قبائلیوں کے سامنے میں بڑے بحران: 11.8 لاکھ زمینوں کے دعوے سپریم کورٹ نے کئے خارج

Share Article

 

جسٹس ارون مشرا، نوین سنہا اور اندرا بنرجی کی بنچ نے 16 ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو احکامات جاری کر کہا کہ وہ 12 جولائی سے پہلے ایفیڈیوٹ جمع کراکر بتائیں گے کہ طے شدہ وقت زمین خالی کیوں نہیں کرائی گئی۔

 

 

عدالت نے 16 ریاستوں کی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے قوانین کے مطابق زمینیں خالی کرائیں۔
سپریم کورٹ کے اس حکم سے ملک کے قریب 12 ملین قبائلیوں اور 79 کو ان کے گھروں سے بے دخل ہونا پڑ سکتا ہے۔
متاثر افراد کی کل تعداد معلوم چلنے کے بعد مرکزی حکومت ان کو لیکر غور کریں گے۔

 

Image result for aadivasi

 

سپریم کورٹ کے اس حکم سے ملک کے قریب 12 ملین قبائلیوں اور ونواسی کو ان کے گھروں سے بے دخل ہونا پڑ سکتا ہے۔ دراصل عدالت نے 16 ریاستوں کے قریب 11.8 لاکھ قبائلیوں کے زمین پر قبضے کے دعووں کو خارج کرتے ہوئے حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے قوانین کے مطابق زمینیں خالی کرائیں۔ سپریم کورٹ نے لاکھوں ہیکٹر زمین کو قبضے سے آزاد کرانے کا حکم دیا۔ ریاستوں کے ایفیڈیوٹ یہ واضح نہیں ہے کہ ہر دعویٰ ذاتی طور پر کیا گیا ہے یا پھر ایک شخص نے ایک سے زیادہ دعویٰ کئے ہیں۔ اس کے ذریعے یہ اعداد و شمار لگانا مشکل لگ رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے اصل میں کتنے لوگ یا خاندان متاثر ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے 13 فروری کو اس کا حکم دیا تھا۔

 

Image result for aadivasi

 

جسٹس ارون مشرا، نوین سنہا اور اندرا بنرجی کی بنچ نے 16 ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو احکامات جاری کر کہا کہ وہ 12 جولائی سے پہلے ایفیڈیوٹجمع کراکر بتائیں گے کہ طے شدہ وقت میں زمین خالی کیوں نہیں کرائی گئی۔ جنگلوں اور پناہ گاہوں میں تجاوز کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہے۔ بہت سے معاملات میں قبضہ کرنے والا اپنے مالکانہ کے حق کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

 

Image result for aadivasi

 

مرکزی حکومت کر رہی اختیارات پر غور
مرکزی حکومت نے ریاستوں سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہونے والے لوگوں کی معلومات مانگی ہے۔ ایک بار متاثر افراد کی کل تعداد معلوم چلنے کے بعد مرکزی حکومت ان کو لیکر غور کریں گے۔قبیلے ترقی کی وزارت کے سکریٹری چراغ کھانڈیکر نے کہا، ‘ہمیں یہ معلوم ہے کہ اب تک جنگلوں میں 19 لاکھ پٹوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر دعووں کی کیا صورت حال ہے، اس سلسلے میں ہم ریاستوں سے معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *