بہار : خاتون جیل میں سیکس اسکینڈل سے کھلبلی، معاملہ وزیر اعظم دفتر تک پہنچا

Share Article
sex-scandal

مظفر پور:مظفرپور شہر کے ہوم شیلٹر اسکینڈل کامعاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک اور معاملہ سامنے آنے کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے۔ مظفرپور کے ہی شہید کھدی رام بوس سنٹرل جیل سے ایک خاتون بندی (قیدی) نے پی ایم نریندر مودی کو لیٹر بھیج کر کھلبلی مچا دی ہے۔اپنے لیٹر میں خاتون نے لکھا ہے کہ جیل میں خواتین قیدیوں کو جسمانی تعلقات بنانے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ جیل کے بڑے افسر اور رائٹر قیدی کو تعلقات بنانے کے لئے مجبور کرتا ہے اور ان کی بات نہیں بنانے پر خاتون قیدی پر ظلم کیا جاتا ہے۔

خاتون قیدی کا الزام ہے کہ جو خاتون قیدی ان کی بات مان لیتی ہے تو انہیں موبائل استعمال کرنے سے لے کر ہر طرح کی سہولیات دی جاتی ہیں۔ اب اس انکشاف کے بعد وزیر اعظم کا دفتر حرکت میں آ گیا ہے اور ریاست کے چیف سکریٹری اور ڈی ایم سے معاملے کی رپورٹ مانگی ہے۔ اس معاملیمیں مظفر پور کے ڈی ایم آلوک رنجن گھوش نے 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ ٹیم کو ایک ہفتے میں رپورٹ دینے کو کہا گیا ہے۔

قیدی کا انکشاف

خاتون قیدی نے انکشاف کیا ہے کہ،جیل سے خواتین قیدیوں کو شام چھ بجے ہی اندر کر دیا جاتالیکن رائٹر کو دیر رات تک باہر رہنے کی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ خاتون قیدی کو دیر رات باہر بھیج دیا جاتا۔اس کے بعد رائٹر اور جیل افسر کی طرف سے اس کا جسمانی استحصال کیا جاتا ہے۔

انکشاف کرنے والی خاتون قیدی اپنی بیٹی کے ساتھ جیل میں بند ہے اور اس کا الزام ہے کہ عہدیداروں اور رائٹر کے ساتھ تعلقات بنانے کی مخالفت کرنے پر کھانا بند کر دیا جاتا۔ الزام لگا کر پٹوایا جاتا ہے۔ جیل کی 3 خواتین سپاہیوں کے نام کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہی دباؤ ڈالتی ہیں۔ 4 مارچ کو ایک خاتون سپاہی نے اس کی بیٹی کو جیل کے افسر کے ساتھ تعلقات بنانے کا دباؤ ڈالا۔ مخالفت کرنے پر اتنی پٹائی کی گئی کہ وہ بیہوش ہو گئی۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد ڈی ایم نے سینئر افسر للتا سنگھ کی صدارت میں تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے۔ڈی ایم نے خاتون قیدی کے لیٹر میں حقائق وتمام پہلوؤں پر انکوائری کرنے کو کہا ہے۔ خاتون قیدی کا بھی الگ الگ بیان لینے کو کہا گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *