بھوپال پہنچے سندھیا کا بیان، راہل کے استعفیٰ کے بعد کانگریس بحران میں

Share Article
Jyotiraditya Scindia proposes Kamal Nath’s name for CM

 

بھوپال، ایم پی اور کانگریس کے سینئر لیڈر جیوتی رادتیہ سندھیا لوک سبھا انتخابات کے بعد پہلی بار جمعرات کی صبح بھوپال پہنچے۔ بھوپال ائیر پورٹ پر صبح دس بجے جیسے ہی جیوتی رادتیہ سندھیا پہنچے، وہاں پہلے سے موجود ان کے حامیوں نے ان کازبردست خیر مقدم کیا۔ سندھیا کے استقبال کے لئے کمل ناتھ کابینہ کے کئی وزرا بھی ایئرپورٹ پہنچے۔ یہاں سے سندھیا براہ راست اسمبلی جائیں گے۔ اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے بعد سندھیا وزیراعلی کی رہائش گاہ پر کمل ناتھ کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر ملاقات کریں گے۔ سیاسی نقطہ نظر سے دونوں کی ملاقات کو انتہائی خاص مانا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات سے ریاست کی سیاست گرما گئی ہے۔

Image result for Sindhiya arrive to bhopal airport

ایئر پورٹ سے باہر نکلتے وقت سندھیا نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیا۔ ریاستی صدر اور قومی صدر کے لئے ان کے نام کی چل رہی بات چیت پر سندھیا نے کہا کہ قومی صدر کے لئے ایکمتحرکشخص کی ضرورت ہے۔ پارٹی جس نام پر بھی فیصلہ لے گی، وہ صحیحہوگا۔ سندھیا نے کہا کہ کانگریس کو مضبوط کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہئے، راہل گاندھی کے استعفیٰ کے فیصلے کے بعد بحران کی گھڑی ہے اور ایسے وقت میں ہم سب کو ایک ساتھ ہو کر کام کرنا ہو گا۔

Image result for Sindhiya arrive to bhopal airport

گوا اور کرناٹک میں سیاسی گھمسان پر سندھیا نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اگر الیکشن براہ راست طریقے سے نہیں جیت سکتی تو دوسرے طریقے سے کس طرح جیتا جائے، اس پر ان کی توجہ زیادہ رہتیہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی بی جے پی رہنماؤں کیجانب سے مسلسل حکومت گرانے کے دعووں پر سندھیا نے کہا کہ بی جے پی کی خواہشات منگیری لال کے حسین خواب کی طرح ہیں۔ جب مدھیہ پردیش کے عوام نے کانگریس کومنتخب کیا ہے تو اسے کس طرح ختم کر سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *