پردے کے پیچھے

Share Article

عفاف اظہر، کناڈا
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں59فیصد خواتین صرف پرائمری تک ہی تعلیم حاصل کرتی ہیں، جبکہ دنیا کے ہر دوسرے ترقی یافتہ خطہ میں یہ شرح 97 فیصد ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس سال بھی گزشتہ سالوں کی طرح خواتین کے ساتھ تشد د کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے حوالے سے پاکستانی ڈاکٹر انیتا وائز کا کہنا ہے کہ ’’گھریلو تشد د کا بری طرح شکار ہونے والی خواتین میں ایک بڑی تعداد ان پردہ نشین خواتین کی ہے جنہیں تعلیم سے بے بہرہ رکھ کر ان کے تمام حقوق سلب کر لئے جاتے ہیں۔ باپ بھی اور شوہربھی ان کے حصے کی جائیداد حاصل کرنے کے لئے ہر نا جائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ کردار کشی کے جھوٹے الزامات میں جیل اور غیرت کے نام پر قتل تو اب معمول بن چکا ہے آج تک کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں ہو سکی جو خواتین کے حقوق کی حفاظت کر سکے ۔‘‘
مبارکباد کا حقدار ہے مشرقی معاشرہ کہ بھلے ہی کسی اور میدان میں ہم فتح یاب ہوں یا نہ ہوں، مگر عورت پر تشد د کر کے غیرت مندی کے اس گھناؤنے کھیل کے عالمی کھلاڑی یقینا ہم ہی ہیں۔ مبارک باد ہو ان تمام والدین کو جنہوں نے اپنی کمسن بچیاں جنسی بازاروں کی زینت بنائیں، کم عمری میں بدلے کی شادیوں کی بھینٹ چڑھائیں، ستی کی رسمیں نبھائیں اور اپنی پگڑیوں کی شان کی خاطر نو جوان بیٹوں کی لاشیں اٹھائیں :

بہت عجیب ہے روایت مرے بزرگوں کی
پگڑیوں کو سروں سے عزیز تر رکھنا

بے حد مبارک ہو ان تمام بھائیوں کو جن کی نام و نہاد عزت اور انا نے بہنیں سولی پر چڑھائیں ۔اپنے مکروہ ا عمال کی نقاب کشائی پر بہنوں کی صورت میں تاوان ادا کر کے جرگوں نے انصاف اور بھائیوں نے فرائض نبھائے۔جائداد میں شراکت کی بنا پر اپنی ہی ماؤں کی کوکھیں اجاڑیں… اور مبارک ہو ان تمام مجازی خداؤں کو جن کی غیرتمندی کی اٹھان خدائے حقیقی کے تخت کو بھی کہیں نیچے چھوڑگئی، جنہوں نے اپنی بیویاں جہیز کے لالچ میں چولہوں کے ساتھ جلادیں اور حاکمیت کے نشے میں تیزاب سے راکھ کردیں۔
آج مشرق میں عورت اکثریت میں ہونے کے باوجود ویہاں کی سب سے بڑی اقلیت ہے۔ لاکھوں تعصبات میں گھرے اہل مشرق عورت کے حقوق غصب کرنے کی خاطر یکجا ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہ بھانے والے نفرتوں کے بیوپاری چاہے وہ مسلمان ہوں یا ہندو ، سکھ ہوں یا پھر عیسائی عورت پر تشد د کے معاملے میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ رنگ و نسل، ذات و برادری، صوبائی و لسانی حتیٰ کہ تمام تر مذہبی اختلافات کے باوجود عورت کے حقوق سلب کرنے، جسمانی تشدد کی حمایت کرنے کا وہ واحد پلیٹ فارم ہے، جس پر سب ہی  متحد ہیں۔ اس مرد زدہ مشرقی معاشرے کی روایت اوررسوم و رواج ہمیشہ سے مرد کی حاکمیت کے معاون و مدد گار ہیں، جو دختران مشرق کی گردنوں میں پھندوں کی مانند ہیں جو یا تو بے دریغ ان کی سانسیں چھین رہے ہیں یا پھر موت سے بھی بدتر زندگی جینے پر مجبور کرتے ہیں۔مشرق میں عورت آج بھی تیسرے درجہ کی شہری ہے، جسے برابری کے حقوق تو بہت دور کی بات وہ تو اپنی مرضی سے سانس تک لینے کی مجاز نہیں۔
یوں توآسمان کی چھت تلے اس دھرتی پر فردوس نما ہستی عورت ہی ہے،جس کے جذبات کی تپش آفتاب کو گہنا دے، وہ حسن کی دیوی جس کی خوبصورتی مہتاب کی کرنوں کو بھی ماند کر دے ،وہ پیار کی برسات جسے ابن آدم پر برسا کر احسان عظیم کیا گیا، عشق کی وہ مورت ہے جو آندھیوں کو رخ بدلنے پر مجبور کر دے،جس کی ممتا میں وہ چاشنی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس کے سامنے بے وقعت ہو کر رہ جائے۔ جی ہاں! مشرقی عورت کی یہ تعظیم صرف اور صرف ان خوبصورت الفاظ تک ہی محدود ہے اور یہ قصیدے صرف کتابوں تک۔ اگر حقیقت سے نظر ملانا مقصود ہو توذرا ایک نظر ان تمام جیلوں پر ڈال لیجئے جو کردار کشی کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات میں  ان کنواری دوشیزاؤں سے بھرے پڑے ہیں جو جیلوں میں آ کر بچوں کی مائیں بن چکی ہیں اور ایک نظر ان تمام پاگل خانوں کو بھی دیکھ لیجئے جو گھریلو تشدد اور ذہنی اذیت سے دو چار ہیں اور دماغی توازن کھو دینے والی دختران مشرق کی۔ مشرق کے معاشرے میں اس بے چارگی و لاچاری کی بھیانک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ایک نظر ان بھرے اسپتالوں پر بھی ڈال لیجئے جو تیزاب سے جلی چولہوں کے ساتھ پھٹی اپنے ہی گھروں کی چار دیواری میں جنسی و جسمانی تشد د و بربریت کا شکار مشرق میں بہو بیٹیوں کی قدر و قیمت کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ اگر پھر بھی کسی شک کی گنجائش باقی ہو تو ذرا اپنے گریبانوں میں جھانک لیجئے اور ایک نظر اپنے گھروں پر ڈال لیجیے، ہر گھر میں کوئی نہ کوئی حوا کی بیٹی خواہ وہ ماں کے روپ میں ہو یا بیٹی کے ، بہن ہو یا پھر بہو کے روپ میں مرد کی حاکمیت کا شکار خون کے آنسو بہاتی ضرور دکھائی دے گی ۔
کہنے کو تو ماں کے قدموں تلے جنت ہے تو پھر مشرق کی ماؤں کی زندگی جہنم سے بھی بد ترکیوں ہے ؟ کہنے کو تو اسلام میں عورت کا افضل و ا علیٰ مقام ہے، مگر اسلامی معاشرے کی عورت اس قدر بے یارو مدد گار کیوں ہے ؟ کہنے کو تو عورت ایک عظیم ہستی ہے، مگر ہمارے یہاں وہ ذلت و رسوائی کا موجب کیوں ہے ؟ کہنے کو تو عورت ایک مقدس وجود ہے تو پھر معاشرے میں اس کے تقدس کو پامال کرنے کی روایات کیوں موجود ہیں ؟ کہنے کو تو عورت کا مکمل وجود ابن آدم کی تخلیق کا سبب بنتا ہے، مگر ہماری مشرقی عورت اس قدر بے سہارا کیوں ہے کہ اسے خود کے مکمل ہونے کی ضمانت بھی مرد سے لینی پڑے ؟ الغرض آج کے دور میں بھی ہمارے معاشرے میں ایک عورت ہونا نا قابل معافی جرم کیوں ہے ؟
مذہبی تعلیمات میں موجود عورت کی عظمت کی دن رات گیت گانے والے یہ  اسلام کے علمبردار قوم کی بہنوں بیٹیوں کے زندہ درگور ہونے پر آنکھیں کیوں موند لیتے ہیں ؟ ثنا خوان تقدیس مشرق میںستی ہوتی دختران مشرق کی حالت زار پر چپی کیوں سادھ لیتے ہیں؟ نقاب اور برقع کو عورت کا محافظ قرار دے کر تحفظ نسواں کی تڑپ میں جلسے جلوس نکالنے والے بنت حوا کی سر عام بے حرمتیوں پر نظریں کیوں چرا لیتے ہیں؟ دن کے اجالوں میں باد شاہی مسجد کے احاطے میں بیٹھے جوشیلے وارثین اسلام اور محبان رسول رات کی تاریکیوں میں باد شاہی مسجد کے عقب میں موجود تاریخی ہیرا منڈی میں اپنی مجبوریوں اور حالات کے زیر عتاب آئی ہوس پرستوں کا شکار بنتی دختران قوم کی بے چارگی و مظلومیت سے بے بہرہ کیوں ہوجاتے ہیں ؟ پارلیمنٹ میں براجمان خواتین کے حقوق کے پاسبان جو غیرت کے نام پر قتل و غارت گری کا جواز تو علاقائی روایت بتاتے ہیں، مگر اقوام عالم کے سامنے مشرق میں عورت کی تحقیر و تذلیل پر مبنی حقیقی تصویر سے آنکھیں کیوں موند لیتے ہیں ؟
آج مشرق کی عورت کو فقط عورت کی عظمت پر خطبات و تقریر نہیں، بلکہ اس کے وجود کا حقیقی احساس چاہیے۔ آج دختران مشرق کو صرف نقاب نما کپڑے کے اس ٹکڑے کا فرضی تحفظ نہیں، بلکہ ابن آدم کے نا پاک ارادوں، مکروہ عزائم، ابلیسی کردار اور حاکمانہ و مجرمانہ ذہنیت سے تحفظ چاہیے۔ آج مشرق کی بیٹی کو یہ جھوٹی تسلیاں نہیں، بلکہ غیر انسانی فرسودہ رسوم و رواج سے نجات اور وہ آ ہنی قانون سازی چاہیے جو ان کی جان و عزت و آبرو کے لٹیروں کو سولی پر لٹکا سکے۔ ٹیپو سلطان نے کہا تھا کہ’’عورت کو گھریلو سکون اور ہر خوشی دو تاکہ اس کے وجود سے پیدا ہونے والی نسل بہادر اور نڈر ہو کیوں کہ ایک دکھی اور مظلوم عورت کے بطن سے صرف ظالم اور مجرمانہ ذہنیت کی نسل ہی جنم لے سکتی ہے۔‘‘

بہت عجیب ہے روایت مرے بزرگوں کی
پگڑیوں کو سروں سے عزیز تر رکھنا
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *