کنّر کی انوکھی پہل بیٹی بچاﺅ ابھیان سے متاثر ہوکر گو دلیا لڑکی کو

جگدیش شکلا  مورینا
ضلع تحصیل کی اسلام پور گلی نمبر تین کی رہنے والی ایک کنر منجو عرف پائل بھلے ہی اتنی پڑھی لکھی نہیں ہے، لیکن اس نے ریاستی سرکار اور اس کے چیف کے ’بیٹی بچاﺅ بیٹی پڑھاﺅ ‘مہم کو جس سنجیدگی اور جذبے سے سمجھا ہے ،شاید اس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ منجو نے اپنی محدود آمدنی کے باوجود ماں باپ کی قابل رحم معاشی حالت کی وجہ سے علاج کے لئے محتاج بیٹی کا علاج کرا کر نہ صرف اسے زندگی دی بلکہ اس کے ماں باپ کی رضامندی سے بیٹی کو گود لے کر معصوم بیٹی کے مستقبل کو سنوارنے کا ذمہ بھی اپنے اوپر لیا ہے۔ دوسروں کی خوشیوں میں شامل ہوکر ناچ گاکر دعاﺅں کے بدلے ملنے والے انعام و اکرام کے سہارے زندگی گزارنے والی منجو نے وزیر اعلیٰ اور ریاستی سرکار کی ’بیٹی بچاﺅ بیٹی پڑھاﺅ ‘مہم سے متاثر ہوکر جو کام کیا ہے وہ پورے سماج کے لئے نمونہ ہے۔
یہ بتانا مناسب ہوگا کہ اپنی نیک دلی کے لئے جانی جانے والی شہرکی کنّر منجو کو لگ بھگ ایک سال پہلے معلوم ہوا کہ گوالیار کے دیہی علاقے کا ایک خاندان غریبی کی وجہ سے اپنی بیٹی کا علاج کرانے سے لاچار ہے۔جانکاری ملنے پر جب منجو ان سے ملنے گئی تو باتوں باتوں میں ہی لڑکی کے ماں باپ اپنی بیمار بیٹی کو گود دینے کے لئے تیار ہو گئے۔منجو نے کٹے ہونٹ کی بیمار بیٹی کا مورینا ،آگرہ اور گوالیار میں علاج کرایا۔ علاج سے اپنی بیٹی کی مکمل صحت مند ہونے کے لئے منجو ایشور کے تئیں شکریہ ادا کرنا بھی نہیں بھولتی ۔ منجو اب اپنی اس بیٹی کو ہی اپنا سب کچھ مان کر اس کی دیکھ ریکھ کررہی ہے۔
منجو اب اپنی اس بیٹی کو پڑھا لکھا کر پولیس آفیسر بنانے کا خواب دیکھتے ہوئے اس کی پرورش میں لگ گئی ہے۔وہ اپنے اس نیک کام کا کسی سے ذکر بھی نہیں کرنا چاہتی ہے۔لوگوں کے اس مثالی کام کی جانکاری گزشتہ دنوں اس وقت ہوئی جب منجو نے عوامی طور سے اپنی بیٹی کی دوسری سالگرہ پر جَورا میں ایک بڑے پروگرام کا انعقاد کیا ۔بیٹی کی سالگرہ کے موقع پر ناچ گانے اور جشن کے ساتھ منجو کے آنگن میں بیٹی کی کلکاریوں کے ساتھ کھیل کود کی مسحور کن فضا تھی۔اس کے اس جشن میں شریک ہونے دلی ، غازی آباد ،مورینا اور دیگر دور دراز کے مہمان بھی آئے۔
بیٹی کو ہر خوشی دینے کی خواہش
ایشور نے تو بھلے ہی اسے جنم سے ہی ماں بننے کی خواہش پر روک لگا کر اس کو محروم رکھا ہو،لیکن منجو نے غریب خاندان کی کٹے ہونٹ والی اس بیٹی کو گود لے کر اپنی ممتا اس پر انڈیلنے کی ٹھان لی ہے۔ منجو اپنی اس بیٹی کو دنیا کی ہر خوشی اور اچھی سے اچھی تعلیم دینا چاہتی ہے ۔ منجو کی تمنا ہے کہ اس کی یہ بیٹی بڑی ہوکر پڑھ لکھ کر پولیس آفیسر بنے جو غریبوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو روک سکے۔
چنبل کا داغ دھونے کی کوشش
بیٹیوں کو بیٹوں سے دوم درجے کا سمجھنے والی ذہنیت والے اس سماج میں جہاں لوگ اپنی بیٹی کو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ سہولتیں اور پیار نہیں دیتے جو اپنے لڑکوں کو دیتے ہیں۔ چنبل کے اس ماحول میں اگر کوئی ماں اپنے خون کے رشتے نہیں ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کو دنیا کی ساری خوشی اور آرام دے رہی ہے تویہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ آج کے خود غرض ماحول میں ایسے ہی مثالی واقعہ کو شہر کے کنر منجو عرف پائل نے سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ چنبل کا جو ماضی رہا ہے ،اس میں بیٹی کو جنم لینے کے ساتھ ہی جان سے مار دینے کی روایت رہی ہے ،اسی چنبل میں ایک کنر نے غریب پریوار کی موت کے دہانے پر کھڑی بیٹی گود لے کر نہ صرف اس کا علاج کرایا بلکہ اس کو صحت مند ہونے کے بعد اپنی امیدوں کی دنیا کو اسی پر قائم کردیاہے۔ کنر پائل کا یہ قدم صرف اپنے لئے جینے والے سماج کے لئے ایک سبق ہی نہیں، سرکار کے ذریعہ چلائی جارہی ’ بیٹی بچاو بیٹی پڑھاﺅ ‘مہم کی بھی ایک بامعنی مثال ہے۔
غریب خاندان کی بیٹیوں کو سہارا
کنر منجو عرف پائل بھلے ہی معاشی اعتبار سے اتنی مضبوط نہیں ہے،لیکن اس کے دل میں ہمیشہ دوسروں کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھرنے کی خواہش رہتی ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق لوگوں کی خوشیوں میں ناچ گاکرجو آمدنی اسے نیگ کے طور پر ہوتی ہے،اس کا ایک بڑا حصہ وہ سماجی اور مذہبی کاموں میں لگاتی ہے۔اطلاع کے مطابق پائل ابھی تک ” مکھیہ منتری کنیا دان یوجنا“ سے متاثر ہوکر آدھا درجن سے زیادہ غریب خاندان کی لڑکیوں کی شادی بھی کر چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *