پاکستان سے بحرانستان تک

Share Article

عفاف اظہر
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے بعد دوسرا بڑا خطرہ ماحولیاتی خرابیوں سے ہے۔امریکی جریدے ’سائنٹفک امریکن‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جولائی کے اواخر میں آنے والا تباہ کن سیلاب بھی ملک میں ہونے والی ماحولیاتی خرابیوں اور تبدیلیوں کا نتیجہ تھا، لیکن افسوسناک صورت حال تو یہ ہے کہ پاکستان کے حکام کی جانب سے ماحولیاتی مسائل کی جانب بالکل بھی توجہ نہیں دی جا رہی ۔جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی کی وجہ سے پاکستان میں پانی کے ذخیروں اور گزرگاہوں میں بہت زیادہ سلٹ بھر چکی ہے اورحالیہ سیلاب میں جہاں اندازاً ایک تہائی حصہ عالمی حدت کا تھا وہیں جنگلات کی کٹائی، شمالی علاقہ جات میں ناقص انفراسٹرکچر اور جنوب میں نظام ِآبپاشی میں انجینئرنگ کے مسائل بھی اس کی بہت بڑی وجہ ہیں۔پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ جہاں ملک میں جنگلات کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے وہیں جنگلات کے کٹاؤ کی وجہ سے دریاؤں اور پانی کے ذخائر میں جمع ہونے والی سلٹ اس مسئلے کی سنگینی میں اضافہ کر رہی ہے۔ پاکستان کے وزیرِ ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی کے مطابق ’ماحولیاتی خرابیوں سے نمٹنے کے اخراجات میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب ان خرابیوں پر قابو پانا قریباً ناممکن ہو جائیگا‘ ۔ابتدائی اندازوں کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ نظام کو ابتدائی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے دو سو ملین ڈالر درکار ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پاکستان کو آنے والے عشروں میں جن طوفانی بارشوں اور سیلابوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ان سے نمٹنے کے لیے ڈیم اور رابطہ نہروں کی تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور دوسری طرف ایک اور بحران کا اژدہا بھی اپنا سر اٹھا چکا ہے۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیوں کی بین الاقوامی فیڈریشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید امداد نہ مہیا کی گئی تو پاکستان میں لاکھوں سیلاب متاثرین اس سال موسمِ سرما میں غذائی بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ خوارک کی کمی کا شکار ہونے والے سیلاب متاثرین کی شرح پہلے ہی چودہ فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اس سال سیلاب زدہ علاقوں میں فصلیں تباہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ غذائی امداد پر انحصار کریں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کئی علاقوں میں سیلاب کا پانی اتر چکا ہے لیکن زرعی زمین اس قابل نہیں ہے کہ اس کی فصل کاشت کی جا سکے۔ زلزلے کے برعکس سیلاب ایک نسبتاً سست روی سے اثرات دکھانے والی آفت ہے اور اس کے اثرات مکمل طور پر سامنے آنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ پاکستان کے سیلاب سے متاثر ہونے والے مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ملک کے شمال میں واقع پہاڑی علاقوں میں لوگوں کے پاس رہنے کے لیے گھر نہیں ہیں جبکہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں زرعی زمینیں زیر آب ہونے کی وجہ سے غریب کسان مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسری طرف سندھ میںاب تک چودھ لاکھ افراد متاثرین کیمپوںمیں رہنے پر مجبور ہیں۔پاکستان میں پچپن لاکھ ایکڑ زرعی زمین یا تو جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے یا مکمل طور پرتباہ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے کسان اس پر فصل کاشت نہیں کر سکتے۔ذرا اندازہ  تو کیجیے کہ اس وقت ملک بھر کے کروڑوں عوام سیلاب سے متاثر ہوکر کْھلے آسمان کے نیچے بھوک سے تڑپ رہے اور بیماریوں سے مر رہے ہیں ،مگردوسری طرف متواتر خودکش حملوں کے نتیجے میں بھی اسی غریب عوام ہی کے پرخچے اْڑ رہے ہیں مگر ہمارے یہ سیاست داں ٹیلی ویژن چینلوں پر حکومت بدلنے، مارشل لا لگانے اور ساز باز کرنے ،ایک دوسرے پر رخنہ ڈالنے، عدلیہ میں پھوٹ یا خْردبْرد کے الزامات ،گالی گلوچ حتیٰ کہ ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑ دینے کے درپے نظر آتے ہیں جنہیں عوام نے ووٹ دے کر پارلیمان تک پہنچایا وہ عوام کو سیلاب میں بے یارو مددگار چھوڑ کر حکومت گرانے یا مڈٹرم انتخابات کرانے کی تیاریوں میں لگ گئے جو کل تک جمہوریت اور جمہوری اِداروں کو مستحکم کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے وہ آج اقتدار سے دور رہنے کے باعث ایک نیا بحران پیدا کرنے اور ملک کو ایک اور بحران کا تحفہ دینے کی کوششوں میں لگے ہوے نظر آ رہے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ جمہوریت کا خواب دیکھنے اور دکھانے والوں کی اْس وقت نیند کیوں نہیں اڑی جب کروڑوں لوگ بے سروسامانی کی حالات میں اس جمہوریت کے آسمان تلے بے یارومددگار پڑے نظر آتے ہیں اور یہ مذہب کا درس دینے والے اْس وقت چِلو بھر پانی میں کیوں ڈوب کر مر نہیں جاتے جب خود اپنے لوگوں کے خون سے ہولیاں کھیلی جاتی ہیں اور مجاہدین کے بم اپنے ہی ہم وطنوں پر پھٹتے ہیں اور دھماکے دنیا بھر کو سنائی دیتے ہیں ۔
آج پاکستانی قوم انتہائی بے بسی کے عالم میں ان تمام بحرانات سے نبرد آزما ہے ۔ ایک طرف خوراک کی قلت کا بحران ہے تو دوسری طرف مہنگائی کا طوفان ، ایک طرف سیلاب کی آفت ہے تو دوسری طرف یہ آفت نما مسلط حکمران، جو پوری قوم کو بھوک کا تحفہ دے کر خود اپنے سوئس اکاونٹس کے تحفظ میں گم ایک دوسرے سے دست و گیریباں ہیں۔ عوام دو وقت کی روٹی کی محتاج ہے مگر دو سو ارب ڈالرز سے زائد ملک کے لوٹے ہوئے اثاثے اس وقت ہمارے حکمرانوں کے سوئس بینک اکاونٹس میں موجود ہیں، اگر جمہوریت کے علمبردار ملک و قوم سے مخلص ہوں توآج سیلابی امداد کے لئے یوں کشکول اٹھائے خیرات نہ مانگ رہے ہوتے۔ ہمارے یہ لوٹے ہوئے ملکی اثاثوں کو ہی اگر واپس لے آیا جائے تو ان میں اتنا دم ہے کہ وہ اپنی اس بے سہارا عوام کا بوجھ بنا کسی سے بھیک مانگے خود اٹھا سکتے ہیں۔ اگر میکسیکو اپنے لوٹے ہوئے چوہتر ملین ڈالرز کے اثاثے سوئس بنک سے واپس منگوا سکتا ہے ، نائجیریا اپنے لوٹے ہوئے سات سو ملین ڈالرز واپس وصول کر سکتا ہے، فلپائنی حکومت اگر اپنے چھ سو چوراسی ملین ڈالرز کی واپسی کے لئے قانونی جنگ لڑ سکتی ہے ، اور پھر ارجنٹائن ، پیرو جیسے ملک اپنے ملکی اثاثوں کی واپسی کے لئے ہمت دکھا سکتے ہیں تو ہماری یہ جمہوری حکومت ملک پر چھا ئے تباہی و بربادی کی آندھیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے لوٹے ہوئے ملکی اثاثے واپس کیوں نہیں منگوا سکتی ؟..مگر افسوس !یہاں عوامی ہمدردی کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف حال ہی میں دنیا نے یہ عظیم نظارہ دیکھا کہ چلی میں ستر دنوں سے زیر زمین پھنسے ہوئے  تینتیس کان کنوں کو نکالنے کا وقت آیا تو اس تین روزہ ریسکیو آپر یشن کے دوران ان کا جمہوری صدر اپنی اہلیہ سمیت ریسکیو ٹیم کے ساتھ وہاں اڑتا لیس گھنٹوں تک  اس مقام پر آخری کان کن کے سلامت  باہر نکل آنے تک موجود رہا ، کیوں کہ اس کی خواہش تھی کہ بہ حیثیت ایک جمہوری  صدر وہ اس موقعہ پر اپنی موجودگی سے اپنی عوام کا حوصلہ بلندکرنا چاہتا ہے اور ہمارے یہاں بہتی الٹی گنگا کا نظارہ بھی دنیا نے دیکھا جب سیلاب نے ملک بھر میں تباہی پھیلا دی ،فاقہ زدہ سیلاب زدگان امداد کے منتظر دہائیاں دے رہے تھے، مگر ہمارے جمہوریت کے شہنشاہ مغرب کی سیر سے لطف اندوزی فرما رہے تھے ۔
ملک و قوم کے سر پر منڈلاتے بحرانات کے ان سیاہ بادلوں کے ذمہ دار بے حیثیت قوم ہم خود ہیں جو ان نا اہل بے حس حکمرانوں کو اقتدار پر بٹھاتے اور پھر یہ توقع کر لیتے ہیں کہ یہ ہمارا بھلا سوچیں گے، زرداری جائے گا نواز شریف آ جائے گا، شریف برادران چائیں گے تو پھر بھٹو خاندان تخت نشینی سنبھال لے گا ، ہمارے حکمرانوں نے تو یہ ٹھان ہی رکھی ہے کہ اپنی روش نہیں بدلنی خواہ حالات کوئی بھی ہوں۔ مگرہم نے سیاہ تاریخ  اور تلخ تجربات سے سبق نہ سیکھنے کا تہیہ کیوں کر رکھا ہے ؟ . .. .نہ جانے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ بانجھ زمین سے فصل کی توقع رکھنا سرا سر حماقت نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟ اور ہماری اسی حماقت اور حکمرانوں کی روش نے آج  پاکستان کو بحرانستان تک لا پہنچایا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *