بہتر انتظامیہ کے لئے انفارمیشن ٹکنالوجی کا استعمال

Share Article

نوین چوہان
گوالیر ضلع کے دیہی باشندوں کو جن متر سمادھان کیندروں کے قیام سے قبل چھوٹے چھوٹے کاموں، مثلاً کھیوں سے متعلق دستاویزوں (خسرہ، کھتونی، پراپرٹی اونرشپ بک) وغیرہ کی نقل پانے کے لیے اپنے روزمرہ کے کاموں کو چھوڑ کر کئی بار، کئی کلومیٹر دور ضلع یا تحصیل دفتر تک جانا پڑتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پٹواری جیسے فیلڈ آفیسر کے پیچھے گھومنا پڑتا تھا۔ اس کے بعد بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کام کب تک پورا ہو سکے گا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب نہ تو دیہی باشندوں کو متعلقہ سرکاری ملازمین یاافسران کے چکر لگانے پڑتے ہیں ، نہ ہی انہیں اپنا کام کروانے کے لیے رشوت دینی پڑتی ہے، نہ ہی انہیں اپنا کام چھوڑنا پڑتا ہے، نہ ہی شہر تک جانے کے لیے کرایہ خرچ کر نا پڑتا ہے، کیوں کہ انتظامیہ اب خود ان کے دوست کی شکل میں ان کے دروازے تک پہنچ گئی ہے۔ مرار تحصیل کے پارسین گاؤں کے بابو لال بتاتے ہیں کہ پہلے ہمیں اپنے جن کاموں کے لیے مرار اور گوالیر جانا پڑتا تھا، ہمارے وہ کام اب جن متر سمادھان کیندر بیرم پورہ میں ہی ہو جاتے ہیں۔ اس سے ہمارا وقت، آنے جانے کا کرایہ بچتا ہے۔ پارسین گاؤں کے بنٹی گھریا بتاتے ہیں کہ پہلے زمینوں سے متعلق کاغذات کے لیے پٹواری کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ پٹواری کے بیٹھنے کا کوئی آفس نہیں تھا، اس وجہ سے انہیں ڈھونڈنا پڑتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ پٹواری کو اب اپنی حاضری درج کرانے جن متر کیندروں تک آنا پڑتا ہے۔ ہماری ان کیندروں پر پٹواری اور دیگر ملازمین سے ملاقات ہو جاتی ہے اور ہمارا کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔ بیرم پورہ کے بھارت سین گرجر بتاتے ہیں کہ پہلے اسکولوں میں ٹیچر من مانے ڈھنگ سے آتے تھے، لیکن جب سے اسکول کے ہیڈماسٹر کے لیے جن متر کیندر آ کر حاضری درج کرانا لازمی ہوا ہے، تب سے اسکول روز کھلنے لگے ہیں۔ کریگواں گاؤں کے کوک سنگھ پال کہتے ہیں کہ پہلے زمین کے کاغذ نکلوانے کے لیے ہمیں پٹواری کو رشوت دینی پڑتی تھی، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب صرف جن متر کیندروں پر جاکر ضروری فیس جمع کرنے کے بعد آسانی سے ہمیں کاغذ دستیاب ہو جاتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس کے کیندروں پر کسی وجہ سے کام نہیں ہوتا ہے تو ہم پاس کے ہی دوسرے جن متر کیندر میں جاکر متعلقہ دستاویز حاصل کر لیتے ہیں۔ کسی بہت بڑے کام کے لیے ہی اب ہمیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا تحصیل آفس تک جانا پڑتا ہے۔ جن متر کیندروں نے ہماری زندگی کو آسان بنا دیا ہے۔ کھریری گاؤں کے جینندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کیندروں کے قیام کے بعد سرکاری محکمہ گاؤں میں کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سرکاری افسروں اور ملازمین کی علاقہ میں بلا ناغہ موجودگی سے ہی لوگوں کے آدھے مسائل کا حل نکل جاتا ہے۔

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ بدلی تکنیک نے دنیا بھر کی جانکاری انفارمیشن ٹکنالوجی کے راستے لوگوں کی مٹھی تک پہنچا دی ہے۔ ملک کی متعدد صوبائی حکومتوں نے ای گورننس کے کئی ماڈل تیار کر لیے ہیں، جن پر عمل بھی کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کا ایک ماڈل مدھیہ پردیش کے گوالیر ضلع میں جن متر سمادھان کیندر کے نام سے کامیابی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اس کی شروعات 2009 میں گوالیر ضلع کے اس وقت کے کلکٹر آکاش ترپاٹھی نے کی تھی۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد گوالیر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر سے دور واقع دیہی علاقہ کے باشندوں کو ان کے گھر کے پاس ہی ڈسٹرکٹ آفس سے متعلق خدمات فراہم کرنا تھا۔

گوالیر کے دیہی علاقوں میں ٹیچروں اور طبی خدمات سے منسلک ملازمین کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر اور گاؤں اور پنچایتوں کے متعلقہ طبی ملازمین کے لیے روزانہ بایو میٹرک حاضری درج کرانا لازمی کر دیا گیا ہے۔ اس سے گاؤں کے بچوں کو مناسب ڈھنگ سے تعلیم حاصل ہو پا رہی ہے، ساتھ ہی طبی خدمات سے منسلک ملازمین باقاعدگی سے اپنی خدمات پہنچا رہے ہیں۔ اس سے سب سے زیادہ فائدہ ان حاملہ غریب عورتوں کو ہو رہا ہے، جو پہلے باقاعدگی سے شہروں میں جاکر اپنی جانچ نہیں کرا پاتی تھیں، نہ ہی حاملہ ہونے کے وقت بعض ضروری ٹیکے لگوا پاتی تھیں۔ لیکن طبی خدمات سے منسلک ملازمین کی بلاناغہ حاضری ان کیندروں کے توسط سے لازمی ہونے کے سبب بچوں کو ٹیکہ بھی وقت پر لگ پا رہا ہے۔ جن متر سمادھان کیندر کو ضلع میں 5 سے 7 پنچایتوں کے درمیان قائم کیا گیا ہے۔ ایک کیندر تقریباً 5000 سے 7000 کی آبادی کے بیچ کام کرتا ہے۔ گوالیر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لوگوں کا جن متر سمادھان کیندروں کے توسط سے ریونیو، پنچایت، صحت، خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود، زراعت، مویشیوں کا علاج، پی ایچ ای، تعلیم، فوڈ اور سپلائی، مدھیہ پردیش وِدیت منڈل اور سماجی انصاف محکمہ وغیرہ کی کل 78 خدمات مہیا کرا رہا ہے۔ ان کیندروں کے قیام کے پیچھے دو مقاصد تھے۔ پہلا، لوگوں کو وقت پر اور بہتر طریقے سے خدمات فراہم کرانا اور دوسرا انتظامیہ کو لوگوں تک پہنچانا۔ اس قسم کے 48 جن متر سمادھان کیندر گوالیر ضلع میں کام کر رہے ہیں۔ ان کیندروں میں ایک لیپ ٹاپ، ایک ڈاٹ میٹرکس پرنٹر اور ایک اِنورٹر مہیا کرائے گئے ہیں۔ جن دیہی مراکز میں بجلی کا مسئلہ ہے، وہاں ان کیندروں میں سولر پینل بھی لگائے گئے ہیں، تاکہ وہاں بھی یہ کیندر مناسب طریقے سے کام کر سکیں۔
جن متر سمادھان کیندروں کے کام کرنے کا ایک متعینہ طریقہ ہے۔ ان کیندروں کے لیے ایک اسپیشل ویب سائٹ بنائی گئی ہے۔ ان کیندروں میں مانگی گئی خدمات کی درخواست لی جاتی ہے اور درخواست جمع کرتے وقت ہی ضروری دستاویزوں کو اٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس درخواست کی کمپیوٹرائزڈ کاپی درخواست گزار کو دی جاتی ہے۔ اس کمپیوٹرائزڈ کاپی میں کام کے پورے ہونے کی آخری تاریخ درج ہوتی ہے، تاکہ درخواست کرنے والے کو بار بار کام کے پورا ہونے کی جانکاری حاصل کرنے کے لیے چکر نہ لگانا پڑے۔ اس علاقہ میں کام کرنے والے فیلڈ آفیسرز کو روز وہاں آکر اپنی بایومیٹرک حاضری درج کرانی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس افسر کے لیے روزانہ کام کے دنوں میں فیلڈ میں حاضر رہنا لازمی ہوجاتا ہے۔ درخواست کی کاپی متعلقہ محکمہ کو فیلڈ آفیسر کے ذریعے بھیج دی جاتی ہے۔ اس کے بعد متعلقہ محکمہ متعینہ وقت کے اندر کام کو پورا کرتا ہے۔ وقت وقت پر کام میں ہوئی پیش رفت کی اطلاع بھی متعلقہ کیندر کو وہ آفیسر بھیجتا رہتا ہے۔ ملازمین کی حاضری کی تعداد، درخواستوں کی تعداد اور جن درخواستوں کا نمٹارہ ہو چکا ہے، ان کی تعداد روزانہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کو مانیٹرنگ کے لیے بھیجی جاتی ہے۔ ان اعداد و شمار کو جمع کرکے کیندروں اور ملازمین کے کام کا محاسبہ کیا جاتا ہے۔ جن ملازمین کو لاپرواہی کرتے ہوئے پایا جاتا ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیندروں کی اہلیت میں اضافہ کرنے کے لیے ضروری قدم اٹھائے جاتے ہیں۔ ان کیندروں کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2012 کے اخیر تک ان کیندروں میں سات لاکھ سے بھی زیادہ درخواستیں آ چکی تھیں، جن میں سے تقریباً 95 فیصد درخواستوں کا نمٹارہ بھی ہو چکا ہے۔ صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کی اسکیموں کا نفاذ ان کیندروں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ان کیندروں کو مرکزی حکومت کی ای پنچایت اسکیم سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ ہندوستان نے انفارمیشن ٹکنالوجی کے معاملے میں دنیا میں بہت اونچا مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس تکنیک کا فائدہ اب گاؤں تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔ جن متر سمادھان کیندر پروگرام پورے ملک کے لیے ایک مثال ہے۔

سوشل نیٹ ورکنگ بنا گڈ گورننس کا ہتھیار
تو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو لے کر ملک میں کئی قسم کے تنازعات چل رہے ہیں، لیکن اس سے جڑے تنازعات کو سرے سے خارج کرتے ہوئے گوالیر کے کلکٹر پی نرہری نے فیس بک اور ٹوئٹر جیسی پاپولر نیٹ ورکنگ سائٹس کو گڈ گورننس اور ڈیولپمنٹ ایڈمنسٹریشن کا ایک نیا ہتھیار بنا لیا ہے۔ ایک طرف جہاں ملک کا حکومتی طبقہ عوام سے دوری بنائے رکھنے کو ہی بہتر سمجھتا ہے، وہیں دوسری طرف گوالیر کے کلکٹر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے روزانہ نئے لوگوں سے جڑ رہے ہیں۔ ٹوئٹر اور فیس بک پر ان سے گوالیر ضلع کے 17000 لوگ جڑے ہوئے ہیں، جن پر وہ گوالیر انتظامیہ سے متعلق عوام کے حق میں لیے گئے فیصلوں کو لوگوں سے شیئر کرتے ہیں۔ سائٹس پر لوگ ان سے ضلع سے متعلق تمام طرح کی شکایتیں کرتے ہیں اور اپنے مشورے دیتے ہیں۔ ان شکایتوں اور مشوروں پر پی نرہری سیدھے اور فوری کارروائی کرتے ہیں۔ ان کے اس کام میں ان کی مدد ان کے ٹیکنو فرینڈلی پی اے (پرسنل اسسٹنٹ) پروین مشرا کرتے ہیں، جو کہ کمپیوٹر ایپلی کیشن میں گریجویٹ ہیں۔ کلکٹر کی ہدایت پر وہ شکایتوں کو متعلقہ ڈپارٹمنٹ کو فوراً اور متعینہ وقت میں کارروائی کرنے کے لیے تکنیکی وسائل کی مدد سے بھیجتے ہیں۔ اب تک گوالیر کے کلکٹر کو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر تقریباً 1500 شکایتیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 1322 کا انہوں نے نمٹارہ کر دیا ہے۔ شکایت کے نمٹارہ کی اطلاع بھی شکایت کرنے والے کو ای میل، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ یا ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجی گئی ہے۔ لوگوں کے ساتھ بہتر رابطہ بنانے والے پی نرہری کو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے بہتر استعمال کے لیے انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسو سی ایشن آف انڈیا اور مائکروسافٹ ایڈورٹائزنگ انڈیا کے ذریعے مشترکہ طور پر ایک انعام بھی دیا گیا ہے۔ ان اداروں کے ذریعے قومی سطح پر دیا جانے والا یہ تیسرا انعام ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ کے انتظامیہ میں استعمال کے بارے میں بتاتے ہوئے پی نرہری کہتے ہیں کہ یہ لوگوں سے جڑنے کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ لوگوں کے انتظامیہ سے جڑنے کے اور بھی کئی ذرائع ہیں، لیکن یہ ذریعہ دیگر ذرائع سے بہتر ہے۔ حکومت ہند سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے ملک کے نوجوانوں کے متحد ہونے سے سہمی ہوئی ہے۔ اسے ان سائٹس سے اپنے لیے خطرہ ہی نظر آتا ہے، لیکن گوالیر کے کلکٹر نے جو کام سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے کر دکھایا ہے، اس سے ملک کے دیگر کلکٹروں اور لیڈروں کو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی افادیت کو سمجھنا چاہیے، تاکہ وہ بھی لوگوں سے جڑ کر ان کی ضروریات کے مطابق حکومت و انتظامیہ کو چلا سکیں اور عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے میں اپنا رول ادا کر سکیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *