بہار اسمبلی الیکشن2010: کب تک فیل ہوںگے راہل

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
کہانی یاد آ رہی ہے ۔ ایک گائوں میں دو پڑوسیوں کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا۔ دونوں دن رات یہی کوشش کرتے تھے کہ ایک دوسرے کو تباہ و برباد کیسے کیا جائے۔اچانک ان میں سے ایک کے دماغ میں ایک ترکیب آتی ہے اور وہ اپنی آنکھ پھڑوا لیتا ہے۔ہر دن وہ اس کے سامنے کھڑا ہو جایا کرتا تھا۔جس نے اپنی آنکھ پھڑوا لی تھی۔اسے یہی ترکیب آئی کہ کیوں نہ دن بھر اس کے پیچھے لگا رہے،اس سے تو اچھا یہ ہے کہ ایک آنکھ پھوڑ لے اور علی الصبح اس کے سامنے چلا جائے۔کانے کو دیکھنے سے ویسے ہی دن خراب ہو جائے گا۔ایسے ہی کانگریس پارٹی نے بہار انتخابات میں یہی کام کیا ہے۔ لالو یادو کو سبق سکھانے کی ضد نے کانگریس پارٹی کو اندھا بنا دیا ۔ پارٹی نے بہار میں ایسی حکمت عملی اختیار کی جس سے پوری اپوزیشن منتشر ہو گئی۔
سوال یہ ہے کہ راہل نے بہار میں ایسی حکمت عملی کیوں اختیار کی۔ دراصل راہل گاندھی کے لئے بہار انتخابات ایک تجربہ گاہ ہیں۔ انہیں ملک کا وزیر اعظم بننا ہے۔ نوجوانوں کا محبوب لیڈر بننا ہے۔ بس یہ کہہ لیجئے کہ بہار انتخابات راہل کا امتحان ہیں۔بہار کے انتخابات میں یہ بھی فیصلہ ہونا ہے کہ کیا راہل گاندھی کا کرشمہ انتخابات پر اثر ڈالتا ہے یا نہیں۔ کیا راہل گاندھی میں تشکیل نو کرنے کی قابلیت ہے یا نہیں۔آج سے بیس سال قبل بہار کی سب سے مضبوط اور طاقتور پارٹی کانگریس ہوا کرتی تھی۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا راہل گاندھی کانگریس کے پرانے دن لوٹا پانے میں کامیاب ہوں گے۔یہ راہل گاندھی اور ان کے صلاح کاروں کے لئے صحیح چیلنج ہے۔راہل گاندھی نے مسلمانوں اور نوجوانوں کے ذریعہ اس کام کو انجام دینے کی کوشش کی۔ایسا ہی کچھ راہل گاندھی کو اتر پردیش میں کرنا ہے۔ اب اگر بہار کا تجربہ کامیاب رہا تو راہل گاندھی کا مکمل اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم بننے کا راستہ صاف ہو جائے گا لیکن راہل گاندھی  اپنے پہلے امتحان میں فیل ہو گئے۔ راہل گاندھی نوجوانوں کو سیاست میں نمایاں کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ وہ ہندوستان کے نوجوانوں کے محبوب لیڈر بنیں۔بہار انتخابات ان کے لئے ایک موقع تھے جب وہ زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو نوجوان بنا سکتے تھے۔اگر راہل گاندھی بہار میں 25-40سال کی عمر کے 60فیصد امیدواروں کو ٹکٹ دلوانے میں کامیاب ہوتے تو یہ مانا جا سکتا تھا کہ راہل گاندھی جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں لیکن بہار انتخابات میں این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس سے دس سے زیادہ امیدوار وںکو ٹکٹ نہیں دے سکے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس پارٹی نوجوانوں کی حمایت تو چاہتی ہے لیکن ان کے ہاتھ میں قیادت نہیں دینا چاہتی۔
کانگریس کا منصوبہ بہار میں ناکام ہوتا نظر آ رہا ہے۔ انتخابات سے قبل بہار میں کانگریس پارٹی کے صدر انل شرما تھے۔انھوں نے پارٹی کو کھڑا کرنے میں بڑا تعاون کیا جو کام لالو یادو اور رام ولاس پاسوان نہیں کر سکے وہ کام انل شرما نے کیا۔ انھوں نے سب سے پہلے نتیش کمار کے خلاف ماحول بنایا۔ پوری ریاست کا دورہ کر کے پارٹی تنظیم اور کارکنان کو متحد کیا لیکن پارٹی نے انہیں بے عزت کر کے صدر کے عہدہ سے ہٹا دیا۔دراصل ، راہل گاندھی کے صلاح کار گزشتہ چھ ماہ سے بہار میں ہر طرح کے تجربہ کو انجام دینے میں مصروف تھے۔ راہل گاندھی کہاں جائیں، کہاں پریس کانفرنس کریں، کیسے لوگوں کو ٹکٹ دیا جائے، کنہیں تنظیم کی ذمہ داری دی جائے۔ ان کے صلاح کار سب کچھ راہل گاندھی کی قیادت کے نام پر کر رہے تھے۔راہل گاندھی نے بھی انتخابی تشہیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
بہار انتخابات اپنے آخری مرحلہ میں ہیں۔ ان انتخابات کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ ہر پارٹی نے اپنے حساب سے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے بے شمار دائوں کھیلے ہیں۔کانگریس پارٹی اس کھیل میں سب سے آگے رہی۔اب انتخابات کے نتائج ہی یہ بتائیں گے کہ عوام ان کے جھانسے میں آئے یا نہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہار انتخابات کے دوران عوام کے مسائل اور ان سے جڑے سوال انتخابات کا ایشو نہیں بن سکے۔اپوزیشن نے اور بھی مایوس کیا۔ حکومت کی خامیوں کو ایشو بنانے کے بجائے سب لوگوں نے نتیش کمار کو ہی نشانہ پر لے لیا۔ اپوزیشن جماعتوں کی مہربانی سے نتیش کمار انتخابات کے مرکز میں آ گئے۔ یہی نتیش کمار کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس کی شروعات کانگریس نے کی۔ کانگریس نے ان انتخابات میں پانی کی طرح پیسہ بہایا۔ بہار کانگریس کے ایک سکریٹری ساگر رائیکا اور پارٹی کے یوتھ ونگ کے صدر للن کمار کو پولس نے ساڑھے چھ لاکھ روپے کے ساتھ گرفتار کیا۔ ان پر سونیا گاندھی کی ریلی میں بھیڑ جمع کرنے کے لئے پیسے تقسیم کرنے کا الزام ہے۔ سونیا گاندھی کی ریلی میں شامل ہونے کے لئے پیسے تقسیم کرنے کے الزام میں کانگریس کے 6دیگر کارکنان بھی گرفتار ہوئے۔ پارٹی نے خود کو این ڈی اے کو چیلنج دینے والی اہم پارٹی بنانے میں شام دام دنڈ بھیٹ سب کچھ لگا دیا۔ راہل گاندھی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ان کی ریلیوں میں لوگ تو آئے لیکن کانگریس پارٹی نتیش کمار کو چیلنج دینے میں ناکام رہی۔
شروعات سے ہی بہار انتخابات میں کانگریس کی وجہ سے بہت ہی بے اطمینانی پھیلی رہی ہے۔ راہل گاندھی کے صلاح کاروں نے انہیں یہ سمجھا دیا کہ نتیش کمار نے بہار میں اچھا کام کیا ہے۔ ان کی تعریف کرنے سے راہل گاندھی کو لوگ سچ بولنے والا لیڈر سمجھیں گے۔بعد ازیں وہ جو بھی بولیں گے لوگ ان کی باتوں پر یقین کریں گے۔ راہل بہار گئے اور کہہ دیا کہ نتیش کمار بہار کی ترقی کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ نکلا کہ نتیش کمار سے پہلے لالو یادو کی حکومت تھی اس نے ترقیاتی کام نہیں کیے۔ راہل گاندھی نے ایک ہی جھٹکے میں اپوزیشن کو کمزور کر دیا۔ راہل گاندھی کے ایسے بیانوں سے لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کا ناراض ہونا فطری تھا، کیونکہ اس بیان سے یہ دونوں بیک فٹ پر آ گئے۔ اس کے بعد خبر یہ بھی آئی کہ کانگریس پارٹی نے نتیش کمار کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ یہ پیغام دیا گیا کہ انتخابات کے بعد کانگریس پارٹی نتیش کی حکومت کو حمایت دے سکتی ہے۔ نتیش کمار نے راہل کے بیان کے بدلے انہیں شکریہ ادا کیا لیکن کانگریس کے ساتھ کوئی بھی تال میل کرنے سے عام طور پر انکار کر دیا۔پھر کانگریس نے لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کے درمیان وہم پھیلانے کی کوشش کی۔کانگریس کی جانب سے یہ بات پھیلائی گئی کہ انتخابات کے نتیجہ کے بعد بہار میں معلق اسمبلی ہوتی ہے تو کانگریس لالو یادو کی جگہ رام ولاس پاسوان کو حمایت دیں گے۔پہلے راہل گاندھی نے نتیش کمار کی تعریف کی پھر انتخابی تشہیر کے دوران ان پر مرکزی حکومت کی اسکیموں کو صحیح طریقہ سے نافذ نہیں کرنے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس نے درمیان میں ہی اتحاد اور حکمت عملی کے حوالہ سے افواہ پھیلائی ۔ راہل گاندھی کے صلاح کار شاید بہار سے پوری طرح واقف نہیں ہیں ، شاید اسی لئے ایسی غلطی ہو گئی۔ بہار کے عوام سیاسی طور پر کافی بیدار ہیں، لیڈروں کے بہکاوے میں نہیں آتے۔ بیان بازی کا اثر بہار کے عوام پر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کی انتخابی مہم بہار میں مذاق بن گئی۔
کانگریس نے مسلمانو ںکے ٹھگنے کے لئے ایک مسلم لیڈر کو بہار کا صدر بنادیا ۔ کیا کانگریس پارٹی کو یہ لگا کہ صرف صدر بنا دینے سے مسلمان ان کے پاس واپس آجائیں گے، ان کا ووٹ مل جائے گا۔ کانگریس نے مسلمانو ںکے ساتھ جو چال بازی کی ہے، اس کی تاریخ گواہ ہے۔ کیا کانگریس پارٹی کو یہ لگتا ہے کہ سچر کمیٹی اور رنگا ناتھ مشرا کمیشن رپورٹ پر کوئی کارروائی کئے بغیر مسلمانوں کو دھوکہ دیا جاسکتا ہے۔ کانگریس پارٹی کے قول وفعل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اپنے ہی بیان کو بھول گئے ہیں۔ منموہن سنگھ نے وزیر اعظم بننے کے بعد یہ کہہ کر سیاسی گلیاروں میں شاباشی وصول کی تھی کہ سرکاری وسائل پر اقلیتوں کا زیادہ حق ہے۔ یوپی اے کی حکومت بنے اب سات سال ہونے کو ہیں، لیکن اقلیتوں اور مسلمانوں کی ترقی سے متعلق ایک بھی قانون نہیں لایا گیا ہے۔ الیکشن سے ٹھیک پہلے بابری مسجد -رام جنم بھومی معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آگیا۔ اس فیصلے پر سونیا گاندھی، منموہن سنگھ اور راہل گاندھی کی معنیٰ خیز خاموشی نے مسلمانوں کو کانگریس سے دور کردیا۔ کانگریس نے بہار میں 48مسلمانوں کو میدان میں اتار دیا ۔ کانگریس کی اس بات کے لئے تعریف ہونی چاہئے کہ اس نے اتنی زیادہ تعداد میں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دئے، لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا ان امیدوار وں کو ٹکٹ اس لئے دئے گئے کہ جیتنے والے امیدوار ہیں یا پھر لالو یادو کو نقصان پہنچانے کی غرص سے یہ اسٹریجی بنائی گئی ہے۔ انتخابی نتائج سے یہ ثابت ہوجائے گی کہ کانگریس کے مسلمانوں کو ٹکٹ دینے کے فیصلے سے کسے نقصان ہوا اور اس کا فائدہ کسے ہوا۔
کانگریس نے بہار میں جو کام کیا، وہی کام مغربی بنگال میں بھی دہرانے کی تیاری میں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکا لاجاسکتا ہے کہ مغربی بنگال میں صرف ممتا بنرجی ہی ہیں جو بایاں بازو کی حکومت کو شکست دینے کی طاقت رکھتی ہیں۔ جس طرح سے لوک سبھا، پنچایت اور میونسپل کارپوریشن میں ترنمول کانگریس کی جیت ہوئی ہے۔ راہل گاندھی نے جب یہ کہا کہ کانگریس پارٹی اسی شرط پر ترنمول کانگریس کے ساتھ اتحاد کرے گی، جب وہ لائق عزت ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کانگریس پارٹی کو اگر اس کی منشا کے مطابق سیٹیں نہیں ملیں تو بہار کی طرح اکیلے الیکشن لڑے گی۔ الیکشن سہ رخی ہوجائے گا اور اس کا فائدہ لیفٹ کو ملے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کانگریس پر یہ الزام لگنا طے ہے کہ پارٹی مغربی بنگال میں تبدیلی نہیں چاہتی ہے۔
بہار الیکشن کے تعلق سے راہل گاندھی کی سیاست پر غور کرنا ضروری ہے۔ معاملہ کسانوں کا ہو یا پھر اڑیسہ کے نیم گیری کے آدیواسیوں کا، راہل گاندھی کے نظریے اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں میںاختلافات ہیں۔ راہل گاندھی غریبوں، کسانوں اور آدیواسیوں کے ساتھ نظر آتے ہیں، لیکن حکومت ان کے نظریہ کے برعکس چل رہی ہے۔ راہل گاندھی بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن کانگریس کی حکومت انڈیا کے ساتھ نظر آتی ہے۔ راہل گاندھی کے قول اور مرکزی حکومت کے فعل میں زمین- آسمان کا فرق ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا راہل گاندھی بہار کے عوام کو یہ یقین دلاپائیںگے کہ بنیادی سوالوں پر وہ جو کہہ رہے ہیں، درست ہے؟ وہ جس اصول کو لے کر چل رہے ہیں، وہ درست ہے؟ ویسے راہل گاندھی کی ایک بات کی تعریف ہونی چاہیے کہ جب آدیواسیوں، مزدوروں اور غریبوں کے ایشوز پر جب وہ بولتے ہیں تو ایک مستقبل کے وزیر اعظم نظر آتے ہیں۔ ان کے بیانوں کو سن کر اچھا بھی لگتا ہے، لیکن ڈر بھی لگتا ہے۔ راہل گاندھی کچھ ایشوز پر ایسی رائے رکھتے ہیں، جس کی مخالفت ملک ہی نہیں، بلکہ غیرممالک کی بڑی طاقتیں بھی کرتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ راہل گاندھی کے خیالات، ان کی سیاست، سرکاری اسکیموں میں کب تبدیل ہوتے ہیں۔ بہار انتخابات میں ذات برادری، مجرموں اور کنبہ پروری کا بول بالا رہا۔ لیڈران نے عوام کے مسائل کی بجائے اپنے ذاتی مفاد پر زیادہ توجہ دی۔ نتیش کمار نے بھی عوام کو بے وقوف بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نریندر مودی کی مخالفت کرنے کا بھرم بھی پھیلاتے رہے اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد بھی قائم رہا۔ ترقی کے اعداد و شمار کی قلابازی دکھائی۔ سڑک بنانے کو اچھی حکومت کا نام دے کر عوام کو بے کاری، ناخواندگی اور غریبی کے ایشو سے دور رکھنے میں کامیاب رہے۔ بی جے پی نے نتیش کمار کی ’بی ٹیم‘بن کر اپنے مذہبی اور متنازع ایشوز پر پردہ ڈال کر لوگوں کو گمراہ کیا۔ بایاں محاذ کی حالت یہ رہی کہ پارٹی دہلی کے دفتر سے باہر ہی نہیں نکلی۔ بہار میں غریبی، ناخواندگی اور بے روزگاری جیسے مسائل ہیں، لیکن بایاں محاذ نے بھی مایوس ہی کیا۔ عوام کے لیے انہوں نے سڑک پر اترنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ لالو یادو کے خلاف سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ ترقی کے مخالف ہیں۔ ان کی اسی شبیہ کا نقصان رام ولاس پاسوان کو ہو رہا ہے۔ مایاوتی نے زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو کھڑا کر کے انتخابات کو کثیر رخی بنادیا ہے۔ لالو یاد و اور رام ولاس پاسوان نے اگر غریبوں، دلتوں، مزدروں، کسانوں اور مسلمانوں کی ترقی کو ایشو بنایا ہوتا تو انتخابی بحث کا ایشو ہی الگ ہوتا۔ کانگریس نے لالو یادو اور رام ولاس پاسوان سے ہاتھ نہ ملا کر اپوزیشن کے ووٹوں کو تقسیم کردیا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *