الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد

Share Article

اعجاز حفیظ خاں 
p-8الیکشن سے پہلے کی صورتحال کو کسی بھی انداز سے خوش آئند کہہ سکتے ،بلکہ یہ تو بدقسمتی کی ایک لمبی داستان ہے۔ ایک کالعدم تحریک نے الیکشن مہم سے پہلے تنبیہ دے دی تھی کہ پیپلز پارٹی ،متحدہ قومی موومنٹ اور باچا خان مرحوم کی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی کو ٹارگٹ کیا جائے گااور اُس تنظیم نے اس پر عمل بھی کیا، جو ہنوز جاری ہے ۔جب میں یہ کالم لکھ رہاں ہوں ،اُس وقت تک اِن تینوں جماعتوں کے سو سے زائد افراد بم دھماکوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ کراچی میں سب سے زیادہ واقعات ہوئے ۔سندھ کے دوسرے شہروں اور صوبہ پختونخواہ بھی ہٹ لسٹ پر رہا۔جہاں تک سندھ کا تعلق ہے تو آخر اُس صوبے میں لہو بول ہی اُٹھا ۔ مارنے والے اس کی آواز کو ہمیشہ ہی بھولے ہوئے ہوتے ہیں۔حالانکہ اُن کی صدا ،سدا رہتی ہے۔ کراچی میںپیپلز پارٹی ،متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کی ایک ساتھ پریس کانفرنس سے بہت سوں کے ارمان کورے کاغذ کی طرح سے رہ گئے ۔بدقسمتی سے آج کل ایک لابی پاکستان میں الیکشن کے نام پر تجزیے، رپورٹیں،گیلپ سروے وغیرہ وغیرہ اس طرح سے کھولے جا رہے ہیں ،جیسے چائے کے شوقین چینی کے ساتھ فراخ دلی سے پیش آتے ہیں ۔اور ایک دن …شوگر کے مرض سے تتر بتر ہو جاتے ہیں ۔اس بار ہمارے الیکشن میں سائنس سے الیکشن کی سانسیں بحال اور بے حال، دونوں کام لئے جا رہے ہیں۔ جھوٹ در جھوٹ پردل حیرت زدہ ہے۔ ویسے بھی عوام کے پاس تماشائے اہلِ کرم دیکھنے کے اور کیا رہ گیا ہے ۔آنکھیں بند کرنے سے بھی کبھی کوئی منظر نامہ بدلا ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ یہ کچھ اور ڈرائونا بن جاتا ہے۔ ہمارے جیسے ممالک میں کبھی احتساب کے نام پر ،کبھی انقلاب کے نام ،کبھی انصاف کے نام سچائی کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑ جاتی ہے۔ہٹلر کے پاس صرف ایک گوئبلز تھا اور ہمارے یہاں … یہ گلی گلی محلہ محلہ مٹر گشت کر رہے ہوتے ہیں۔

نواز شریف کی مسلم لیگ ن پنجاب کے جلسوں میں یہ دعویٰ بھی کرنے لگی تھی’’کہ انتخابات کے بعد سندھ میں بھی اُس کی حکومت ہو گی‘‘ ۔اصل میں اُس کی نظریں اُس جماعتی اتحاد پر ہیں، جس پر پیر صاحب پگاڑا کا سایۂ سیاست ہے۔کاش کہ اپنے والد مرحوم کی طرح وہ خود بھی الیکشن میں حصہ لیتے ۔ اُنہوں نے اس چیلنج کو کیوں قبول نہیں کیا ؟ابھی چند روز قبل ہمارے صحافی دوست ذوالفقار علی مہتو صاحب اندرون سندھ دورے سے واپس آئے ۔اُن کا کہنا ہے کہ ’’ جیت پیپلز پارٹی کی ہی ہو گی، البتہ مارجن کچھ کم ہو سکتا ہے ‘‘

نواز شریف کی مسلم لیگ ن پنجاب کے جلسوں میں یہ دعویٰ بھی کرنے لگی تھی’’کہ انتخابات کے بعد سندھ میں بھی اُس کی حکومت ہو گی‘‘ ۔اصل میں اُس کی نظریں اُس جماعتی اتحاد پر ہیں ،جس پر پیر صاحب پگاڑا کا سایۂ سیاست ہے ۔کاش کہ اپنے والد مرحوم کی طرح وہ خود بھی الیکشن میں حصہ لیتے ۔ اُنہوں نے اس چیلنج کو کیوں قبول نہیں کیا ؟ابھی چند روز قبل ہمارے صحافی دوست ذوالفقار علی مہتو صاحب اندرون سندھ دورے سے واپس آئے ۔اُن کا کہنا ہے کہ ’’ جیت پیپلز پارٹی کی ہی ہو گی ،البتہ مارجن کچھ کم ہو سکتا ہے ‘‘۔جب دس جماعتیں ایک ساتھ ہوں توکچھ نہ کچھ فرق تو پڑ ے گا ۔ آپس کی بات ہے کہ یہ لوگ دل سے ایک نہیں ،صرف بھٹو دشمنی اُنہیں اکٹھے کئے ہوئے ہے۔کبھی دشمنی سے بھی کوئی کا قصہ ختم ہوا ہے ؟کچھ ہفتے قبل ایک این اجی او نے اپنے پارٹنرز کی مدد سے گیلپ سروے میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت کو جیسے عرش تک پہنچا دیا تھا ۔پہلے یہ عرض کرتے چلیں کہ الیکشن عرش پر نہیں فرش پر ہوتے ہیں ۔ اُس کے کچھ دنوں بعد ہم اُن کے ایک فنکشن میں شریک تھے ۔لنچ کے دوران اُس این جی او کے چیف ایگزیکٹو اور مسلم لیگ ن کے سابق رکن اسمبلی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ہم بھی سننے لگے ۔وہ کہہ رہے تھے کہ ’’لاہور میں مسلم لیگ ن چار سے پانچ نشستوں کھو سکتی ہے ۔واضح رہے کہ 2008 ء کے الیکشن میں اُسے قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر شکست ہوئی تھی ۔ یہ سن کر ہم نے اُن کے حضور انتہائی مؤدبانہ انداز میں عرض کیا کہ اگر لاہور میں یہ پوزیشن ہے تو پھر آپ کا گیلپ سروے ؟وہ ہنس کر کہنے لگے کہ وہ صرف 6ہزار افراد کی رائے پر مشتمل تھا ۔
سندھ کیا پاکستان کے بچے بچے کو بھی شہید رانی(بے نظیر بھٹو) یاد ہیں ۔بھٹو صاحب تو ہماری تاریخ کے ہر جھروکے سے دکھائی دیتے ہیں ۔پچھلے الیکشن سے چند روز قبل محترمہ بے نظیر بھٹو کو کس ’’مروّت ‘‘کے ساتھ عوام سے جدا کر دیا گیا ،وہی لوگ اب آنے والے الیکشن کو بھی جیسے مانیٹر کر رہے ہیں ۔ایسے میں تینوں جماعتوں نے ایک چینل اختیار کرنا ہی تھا ۔ ایک کالعدم تحریک کی جانب سے روز کی بنیاد پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں توساتھ ساتھ اُن کے اپنے پیاروں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ معاف کیجئے گا !یہ پر ی پول رگنگ ،دھاندلی ،دھاندلا سے کہیں آگے والا چکر ہے ۔اس میں الجھ گئے تو کہیں چکرا کر نہ گر جائیں۔نگراں حکومت سے کیا گلہ کرنا ۔ہماری نظر میں وہاں صرف رسمیں اور قسمیں ہیں ۔اصل حکمران الیکشن کمیشن ہے ۔آپ کو تُوکہنے پر تو وہ ایکشن لے لیتا ہے لیکن خون کی لکیر کو کیوں ’’کراس ‘‘نہیں کر پا رہا ؟ہو سکتا ہے کہ اُس کے پردے کے پیچھے بھی ایک بڑھ ایک چہرہ اپنا ’’فرض ِ منصبی ‘‘پورا کر رہا ہے ۔یہ بھی عرض کئے دیتے ہیں کہ جفا کے ساتھ وفا کا بھی ایک رشتہ ہوتا ہے ۔ہماری سیاست میں وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی قصہ پارینہ ہو جاتا جا رہاہے ۔ہمیں اس بات پر خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی کہ کراچی کی پریس کانفرنس کرنے والے نے خود کو بائیں بازو کی جماعتیں بھی کہا ۔بدقسمتی سے ہمارے یہاں سر سے پا تک بائیں بازو کے نظریات والے عملی طور پر پکنک پارٹی میں لگے رہتے ہیں ۔ غریب عوام کے شفائی نظریے کے ساتھ ہمارے دوستوں نے اچھا نہیں کیا۔ سیاست میں تو سمجھ آتی ہے لیکن ہمارے یہاں توہر شعبہ ہائے زندگی میں دوستوں اور دشمنوں کی مشکل سے پہچان ہو پاتی ہے۔آج جاگیر دارانہ سے کہیں زیادہ مہلک سرمایہ دارانہ نظام بن چکا ہے ۔اِس ماحول میں اگر ملک کی تین جماعتوں نے خود کو بائیں بازو سے منسلک کیا ہے ،تو یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ ہمارے جیسے ممالک میںبائیں بازو کے ایجنڈے میں لبرل ہونا بہت ہی ضروری ہے ۔گو آج اِن تین جماعتوں نے خود کو بائیں بازو کہہ دیا ہے، کیا الیکشن کے بعد وہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ بھی کریںگی؟آج پاکستان میں بہت سے خود کو انتہا پسند کہلوانے پر فخر کرتے ہیں۔
یہ لمحۂ فکریہ ہے ۔کیا ایکٹو ادارے اس کا نوٹس لیں گے؟یقین کریں کہ عوام نے اِ ن کے لئے دل و جاں تک کے نذرانے پیش کئے ۔غم ِ جہاں کو دیکھتے ہوئے ہی کارل مارکس نے اپنی شاہکار ’’داس کیپٹل‘‘تخلیق کی تھی ۔اس عظیم انسان نے اس کی جلد کا پہلا پروف ختم کرنے کے بعد اینگلز کو لکھا کہ ’’تو یہ جلد مکمل ہو گئی ہے،یہ صرف اور صرف آپ کی وجہ سے مکمل ہوئی ہے ،آپ کی بے لوث قربانی کے بغیر میں شاید جلدوں کے لئے اس قدر زیادہ کام کبھی نہ کر پاتا،میں مکمل شکر گزاری کے جذبات تلے آپ کو گلے لگاتا ہوں ‘‘(ہنرخ والکوف کی کتاب Birth Of A Geniusسے ماخوذ)۔کارل مارکس کو اینگلز کی صورت میں ایک مخلص دوست ملا ہوا تھا ۔مخلص دوست بھی کسی خزانے سے کم نہیں ہوتے ۔آج ہماری سیاست کو ایسے دوستوں کی ضرورت ہے۔اسلام آباد کے لئے ہر کسی کا ہم سفر بن جانا …ایسے میںعوام کے حصے میں سراب اور خواب ہی رہ جاتے ہیں ۔
نوٹ !کالم نگار پاکستان کے سینئر جرنلسٹ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *