وسیم راشد
نرودا پاٹیا قتل عام کا تاریخی فیصلہ آچکا ہے ۔ ہم سب کو اس فیصلے کا بے صبری سے انتظار تھا۔دس سال کے یہ زخم جو بار بار رِس رِس کر پھر سے ہرے ہوجاتے تھے ۔عدلیہ نے اپنے اس تاریخی فیصلے سے ان زخموں پر کچھ مرہم لگا کر ان زخموں کی ٹیس کم کی ہے اوراس فیصلے سے عدلیہ پر مسلمانوں کا اعتماد بڑھا ہے۔گجرات کے مسلم کش فسادات کی بد ترین مثال نرودا پاٹیا قتل تھا، جس میں تقریباً 97 مسلمانوں کو وحشیانہ طریقے سے جلا کر ، گولیوں کے ذریعہ اور مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ ایک مہذب سماج کی بد ترین مثال ہے گجرات کا فساد، جیسے اس دور کے انسان وحشی قبائلیوں کی طرح ہوں جو بات بات پر سفاکانہ ،وحشیانہ عمل سے ایک دوسرے کو مار ڈالتے ہوں ۔وہی نرودا پاٹیا جس میں کوثر بانو کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور اس کے 9 ماہ کے حمل کو پیٹ چاک کرکے نیزے پر لٹکا کر آگ میں جھونک دیا گیا۔ یہ سب کرنے والے کون؟مہذب سماج کے پڑھے لکھے لوگ۔ ایک عورت مایا کوڈنانی جس نے ایک عورت کی کوکھ اجاڑ کر ایسا دردناک اور سفاکانہ سلوک ہوتے دیکھا، اس کے عورت ہونے پر شرم آتی ہے،مگر شاید آج کوڈنانی جس کو 28 سال کی سزا ہوئی ہے ،اس سے ضرور انصاف ہوا ہے ۔کوثر بانو کے ساتھ ۔
کوڈنانی کی ہمت دیکھئے کہ وہ دندناتی ہوئی آتی ہے اور کہتی ہے کہ ہمارے ہندو بھائیوں کو گودھرا میں مارا گیا ہے۔ تم بھی مسلمانوں کو مارو۔ کوڈنانی نے ہی تلوار یں اور ترشول اپنے ہندو لوگوں کو مہیا کرائیں۔کوڈنانی نرودا پاٹیا اسمبلی حلقہ کی ممبرتھی۔کورٹ نے فیصلہ سناتے وقت یہی کہا کہ اس نے اپنے فرض سے کوتاہی کی۔یہ وہی مایا کوڈنانی ہے جو فساد کے وقت اپنے پرائیویٹ سکریٹری کرپال سنگھ کے ساتھ تھی اور دونوں ہی فسادیوں کو تلواریں ، ترشول، پٹرول فراہم کر رہے تھے۔بجرنگی وہی شخص ہے جس نے کھلے عام کیمرہ پر یہ قبول کیا تھا کہ اس نے مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے۔ باقی 30 لوگ اور ہیں جن کو الگ الگ سزائیں ملی ہیں۔7 کو 21 سال کی جیل ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ تو آگیا ۔ اب مسلمانوں کو اس فیصلے کا کھلے دل سے استقبال کرنا چاہئے اور عدلیہ پر اعتماد رکھتے ہوئے یہ امید رکھنی چاہئے کہ بھلے ہی میرٹھ، ملیانہ اور ہاشم پورہ کے مظلومین کو انصاف نہ مل پایا ہو مگر کہیں تو شروعات ہوئی ہے۔ اس فیصلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ سبھی نے اس کا خیرمقدم کیاہے۔

جب بھی کانگریس کسی بڑے گھوٹالے میں پھنس جاتی ہے اور بی جے پی اپوزیشن میں ہونے کا رول ادا کرنا چاہتی ہے،تبھی نہ جانے کیسے کہاں سے بی جے پی خود کسی نہ کسی گھوٹالے یا بڑے الزام میں پھنس جاتی ہے۔اب جبکہ منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کو کوئلہ گھوٹالہ پر جواب دینا بھاری پڑ رہا ہے،ایسے میں بی جے پی کے لئے یہ فیصلہ بھاری پڑ سکتاہے

پہلی بار ایک ایسا فیصلہ سامنے آیاہے جس کو ہرطبقہ ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگوں نے سراہا ہے۔ ایسےمیں مسلمانوں کو بھی اپنا فرض ادا کرنا چاہئے اوراس فیصلے پر کوئی سیاست کئے بنا آگے کا لائحہ عمل تیار کرناچاہئے۔ فرقہ پرستی سے کیسے نمٹا جائے اس کی صحیح پلاننگ کرنی چایئے۔ یقیناً اس فیصلے تمام طبقات میں ایک اچھا پیغام گیا ہے جہاں ایک طرف فسادات کا شکار ہوئے مظلوموں کو راحت ملی ہے وہیں جن لوگوں نے برسوں سے سیکولرزم کا صحیح چہرہ نہیں دیکھا تھا ان کو اس بار سیکولرملک کے شہری ہونے پر فخر ہونا چاہئے۔

لیکن کوڈنانی ہو یا بجرنگی یہ سب تو کٹھ پتلیاں ہیں اصل مجر م جو ہے اس کو سزا ملنی باقی ہے اور اصل مجرم مودی ہے۔وہ مودی جس نے گجرات کو ایسی فرقہ واریت کی آگ میں جھونک دیا کہ دنیا نے اس کی اس سفاک اور بربریت انگیزی کی وجہ سے اسے دھتکارا اور قابل ملامت سمجھا۔ انگلینڈ نے اسے ویزا دینے سے انکار کردیا ۔امریکہ نے اسے سب سے نا پسندیدہ آدمی قرار دیا ۔ایسے میں کیا مودی کو پھر سے آنے والے الیکشن کے لئے آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ مودی سب سے پہلے سزا کا حقدار ہے لیکن گجرات فساد کے بعد جان بوجھ کر اس کے ہاتھ مضبوط کئے گئے۔اسے بھاری اکثریت سے جتوایا گیا اور اب جب اس وقت کانگریس پر کوئلہ گھوٹالہ کی وجہ سے چو طرفہ حملے ہورہے ہیں اور کئی دن تک پارلیمنٹ کاسیشن ہنگامے کی نذر رہا ایسے میں یہ فیصلہ ایک طرح سے کانگریس کے حق میں جاتا ہے۔ ایک بات بار بار کچھ اشارہ دے رہی ہے اور وہ یہ کہ جب بھی کانگریس کسی بڑے گھوٹالے میں پھنس جاتی ہے اور بی جے پی اپوزیشن میں ہونے کا رول ادا کرنا چاہتی ہے،تبھی نہ جانے کیسےاور کہاں سے بی جے پی خود کسی نہ کسی گھوٹالے یا بڑے الزام میں پھنس جاتی ہے۔اب جبکہ منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کو کوئلہ گھوٹالہ پر جواب دینا مشکل نظر آرہا ہے،ایسے میں بی جے پی کے لئے اور مودی کے آنے والے الیکشن کے لیے یہ فیصلہ بھاری پڑ سکتاہے۔
ایک چال مودی ضرور چلیں گے یہ کہہ کر کہ یہ تمام شواہد اور دستاویز گجرات پولیس نے ہی اکٹھے کئے ہیں ۔ایسے میں وہ ایک بار پھر سے خود کو سیکولر بتا کر ووٹ لینے کی سیاست میں لگ جائیں گے کیونکہ کچھ دن پہلے ہی انہوں نے اپنی پوزیشن یہ کہہ کر صاف کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر وہ قصوروار ہیں تو انہیں پھانسی پر لٹکا دینا چاہئے مگر وہ یہ کیوں بھول گئے کہ مایا کوڈنانی ان کی کابینہ کی وزیر رہ چکی تھی ۔یہ کوڈنانی اپنے سرکاری سیکورٹی کے ساتھ روپوش رہتی ہے اور گجرات حکومت اس کو ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتی۔ بلکہ شک تو یہی ہے کہ خود مودی حکومت نے کوڈنانی کی روپوشی میں اس کی مدد کی ہوگی ۔یہی حال بجرنگی کا ہے ۔ اگر بجرنگی پر اتنا سخت الزام نہ ہوتا تو اسے تا عمر کی سزا نہ ہوتی۔ کیا نریندر مودی اس الزام سے بچ پائیںگے کہ بجرنگ دل اور وی ایچ پی کو اس قدر کھلی آزادی دی گئی کہ بجرنگی دندناتے ہوئے کہتا رہا کہ اس نے مسلمانوں کو مارا ہے بلکہ مودی حکومت میں جس جس نے فساد کے دوران مسلمانوں کو مارا، مودی حکومت نے سب کو پناہ دی۔ اب ذمہ داری ہے گجرات کے لوگوں پر کہ جس طرح عدلیہ نے عام آدمی اور خاص طور پر مسلمانوں کا اعتماد بحال کیا ہے، وہ اسمبلی انتخابات میں ایک بار بھرپور طریقے سے مودی کو ہٹانے کے لئے جان لڑا دیں تو شاید اس طرح مودی سے نجات مل جائے گی کیونکہ ایک بار پھر اگر گجرات کے عوام ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ منتخب کریںگے جس کے ہاتھ انسانی خون سے رنگے ہیں اور جس کی بادشاہت نے پوری ریاست کو بد نام کردیا ہے تو سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اپنی اہمیت کھو دے گا اور اس تاریخی فیصلے میں غریب مزدوروں نے بے خوف ہوکر جوگواہی دی ہے ،ان کی یہ گواہی بے کار چلی جائے گی۔
حالانکہ اس فساد کو 10 سال گزر چکے ہیں مگر اس کا زخم آج بھی تازہ ہے مگر نرودا پاٹیا فیصلے سے کچھ حد تک یہ زخم بھرنے لگے ہیں۔ احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی کی وہ عمارت جس میں احسان جعفری سمیت 68 مسلمان زندہ جلا کر مار ڈالے گئے اور انسانیت کا ایسا ننگا ناچ ہوا کہ اس مہذب سماج پر شرم آنے لگی ۔ایسے میں آنے والا الیکشن اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ یہ احتساب کا وقت ہے ۔یہ فیصلے کا وقت ہے۔خود مسلمانوں کو اس وقت متحد ہوجانا چاہئے اور نہ صرف اسمبلی انتخابات میں بلکہ 2014 میں جس طرح مودی وزیر اعظم کے لئے خود کو دعویدار مانتا ہے اور بی جے پی کو اپنی پارٹی کا یہ دولہا بہت پسند ہےاس لیے اس کے سر سے یہ سہرا نوچنا ہے تو مسلمانوں کو خود کوشش کرنی ہوگی ۔ ایک پلیٹ فارم پر سب کو جمع ہونا ہوگا ۔بی جے پی اور آر ایس ایس کی چالوں پر نظر رکھنی ہوگی ۔پولیس میں زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو بھرتی کرنا ضروری ہے اس کے لئے با قاعدہ مہم شروع کریں۔ اپنے شہر میں مسلم وکیلوں کا پینل بنائیں جس میں انصاف پسند غیر مسلم وکیل بھی شامل ہوں۔بہر کیف ان مجرموں کو چاہے پھانسی کی سزا نہ ہوئی ہو مگر پھر بھی اس وقت کا یہ فیصلہ ہمارے حق میں ہےکیونکہ یہ فیصلہ پھانسی کی سزا سے بھی زیادہ اذیتناک اور تکلیف دینے والی ہے۔ پھانسی کی سزا میں تو مجرم کو ایک مرتبہ موت کی تکلیف جھیلنی پڑتی ہے مگرلمبے عرصے تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا انہیں ہر روز موت کی طرح ذہنی اذیت پہنچاتی رہے گی اور دوسروں کے لئے عبرت۔ اس کی سراہنا ضروری ہے۔ تاکہ مسلمانوں کو احسان فراموش قوم نہ سمجھا جائے۔سبھی ادارے مل کر اس طرح کے پروگرام رکھیں تاکہ عدلیہ کے لئے اظہار تشکر ہوسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here