بھوٹان و چین کی بڑھتی نزدیکی : ہندوستان کے لئے نئی سرکار کتنی بھروسے مند؟

Share Article

راجیو رنجن
p-9bپی ڈی پی نے بھوٹان نریش کی قریبی سمجھی جانے والی پارٹی ڈی پی ٹی کو ہرا دیا ہے۔ پورے انتخاب کے دوران ہندوستان کے ساتھ تعلقات کا ایشو چھایا رہا جو آنے والے دنوں میںہند و بھوٹان رشتے کو فیصلہ کن دور میں پہنچا سکتا ہے،کیونکہ وہاں کے عوام کو ہندوستان کو نظر انداز کرنا پسند نہیں۔
بھوٹان میں اپوزیشن پارٹی پپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے برسراقتدار پارٹی ڈرک پھو اینسم ٹشو گپا(ڈی پی ٹی) کو شکست دے دیا ہے۔ڈی پی ٹی بھوٹان نریش کی قریبی سمجھی جانے والی پارٹی ہے۔ایسے میں اس کی ہار ملک کے لئے دور رس نتائج کی حامل ثابت ہوگی۔دوسری طرف ایک بات ہندوستان کے تعلق سے غور کرنے کے لائق ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ملک کے انتخاب میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات اور اس میں اصلاح کا ایشو چھایا رہا۔ اس سے بھوٹان کی سیاست نے یہ طے کر دیا ہے کہ بھوٹانی عوام کو ہندوستان کی اندیکھی پسند نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان نے یہ قدم چین سے بھوٹان کی بڑھتی نزدیکیوں کے مد نظر اٹھایا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخاب سے عین پہلے سبسڈی ہٹا کر ہندوستان نے صحیح نہیں کیا۔ اندیشہ ہے کہ کہیں ہندوستان کے بھوٹان سے تعلقات نیپال کی طرح نہ ہوجائیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی خارجہ پالیسی کو نظر انداز کرکے نہیں چل سکتا۔ حال میں بھوٹان نے چین کے ساتھ جو گرم جوشی دکھائی تھی، اسے دیکھتے ہوئے ہندوستان کے سبسڈی ہٹانے جیسے قدم کو بھوٹان کو ہوشیار کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھنا چاہئے۔
ہندوستان کی یقین دہانی
ہندوستان کی طرف سے بھوٹان کو کراسن تیل اور رسوئی گیس پر دی جانے والی سبسڈی کم کرنے کی بات کو مقامی میڈیا یا بھوٹانیوں نے چاہے جس معنی میں لیا ہو، لیکن یہ طے ہے کہ ہندوستان کی خود کی اقتصادی تشویش نے اسے بھوٹان کے تئیں زیادہ لبرل ہونے سے روکا،ورنہ ہندوستانی وزیر اعظم بھوٹان کے انتخابی نتیجے آنے کے فوراً بعد پی ڈی پی صدر شیرنگ توبگے کو مبارک باد دینے کے ساتھ ہی ہندوستان کی طرف سے دی جانے والی مدد ہمیشہ کی طرح جاری رکھنے کی یقین دہانی کیوں کرتے۔ہندوستان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بھوٹان کو کسی مشکل میں پھنسنے نہیں دے گا اور نئی سرکار کے ساتھ رعایت کے ایشو پر بات چیت کی جائے ۔ حالانکہ ہر ایشو کی اپنی خارجہ پالیسی ہوتی ہے اور اگر ہندوستان اپنی خارجہ پالیسی کے تحت چین سے بھوٹان کی قربتیں نہیں چاہتا تو بھوٹان کو بھی چاہئے کہ وہ ہندوستان اور چین سے اپنے رشتوں کو اس طرح سے لے کر چلے کہ اس کے مفاد متاثر نہ ہوں۔
ہندوستان کی اندیکھی ممکن نہیں
پی ڈی پی کی جیت کی بنیادی وجہ ہندوستان کے ساتھ رشتوں اور ان میں سدھار کا ایشو رہاہے جسے وہ اپنے انتخابی پرچار کے دوران ہمیشہ دہراتی رہی۔ دوسری طرف ڈی پی ٹی کی ہار کی وجہ بھی ہندوستان کے ساتھ رشتوں کو لے کر مایوسی اور چین سے بڑھتی نزدیکی ہیں۔ ایسے میں پی ڈی پی یہ بات اچھی طرح سمجھ گئی ہے کہ ہندوستان کے ساتھ رشتے خراب کرنا یا چین کے ساتھ نزدیکی بڑھانا عوام کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔ بھوٹان کی تقریباً 60 فیصد بر آمدات ہندوستان کے بازاروں میں پہنچتی ہے اور اس کی کل آمدنی کا 75 فیصد اکیلے ہندوستان سے جاتا ہے۔ ایسے میں بھوٹان پرانی غلطیاں کبھی نہیں دہرائے گا۔ تیل اور گیس سبسڈی کو پھر سے حاصل کرنا بھی بھوٹان کا بنیادی ہدف ہوگا۔کیونکہ اس کی اقتصادی صورت حال یہ سبسڈی روک دینے کے سبب خراب ہوگئی ہے اور اگر یہ سبسڈی حاصل کرنے میں کچھ دن اور بھوٹان سرکار نے تاخیر کر دی، تو اس کی مالی حالت بری طرح متاثر ہو جائے گی۔معاشی منڈی،غیر ملکی قرض، بڑھتی غریبی اور بے روزگاری بھی بھوٹان کے بنیادی مسائل ہیں، جنہیں نئی سرکار جلد سے جلد توازن میں لانے کی کوشش کرے گی، جس میں ہندوستان اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ پی ڈی پی نے کہا ہے کہ اس کی سرکار ہندوستان سے معاشی راحت پیکج کے لئے بھی گزارش کرے گی۔ایسے میں بھوٹان کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کے تعلقات ہندوستان جیسے ملک سے خراب ہوں ۔ خاص طور پر ایسے ہندوستان سے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کی قسمت چمکانے والوں میں شامل رہا ہے۔
کیا کرے ہندوستان؟
ہندوستان کو بھی اپنے ارادوں سے جڑے خدشے کو دور کرنے کے لئے بھوٹان میں پنپ رہی جمہوریت کے پھیلائو کو سمجھنا چاہئے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہندوستان بھوٹان کو یہ سیاسی پیغام بھیجے کہ وہ چین کے ذریعہ اسے اپنی طرف راغب کرنے سے خود کو غیر محفوظ نہیں سمجھتا بلکہ وہ توصرف بھوٹان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ خارجہ پالیسی کے جانکاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی طرف سے انتخاب سے عین پہلے سبسڈی ختم کرنے سے بھوٹان میں نیپال کی طرح ہند مخالف جذبے لگاتار مضبوط ہوتے جائیںگے۔ اگر اس بات میں کچھ بھی سچائی ہے تو ہندو بھوٹان تعلق کی مٹھاس زیادہ دنوں تک بر قرار نہیں رہ سکتی۔ ایسے میں ہندوستان کو چاہئے کہ وہ اپنی ملکی پالیسی میں چوکسی،سنجیدگی اور شفافیت اپنائے۔ ہندوستان کو نہ صرف بھوٹانیوں کو خود پر منحصر ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کرنی چاہئے بلکہ انرجی اور سیکورٹی معاملوں میں اس کی ہندوستان پر انحصار کم کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔ بھوٹان وائنڈ یا سولر یا دیگر متبادل پیدا کرسکتا ہے۔ ہندوستان اس کے متبادل انرجی پیداکرنے میں سرمایا کاری کرکے مدد کر سکتا ہے۔ہندوستان کے اس قدم سے بھوٹان خود منحصر ہوسکتا ہے، جس سے ہندوستان کی ذمہ داری بھی کم ہوگی اور جب بھوٹان خود منحصر ہوگا تو اس کا جھکائو بھی چین کی طرف کم ہوگا۔
پی ڈی پی کے سامنے چیلنج
پی ڈی پی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بھوٹان کا ایکانومک ریٹرن ہے۔ ہندوستانی روپے کے ویلو میں کمی کی وجہ سے بھوٹان اشیاء خوردنی، ایندھن ، تعمیری میٹریل اور کھانے کے تیلوں کی قیمتوں میں بے تہاشا اضافہ ہورہاہے۔ بھاری غیر ملکی قرض بھی اس کی ایک بڑی پریشانی ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق سال 2012 میں بھوٹان پر غیر ملکی قرض تقریباً ایک ارب 30 کروڑ امریکی ڈالر تھا ۔ مالی مندی ، بڑھتی غریبی اور بے روزگاری بھی نئی سرکار کے لئے ایک چیلنج ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *