وسیم راشد
پاکستانی صدر آصف زرداری کا دل کے دورے میں مبتلا ہونا اور پھر دبئی میں علاج کے دوران یہ پتہ چلنا کہ ان کے دماغ کی نس پھٹ گئی ہے جس سے ان  کا جسم لقوہ زدہ ہوگیا ہے ،پاکستان  کی سیاست  میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن گیا ہے۔چونکہ  پاکستان  اپنے خود غرض  لیڈر اور اقتدار پسند فوج کی وجہ سے ہمیشہ ہی  عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا رہا ہے۔کبھی دوسرے ممالک میں دہشت گردوں کو ہوا دینے کی وجہ سے تو کبھی خود دہشت گردوں کے ہاتھوں شکار ہوجانے کی وجہ سے ،نیز پاکستانی عوام کو لاحق خوف و دہشت کی وجہ سے یہ ملک  نہ صرف  دنیا بھر کی توجہ کا مرکز رہا ہے بلکہ خود وہاں کے عوام بھی  ہر پل یہ محسوس کرتے رہے ہیں کہ کب ان کا امن و چین چھن جائے۔دراصل پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں عیش بھری زندگی کا رجحان اتنا  جڑ پکڑ چکا ہے کہ انہیں اپنے عوام کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا ہے۔وہاں کے ارباب اقتدار کو جب معمولی علاج کرانے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ امریکہ جاتے ہیں مگر ملک کے عوام کا یہ حال ہے کہ انہیں بڑی سے بڑی بیماریوں کا علاج کرانے کے لئے  در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔پاکستان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کہتے ہیں ’’ملک اندھیروں میں ڈوب گیا ہے،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا محال کردیا ہے، فیکٹریوں کا پہیہ جام ہوگیا ہے، لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہورہے ہیں،زرداری حکومت نے ملکی اور قومی اداروں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔پی آئی اے  زبردست خسارے کا شکار ہے‘‘ دراصل پاکستان کی بد قسمتی رہی ہے کہ وہاں منتخب سرکار اور فوج کے بیچ چوہے بلی کا کھیل جاری رہتا ہے۔وہاں کی فوج کو اقتدار کا ایسا چسکا لگ چکا ہے کہ وہ جب چاہتی ہے منتخب حکومت کو برخاست کرکے اپنا قبضہ جما لیتی ہے اور جب عالمی دبائو بڑھتا ہے تو اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کر دی جاتی ہے۔وہاں کی فوج میں اقتدار کے اسی چسکے کی وجہ سے جب بھی ہلکا سا  پتہ کھڑکتا ہے تو یہ خدشہ ہونے لگتا ہے کہ کہیں فوج نے اقتدار کی چوکھٹ پر دستک نہ دے دی ہو۔پاکستان کے آخری اقتدار پسند فوجی سربراہ پرویز  مشرف کے ملک بدر ہونے کے بعد یہ گمان کیا جارہا تھا کہ شاید اب وہاں کیمنتخب حکومت پائدار ہوگی۔اب کبھی کوئی فوجی چیف عوام کے جذبوں کو کچل کر ایوان اقتدار کی طرف للچائی نظروں سے نہیں دیکھے گا مگر میمو گیٹ کے واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر اس یقین میں بے اعتمادی سی پیدا ہوگئی ہے۔ ایسا لگنے لگا ہے کہ میمو گیٹ میں پھنسی اپنی گردن دیکھ کر آصف زرداری نے راہ فرار اختیار کر لی ہے اور علاج کے بہانے دبئی چلے گئے ہیں جہاں سے ان کا واپس نہ آنا تقریباً  طے ہے۔چنانچہ امریکہ سے شائع ہونے والا ایک جریدہ ’’ فارن پالیسی ‘‘ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری میمو گیٹ اسکینڈل کی وجہ سے شدید دبائو میں ہیں اور طبی بنیادوں پر صدارت  کے عہدے سے سبک دوش ہوسکتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری دل میں تکلیف کی شکایت پر  اچانک دبئی چلے گئے تھے۔اخبار میں مزید لکھا ہے کہ  پچھلے دنوں صدر اوبامہ نے جب صدر زرداری سے فون پر بات کی تو وہ لاتعلق سے لگے اور ان کی گفتگو بے ربط تھی جس کی وجہ سے ایسا  لگ رہا تھا کہ صدر زرداری میمو گیٹ اسکینڈل کی وجہ سے خود پر شدید دبائو محسوس کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکی دانشوروں میں  یہ سوچ بڑھتی رہی  کہ صدر زرداری ملک سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔صدر آصفٖ کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے اور اب یہ صرف کچھ وقت کی بات ہے‘‘۔ بہر کیف ملک کے اندر آصف زرداری کی گرفت کمزور ہوتی گئی چنانچہ بتایا جارہا ہے کہ ان کے دبئی جانے سے پہلے ہی انہیں بتا دیا گیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ان کے مجوزہ خطاب میں اپوزیشن کا کوئی رکن اور مسلح افواج کے سربراہان احتجاجاً شرکت نہیں کریں گے ۔ اس کے علاوہ بیرون ملک  ایک درجن سے زائد پاکستانی سفیروں کی تبدیلی بھی اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ آصف زرداری  صدر کے عہدے سے سبک دوش ہورہے ہیں اور وہ طے شدہ پروگرام کے تحت طبی معائنے کے لئے دبئی گئے ہیں۔حالانکہ ابھی  یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ واقعی پاکستان کی اندرونی حالت اتنی تیزی سے افراتفری کی شکار ہوچکی ہے کہ صدر مملکت کو  ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا ہے ،البتہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر سینیٹر چوہدری شجاعت حسین نے ان تمام قیاس آرائیوں کو غلط کہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میمو گیٹ اسکنڈل فراڈ ہے ۔جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ صدر نے ملک چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرلیا ہے وہ غلط کہہ رہے ہیں۔صدر کو پارلیمنٹ نے پانچ سال کے لئے منتخب کیا ہے وہ اپنی مدت کار پوری کریں گے اور جو لوگ ملک میں جمہوریت کے دشمن ہیں انہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم ایک ہے کسی بھی حالت میں قوم کو مایوس نہیںہونا  چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا کوئی لیڈر کہیں نہیں جارہا ہے۔جو لوگ یہ افواہ پھیلا  رہے ہیں کہ  زرداری ملک سے فرار ہوگئے ہیں وہ عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ وہ علاج کے سلسلے میں بیرون ملک ہیں اور صحت یاب ہونے پر ملک واپس پہنچ جائیں گے۔مخالفین عہدے کی میعاد کے ختم ہونے کا انتظار کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ۔میمو اسکنڈل میں صدر کو ملوث کرنا ایک سازش کے سوا کچھ نہیں۔جمہوریت کو پٹری سے اترنے نہیں دیں گے۔ اور ملک کی بقاء اور سلامتی کے لئے جانوں کے نذرانے دینے سے بھی گریز نہیں  کیا جائے گا۔
صدر آصف  کے دبئی جاتے ہی قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہونے سے ہمیں کچھ نہ کچھ سبق لینا چاہئے۔ ایک کہاوت مشہور ہے کہ جہاں آگ ہوتی ہے وہیں دھواں ہوتا ہے۔اگر سیاسی مبصرین اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں ان کے تئیں الگ الگ قیاس آرائیاں کر رہے  ہیں تو ظاہر ہے اس کے پس پردہ کچھ نہ کچھ ہے جو ابھی عوام کے سامنے نہیں آیا ہے، اور عوام کے سامنے آئے بھی تو کیسے ،ابھی حکومت کے اندرونی معاملوں کو عوام سے چھپایا جارہا ہیلیکن تجزیہ نگاروں کا ان کے تئیں منفی تاثرات دینا  پاکستان کی اندرونی صورتحال کی ابتری کے بارے میں سوچنے پر مجبور کررہا ہے۔یہ بات بھی سوچنے والی ہے کہ اب تک معمولی سی بات پر زرداری علاج کے لئے امریکہ  یا لندن جایا کرتے تھے مگر اس مرتبہ کیا بات ہے کہ انہوں نے امریکہ یا لندن کے بجائے دبئی کا رخ کیا ہے، جبکہ دل کا دورہ خطرناک بیماریوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسی دورے کی وجہ سے ان کے دماغ کی نس پھٹ چکی ہے اور وہ لقوہ زدہ ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ان کی بیوی بے نظیر بھٹو جو اس وقت اپنی پارٹی کی سپریمو بھی تھیں، بھی  جلا وطنی کے وقت میں اپنا زیادہ تر وقت دبئی میں ہی گزارتی تھیں ، پارٹی کی میٹنگیں بھی دبئی میں ہی ہوا کرتی تھیںاور وہ پاکستان اس وقت لوٹیں جب انہیں یقین ہوگیا تھا کہ اب ان کے لئے تمام راستے صاف ہیں۔یہ اور بات ہے کہ یہاں آنے کے کچھ دنوں بعد ہی ان کی موت ہوگئی تھی۔اب آصف زرداری  امریکہ اور لندن کے بجائے دبئی    گئے ہیں تو لازمی بات ہے کہ اس علاج کے پیچھے کچھ ایسی باتیں ہیں جو عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہیں البتہ تجزیہ نگاروں کی تیز نگاہ سے بچنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ان کے اس سفر پرپاکستان کے ممتاز تجزیہ نگار اور امریکی فوجی حلقوں میں  گہرا اثر و رسوخ رکھنے والے نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ صدر مملکت آصف علی زرداری وطن واپس نہیں آئیں گے۔ پاکستانی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام ’’ آپس کی بات‘‘ میں واشنگٹن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوگی، وہ دبئی بلا وجہ نہیں گئے اور ایسے ہی واپس نہیں آئیں گے۔ نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ میمو گیٹ اسکنڈل کا فیصلہ آصف علی زرداری ملک سے باہر رہ کر سننا چاہتے ہیں۔اگر یہ فیصلہ ان کے خلاف بر آمد ہوا تو وہ مستقل خود ساختہ جلا وطنی اختیار کیے رکھیں گے اور اگر فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو وطن واپسی ہوسکتی ہے‘‘۔لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اگر میمو گیٹ کا فیصلہ ان کے حق میں ہوتا ہے اور وہ وطن واپس آتے ہیں تب بھی اب ان کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ ملک کی باگ ڈور سنبھال سکیں،ایسے میں انہیں پارٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے اپنے بیٹے بلاول کو جو اس وقت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں کو آگے لانا ہوگا۔ نجم سیٹھی یہ بھی کہتے ہیں کہ پاک فوج  مسلم لیگ( نون )کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کو آئندہ اقتدارمیں لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ان کی جگہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو آگے لایا جائے گا‘‘۔تجزیہ نگاروں کے  بیان سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال اچھی نہیں ہے اور وہاں کی سیاست بے یقینی سے دوچار ہے۔ساتھ ہی یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کی فوج ہی طے کرتی ہے کہ آئندہ اقتدار کس کے ہاتھ میں سونپا جائے گا۔جہاں تک عوام کی بات ہے تو حکومت سے لے کرفوج  تک  کوئی بھی ان کی ضروریات ،جذبات  اور فیصلوں کا احترام نہیں کرتے ہیں۔ اگر ان کے جذبوں کا احترام کیا جاتا تو وہاں بار بار فوجی حکومت نہ ہوتی اور زرداری کے ملک سے باہر جاتے ہی عوام خوفزدہ ہوکر فوج کی طرف نہیں  دیکھتے۔بہر کیف میڈیا میں ان کے دبئی جانے کے بعد جو قیاس آرائیاں ہورہی ہیں ،خدا کرے وہ تمام قیاس آرائیاں غلط ہوں  اور وہاں کی جمہوریت پر پھر فوجی اقتدار کا دھبہ نہ لگنے پائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here