سیاسی دشمنی کی آگ میں سلگتا بنگال

Share Article

بمل رائے
اقتدار کی تبدیلی کے دہانے پر کھڑے مغربی بنگال میں سیاسی عداوت نے اب نہایت سنگین شکل اختیار کرلی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی حرکتوں کو دیکھ کر کارکنان بہت ہی جذباتی اور مشتعل ہورہے ہیں۔ خصوصاً سی پی آئی(ایم) اور ترنمول کیڈروں کے درمیان خونی جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ایسا کسی اور ریاست میں شاید ہی دیکھنے میں آیاہو کہ وزیر اعلیٰ اور حزب اختلاف کی اعلیٰ قیادت ایک دوسرے سے آنکھیں ملانے سے کتراتے ہوں۔ اس عمل میںساری اخلاقی قدریں پامال ہورہی ہیں۔ بنگال کی تہذیب تار تار ہوتے ہوئے سبھی لوگ دیکھ رہے ہیں، لیکن دشمنی اتنی شدید ہے کہ کسی کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے۔ اس دشمنی سے تبدیلی کے بعد والے بنگال کے ایجنڈے پر شکوک وشبہات کے بادل چھاگئے ہیں۔ فوکس میں ممتا بنرجی ہی ہیں۔ ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے کئی طرح کے سوال ابھرکر سامنے آ رہے ہیں۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ صنعتوں کے لئے زمین کی ایکوائرمنٹ کے مسئلے پر مس ممتا کا ایسا ہی اڑیل رویہ رہا تو وہ ترقی کا وعدہ کیسے پورا کریں گی؟ کیا ممتا بہت ساری ٹرینیںچلاکر یا ریلوے کی زمین پر صنعت لگاکر عوام کو مطمئن کرپائیںگی؟کیا وہ نہیں چاہیں گی کہ ریاست میں ایک ذمہ دار اپوزیشن ہو؟ اگروہ واقعی ایساچاہتی ہیں، تو کم سے کم6-8مہینے تک تو ایک ذمہ دار اپوزیشن کا کردارادا کرنا چاہئے تھا، لیکن ایسا کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔
اپنے اقتدار کے آخری سالوں میں جیوتی بسو مایوس ہوکر ایک بات بار بار کہتے تھے کہ بنگال کے غیر ذمہ دار اپوزیشن کی مثال ملک میں کہیں نہیں ملتی۔ اس وقت ان کا یہ کہنا سوفیصد صحیح نہیں تھا، لیکن اب اس دور اندیش رہنما کے قول کی صداقت ہر ایک پر عیاںہورہی ہے۔ حال ہی میں لوک سبھا کے سابق اسپیکر سومناتھ چٹرجی نے بنگال کے موجودہ سیاسی حالات پر ایسے ہی ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی حریف ہونے کا مطلب سیاسی دشمنی نہیں ہے۔ ترنمول اور بایاں محاذ کے مابین سیاسی عداوت کی سنگینی کا اندازہ 21ستمبر کے واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ عزت مآب صدر جمہوریہ میٹرو کے توسیعی پروجیکٹ کا افتتاح کرنے آئیں ، تو ممتا نے وزیراعلیٰ کو دعوت نامہ ہی نہیں بھیجا۔ ضابطے کے مطابق زمین مہیا کرانے کا کام ریاستی حکومت کا ہے اور اس میں اس نے مکمل تعاون کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حسب روایت صدر جمہوریہ کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا، لیکن اجلاس میں وزیر اعلیٰ نہیں تھے۔ ممتا ریلوے سے متعلق کسی بھی پروگرام میں بایاں محاذ کے لیڈروں کو مدعو نہیں کرتیں۔ حالانکہ جس علاقے میں پروجیکٹ کا افتتاح ہوتا ہے، اس علاقے کے ایم پی اور ایم ایل اے کو مدعو کرنے کی پرانی روایت چلی آرہی ہے،لیکن اب بنگال میں ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بسا اوقات مدعو کرنے میں اتنی تاخیر کردی جاتی ہے کہ وزراء کے لئے اجلاس میں شرکت کرنا ممکن نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھی تو یہ توہین آمیز بھی ہوتا ہے۔
ایک اور مثال دیکھیں، حال ہی میں راجر ہاٹ نیو ٹاؤن کا نام تبدیل کرکے مغربی بنگال کے سابق آنجہانی وزیر اعلیٰ جیوتی بسو کے نام پر جیوتی بسو نگر رکھا گیا۔ ملک میں وزیر اعلیٰ کے عہدے پر سب سے زیادہ عرصے تک حکمرانی کرنے والے جیوتی بسو جس پائے  کے لیڈر تھے، اس کے مدنظر یہ ایک بہترین خراج عقیدت تھی۔ حالانکہ ترنمول کو اس پر بھی اعتراض تھا اور اس کے لیڈروں نے اس کے خلاف تحریک چلانے کی بھی دھمکی دی۔ 12اکتوبر کو وہاں ایک بزنس ہب بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ بزنس ہب ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس کے بعد ملک کا دوسرا ہب ہوگا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے وزیر مالیات جناب پرنب مکھرجی پہنچے۔ بایاں محاذحکومت کے ایک وزیر نے ممتا کے گھر  دعوت نامہ بھجوایا، لیکن ممتا نہیں آئیں۔16ہزار کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس ہب سے تین لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا۔ ممتا اگر مغربی بنگال کی اگلی وزیر اعلی بننے کے تئیں پوری طرح پر اعتمادہیں تو ظاہر ہے کہ یہ انہیں کی مدت کار میں بنے گا۔ تو پھر انہوں نے اتنے بڑے پروجیکٹ سے جڑے اجلاس کا بائیکاٹ کیوں کیا؟ اس میں سرمایہ کاری کررہے سرمایہ کاروں میں کیا اس سے غلط پیغام نہیں جائے گا؟ اتنی دور تک شاید ممتا نہیں سوچتیں۔ ایسا لگتا ہے انہوں نے بدھادیب کے ساتھ ایک اسٹیج پرنظر نہیں آنے کی قسم کھارکھی ہے۔ بنگال کانگریس کے صدر مانس بھوئیاں اسٹیج پر گئے تو ترنمول کے ایک لیڈر نے انہیں سی پی ایم کا دلال تک کہہ دیا۔ راہل گاندھی کے سر نہیں جھکانے کے بیان کو بھی ترنمول کانگریس کے لیڈرابھی تک ہضم نہیں کرپائے ہیں اور گاہے بگاہے دونوں جماعتوں میں بیان بازی ہوتی رہتی ہے۔یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ آئندہ انتخابات میں جیت کے لئے ہر حال میں ممتا کو کانگریس کا ساتھ چاہئے۔
ریاست کی ترقی کی شرح کا رخ گراوٹ کی جانب گامزن ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق، 2001-2002میں ریاست کی شرح ترقی 7.8 فیصد تھی۔فروری 2002میں جاری ایک رپورٹ میں پیشین گوئی کی گئی تھی کہ مغربی بنگال ملک کی دو سب سے زیادہ شرح ترقی والی ریاستوں میں سے ایک ہوگی۔ اس وقت اس کی شرح ترقی قومی اعداد وشمار سے 1.1 فیصد زیادہ تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 1998سے 2002کے درمیان بنگال میں 400ملین ڈالر کے پروجیکٹس شروع کئے گئے اور یہ ریاست سرمایہ کاروں کی پسندیدہ ترین ریاست بن گئی۔ ایسوسی ایٹیڈ چیمبرس آف کامرس کے ایک مطالعہ کے مطابق 2001سے 2004کے درمیان مغربی بنگال کی گھریلو پیداوار بڑھ کر 15فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ ٹھیک اسی کے بعد سے ریاست کی شرح ترقی میں گراوٹ کا دور شروع ہوگیا۔ 11ویں پنج سالہ اسکیم کے پہلے سال میں ترقی کی شرح 9فیصد تھی اور 2008-09کے عالمی مالی بحران کی وجہ سے بھلے ہی یہ گھٹ کر 6.7فیصد ہوگئی، لیکن 2009-10میں شرح ترقی 7.4فیصد تک پہنچ گئی۔
اس تعلق سے پڑوسی ریاست بہار کا ذکر بھی ضروری ہے۔2004-05سے 2008-09 کے درمیان پانچ سالوں میں بہار کو جو 11.05فیصد کی شرح ترقی حاصل ہوئی، اس کی بھرپائی بہاریوں کی کمائی سے لے کر دیگر کئی ساری وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن دو وجہیں صاف نظر آتی ہیں۔ اچھی سڑکیں اور لا اینڈ آرڈر کی بہتر حالت۔ جہاں تک بات بنگال کی ہے، یہ سڑکوں کے معاملے میں کبھی بدنام نہیں رہا۔ بہترین سڑکیں ہیں اور بجلی بھی۔ رہی بات لا اینڈ آرڈر کی توکئی دہائیوں سے ریاست میں خصوصاً دیہی علاقوں میں پولس اور انتظامیہ پر سی پی ایم کیڈروں کی ہی بالا دستی رہی ہے۔ پنچاییتں سی پی ایم کی دیہی اکائیوں کی طرح تب تک کام کرتی رہیں، جب تک وہاں ممتا کی زیر قیادت تبدیلی کی ہوا نہیں پہنچی۔ نندی گرام میں بایاں محاذ کی پرتشدد کارروائی لا اینڈ آرڈر کے خونخوار پہلو کا ایک نمونہ تھی۔ ادھر ممتا کی سنگور تحریک نے صنعتی ترقی کی رفتار پر بریک لگادئے۔ جیوتی بسو کی مدت کار کے آخری پانچ سالوں میں نئی صنعتی پالیسی کی وجہ سے جوفضا بنی تھی، اس پر ممتا کے ناعاقبت اندیشانہ رویے نے پانی پھیر دیا۔ کسانو ںکے مفادات کے نام پر ممتا نے جو ہنگامہ کھڑا کیا، اس سے سرمایہ کار بد دل ہوگئے اور انہیں اب بھی یہ خدشہ لاحق ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد کیا وہ ریاست میں سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول تیار کرپائیں گی؟ اب جب کہ ممتا سی پی ایم کیڈروں کی بندوقوں کا جواب بندوقوں سے دینے کو للکار رہی ہیں، ایسے میں ریاست کے لا اینڈ آرڈر کا تو بس اللہ ہی مالک ہے۔ اسی وجہ سے ایسے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ 2011کا اسمبلی الیکشن ریاست ہی نہیں، بلکہ پورے ملک میں انتخابی تشدد کا ریکارڈ توڑدے گا۔ امن کا اثر صنعت کاروں پر بھی پڑتا ہے۔ ویسے ریاست میں صنعتی تباہی کے لئے ایک حد تک سی پی ایم کی  20-22سالوںوالی پالیساں ذمہ دار ہیں۔ بند اور ہڑتال بنگال کا طرہ امتیاز ہواکرتا تھا۔ یہ وہی دور تھا، جب بنگال سے صنعت کاروں کی نقل مکانی شروع ہوئی۔ نقصان اتنا زیادہ ہوا کہ نئی صنعتی پالیسی بنانے کے بعدکئے گئے اقدامات سے ایک حصے کی بھی تلافی نہیں ہوسکی۔ یہاں پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 2002کی پیشین گوئی اسی وقت سچ ثابت ہوتی، جب ترقی کی رفتار بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتی۔ایسی صورت میں ممکن تھاکہ آج دوسرے نمبر پر بہار نہیں، بنگال ہوتا۔ اس طرح 2003-04 کے لالو -رابڑی کے دور حکمرانی میں 5.15فیصد کی منفی شرح ترقی سے باہر آنے اور دوسرے نمبر پر پہنچنے میں بہار کو صرف پانچ سال لگے ہیں۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ قیادت کی سیاسی دشمنی کا اثر زمین پر بھی نظر آرہا ہے۔ اب تک کی تاریخ تو یہی رہی ہے کہ کم سے کم درگا پوجا کے دوران پانچ دس دن بنگال میں گروہی تصادم ہی نہیں، بلکہ مجرمانہ وارداتیں بھی کم ہوجاتی تھیں، لیکن اس بار ویسا نہیں ہوا۔ درگا پوجا کے ٹھیک چار دن پہلے شمالی چوبیس پر گنہ کے باراسات کے دو نمبر بلاک میں امین پور بازار میں پارٹی دفتر کھلنے کے وقت کچھ لوگوں نے پانچ سی پی ایم حامیوں کو گولی مار کر قتل کردیا۔ مبینہ طور پر یہ ترنمول کے کارکنان تھے۔ اس کے بعد وہاں لڑائی شروع ہوگئی اور مہانند سردار نام کے ایک ترنمول کارکن کا قتل کردیا گیا۔ اس لڑائی میں سی پی ایم کے شفیق الاسلام، سجاد علی، رؤف علی، رفیق الاسلام اور حسیب الرحمن گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔ سادھن منڈل اور رضائر دگلے نام کے دو ترنمول حامی بھی گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔ اس کے ساتھ ریاست کے دوسرے حصوں سے بھی اکا دکا تشدد کی خبریں آئیں۔ حالات ایسے ہیں کہ کوئی بھی جماعت اپنے کیڈروں کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہے اور الیکشن تک یہ عداوت کیا شکل اختیار کرتی ہے، اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔
بہار اور بنگال میں فی الحال ایک بات میں یکسانیت یہ نظر آرہی ہے کہ دونوں جگہ تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے۔ نتیش کمار نے کچھ بنیادی شعبوں میں اصلاح کے ذریعہ اس تبدیلی کو ایک طویل پاری کھیلنے والی عوامی رائے میں تبدیل کیا ہے۔ ممکن ہے کہ اس بار کے انتخابات میں عوام انہیں ایک اور موقع دیں۔ ممتا کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ بایاں محاذ کا صرف ایک بہتر متبادل بننے کا ہی نہیں، بلکہ سماج کے تمام طبقات میں اعتماد بحال کرنے اور ترقی کے ایک مضبوط ایجنڈے کو سامنے رکھ کر مثبت رخ کے ساتھ آگے بڑھیں۔ خیال رہے کہ بنگال کے عوام اتنے بیدار نہیں ہیں، جتنے رابڑی حکومت میں تھے۔ ابھی الیکشن میں 7ماہ باقی ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں 7.5فیصد ووٹوں کے نقصان کی تلافی کے لئے بایاں محاذ جی توڑ محنت کررہا ہے۔ اگر وہ نصف کی بھی تلافی کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ممتا ہرحال میں اپنی جیت طے مان کر نہیں چل سکتیں۔ ایسی صورت میں منفی سرگرمیوں سے اجتناب کرنا ان کی سیاسی صحت کے لئے مفید رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *