راجیو رنجن تیواری
احتیاطحکومت کی، احتیاط انتظامیہ کی، احتیاط اس نظام کی ، جس کا یہ انعقاد تھا۔حادثہ ملک کے کم سمجھ نوجوانوں کا، حادثہ ملک کے مستقبل کا، حادثہ کنبہ کے اس چراغ کا ،جس سہارے اندھیرے سے اجالے کی طرف جانے کا خواب دیکھا گیا تھا۔یہ بتاتے ہوئے دل کی دھڑکن رک سی جاتی ہے کہ گزشتہ یکم فروری کو انڈو-تبت بارڈر پولس (آئی ٹی بی پی) میںبھرتی ہونے آئے دو درجن سے زیادہ نوجوان یکایک ہی موت کے منہ میں چلے گئے۔ان نوجوانوں کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ روزی روٹی کی تلاش میں بریلی چلے گئے۔روزگار حاصل کرنا ان خواندہ نوجوانوں کا حق ہے۔بے شک اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ بھرتی کے لیے بریلی پہنچے نوجوانوں کی موت کے لیے ذمہ دار کون ہے؟حالانکہ یہ سوال اب منہ چڑانے لگاہے، کیونکہ اس کا جواب جان لینے سے بھی کچھ بننے بگڑنے والا نہیںہے۔
اترپردیش کے شاہجہان پور کے نزدیک روزہ اسٹیشن کے پاس یہ حادثہ گزشتہ یکم فروری کو تب ہواجب ہم گری ایکسپریس کی چھت پر بڑی تعداد میں سوار نوجوانوں میں سے کئی اوور برج سے ٹکرا گئے۔اس حادثے میں دو درجن سے زائد نوجوانوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔آئی ٹی بی پی میں بھرتی کے لیے بریلی گئے طلبا پہلے بھرتی کی جانے والی جگہ پر بدانتظامی سے روبرو ہوئے پھر گھر لوٹنے کی بے چینی نے انہیںکال کے گال میں بھیج دیا۔ریلوے اسٹیشن پر موجود کسی بھی ملاز م یاافسر نے طلبا کو یہ بتانے یا سمجھانے کی کوشش نہیںکی کہ ریلوے کے اس روٹ پر ریل کی چھت پر بیٹھ کر سفر کرنا موت کو دعوت دینا ہے۔نتیجتاً شاہجہان پور اسٹیشن سے پہلے اے سی بوگی کی چھت پر بیٹھے نوجوانوں کو پل کا گاٹر آرے کی طرح کاٹتا چلا گیا۔کچھ نوجوانوں کے جسم کے ٹکڑے نیچے گرے تو درجنوں نوجوان اسٹیشن کے آگے بنے دوسرے فٹ اوور برج وہائی ٹینشن لائن کے اینگلوں سے ٹکرا گئے۔کچھ نوجوانوں نے چین کھینچ کر ٹرین کو روکا اور پتھرائو کے بعد اس کی بوگی میں آگ لگا دی۔
اس حادثہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہماری اتنظامیہ پرانے حادثات سے سبق لینے کو تیار نہیں ہے۔گزشتہ حادثات کو دیکھتے ہوئے حکومت و انتظامیہ اور آئی ٹی بی پی افسران ذرا بھی بیدار رہتے توشاید موت کا یہ منظر دیکھنے کو نہیں ملتا۔عام طور پر آئی ٹی بی پی رجسٹریشن کے بعد بھرتی کا اہتمام کرتی ہے۔ اس سے اسے اس بات کا اندازہ رہتا ہے کہ کتنے امیدوار اکٹھا ہونگے، لیکن اس بار اس روایت کو نظر انداز کیا گیا۔ محکمہ کے افسران کا اندازہ تھاکہ زیادہ سے زیادہ70یا 80ہزار نوجوان آئیں گے، لیکن بھیڑ کئی گنا بڑھ گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ منتظمین کے ہاتھ پائوں پھولے اور پورا نظام منتشر ہوگیا۔ سب سے بڑا مسئلہ امیدواروں اور منتظمین کے درمیان تال میل کا رہا۔اسی سبب جب امیدواروں میں یہ بات پھیلی کہ ضوابط میں تبدیلی ہو گئی ہے تو ان میں غصہ پھیلنے لگا، جو بے قابو ہوگیا۔حالات قابو میں ہونے پر گھر لوٹنے کے لیے ٹرین کی چھت کا سہارا لینے والے کئی طلبا کو شاہجہان پور حادثہ میں جان گنوانی پڑی۔طلبا کے ساتھ ایسا حادثہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔گورنمنٹ ریلوے پولس نے بھی پرانے حادثات سے سبق نہیںلیا ، جس کے سبب طلبا نے گھر واپس جانے کے لیے ٹرین کی چھت کا استعمال کیا۔دراصل پورے معاملے کو ریاستی حکومت نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔خفیہ یونٹس بھی اتنی بھیڑ کو لیکر بے فکر رہیں، جبکہ31جنوری سے ہی اس بات کے اشارے ملنے شروع ہو گئے تھے کہ بریلی میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔طلبا نے نوچندی ایکسپریس میں جگہ نہ ملنے پر پرتاپ گڑھ کے کنڈا ریلوے اسٹیشن پر ہنگامہ کیا اور بوگیوں پر پتھرائو کیا۔لکھنؤ میں بھی یہ یہی حالت رہی، اس کے باوجود احتیاتی قدم نہیں اٹھائے گئے۔
غور طلب ہے کہ یہ لوگ چوتھے درجے کی 416 اسامیوں کے لیے آئے تھے۔ اب جو ہر بار ہوتا ہے، وہ شروع ہوگیا ہے۔ یہ ہے متعلقہ سرکاری محکموں کے درمیان ذمہ داری سے بچنے کا کھیل۔ آئی ٹی بی پی کا کہنا ہے کہ ہم نے اسامیوں کے لیے پولس انتظامیہ کو خط بھیج دیا تھا۔ ڈی ایم کہتے ہیں کہ ہم سے فورس اور سی ایم او مانگے گئے تھے، وہ ہم نے دے دیے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ٹی بی پی والوں نے پولس انتظامیہ کے کسی افسر سے نہ تو کوئی بات چیت کی اور نہ یہ بتایا کہ بھرتی ریلی کتنی بڑی ہوسکتی ہے۔ ضلع انتظامیہ اور پولس نے بھی اس کی سدھ نہیں لی کہ بھرتی ریلی کتنی بڑی ہوسکتی ہے۔ پولس اور انتظامیہ بہت دیر سے جاگے۔ بہرحال ریاستی حکومت بدنظمی کے لیے آئی ٹی بی پی کو ذمہ دار مانتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آئی ٹی بی پی مرکزی حکومت کے زیر انتظام ہے جب کہ جی آر پی ریاستی حکومت کے زیر انتظام ہے اور مقامی انتظامیہ کی اپنی انٹلیجنس پولس بھی ہوتی ہے، جس نے اپنا کام نہیں کیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ روزی روٹی کی تلاش کرتے کرتے ہندوستان کے مستقبل کب تک اپنی جان گنواتے رہیںگے۔ چاہے کشمیر ہو یا کیرل، گجرات ہو یا بنگال، ہر طرف اکثر نوجوانوں کو سرکاری بدانتظامی کا دکھ جھیلنا پڑتا ہے۔ بے شک اکیسویں صدی کا ہندوستان دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا ہے، لیکن یہاں کے سرکاری سسٹم کو یہ کیوں نہیں سمجھ میں آتا کہ بزرگوں کو ڈھونے کے لیے نوجوانوں کے کندھوں کا مضبوط ہونا ضروری ہے یعنی ہندوستان کا 64سالہ جمہوری نظام تبھی باقی رہ سکتا ہے جب نوجوان ہندوستان ہنستا کھلکھلاتا رہے گا، ورنہ کہانی بگڑتی چلی جائے گی، جسے روک پانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ کم سے کم حادثوں سے سبق تو لیا ہی جانا چاہیے۔ ساتھ ہی مسئلے کی جڑ کو ختم کرنے کے لیے عوامی مفاد میں پالیسی بھی بننی چاہیے۔
حالانکہ آئی ٹی بی پی ٹرین حادثہ کو مصر اور تیونس سے جوڑنا ٹھیک نہیں ہے، پھر بھی یہ علم میں رہنا چاہیے کہ آج جو مصر کے حالات ہیں، وہ تیونس کے ایک واقعے کے بعد ہی پیدا ہوئے ہیں۔ تیونس میں ایک بے روزگار نوجوان نے خودکشی کرلی تھی، اس کے بعد ہی وہاں بغاوت شروع ہوئی۔ نتیجہ کے طور پر صدر زین العابدین بن علی کو ملک چھوڑنا پڑا اور اب مصر کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ بہرحال اس طرح کے دردناک حادثوں کو روکنے کے لیے سرکاری نظام کو ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے، ساتھ ہی ہندوستانی نوجوانوں کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here