بائیں میں سے دو

Share Article

محمد قیوم میؤ
چوبیس گھنٹے میں ایک دو پل ایسے آتے ہیں کہ اس وقت انسان کے دل میں جو خواہش اور تمنا ہوتی ہے، وہ فوراً پوری ہوجاتی ہے۔ بالفاظ دیگر وہ دعا قبول ہونے کا وقت ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ انسان کو ہر وقت اپنے دل میں نیک خواہشات اور اچھی تمنائیں رکھنی چاہئیں، لیکن ریلوے پولس کے ہیڈ رام سنگھ کے دل میں ایک بدتمنا پیدا ہوئی کہ کافی دنوں سے کوئی ٹرین حادثہ میرے علاقے میں نہیں ہوا ہے۔ کاش آج ہوجائے۔
متھرا جنکشن کہرے کی چادر اوڑھے یخ بستہ تھا۔ ٹرینوں کی آمد و رفت کو اپنی دھندلی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ میواڑ ایکسپریس دہلی جانے کے لیے بالکل تیار کھڑی تھی۔ لاؤڈ اسپیکر پر باقاعدہ اس کی روانگی کا اعلان ہورہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد گارڈ نے ہری جھنڈی دکھا دی اور ٹرین پٹریوں پر رینگنے لگی۔
اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ لوگوں کے دل دہشت اور خوف سے دہل گئے۔ گواایکسپریس میواڑ ایکسپریس سے جا ٹکرائی تھی۔ گارڈ جس کا ہاتھ جھنڈی دکھا رہا تھا، کٹ کرمع جھنڈی کے نیچے آگرا اور ٹرینوں سے چیخنے چلانے کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ چاروں طرف کہرام مچ گیا۔ بوگیاں بری طرح سے ایک دوسرے میں گھس گئی تھیں۔ ریلوے کا سارا عملہ حرکت میں آگیا اور کافی لوگ ادھر اُدھر دوڑ پڑے تھے۔ لوگ آواز کی سمت دوڑے جارہے تھے۔
سپاہیوں نے حادثہ کی جگہ کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کا دلخراش دور شروع ہوگیا تھا۔ رام سنگھ نے اپنے جعلی ہمدردوں کو حادثہ کی جگہ چھوڑ دیا تھا اور انہیں سمجھا دیا تھا کہ جہاں کوئی لاوارث، بچہ، بوڑھا مردہ نظر آئے، وہ اس موقع پر آہ و بکا کریںکیوںکہ حکومت کی طرف سے ورثا کو اس موقع پر بڑی رقم ملتی ہے اور تم مرنے والوں کے وارث ہو، یہ میں تصدیق کردوںگا۔
رام سنگھ نے پانچ لوگوں کو اسی کام پر لگا دیا تھا۔ اس میں عورتیں بھی شامل تھیں۔ رام سنگھ کے سارے لوگ جگہ جگہ پر بیٹھے زار و قطار رو رہے تھے۔ انہوں نے سارا آسمان سرپر اٹھا رکھا تھا۔ رام سنگھ کی نگاہ اپنے آدمیوں پر ٹکی ہوئی تھی۔ وہ سبھی انتہائی ہوشیاری سے اداکاری کررہے تھے۔ رام سنگھ یہ دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہورہا تھا اور بے اختیار خود کلامی کے انداز میں کہہ رہا تھا کہ:
’’کم بخت کیا ایکٹنگ کر رہے ہیں۔ انہیں تو کسی ٹی وی سیریل میں کام کرنا چاہیے تھا۔ وہ اپنی کامیابی پر بے حد خوش تھا۔ اگر اس کا ایک تیر بھی ٹھکانے پر لگ گیا تو اس کے وارے نیارے ہوجائیں گے اور وہ مالا مال ہوجائے گا، کیوں کہ ورثا کو ملنے والی رقم لاکھوں میں ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ سارا دن افراتفری میں گزر گیا۔ بائیس لوگوں کی درد ناک موت ہوئی تھی۔ پچاسیوں زخمی ہوئے تھے۔ رام سنگھ مطمئن و خوش تھا۔ وہ ڈیوٹی سے گھر پہنچا۔
وہ تھک کر چور ہوگیا تھا۔ بیوی نے وردی کے مضبوط بٹن کھولے تو سڑا ند کا ایک زبردست بھبکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا ، وہ جلدی سے پیچھے ہٹی اور منہ بناتے ہوئے بولی ’’کیوں جی آج آپ کے بدن سے یہ کیسی بدبو آرہی ہے؟ کیا کسی کٹی خانے سے آرہے ہو۔ اس سے پہلے تو کبھی ایسی سڑاند اور بدبو نہیں آتی تھی۔‘‘ یہ سن کر رام سنگھ تھکے تھکے لہجے میں بولا۔
’’اری بھاگوان! آج اسٹیشن پر ٹرین ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ کیا تونے ٹی وی پر نہیں دیکھا ہے۔ بس اس بھاگ دوڑ میں مرنے والوں کے خون کی بدبو وردی میں بھی آگئی ہے، لیکن تجھے معلوم نہیں ہے کہ اس بدبو میں خوشبو بہت ہے۔ رام سنگھ نے راز دارانہ انداز میں کہا۔
’’وہ کیسے… وہ کیسے؟ بیوی نے پوچھا۔ رام سنگھ نے اس کے کان میں کچھ کہا۔ اسے سن کر بیوی چیخ سی پڑی۔ بیوی کے چیخنے پر رام سنگھ بے اختیار چونک گیا اور ہکا بکا رہ گیا۔ بیوی نے پھر جلدی سے پوچھا۔
’’کیا سچ؟ اب ہمارا نیا مکان بن جائے گا۔ وہ مکان جو برسوں سے ادھورا پڑا ہے؟‘‘ رام سنگھ نے جواب دیا کہ ’’ہاں! بھئی! بھگوان نے آخر ہماری سن لی۔‘‘ اتنا کہہ کر رام سنگھ نہا دھو کر کھانے سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹ گیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی کی خوبصورت اور بڑی بڑی آنکھوں میں گلابی گلابی ڈورے کرنوں کی طرح تیر رہے ہیں۔ اس خاموش زبان کو وہ سمجھ گیا تھا۔ اس نے لائٹ آف کردی اور بیوی اس کے بھاری بوجھ تلے دبتی چلی گئی۔ اب وہ میٹھے میٹھے درد سے سسکیاں بھر رہی تھی۔ صبح رام سنگھ کی آنکھ کھلی تو اس نے سب سے پہلے تازہ اخبار اٹھایا۔
پہلا صفحہ حادثے کی خبروں و تصویروں سے بھرا پڑا تھا۔ اخبار حادثے کی سچائی بیان کر رہا تھا، لیکن ساتھ ہی شہ سرخی یہ بتارہی تھی کہ وزیرریلوے نے مرنے والوں کی تعداد دو اور زخمیوں کی تعداد 10 بتائی ہے۔ مرنے والوں کو دو دو لاکھ اور زخمیوں کو پانچ پانچ ہزار دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پڑھ کر رام سنگھ بھونچکا رہ گیا۔
وہ ریلوے کے وزیر کا فوٹو دیکھتا رہ گیا۔ اسے سماج کے حمام میں ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ننگا نظر آنے لگا۔
ریلوے وزیر کا فوٹو اس سے کہہ رہا تھا کہ ’’مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔بچت کرو۔ بچت کرو۔ میں نے بھی ریلوے کے محکمے کی بچت کی ہے۔ ہمارا دیش باہر کے دیشوں کا بہت زیادہ قرض دارہے۔ ہمیں بیاج چکاناہے۔ بچت کرو۔ بچت کرو۔ اس لیے بائیس میں سے دو رہ گئے ہیں۔‘‘ رام سنگھ کے منہ سے غصے میں زور دار چیخ نکلی۔
’’نہیں، نہیں‘‘ اوراس نے اخبار پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیا۔ اخبار کے ٹکڑے جیسے ہی زمین پر گرے اس کا ادھورا بنا ہوا اپنا مکان بھی دھڑام سے زمین پر آگرا اور چور چور ہوگیا۔ اس نے کرب سے بھری نظر اٹھا کر اوپر سامنے دیکھا۔ اس کی بیوی رات کا خمار آنکھوں میں لیے کھڑی تھی اور اسے چائے کی پیالی دے رہی تھی، لیکن پیالی اس کے ہاتھ میں کانپ رہی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *