بہار: 2459مدراس کی منظوری یا مسلمانوں کی ٹھگیی؟

Share Article

اشرف استھانوی
بہار میں نتیش کمار کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے ایک بار پھر مسلمانوں کو ٹھگنے کا کام کیا ہے۔ اس بار یہ کام ریاست کے 2449 مدارس کی منظوری اور ان کے اساتذہ کی تنخواہ کے لئے 108 کروڑ روپے کی منظوری کے توسط سے ہوا ہے۔ جس پر مبارک سلامت کے ڈونگرے برسانے والوں کی بھی کمی نہیں ہے، لیکن ہوش و گوش رکھنے والے مسلمان خود کو اس معاملے میں ٹھگا ہوا ہی محسوس کر رہے ہیں۔
بہار میں لا تعداد چھوٹے چھوٹے مکاتب اور تعلیمی مراکز کے علاوہ تقریباً 6 ہزار مدارس اسلامیہ ہیں جہاں مختلف سطح تک کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ان میں سے تقریباً چار ہزار مدارس ایسے ہیں جو بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجو کیشن بورڈ سے ملحق ہیں،لیکن ان میں سے صرف 128 1مدارس اسلامیہ کو حکومت کی منظوری حاصل ہے اور ان کے اساتذہ و ملازمین کو حکومت کی طرف سے گرانٹ ملتی ہے۔2776 مدارس مدرسہ ایجو کیشن بورڈ سے ملحق ہوتے ہوئے بھی سرکاری مراعات سے محروم ہیں۔ جن 1128 مدارس کو فی الوقت منظوری حاصل ہے وہ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا یا لالو، رابڑی حکومت کی دین ہیں۔ موجودہ نتیش حکومت کی پہلی میعاد میں کسی بھی مدرسہ کو منظوری نہیں مل سکی۔ نتیش حکومت نے 500 مدرسۃ البنات میں سے صرف 9 کو منظوری دی اور 1128 منظور شدہ مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کا مہنگائی بھتہ 125 فیصد سے بڑھا کر 300 فیصد کر دیا۔ اس کے علاوہ اور کوئی کام مدارس کے تعلق سے نتیش حکومت میں نہیں ہوا۔ این ڈی اے l- حکومت کی آخری کابینی میٹنگ میں 2459 مدارس کو منظوری دینے اور انہیں اپ گریڈ کرنے کا اصولی فیصلہ ضرور لیا گیا، لیکن ظاہر ہے کہ انتخاب کے وقت اس طر ح کے فیصلے پر نہ عمل ممکن تھا اور نہ اس کا کوئی مطلب تھا۔
لیکن انتخاب میں ریکارڈ توڑ کامیابی کے ساتھ دوبارہ بر سر اقتدار آنے کے بعد حکومت پر2459 مدارس کے سلسلہ میں کابینہ کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کا دبائو ضرور پیدا ہو گیا تھا۔ چنانچہ دوسری میعاد کی پہلی سہ ماہی کے آخر میں کابینہ کے اس فیصلے کی روشنی میں حکومت کے محکمہ فروغ انسانی وسائل نے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا ہے جس پر سرکاری مسلمان تو بہت شادیانے بجا رہے ہیں۔ مگر غیر سرکاری مسلمان مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے یا سرکاری نوٹی فکیشن کی میرٹ پر گفتگو کرنے سے پہلے اس کا پس منظر اور مدارس کے اساتذہ و ملازمین کے دیرینہ مسائل پر ایک نظر ڈال لینا ضروری ہے۔
مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کئی اعتبار سے نا انصافی اور استحصال کے شکار ہیں۔ بہار کے دیگر اساتذہ اور ملازمین کو جہاں چھٹے پے کمیشن کی سفارشوں کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے وہیں مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کو تیسرے پے کمیشن کے مطابق انتہائی قلیل تنخواہ مل رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مدارس کے اساتذہ اور پرنسپل کی تنخواہ عام سرکاری چپراسی سے بھی کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے لئے پنشن اور گریچویٹی کا بھی نظم نہیں ہے۔ سبکدوشی کے بعد اساتذہ و ملازمین کو یا ناگہانی موت کی صورت میں ان کے متعلقین کو نہ کوئی مالی مدد مل پاتی ہے اور نہ ہی انو کمپا کی بنیاد پر بحالی کا کوئی نظم ہے۔ ایسے میں مدارس کے اساتذہ اور ملازمین تقریباً تین دہائیوں سے اپنے لئے سرکاری اساتذہ اور ملازمین کے مساوی تنخواہ اور دیگر مراعات یعنی پنشن اور گریچویٹی کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں اور اس کے لئے سڑکوں پر بھی اترے ہیں لیکن یہ مطالبہ آج تک پورا نہیں ہو سکا ہے۔ نتیش حکومت بھی اپنی پہلی میعاد میں یہ مطالبہ پورا نہیں کر سکی۔ حالاں کہ حکمراں جماعت کا بھی مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کو انصاف دلانے اور مساوی تنخواہ اورسہولیات فراہم کرانے کا وعدہ تھا۔
اب آئیے 2459 مدارس کی منظوری سے متعلق محکمہ فروغ انسانی وسائل کے نوٹی فکیشن نمبر 162 مورخہ15.2.2011 پر نظر ڈالی جائے جس میں ان مدارس کو منظوری دینے اور ان کے اساتذہ او رملازمین کو سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے مساوی تنخواہ دینے کے لئے 108 کروڑ روپے کی منظوری کی بات کہی گئی ہے۔ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ مدارس کے اساتذہ کے حق میں ہے، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ سبھی 2459 مدارس کو اس فیصلے سے منظوری حاصل نہیں ہوگی۔ ان کی جانچ متعلقہ ضلع ایجو کیشن افسر ان1980 کے مقررہ ضابطہ کی روشنی میں کریں گے اور جانچ کے بعد 2459 میں سے جتنے مدارس شرائط اور ضابطے کے مطابق پائے جائیں گے صرف ان مدارس کو منظوری حاصل ہوگی، سب کو نہیں ۔یہاں یہ بات ذہن نشیں رہے کہ نتیش حکومت میں 500 مدرسۃ البنات میں سے صرف 9 کو ہی منظوری کے قابل پایا گیا تھا ۔اگر اسی تناسب میں منظوری ملی تو 50 مدارس سے زیادہ کو منظوری نہیں مل سکے گی، کیوں کہ شرائط اتنی سخت ہیں کہ ان پر پورا اترنا کم مائیگی کے شکار مدارس کے لئے آسان نہیں ہے۔ دوسری بات جو اس سے بھی اہم ہے وہ یہ ہے کہ منظوری کے بعد سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے مساوی تنخواہ کی جو بات کہی گئی ہے وہ اُن سرکاری اساتذہ کے مساوی ہے جو کنٹریکٹ کی بنیاد پر بحال ہیں اور جنہیں حقیر سی فکسڈ یا مقررہ رقم ملتی ہے۔ ان سرکاری اساتذہ کے مساوی نہیں ہے جنہیں پوراپے اسکیل اور تمام سہولیات اور مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ کیوں کہ نتیش حکومت میں سرکاری اساتذہ بھی دو طرح کے ہو گئے ہیں اور 2459 مدارس کے سلسلہ میں جاری نوٹی فکیشن میں بڑی ہوشیاری کے ساتھ ایک لفظ جوڑ کر وہ فرق پیدا کر دیا گیا ہے ۔ جسے کمزور نگاہیں نہیں دیکھ پا رہی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ 2459 مدارس میں سے کتنے کو منظوری مل پائے گی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ اس لئے ان پر آنے والا خرچ بھی ابھی مفروضہ کے زمرے میں ہے اور چوں کہ اس معاملے کو دوسری سطح کے سرکاری اساتذہ سے جوڑ دیا گیا ہے اس لئے پوری تنخواہ اور دیگر سہولیات کا مطالبہ اب بھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ یعنی سرکاری اساتذہ کے مساوی تنخواہ دینے کا ڈھنڈورا پیٹ کر حکومت واہ واہی بھی لوٹ لے گی اور مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے دیرینہ مسائل بھی اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ اس کے علاوہ ایک بات اور قابل غور ہے کہ 2459 مدارس میں سے 2411 مدارس وسطانیہ (یعنی مڈل )سطح کے ہیں جنہیں اسی حکومت نے ختم کرنے کی بات سوچ رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری مسلمانوں کی واہ واہی اور مبارک سلامت کے شور کو نظر انداز کرتے ہوئے مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کی تنظیمیں اپنے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے ایک بار پھر سڑکوں پر اترنے کی تیاری میں جٹ گئی ہیں۔ یہ نتیش حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ ان کی حکومت میں مدارس کے اساتذہ سڑکوں پر نہیں اترے ہیں۔شاید مہنگائی بھتہ میں اضافہ نے ان کی زبان بند کردی تھی، لیکن اب شاید انہیں روکنا مشکل ہوگا۔ کیوں کہ عام مسلمانوں کی طرح مدارس کے اساتذہ کو بھی نتیش حکومت سے توقعات بہت زیادہ ہیں۔ مہنگائی بھتہ میں ایک ہی بار 175 فیصد کے اضافہ نے بھی توقعات میں اضافہ کیا ہے اور جب توقعات زیادہ ہوں اور حسب توقعات کام نہ ہو تو مایوسی بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہی مایوسی انہیں دوبارہ سڑکوں پر لا سکتی ہے۔
بہار اسٹیٹ مدرسہ شکشک سنگھ کے صدر سید محب الحق نے اس سرکلر کو پُر فریب اور اقلیتوں کے ساتھ ایک چھلاوا قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس نوٹی فکیشن سے بہار کے مدرسین اور ملازمین کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اضافہ ہوگا۔ موجودہ سرکلر کی روشنی میں مدرسین کی تنخواہ پہلے سے تقریباً3 ہزار روپے کم ہو جائے گی۔ محب الحق نے اعلان کیا کہ جلد ہی اس فیصلہ کے خلاف ریاست گیر تحریک چلائی جائے گی۔
مدرسہ ایجو کیشن بورڈ میں موجودہ چیر مین مولانا اعجاز احمد کی مدت کار کے دوران بد عنوانی میں جس قدر اضافہ ہوا ہے اور جس طرح سے وہاں بے ضابطگی کی پردہ پوشی کی جا رہی ہے ،چیر مین کے پرائیوٹ سکریٹری ایس ایم صادق کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے اور مہینوں جیل کی ہوا کھانے کے بعد جس طرح انہیں نوازا گیا اور انہیں ترقی دی گئی اس سے بھی مدرسہ سے جڑے لوگوں میں سخت بیزاری اور مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ اگست 2009 کے بعد سے مدرسہ بورڈ کی مجلس ملحقہ کی تشکیل نو بھی نہیں ہو پائی ہے۔ اس سے بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت مدرسہ ایجو کیشن کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہی ہے۔ یہ ساری چیزیں چنگاری کی طرح اندر ہی اندر سلگ رہی ہیں او ریہ کب شعلہ بن کر بھڑک اٹھیں گی کہنا مشکل ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *