کیا اب بھوٹان کی بجلی کرے گی بہار کو روشن

Share Article

اشرف استھانوی
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار این ڈی اے کی حکومت والی دوسری ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی طرح ہی باتیں بہت بڑی بڑی کرتے ہیں، مگر کام کے معاملے میں عموماً پیچھے رہ جاتے ہیں۔ نتیش کمار گذشتہ 5 برسوں سے بہار کو بجلی کے معاملے میں خود کفیل بنانے کی بات کر رہے ہیں مگر خود کفیل بنانا تو دور رہا وہ ابھی تک ایک میگا واٹ اضافی بجلی کی پیداوار کا بھی انتظام نہیں کر پائے ہیں۔ ایسے میں ان کا یہ دعویٰ کہ بہار میں صنعتوں کا جال بچھایا جائے گا اور ہر گھر میں بجلی پہنچائی جائے گی ، اپنی معنویت کھوتا ہوا نظر آرہا ہے۔  ریاست بہار کو فی الوقت یومیہ 2200میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے۔ مگر بڑی مشکل سے وہ مختلف ذرائع سے محض 700 میگا واٹ بجلی کا نظم کر پاتا ہے۔ جس کا آدھا حصہ یعنی 350 میگا واٹ راجدھانی پٹنہ کے حصہ میں چلا جاتا ہے اور بقیہ 350 میگا واٹ بجلی پوری ریاست میں تقسیم ہوتی ہے، جو اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوتی ہے۔ راجدھانی پٹنہ کو اگرچہ سب سے زیادہ 350 میگا واٹ بجلی ملتی ہے، مگر وہ بھی اس کی ضرورت کے مقابلے میں 100 میگا واٹ کم ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی کھپت 15 فیصد تک بڑھ جاتی ہے جس سے حالت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وی آئی پی اور پوش علاقوں کی ضرورت تو کسی طرح پوری ہو جاتی ہے مگر سلم اور دوسرے مسلم اکثریتی علاقوں کو بجلی کی زبردست قلت اور لوڈ شیڈنگ کاکرب جھیلنا پڑتا ہے۔ حالات اس حد تک خراب ہو جاتے ہیں کہ ان علاقوں میں بجلی کی کمی کے سبب واٹر سپلائی بھی ممکن نہیں ہوتی ہے اور لوگوں کو پانی کے لیے سڑک پر اترنا پڑتا ہے اور روڈ جام کرکے پولس اور انتظامیہ سے دو دو ہاتھ کرنا پڑتا ہے۔
دوسرے اضلاع کی حالت اور بھی خراب ہے کیوں کہ انہیں ضرورت کے مقابلے میں آدھی یا اس سے بھی کم بجلی ملتی ہے۔ مثال کے طور پر دربھنگہ کو 38 میگاواٹ بجلی کی یومیہ ضرورت ہے مگر اسے صرف 20 میگا واٹ بجلی مل پاتی ہے۔ مظفر پور کو 96 میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے مگر اسے بہ مشکل35 میگا واٹ بجلی ملتی ہے۔ حاجی پور کو 44 کے مقابلے 20 ، ویشالی کو 32 کے مقابلے میں صرف15 ، آرہ کو 34 کے مقابلہ میں 17 ، بکسر کو 20 کے مقابلے میں 13 ،سہرسہ کو 40 کے مقابلے میں 18 ، پورنیہ کو 59 کے مقابلے میں 30 ، گوپال گنج کو 38 کے مقابلے میں 15 ، اور سیوان کو 37 کے مقابلے میں محض20 میگا واٹ بجلی ہی مل پاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مار دھاڑ، توڑ پھوڑ اور آتشزنی پر اتر جاتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی آرہ اسٹیشن پر بجلی بحران کے خلاف لوگوں نے جم کر ہنگامہ کیا اور لمبی دوری کی کئی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر اپنے غصہ کا اظہار کیا۔ بجلی کی قلت کے سبب دیگر اضلاع سے بھی پر تشدد احتجاج کی لگاتار خبریں موصول ہو رہی ہیں کیوںکہ لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ جاڑوں میں اتنا فرق نہیں پڑتا۔ مگر گرمیوں میں بجلی نہ رہنے کے سبب انہیں شدت کی گرمی کے ساتھ ساتھ پیاس کا کرب بھی جھیلنا پڑتا ہے اور جب انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو تشدد پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ عوامی نمائندے بھی راجدھانی کے اپنے اے سی کمروں میں بند ہونے کے سبب ان کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ہیں تو ان کا غصہ تشدد کا رخ اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے میں حکومت کچھ خوش کن اعلانات کرکے لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کبھی وہ برونی اور کانٹی تھرمل پاور پلانٹ کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کی بات کرتی ہے تونبی نگر میں پاور پلانٹ لگانے کی خوشخبری سناتی ہے اور کبھی جھارکھنڈ کے قبضہ والے تینو گھاٹ پاور پلانٹ سے اپنا حصہ لینے کے لیے قانونی لڑائی لڑنے کی بات کرتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس سے عوام کا کرب کم نہیں ہو تا ہے۔ ریاستی کابینہ نے اپنے تازہ ترین فیصلے کے حوالے سے ریاست کے عوام کو اب یہ خوشخبر ی دی ہے کہ بہار کے کجرا اور چوسا میں 1320-1320 میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت والے دو تھرمل پاور پلانٹ لگائے جائیں گے۔ اس کے تحت کجرا میں 6810 کروڑ کی نجی سرمایہ کاری کی جائے گی اور چوسا میں 6795 کروڑ کی نجی سرمایہ کاری ہوگی۔ اس کے علاوہ بہار پاور انفرا انسٹرکچر کمیٹی پرائیوٹ لمیٹڈ کی سبسیڈری کمپنی میسرس مکسر بجلی کمپنی ، پرائیوٹ لمیٹڈ ٹنڈر کے توسط سے نفاذ اور مانیٹرنگ ایجنسی کا تعین کرے گی۔ حکومت کے دعوے کے مطابق اس پروجیکٹ کی پہلی یونٹ 38 ماہ میں تو دوسری یونٹ 42 ماہ میں تیار ہو جائے گی اور بجلی پیدا کرنے لگے گی۔ یہاں پر قابل ذکر ہے کہ فی الوقت بہار کو جو 700 میگا واٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے اس میں سے 650 میگا واٹ بجلی اسے این ٹی پی سی سے خریدنا پڑتی ہے اور اس کے عوض اسے ماہانہ این ٹی پی سی کو سوا چار سوکروڑ روپے ادا کرنے پڑتے ہیں اور جب بھی ریاستی حکومت مقررہ مدت کے اندر یہ رقم نہیں جمع کراپاتی تو این ٹی پی سی ہاتھ کھڑے کر دیتا ہے اور ریاست کو تاریکی میں دھکیل دیتا ہے۔ بقیہ 50 میگا واٹ بجلی کروڑوں روپے خرچ کرکے اسے برونی اور کانٹی تھرمل پاور پلانٹ سے حاصل ہوتی ہے۔یہ صورت حال گذشتہ 5 برسوں سے برقرارہے۔ اور اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا اس سلسلہ میں یہ کہنا ہے کہ ریاست میں بجلی کے بحران کے لیے وہ نہیں بلکہ مرکزی حکومت ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت نے مرکز سے بجلی کے معاملے میں ریاست کو خود کفیل بنانے کی غرض سے کول لنکج کا مطالبہ کیا تو مرکز نے کول بلاک دینے کی بات کہی جب کہ کول بلاک سے فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو تیار اور آمادہ کیا تو مرکز نے کول بلاک کے معاملے کو بھی التوا میں ڈال دیا۔ نتیش نہ صرف مرکز پر بہار کو نظر انداز کرنے اور اس کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کرنے کا الزام لگاتے ہیں بلکہ مرکزی حکومت کو عورتوں کی طرح کوسنے سے بھی باز نہیں آتے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہار صوفی سنتوں کی سرزمین ہے اس لیے بہار کے ساتھ نا انصافی اسے بہت مہنگی پڑے گی۔ بہار اور بہار باسیوں کی آہ اسے لے ڈوبے گی۔
نتیش گذشتہ دنوں بھوٹان کے چار روزہ سرکاری دورے پر گئے تھے۔ وہاں انہوں نے اگر بہار میں سیاحت کے فروغ کے امکانات کا جائزہ لیا اور بھوٹان کے شہریوں کو بودھ گیا اور راجگیر کے مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے بہار آنے کی دعوت دی تو بھوٹان کے پن بجلی پروجیکٹ سے بھی فائدہ اٹھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بھوٹان میں پون سانگ چو پن بجلی پروجیکٹ سمیت کئی زیر تعمیر پن بجلی پروجیکٹوں کا معائنہ کیا۔ وہاں سے پٹنہ آئے تو انہوں نے ایسا ظاہر کیا جیسے ان کے ہاتھ کوئی علاء الدین کا چراغ لگ گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ پن بجلی کے توسط سے وہ بجلی کے شعبے میں انقلاب لائیںگے۔ یعنی کول لِنکج یا کول بلاک کی بجائے آبی وسائل سے فائدہ اٹھائیںگے۔ مگر کیسے اس کا جواب ان کے پاس نہیں ۔ وہ شاید یہ بھی بھول گئے کہ بہار میں تو پانی اب ندیوں میں سیلاب کے دوران ہی نظر آتا ہے۔ انہوں نے نیپال کو بھی لگے ہاتھ مشورہ دیا کہ اسے بھی پن بجلی کے پروجیکٹ پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پن بجلی پروجیکٹ کے توسط سے ہی بھوٹان کی اقتصادیات مستحکم ہوئی ہے۔ بھوٹان کے پاس اگر 30 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو نیپال کے پاس ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھوٹان پن بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کا خیر مقدم کرے گا۔ اس کی دلچسپی اس معاملے میں ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ بھوٹان کے ساتھ پن بجلی کے شعبے میں شراکت داری یا لین دین کا معاہدہ مرکز کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے۔ اس لیے بھوٹان سے لوٹتے ہی انہوں نے مرکز سے ایک نیا مطالبہ یہ کر دیا کہ بہار کو بجلی کا کوٹا ملے۔ بہار کو پن بجلی پروجیکٹ میں شراکت دار بنایا جائے اور مرکزی حکومت بہار کے ساتھ پن بجلی پروجیکٹ لگائے تاکہ ریاستی حکومت کو اس شعبہ میں سرمایہ لگانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے۔ لیکن نتیش حکومت میں بہار کا ایک نیا مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت ندی کے دو کناروں پر کھڑے نظر آرہے ہیں اور اس کے لیے کافی حد تک خود وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار ذمہ دار نظر آتے ہیں کیوں کہ وہ ایک طرف اگر مرکز کو ڈنڈا دکھاتے ہیں تو دوسرے دن بھیک کا کٹورا لے کر آنسو بہاتے نظر آتے ہیں۔ایک دن وہ میڈیاکے سامنے خم ٹھونک کر کہیں گے کہ ہمیں مرکز کی مدد نہیں چاہیے، ہم اپنے وسائل سے اور اپنے بل بوتے پر بہار کو ترقی یافتہ بنا کر دکھائیںگے، تو دوسرے دن وہ یہ کہتے ہوئے نظر آئیں گے کہ مرکز ہماری مدد نہیں کررہا ورنہ ہم کیا نہیں کر دیتے، بہار کی ترقی کی راہ میں دراصل مرکز ہی حائل ہے۔ ان دنوں ان کی پارٹی جنتا دل یو بہار کو خصوصی درجہ دلانے کے لیے دستخطی مہم چلا رہی ہے جس کے بارے میں عوام کا یہ کہنا ہے کہ بہار کی تقسیم کے لیے یہی لوگ ذمہ دار ہیں۔ جس وقت یہ لوگ مرکزی حکومت میں شامل تھے اس وقت یہ کہتے تھے کہ ہم بہار کو خصوصی پیکج دے کر بہار کو ہونے والے نقصانات کی تلافی کریں گے، مگر ایسا کچھ نہیں کیا۔ اب یہی لوگ یوپی اے حکومت سے خصوصی پیکج یا درجہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ عوام کو بیوقوف بنانے والا کام ہے۔ مگر عوام اتنے بیوقوف نہیں ہیں کہ وہ ان کی چالوں کو نہ سمجھ سکیں۔ عوام سب کچھ سمجھ رہے ہیں اور وقت آنے پر وہ اس کا جواب بھی دیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *