راکیش کمار سنگھ
اسمبلی انتخابات کے بگل نے بھوجپور ضلع میں انتخابی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ ریاست کی سیاست میں خاصی اہمیت کے حامل اس ضلع میں پہلی بار نئی حد بندی کے تحت سات حلقہ اسمبلی میں انتخابات ہوں گے۔ نئی حد بندی سے نہ صرف جغرافیائی پس منظر بدلا ہے، بلکہ سماجی اتحاد بھی بدل گیا ہے۔ اس بار کے الیکشن میں دو حلقہ اسمبلی سہار (ریزرو) اور پیرو اپنا وجود ہی کھوچکے ہیں، جبکہ اگیاؤں (ریزرو) اور تراری ابھی طلوع ہوئے ہیں۔ نئی حد بندی کے بعد تمام اراکین اسمبلی اور درجنوں نئے امیدوار ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہوچکے ہیں۔ کئی رکن اسمبلی اور سابقہ الیکشن کے نزدیکی مقابل اپنا ٹکٹ بچانے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں تو کئی پہلی بار اپنا ٹکٹ پکا بتارہے ہیں۔ فی الوقت سات اسمبلی حلقوں میں بڑہرا، جگدیش پور اور پیرو پر جنتادل (متحدہ)، آرہ اور شاہ پور پر بی جے پی اور سہار (ریزرو ) پر سی پی آئی (مالے) اور سندیش حلقہ اسمبلی پر راشٹریہ جنتا دل کا قبضہ ہے۔
راجپوت اکثریت والے بھوجپور ضلع ہیڈ کوارٹر آرہ حلقہ اسمبلی سے شروع کیاجائے تو یہاں کے مغربی علاقوں کی سات پنچایتیں اب بڑہرا حلقہ میں چلی گئی ہیں، جس کی تلافی آرہ شہر کے ووٹرس کریں گے۔ اعلیٰ ذات والی اس بڑی آبادی کے الگ ہونے سے بی جے پی رکن اسمبلی امریندر پرتاپ سنگھ کی تشویش اور چیلنج دونوں بڑھ گئے ہیں۔ آرجے ڈی اور ایل جے پی اتحاد میں آرہ سیٹ ایل جے پی کی جھولی میں آنے کے تذکرے سے ضلع میں ایک نیا اتحاد معرض وجود میں آیا ہے۔ اس سے پہلے یہ سیٹ آرجے ڈی اقلیت کو دیتی تھی۔ اس حلقہ اسمبلی میں راجپوت، یادو اور مسلم رائے دہندگان کی اکثریت ہے۔
سندیش حلقہ اسمبلی پر ضلع کے صرف ایک آرجے ڈی رکن وجیندر سنگھ یادو کا قبضہ ہے۔ نئی حد بندی سے بدلے حالات، اپنے چھوٹے بھائی ارون یادو کے ذریعہ انتخابی میدان میں اترنے کے اعلان اور ریاست کے کابینی وزیر اودھیش نارائن سنگھ کے بھی بی جے پی امید وار بن جانے کے تذکرے سے انتخابی کھیر کڑوی ہونے کا امکان ہے۔ یہاں مالے بھی اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
اگیاؤں(ریزرو) حلقہ اسمبلی مالے کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ سن1985سے 1995 تک محترمہ جیوتی دیوی نے یہاں سے نمائندگی کی۔ اس کے بعد لگاتار مالے نے چوکڑی لگائی۔ اس بار کانگریس سے پھر محترمہ جیوتی، بی جے پی سے سابق وزیر شیویش کمار کمر کسے ہوئے ہیں۔ 90سالہ رام نریش رام کے ریٹائرمنٹ لینے کا بھی امکان ہے۔ آرجے ڈی اور ایل جے پی دونوں اس سیٹ کے تئیں فی الحال زیادہ جوش میں نہیں ہیں۔
سہار (ریزرو) اور پیرو سے الگ ہوکر معرض وجود میں آئے تراری اسمبلی حلقہ میں اس بار پیروکے جے ڈی یو رکن اسمبلی نریندر کمار پانڈے سمیت آرجے ڈی اور کانگریس بھی اپنی بالا دستی قائم رکھنا چاہتے ہے۔ آرجے ڈی نے اس سیٹ سے اقلیتی امیدوار کھڑاکر کے ایک سیٹ کا کوٹہ بھی پورا کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔
جگدیش پور حلقہ اسمبلی میں سابق بکسر ضلع میں اس کا حلقہ پیرو کی جانب بڑھ گیا ۔ ریاست کے دیہی ترقیات کے وزیر شری بھگوان سنگھ کشواہا کو پچھلے اسمبلی الیکشن میں کم مارجین سے ہوئی جیت کو برقرار رکھنا بہت بڑا چیلنج ہے۔ یہاں راجپوت ووٹر اس بار فیصلہ کن کردار اداکریں گے۔ سابق آرجے ڈی امیدوار دنیش یادو کی جگہ آرجے ڈی کسی نئے چہرے کو بھی اپنا امیدوار بنانے پر سنجیدگی سے غور کررہاہے۔ برہمن اکثریت والے شاہ جہاں پور حلقہ اسمبلی میں بی جے پی رکن اسمبلی منی دیوی کو چوطرفہ مخالفین کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سابق رکن دھرم پال سنگھ کی آرجے ڈی سے دعویداری اور رکن پارلیمنٹ تیواری کے حامیوں کی گھیرا بندی کو توڑنا اس بار بی جے پی امیدواروں کے لئے بڑا چیلنج ہوگا۔ مسٹر تیواری کے بیٹے منٹو تیواری کو بھی آرجے ڈی کا ایک طبقہ پسند کررہا ہے۔ دیارا حلقہ میں اس بار الیکشن کے درمیان خونی لڑائی کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ راجپوت اکثریت والے بڑہرا اسمبلی حلقے کا الیکشن اس بار کافی دلچسپ ہوگا۔ سابق وزیر راگویندر پرتاپ سنگھ حلقے کے عوام کی مکمل حمایت اور آرہ حلقہ اسمبلی کے سات پنچایتوں پر اپنا غلبہ بتا رہے ہیں۔ وہیں جے ڈی یو رکن آشا دیوی اپنے اور نتیش کمار کے ذریعہ کئے گئے کاموں کو بربل کی بنیاد پر مان رہے ہیں۔ یہاں سے کانگریسی امیدوار کے طور پر ڈاکٹر وکاس کرشن سنگھ بھی اپنی دعویداری کرچکے ہیں۔ مجموعی طور پر اس بار بھوجپور ضلع کے ساتوں اسمبلی حلقو ںپر جنگ کافی دلچسپ ہوگی۔ ضلع میں آرجے ڈی اتحاد جہاں اپنی سیٹوں کو بڑھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا وہیں قومی جمہوری اتحاد نے اپنی سیٹوں کو برقرار رکھتے ہوئے تعداد بڑھانے کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here