اجے کمار

بہوجن سماج پارٹی میںآج کل باتہی ہاتھی پائیے، باتہی ہاتھی پائوں والی کہاوت مشہور ہو رہی ہے۔ باتہی ہاتھی پائیے ،یعنی لال بتی، باتہی ہاتھی پائوں یعنی پارٹی سے باہر کا راستہ۔ باہر کا راستہ بھی ان لوگوں کو دکھایا جا رہا ہے ، جو کبھی کانشی رام کے خاص سمجھے جاتے تھے۔کانشی رام کے شروعاتی دور میں ساتھ دینے والے گنے چنے ہی لوگ تھے، جن میں مایا وتی بھی شامل تھیں۔ کانشی رام کے سائے تلے پنپی مایا وتی کو کئی بار اتر پردیش کا تاج ملا تو دیگر لیڈروں کو لال بتی۔ یہ تب کی بات تھی جب تک مایا وتی کی اکثریت والی موجودہ سرکار نہیں بنی تھی۔ کانشی رام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مایا وتی نے بھی اپنے لیے نو رتن رکھ چھوڑے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے جن لوگوں کو نو رتنوں کی طرح رکھا تھا ، وہ  وفادار تھے۔ انہوں نے پارٹی کے لیے خون پسینہ بہا کر پارٹی کو اس مقام پر پہنچایا تھا۔ ان لوگوں کے خون پسینے کا ہی نتیجہ تھا، جو بہو جن سماج پارٹی کو 2007 کے اسمبلی انتخاب میں صوبے کے نمبر ایک کی پارٹی کا تمغہ ملا۔
لیکن جب مایا وتی کے ان نو رتنوں نے اپنی طاقت دکھانے اور شیخی بگھارنے کی کوشش کی اور وہ تانا شاہی اپنانے لگے تو ان طاقتوروں میں بغاوت کی بو آنے پر مایا وتی نے تاریخی فارمولا اختیار کیا۔ اختلاف کاخیال رکھنے والوں کو مایا وتی نے ہاتھی کے پائوں تلے کچلوانا ہی مناسب سمجھا۔ اس سے پارٹی کے لوگ تو زمین پر بیٹھ کر ان کی جی حضوری کرنے لگے، وہیں افسر شاہی کی بولتی ہی بند ہو گئی۔ بہوجن سماج پارٹی سپریمو کا سِکّہ چل نکلا، جس سے ان کی شبیہ تانا شاہ وزیر اعلیٰ کی بن گئی۔ حالانکہ اس مزاج سے بہو جن سماج پارٹی کی سلطنت خوب پھلی پھولی، دلت وزیر اعلیٰ کا نام ٹائم جیسے اخبار میں بھی چھپا۔
تقریباً تین دہائیوں میں بہو جن سماج پارٹی کے سیاسی سفر میں ایک سے بڑھ کر ایک وفادار ہوئے، لیکن انہیں اس کے بدلے میں پارٹی سے ہی نکلنا پڑا۔ آج کئی بڑے نام ایسے ہیں، جو سرکار یا تنظیم میں ہیں، لیکن ان پر تلوار لٹک رہی ہے۔ ان کا حشر بھی آر کے چودھری ، راج بہادر جیسا ہو سکتا ہے۔ کبھی مایا وتی کے وفاداروں میں رام لکھن ورما اور برکھورام ورما کا نام بھی شامل تھا۔ سال 1995 میں مایا وتی کے ساتھ حلف لینے والے اکیلے وزیر تھے۔ مایا وتی نے برکھو رام ورما کو اسمبلی کا چیئرمین بنوایا تھا، تو 2002 کے اسمبلی انتخاب کے دوران انہیں اور آر کے چودھری کو ایک ساتھ پارٹی سے باہر کرنے میں بھی دیر نہیں کی۔ 1993 میں سماج واد ی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اتحادی سرکار میں راج بہادر کابینہ کے وزیر تھے۔ انہیں بھی باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ وہ کانشی رام کے وفاداروں میں تھے۔ کم لوگ جانتے ہوں گے کہ سونے لال پٹیل بھی بہو جن سماج پارٹی کے بانیوں میں شامل تھے، لیکن موقعہ پڑنے پر انہیں بھی دودھ کی مکھی کی طرح نکال دیا گیا۔ اس کے علاوہ جن لوگوں نے خاص ہونے کا بھرم پالا ان کا بھرم بہت جلد ٹوٹا اور وہ باہر کر دیے گئے۔ صوبہ میں پہلی بار 1995 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک مایا وتی نے جہاں اپنے خلاف سر اٹھانے والوں کو باہر کا راستہ دکھایا تو جس کسی نے بھی اپنے کو سرکار اور تنظیم میں دو نمبر پر ثابت کرنے کی کوشش کی اس کا حشر بھی آر کے چودھری اور باقی لیڈروں جیسا ہوا۔ تازہ صورت حال یہ ہے کہ وزیروں، ارکان اسمبلی کا رپورٹ کارڈ وزیر اعلیٰ تک پہنچانے والے کچھ خاص لوگوں کو باہر کا راستہ دکھانے کا تانا بانا بنا جا چکا ہے۔ اسے عملی جامہ پہنائے جانے کے لیے بس وقت اور موقعہ کا انتظار ہے۔ مایا وتی کے چار دفعہ اقتدار پر آنے کے دوران نصف درجن سے زیادہ وزیروں کو مختلف الزامات کی وجہ سے وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ایک درجن سے زیادہ اراکین اسمبلی کو پولس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سب کے باوجود آج بھی کابینہ اور تنظیم میں ایسے تمام لوگ ہیں جن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ایسے لوگ مختلف الزامات سے گھرے ہیں، لیکن ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے پیچھے سیاسی مجبوریاں ہیں۔ انتخاب آتے آتے ان میں سے کئی ایک پر گاج گرنے کے امکان سے تنظیم سے جڑے لوگوں کو انکار نہیں ہے۔ مایا وتی سرکار کے ایک بیحد قد آور وزیر پرقتل کے الزام میں شامل ایک رشتہ دار کو بچانے کا الزام ہے۔ معاملے کی سی بی آئی جانچ چل رہی ہے۔ پارٹی کی شبیہ سُدھارنے کے لیے چلائے جانے والے آپریشن کلین میں پانچ سے زیادہ لوگوں کو بہو جن سماج پارٹی سے نکالنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ ان میں سرِفہرست بابو سنگھ کشواہا اوراننت کمار مشر عرف انٹو کا نام ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کو اپنے خون پسینے سے سینچے اور صوبے میں اقتدار تک پہنچانے والے بڑے لیڈر بابو سنگھ کشواہا اب بہوجن سماج پارٹی کے لیے بیکار ہو گئے ہیں؟بہو جن سماج پارٹی کے پرانے وفاداروں میں شامل اور مایا وتی کی کوششوں کے دنوں کے ساتھی کشواہا کے پاس کچھ ماہ پہلے تک جیولوجی،کانکنی،کوآپریٹیو، خاندانی بہبود محکموں کے علاوہ ادارہ جاتی مالیات اور اسٹامپ اور کورٹ فیس کی کمان بھی تھی۔ محکمۂ خاندانی بہبود  کشواہا کو دینے کے لیے مایا وتی نے محکمہ صحت کے دو ٹکڑے کرنے میں بھی کوئی تردد نہیں کیا۔محکمہ خاندانی بہبود کو کافی کمائو محکمہ مانا گیا ۔ سرکاری دوا کی خریداری سے لے کر ڈاکٹروں کی تعیناتی تک کا کام بابو سنگھ کشواہا ہی کرتے تھے۔ اس محکمے کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ ماہ پہلے لکھنؤ میں دو سی ایم او کا قتل ہوا تو اسے بھی اسی سے جوڑ کر دیکھا گیا تھا۔انگلی جب کشواہا پر اٹھی تو پہلے ان سے وزارت لی گئی، اس کے بعد ان کی حیثیت ختم کر دی گئی۔ کشواہا کے پریشانیوں میں گھرتے ہی کسی کی بھی مصیبت میں کام نہیں آنے والی بہن مایا وتی کی اپنے اس پرانے ساتھی سے ممتا ختم ہوگئی ہے۔
اتر پردیش کے محکمہ خاندانی بہبود میں گھوٹالے اور دوسی ایم او نیز ایک ڈپٹی سی ایم او کا قتل ہونے کے بعد گرمائی سیاست نے سابق وزیر بابو سنگھ کشواہا کی مصیبتیں اتنی بڑھا دی ہیں کہ وہ اپنے گھر بہوجن سماج پارٹی میں ہی اکیلے ہو گئے ہیں۔ ان سے ملنے بہو جن سماج پارٹی کا کوئی لیڈر نہیں آتا، جبکہ ایک وقت تھا کہ ان کے گھر میں پارٹی لیڈروں کی لمبی لائنیں لگی رہتی تھیں۔آج کشواہا بہوجن سماج پارٹی میں ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ پچھلے دنوں ان کے پارٹی (بی ایس پی) سے نکالے جانے کی خبر سنسنی کی طرح میڈیا سے لے کر سیاست کے گلیاروں تک پھیل گئی۔ اس خبر نے بسپائیوں کو نہ صرف سچائی جاننے کے لیے بے چین کر دیا، بلکہ حزب مخالف میں بھی کھلبلی مچ گئی۔ مایا وتی کے مزاج کو جاننے والے ہر اس شخص نے اس خبر پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کر لیا، جو کشواہا کی حالت کی کہانی جانتا تھا۔جولائی مہینے کے وسط میں سب سے پہلے بابو سنگھ کشواہا کو لے کر افواہ پھیلی کہ ان سے بنگلہ خالی کروا لیا گیا ہے۔ گزشتہ 18 جولائی کو اس افواہ کو اس وقت اور بھی پختہ بنیاد مل گئی جب پتہ چلا کہ کشواہا کو قومی جنرل سکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ کہا تو یہاں تک جانے لگا کہ ان کے وزیر اعلیٰ رہائش گاہ اور پارٹی دفتر میں آنے جانے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔ بات پھیلی تو پھیلتی ہی گئی۔کسی نے کہہ دیا کہ بابو کے ضلعوں میں لگے ہورڈنگ ہٹانے کا حکم ہو گیا ہے۔ دو دنوں تک یہ بات اوپر سے لے کر نیچے تک پھیلتی رہی، لیکن بہو جن سماج پارٹی کی طرف سے ان خبروں کی نہ تو تردید کی گئی اور نہ ہی تصدیق۔ مدعوں کو ہوا دینے میں ماہر الیکٹرانک میڈیا میں یہ خبر بریکنگ نیوز کی طرح چھا گئی۔ میڈیا فعال ہوا تو حزب مخالف بھی اس کے ساتھ تال میں تال ملانے لگا۔ سب سے پہلے سماجوادی پارٹی نے منہ کھولا  اور کہا کہ ڈپٹی سی ایم او سچان معاملہ کی سی بی آئی جانچ شروع ہو گئی ہے۔ اس لیے کشواہا سے بہو جن سماج پارٹی پلہ جھاڑ لینا چاہتی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ اپنے کسی وزیر کی بلی دے کر اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتیں۔پورے دن  افواہوں کا ماحول بنا رہا۔بہو جن سماج پارٹی کے کارکنان کو بھی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا ،لیکن پارٹی اعلیٰ کمان خاموش تھی۔ پانی جب سر سے اوپر ہو گیا تو 18 جولائی کو دیر شام پارٹی کی طرف سے پریس نوٹ جاری کر کے کہا گیا کہ کشواہا پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ وہ پارٹی کے وفادار لیڈر ہیں۔ اس کے بعد معاملہ اوپری سطح پر تو پُر امن ہوگیا لیکن کشواہا کی رخصتی کی اٹکلوں پر روک نہیں لگ سکی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here