بھاگلپور کے بنکر فاقہ کشی کے دہانے پر

Share Article

کمار سوشانت
چمپانگر(بھاگلپور) کا رہنے والا محمدجاوید انصاری ایک بنکر ہے۔ اس کے پاس ذاتی پاور لوم تو ہے، لیکن اتنا پیسہ نہیں کہ وہ اسے چلا سکے۔ اس کے علاوہ بجلی کے مسائل بھی ہیں۔ نتیجتاً اس کے گھر کی حالت روز بروز خستہ ہوتی جارہی ہے۔ جاوید نے اہل خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے کے لیے باہر جانے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن وہ اس کشمکش میں ہے کہ وہ باہر جاکرکیا کرے گا؟ کیا اتنا پیسہ کما پائے گا کہ وہاں سے اپنے اہل خانہ کے لیے پیسہ بھیج سکے؟ اسے حکومت کی مختلف اسکیموں کی بھی معلومات ہے، لیکن وہ کہتا ہے کہ ان اسکیموں کا فائدہ صرف رسوخ والے لوگوں کو ہی مل پاتا ہے اس جیسے غریب کو نہیں ملتا، اس لیے سرکاری اسکیموںسے اس کا بھروسہ ختم ہوچکا ہے۔ ایک دوسرے بنکر محمد اسرافیل انصاری بتاتے ہیں کہ بنکروں کو کہیں کوئی کام نہیں مل رہا ہے، اس لیے فاقہ کشی کی نوبت آپہنچی ہے۔ نتیجہ کے طور پر وہ آہستہ آہستہ دوسرے شہروں کی جانب جارہے ہیں۔ گزشہ چار پانچ برسوں کے اندر تقریباً 8سے 10ہزار بنکر ممبئی، میرٹھ، مدراس اور دہلی وغیرہ شہروں میں چلے گئے۔ انصاری بتاتے ہیں کہ ان میں سے کچھ تو دوسرے شہروں میں پاورلوم کمپنیوں میں ہی کام کر رہے ہیں، جب کہ کام نہ مل پانے کی وجہ سے کچھ لوگ آٹو رکشا چلانے اور سبزی فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پورے بہار میں بنکروں کی تعداد 4لاکھ ہے۔ صرف بھاگلپور میں ہی 50ہزار سے زیادہ بنکر ہیں۔ بھاگلپور کے ناتھ نگر، چمپانگر، حسن آباد اور نرگاہ وغیرہ علاقوں میں سب سے زیادہ بنکر ہیں، جن کی آمدنی کا ذریعہ صرف ریشمی صنعت ہی رہی ہے۔ 1989تک بھاگلپور کے بنکر پورے ملک کا 48فیصد ریشم تیار کرتے تھے۔ اس وقت جن سنگھ کے وجے مترا بھاگلپور سے ممبراسمبلی تھے۔ ریاست میں کانگریس کی سرکار تھی اور بھاگوت جھا آزاد وزیر اعلیٰ تھے۔ اس زمانے میں ملک کے علاوہ غیرممالک میں بھی بھاگلپوری ریشم کی بے حد مانگ تھی۔ بھاگلپور میں سرکاری ریشم کالج بھی ہوا کرتا تھا، جس میں ریشم بنانے کے طریقے سیکھنے کے لیے دور درازسے طلبا آتے تھے۔ انہیں کالج کی طرف سے ڈپلوما کرایا جاتا تھا۔ وقت بدلا، 1989میں فسادات ہوئے، سب کچھ ختم ہوگیا۔ سچ کہا جائے تو اس فساد کی آگ میں اگر سب سے زیادہ کسی کو نقصان ہوا تو وہ تھے بھاگلپور ضلع کے بنکر، جن کی روزی روٹی ریشم تیار کرنے سے ہی چلتی تھی۔ فساد کے بعد اس صنعت میں مسلسل گراوٹ آتی گئی۔ بیرونی ممالک سے آرڈر آنے بند ہوگئے۔ 1990میں لالو یادو کی سرکار آئی۔ بنکروں کو لالو سے کافی امیدیں تھیں، لیکن افسوس کہ امیدیں صرف امیدیں بن کر ہی رہ گئیں۔ بنکروں کی حالت روز بروز بگڑتی چلی گئی۔ ریشم کالج کو بھی بدحالی کا شکار ہونا پڑا اور آخر کار وہ بند ہوگیا۔ اس کا معاملہ آج بھی عدالت میں زیر التوا ہے۔
’بہار بنکرکلیان سمیتی‘ کے ممبر حاجی علیم انصاری کہتے ہیں کہ 1990تک بھاگلپور میں ریشم بازار کی حالت اچھی تھی۔ پہلے ریشم کا دھاگا سستا تھا، اب اس کی قیمت میں زبردست اچھال آ گیا ہے۔ مرکزی اور ریاستی سرکار کی جانب سے بنکروں کے حق میں کئی اسکیمیں چلائی جاتی ہیں، لیکن ان کا فائدہ بنکروں تک نہیں پہنچ پاتا۔ اسکیموں کا زیادہ تر پیسہ سرکاری ملازمین ہی ہضم کر جاتے ہیں۔ علاقے میں پینے کا پانی تک دستیاب نہیں ہے۔ گلیوں اور چوراہوں پر گندگی کا انبار لگا پڑا ہے۔ شہر کے ایک معالج ڈاکٹر ایس پی سنگھ کا کہنا ہے کہ بنکروں میں ٹی بی، نموکونیئسس اور دمہ کی بیماری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انہوںنے بتایا کہ مذکورہ بیماریاں کام کے دوران کاٹن کا برادہ اڑنے اور سانس کے ذریعہ پھیپھڑوں میں جانے سے ہوتی ہیں۔ معا لجین کا کہنا ہے کہ چونکہ بنکر گندگی میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اس لیے ان کی صحت کو زیادہ خطرہ ہے۔ غور طلب ہے کہ عوام اپنا نمائندہ یہ سوچ کر منتخب کرتی ہے کہ علاقے کی ترقی ہوگی اور ان کا دکھ درد دور ہوگا۔
بھاگلپور پارلیمانی حلقہ میں بنکر ووٹرز کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے، وہیں بھاگلپور اسمبلی حلقہ کے تحت تقریباً 45ہزار بنکر ووٹرز ہیں۔ ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کون ممبر پارلیمنٹ یا ممبر اسمبلی بنے گا، یہ فیصلہ بنکروں کے ووٹ کرتے ہیں۔ 1995میں بنکروں نے مقامی بی جے پی لیڈر اشونی چوبے کو اپنا ممبر اسمبلی منتخب کیا، یہ سوچ کر کہ وہ ان کے مسائل کو دوسروں کے مقابلے کہیں بہتر ڈھنگ سے سمجھیںگے، لیکن نتیجہ وہی رہا، کہیں کوئی بدلاؤ نہیں آیا۔ 2004کے لوک سبھا انتخابات میں لوگوں نے ایک بار پھر بی جے پی کو موقع دیا اور پارٹی کے سینئر لیڈر سشیل کمار مودی یہاں سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ بھاگلپور سے مودی کو منتخب کرنے کے پس پردہ ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ممبر اسمبلی اور ممبر پارلیمنٹ دونوں اگر ایک ہی پارٹی کے ہوں تو شاید کچھ ترقی ہو جائے اور فریاد سن لی جائے، لیکن ان کی حالت پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ 2005میں جنتادل یونائیٹڈ-بی جے پی اتحاد والی نتیش حکومت بنی۔ اشونی چوبے مسلسل تیسری مرتبہ ممبر اسمبلی بنے۔ وہ ریاستی حکومت میں وزیر اور ممبر پارلیمنٹ سشیل کمار مودی نائب وزیر اعلیٰ بن گئے۔ مودی کے نائب وزیر اعلیٰ بننے سے بھاگلپور پارلیمانی سیٹ خالی ہو گئی۔ اس بار بی جے پی کی جانب سے قدآور لیڈر سید شاہنواز حسین کو میدان میں اتارا گیا۔ کشن گنج سے شکست کھاچکے شاہنواز حسین نے بھاگلپور کے بنکروں سے ڈھیر سارے وعدے کیے۔ بنکروں اور بھاگلپور کے عوام کو لگا کہ شاہنواز بڑے لیڈر ہیں، سدھار ضرور ہوگا اور پھر شاہنواز بھی جیت گئے، لیکن حالات نہیں بدلے۔ بھاگلپور کا ریشم کالج آج بھی بند ہے اور بنکروں کی بدحالی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ علاقے میں ممبر اسمبلی، ممبرپارلیمنٹ اور وزیراعلیٰ کے پروگرام تو ہوتے ہیں، اعلانات بھی ہوتے ہیں، لیکن کچھ دنوں کے شور شرابے کے بعد سب کچھ سرد پڑجاتا ہے۔ ہر بار معاملہ بجلی اور بینک کے سود میں الجھ کر ٹھنڈے بستے میں چلا جاتا ہے۔
ضلع کے ایک وارڈ کونسلر خورشید عالم عرف ببلو بتاتے ہیں کہ بینکوں نے اب بنکروں کو قرض دینا بھی بند کردیا ہے۔ سرکاری اعلان کے باوجود ناتھ نگر، چمپا نگر اور حسن نگر میں شاید ہی ایسا کوئی بنکر ہو، جسے بینک نے قرض دیا ہو۔ نتیجتاً بنکر ساہو کاروں سے 5روپے فیصد ماہانہ کی شرح سودپر قرض لیتے ہیں، جسے ادا کرنے کے لیے گھر زمین تک فروخت کرنا پڑتا ہے۔ ناتھ نگر کے بنکر محمد نور عالم کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بھاگلپور میں بجلی برائے نام ہے، اس لیے ہم اپنا ذاتی  پاور لوم نہیں لے پاتے۔ حالت یہاں تک خراب ہے کہ 24گھنٹے میں صرف 3-4گھنٹے ہی بجلی ملتی ہے۔ عالم نے بتایاکہ پورے علاقے میں صرف 10-12بڑے صنعت کار ہیں، جن کے پاس سرمایہ ہے۔ وہی جنریٹراور پیسے کی بدولت اپنے کارخانوں کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہیں۔ ان کے یہاں بنکر کافی کم اجرت پر کام کرتے ہیں، کیوں کہ کام کم ہے اور بنکروں کی تعداد زیادہ۔ ایک سماجی کارکن اور بنکر محمد عالمگیر نے بتایا کہ برسراقتدار بڑے بڑے لیڈر انتخاب کے وقت ڈھیر سارے وعدے کرتے ہیں، لیکن بنکروں کے حق میں کبھی کچھ نہیں کرتے۔
نتیش کمار کے وزیراعلیٰ بننے سے یہاں کے بنکروں میں امید کی کرن پیدا ہوئی تھی کہ چلو اب کچھ اچھا ہوگا، لیکن تکلیف کی بات ہے کہ ایسا نہیں ہوسکا۔ نتیش کی حکومت کاوقت بھی پورا ہونے والا ہے، لیکن بنکروں کے مسائل آج بھی ویسے ہی ہیں۔ اب بنکروں کے دماغ میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ ہماری حالت سدھارنے کے لیے نتیش کمار کو بھی لالو راج کی طرح 15برس کا وقت چاہیے؟ یہ سوال ان ہزاروں بنکروں کا ہے، جو آج فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں اور وہ ان سوالوں کا جواب اپنی ریاست کے مکھیا سے چاہتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *