تین طلاق قانون پرکانگریس کا بڑابیان

Share Article
Triple-talaq
تین طلاق کولیکر پارلیمنٹ سے سڑک تک خوب ہنگامہ ہوالیکن پھربل پاس نہیں ہوپایا۔سپریم کورٹ کے ذریعہ تین طلاق کو کالعدم قراردئے جانے کے بعد مودی حکومت اس سے متعلق ایک بل مسلم خواتین ( شادی کے حقوق کا تحفظ ) بل 2018 کر آئی تھی ، جو لوک سبھا میں توپاس ہوچکا ہے ، مگر راجیہ سبھا میں زیر التوا ہے۔ یقیناًمودی سرکاراس بل پراپوزیشن نے جم روڑا اٹکایاتھا۔کانگریس نے کہاتھاکہ اس بل کوپارلیمانی سمیتی کے پاس بھیجاجائے۔لیکن اب لوسبھاالیکشن کے پہلے کانگریس پارٹی نے جمعرات کوبڑا اعلان کیا کہ اگروہ اقتدارمیں آئی توتین طلاق قانون کوختم کردیاجائے گا۔کانگریس نے آج اعلان کیا ہے کہ آئندہ لوک سبھا الیکشن میں اگر وہ جیت کر مرکز میں حکومت بناتی ہے تو وہ تین طلاق قانون کو ختم کردے گی۔

یہ قانون مودی سرکارکا ایک اورہتھیارہے، جس کا استعمال وہ مسلم مردوں کوجیل میں ڈالنے کیلئے اورتھانوں میں کھڑے کرنے کیلئے کرتے ہیں۔مسلم خواتین نے اس کی پرزورمخالفت کی ہے اورکانگریس بھی اس قانون کی مخالفت کرتی ہے۔یہ خواتین کو بااختیار نہیں کرے گا بلکہ ان کے اور مسلم مردوں کے درمیان تقسیم پیداکرے گا۔یہ باتیں مہیلا کانگریس کی صدرسشمیتادیونے کہی۔وہ دہلی کے جواہرلال نہرواسٹیڈیم میں کانگریس مائنارٹی مورچہ سمیلن کوخطاب کررہی تھیں۔ کانگریس اقلیتی کانفرنس میں مہیلا کانگریس کیصدر سشمیتادیو نے کہا کہ ہماری حکومت بنے گی تو ہم تین طلاق قانون ختم کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون مسلم مردوں کو جیل میں بھیجنے کی سازش ہے۔سشمیتادیو نے کہاکہ ’’میں آپ لوگوں سے وعدہ کرتی ہوں کہ کانگریس کی سرکارآئے گی 2019 میں اورہم اس تین طلاق قانون کوخارج کریں گے۔یہ آپ لوگوں سے وعدہ ہے۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *