انجم عثمانی
ٹیلی ویژن کے چھوٹےسے پردے پر جوکچھ چند منٹوں میں نظروں کے سامنے سے گذ رجاتاہے ان چند منٹوں کے پیچھے پروگرام تیار کرنے والوں کی گھنٹوں ، دنوں اور کئی کئی مہینوں کی محنت،سوچ اور مہارت شامل ہوتی ہے۔ یہ ٹیلی ویژن بھی بڑا عجیب میڈیم ہے ۔ یہاں بہت کچھ اتنا مشترک اور اتنا منفرد ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس پوری مالا کی کونسی کڑی سب سے زیادہ اہم ہے لیکن پھر بھی کسی حد تک یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ڈائریکٹر اس زنجیر کی ایسی کڑی ہے جو خود بھی اس زنجیر کا ناگزیر حصہ ہے اور جو باقی کڑیوںمیں بھی ایک خاص قسم کے توازن کے لیے ذمہ دار ہے۔ دراصل ہدایت کار جس طرح باقی ٹیم سے کام لیتاہے اس کے کام لینے کے طریقے سے ہی پروڈکشن کا رخ متعین ہوتاہے لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بہت سے پروگراموں کے فارمیٹس اس بات کے متقاضی ہوتے ہیں کہ ڈائریکٹر پروفیشنل ٹیم کے علاوہ دیگر ماہرین کے مشوروں سے فائدہ اٹھائے ۔خاص طورپر پر وگرام کے موضوع ،مواد اورشرکاکے بارے میں یہ ناگزیر ہے۔ میں چونکہ شروع سے ہی بیشتر پروگرام اردو زبان میں اور خاص طورپر ادبی پروگرام پروڈیوس کرتارہا اس لیے بطور ہدایتکار اردو زبان وادب سے متعلق ماہرین کی رائے میرے لیے پیشہ وارانہ ضرورت بن گئی ۔ آج بھی بطور ہدایتکار ادبی پروگرام کی پیشکش میں ظاہر ہے مجھے کتاب ، صاحب کتاب ،ادب اور ادیب سے ان کی ماہرانہ رائے اورمشوروں کی ضرورت رہتی ہے۔
ٹیلی ویژن کی اپنی تقریباً تیس سالہ زندگی میں مجھے پروگرام پروڈیوسر کی حیثیت سے جن کی رائے ،مشورے اور مہارت کا فائدہ پہنچا ہے ان میں ایک نام سر فہرست ہے ۔ وہ نام ہے ڈاکٹر اسلم پرویز۔ڈاکٹر اسلم پرویز مشہور ناقد، محقق، مدیر ، دانشور، مصنف ،مولف، مرتب، ماہر تعلیم اورمعلم ہیں اور میری خوش نصیبی کہ میرے کالج کے زمانے کے استاد ہیں۔ ڈاکٹر اسلم پرویز ہمارے ایسے استاد ہیں جن کی کلاس ہمارے لیےابھی تک جاری ہے۔ اس کلاس کا نہ وقت متعین ہے ،نہ مدت ،نہ موضوع۔جب ہمیں ضرورت ہوتی ہے بلا تکلف حق شاگردی کا استعمال کرلیتے ہیں۔ جب چاہا فون کرلیا: ’’سر وہ ایک مفہوم کے لیے مناسب لفظ نہیں مل رہا ہے۔‘‘ ’’سر اس موضوع پر فلاں کے علاوہ کس سے بات کی جاسکتی ہے۔‘‘ ’’سر فلاں کتاب یا معلومات کہاںسے حاصل ہوسکتی ہیں۔‘‘ اوراستاد کی شفقت کا یہ عالم کہ کبھی یہ نہیںکہا ‘‘کہ:میاں آپ کی کلاس تو تیس پینتیس سال پہلے برخاست ہوچکی ہے کب تک آپ کی استادی کی پاداش میں معلومات گھر بنے رہیںگے۔ نہ ہی ہمیں یہ خوف یا تکلف ہوتا ہے کہ سرمنع کردیں گے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ڈاکٹر اسلم پرویز اساتذہ کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نسل کے مزاج کے لوگوں نے شاگردوں کو اولاد کی طرح شفقت سے نواز ا ہے بھلے وہ ہم جیسا ’’طویل المدت‘‘ شاگرد ہی کیوں نہ ہو۔
یہ غالباً 1975کی بات ہے ہمیں دلی کالج (موجودہ ذاکرحسین دلی کالج) میں بی اے آنرز اردو کی شبینہ کلاسز میں داخلہ مل گیا اور ہم براہ راست ڈاکٹر اسلم پرویز کی شاگردی میں آگئے۔ ہم تا زہ تازہ مدرسے سے آئے تھے اورکلاسز کے اس طریقے کے عادی تھے جس میں متن، حاشیہ ،بین السطور ،ترجمہ اورکتاب سے متعلق بیشتر چیزیں استاد باقاعدہ پڑھاتا ہے اور شاگرد باقاعدہ یاد رکھتا ہے۔ یونیورسٹی کا مروجہ طریقہ تعلیم ظاہر ہے اس سے مختلف بھی تھا۔ ہمارے لیے نیا بھی تھا۔ یہاں استاد سے اتنے گہرے اور براہ راست تعلق کا تجربہ نہیں ہوتا جو مدرسے کے طریقہ تعلیم میں ہوتا ہے۔ لیکن ہماری خوش نصیبی کہ چند استاد ایسے ضرور ملے جو سچ مچ ہمارے براہ راست معلم رہے ان چند میں سے ڈاکٹر اسلم پرویز نے ہمیشہ ہماری رہنمائی کی اور اب بھی جب ضرورت ہوتی ہے ہم اپنے حصے کی شاگردی کا حق استعمال کر لیتے ہیں اور ہمیں کبھی مایوسی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر اسلم پرویز بہت سی ادبی، علمی، تحقیقی وتنقیدی صفات سے متصف ہیں مگرمزاج میں وہ خشکی نہیں ہےجو عام طوپر ’’ادبی صفات ‘‘ کا سائیڈ ایفیکٹ ہوتی ہے۔ بذلہ سنجی اور گفتگو کی شگفتگی ان کے مزاج کا ایسا دلکش پہلو ہے جس سے بے تکلفی کی راہ ہموار ہوتی ہے اور زمانے بعد قربت میں بد ل جاتی ہے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز اپنی تمام تر خود داری ،قابلیت ،شہرت اور ادبی معتبریت کے باوجود ایسے منکسر المزاج اورشریف النفس شخصیت ہیں جو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ وہ دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔
میں جس پیشے سے متعلق ہوں اس میں ہمیشہ یہ خدشہ بنا رہتاہے کہ پروگرام میں شرکت کرنے والوں میں کس کو نہ جانے کون سی بات ناگوار گذرجائے اورپروگرام غلط سمت میں مڑجائے اس لیے شرکا کی ظاہری حالت تو میک اپ سے سدھاری جاسکتی ہے مگراتنی ترقی کے باوجود ابھی تک باطنی حالت کا میک اپ ایجاد نہیں ہوسکا ہے۔ مجھ جیسے لوگوں کو اکثر ایسے امتحانات سے گذرنا پڑتاہے جب ہدایت کار ہوتے ہوئے بھی’’ بے ہدایت‘‘افراد کی ’’منظوم ومنشور ہدایات‘‘ کو ’’ہدیہ‘‘ سمجھ کر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ پروگرامز کی ہدایت کاری کے ساتھ کچھ بزرگوں اور استادوں کے طفیل تھوڑی سی اخلاقی ہدایت بھی حاصل کرلی تھی ورنہ ’’کیا سے کیا‘‘ہونے میں’’کیا ‘ دیر لگتی ہے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز ان مہذب اورمشفق شخصیات میں سے ہیں جو جب بھی تشریف لائے تو نہ صرف اپنی علمیت ،استادی اور مہارت کو ہدایت کا ر پر نہیں لادا بلکہ اسے اپنا کام کرنے کی آزادی اور حوصلہ دیتے ہوئے پر وگرام ریکارڈنگ اوردفتری انتظام کی تکالیف کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا اورمتعلقہ پروگرام کو اپنی مہارت سے فائدہ پہنچایا ۔اعلیٰ ظرفی کی ایسی مثالیںفی زمانہ اتنی کم ہوتی جارہی ہیں کہ سچ مچ کی شفقت کو آنکھیں ترسنے لگی ہیں۔ خدا ایسے سایوں کو قائم رکھے کہ یہی سایے وقت کی کڑی دھوپ میں بھی آمادۂ سفر رکھتے ہیں اور صارفیت کے اس کھارے سمندر میں کچھ ہی جزیرے ہیں جہاں دم لے کر پھر خود کو موجوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ اپنی تیراکی کا بھرم بھی ایسے ہی کچھ جزیروں کا مرہون منت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here