بستر کی جگہ تین بھائیوں کو ملی چتا 

Share Article

کوتوالی علاقہ کے مدرہوا گاؤں کی مالتی دیوی کے شوہر رام گوپال عرف بدھو پنجاب میں مزدوری کرتے ہیں۔ مالتی غربت میں اپنے بچوں کی پرورش گاؤں میں رہ کرتی ہے ۔وہ گزشتہ دنوں اپنے تین بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے ایک کھیت سے ساگ لے کر آئی اور پکا کر اپنے بچوں کو کھلائی اور پھر اس کے بعد انہیں سلانا چاہتی تھی۔مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ جن بچوں کو سلانا چاہتی ہے وہ ابدی نیند سونے کے لئے بستر پر جارہے ہیں۔ بستر پر جاتے ہی بچوں نے پیٹ میں تکلیف محسوس کی۔ پہلے دو بچوں نے شکایت کی ۔مالتی جب تک کچھ سمجھ پاتی ان دونوں نے جان دے دی۔ تیسرے بچے کو جلدی جلدی اسپتال لے جایا گیا۔مگر وہ بھی جانبر نہ ہوسکا ۔اس طرح ایک ماں کے سامنے تین بچوں نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔
اندازہ یہ لگایا جارہا ہے کہ جس کھیت سے مالتی ساگ لائی تھی۔ اس کھیت میں کیڑا مار دوا کا چھڑکاؤ ہوا تھا۔حالانکہ زہریلی دواؤں کا چھڑکاؤں منع ہے کیونکہ ایسے پودوں کو کھانے سے انسانی جانوں کے جانے کا خطرہ لگا رہتا ہے ۔انتظامیہ حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہے کہ آخر ان بچوں کی موت کے پیچھے وہی زہریلے ساگ ہیں یا کچھ اور؟ تحقیق تو ہوتی رہے گی مگر ایک ماں کی گود چند پل میں سونی ہوگئی

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *