہم حامی ہیں۔نتیش حکومت پسماندہ ذاتوں کی برتری کو چیلنج دینے والی حکومت نہیں بلکہ پسماندہ ذاتوں کو مضبوط کرنے والی حکومت رہی۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ خواہ وہ بی جے پی ہو، جے ڈی یو ہو یا پھر آر جے ڈی، ہر پارٹی میں پسماندہ ذات کے ممبران اسمبلی کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔بہار کی سیاست میں آج یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو جماعت جتنی زیادہ پسماندہ ذات کے امیدواروں کو ٹکٹ دے گی اسے اتنی ہی زیادہ سیٹیں ملیں گی۔ و ہی پارٹی حکومت بنائے گی۔بہار کی سیاست کا یہ نیا چہرہ سامنے آ رہا ہے۔ اسے الیکشن میں ذات برادری کی جوڑ توڑ کی نئی شروعات کہا جا سکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ پسماندہ ذاتوں میں کئی ذاتوں کی حصہ داری ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اس نئی جوڑ توڑ کو سمجھتے ہوئے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں، لیکن فیصلہ بہار کے عوام کے ہاتھ میں ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *