بنگلہ دیش : بلاگروں کو تحفظ دینے میں حکومت ناکام

Share Article

وسیم احمد
p-8بنگلہ دیش میں شدت پسند تنظیموں کا زور بڑھتا جارہا ہے ۔وہ ہر ایسے افراد کو دھمکی دیتے ہیں یا قتل کردیتے ہیں جو ان کے بتائے ہوئے راستے پر نہیں چلتے ہیں۔ حکومت ملک میں مضبوط جمہوریت کی بات کرتی ہے مگر جس طرح سے ملک کے اندر بلاگروں کا قتل کیا جارہا ہے اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ ڈھاکہ سمیت ملک کے دیگر خطوں میں شدت پسندوں کا زور بہت زیادہ ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایسے حملے روکنے میں ناکامی پر بنگلہ دیش کی حکومت پر تنقید کی ہے۔کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش آزاد خیال بلاگر ہمیشہ سے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں مگر کبھی کسی کو اس طرح سے موت کے گھاٹ نہیں اتارا گیا مگر ادھر کچھ برسوں میں جس طرح سے بلاگروں کا قتل کیا جارہا ہے اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت مذہبی شدت پسندوں کے سامنے بے بس ہے۔ 2013سے اب تک بنگلہ دیش میں کم از کم چھ بلاگ اور ایک آزاد خیال ناشر کو قتل کیا جا چکا ہے۔ابھی حال ہی میں ایک آزاد خیال پروفیسر رضا کریم صدیق کو قتل کردیا گیا۔یہ قتل بتا رہا ہے کہ ملک میں شدت پسندوں کی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔ ان سے پہلے ایک سال کے اندر چار سیکولر بلاگر قتل کیے جا چکے ہیں۔جن چار بلاگروں کو قتل کیا گیا ، ان کے نام ان 84 افراد کی فہرست میں شامل تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خدا کے منکر تھے ۔ان 84افراد کی فہرست کو جے بی ایم(جمعیت المجاہدین بنگلہ دیش) نے 2013 میں جاری کیا تھا۔اس گروپ کی طرف سے ملک میں شیعہ، صوفی، احمدی اور مسیحی اور ہندو اقلیتوں پر بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔
پروفیسر صدیق کے قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پروفیسر صدیق لادینیت کی تبلیغ کرتے تھے ،اس لئے انہیں کردیا گیا۔جبکہ ان کی صاحبزادی رضوانہ حسین کا کہنا ہے کہ ان کے والد خدا پر یقین رکھتے تھے اور انھیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ انھیں کیوں نشانہ بنایا گیا۔ رضوانہ کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ اس قتل کی اصل وجہ کیا ہے۔ کوئی غلط فہمی یا پھر کچھ اور۔ یہ میرے لیے اور میرے خاندان کے لیے سوالیہ نشان ہے۔‘ حالانکہ بنگلہ دیش کی حکومت ملک میں داعش کے وجود سے انکار کرتی ہے اور پروفیسر کے قتل میں کسی شدت پسند تنظیم کے ملوث ہونے کا شبہہ ظاہر کررہی ہے۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قاتل جو بھی حکومت اس پر لگام لگانے میں ناکام کیوں ہے؟
58 سالہ اے ایف ایم رضا الکریم صدیق ملک کے مغرب میں واقع راج شاہی یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر تھے۔جب وہ یونیورسٹی سے اپنے گھر جا رہے تھے تو چند نامعلوم افراد نے ان پر چھرے اور چاقو سے حملہ کر دیاتھا۔ پروفیسر صدیق مختلف قسم کے ثقافتی پروگرامز میں شریک رہتے تھے اور انھوں نے باگ مارا میں ایک سکول قائم کیا تھا۔ یہ علاقہ کالعدم تنظیم جے بی ایم( جمعیت المجاہدین بنگلہ دیش) کا کبھی گڑھ کہا جاتا تھا۔اس گروپ کے چند افراد کو فروری میں ایک کیتھولک پادری پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔لیکن اس طرح کی گرفتاری کے باوجود اس کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔
بنگلہ دیش میں جس طرح سے بلاگروں اور آزاد خیال افراد کا قتل کیا جارہا ہے اور شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں ،اس کو ’آزادی اظہار‘ پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی آزادیِ اظہار اور سیکولر ازم کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔سیکولر بلاگروں کی ہلاکتوں کے بعد ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے احتجاج کیا تھا اور حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ حکومت مذہب کا غلط استعمال کرنے والوں پر تنقید کرنے والے بلاگروں اور دانشوروں کی حفاظت نہیں کر رہی۔حالانکہ پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے کچھ کارروائی کی جاتی ہے مگر یہ ایک حساس معاملہ ہے ۔اس کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جس طرح کی کارروائی ہونی چاہئے ویسی نہیں ہوپارہی ہے۔بنگلہ دیش کی پولیس کے مطابق سیکولر بلاگرز کے قتل کے سلسلے میں ایک برطانوی شہری سمیت مزید تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان دونوں کو رواں سال الگ الگ واقعات میں چاقو اور چھروں کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری توحید الرحمان نے ان دونوں بلاگروں کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر توحید کا تعلق بنگلہ دیش میں کالعدم شدت پسند تنظیم ’انصار اللہ بنگلہ ٹیم‘ سے بتایا جا رہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے بنگلہ دیش میں چار سیکولر بلاگروں کے قتل کے سلسلے میں مزید شواہد مل جائیں گے۔بنگلہ دیش سرکاری طور پر سیکولر ملک ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام نے ان حملوں کو روکنے کے لیے بہت کچھ نہیں کیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں سیکوازم کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے مگر سچائی یہ ہے کہ بنگلہ دیش میںسیکولرازم نہیں ہے اور نہ ہی جمہوریت ہے ۔ یہاں شدت پسند تنظیمیں اسلام کے نام پر تشدد انجام دیتی ہیں۔ اس لئے اس کا بہتر حل یہ ہے کہ بنگلہ دیش کو قانونی طور پر اسلامی ملک ہونے کے بجائے جمہوری ملک قرار دیا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں اسلام شدت پسندوں کی طرف سے اظہار رائے کی آزادی اور تشدد کی راہ اختیار کئے جانے کی وجہ سے بار ہا یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ اس ملک کو اسلامی ملک کے بجائے ایک جمہوری ملک قرار دیا جائے۔ لیکن عدالت میں جب بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تو اسے مسترد کردیا گیا۔ابھی حال ہی میں ڈھاکا: بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے ’اسلام‘ کو بطور سرکاری مذہب حیثیت ختم کرنے کی درخواست مستر د کر د ی ہے۔خیال رہے کہ 1971 میں اپنے قیام کے وقت بنگلہ دیش کو ایک سیکولر ریاست قرار دیا گیا تھا، لیکن 1988 میں حسین محمد ارشاد کی فوجی حکومت نے آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے ’اسلام‘ کو سرکاری مذہب قر ار دیا تھا۔ غیر ملکی خبر رساں ادراے نے ایک وکیل کے حوالے سے بتایا کہ بنگلہ دیش ہائی کورٹ نے ملک میں سیکولرزم کے حامیوں کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کو مسترد کر دیا، جس میں 28 برس قبل ’اسلام‘کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیئے جا نے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق سیکولرازم کے حامیوں کے نمائندہ سبراتا چوہدری کا کہنا تھا کہ انھیں عدالتی فیصلے پر دکھ ہوا۔ بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے شدت پسندی کے رحجان کے بعد اسلام کی بطور سرکاری مذہب حیثیت ختم کرنے کی حالیہ بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب ا س حوالے سے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب بنگلہ دیش میں ’اسلام ‘ کو سر کاری مذہب قرار دیئے جانے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے ۔ ستمبر 2015 میں بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ ایسی ہی ایک درخواست مستر د کر چکی ہے۔
بنگلہ دیش میں 90 فیصد مسلمان، 8 فیصد ہندو اور 2 فیصد دیگر اقلیتیں بستی ہیں۔ملک کی اقلیتوں کا ماننا ہے کہ اگرچہ سرکاری طور پر انہیں ٹارچر نہیں کیا جاتا ہے لیکن کچھ شدت پسند تنظیمیں انہیں ہراساں کرتی ہیں۔ حالیہ کچھ سالوں کے دوران بنگلہ دیش میں اقلیتوں اور غیرملکی شہریوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ امریکی اداروں کی جانب سے متنبہ کیا جا چکا ہے کہ بنگلہ دیش میں شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ اپنے قدم جما رہا ہے،لیکن بنگلہ دیش کی حکومت اس بات کی ہمیشہ ترد ید کرتی رہی ہے۔ بنگلہ دیش جنوری 2014 کے انتخابات کے بعد سے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ان انتخابات کا اپوزیشن جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا جس کی و جہ سے ملک کی بڑی مذہبی پارٹی ‘جماعت اسلامی ‘ اور حزب اختلاف کی نمایاں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنماو¿ں کو 1971 کے متنازع جنگی جرائم میں سزائیں دینا تھا۔بہر کیف بنگلہ دیش کی حکومت بظاہر اسلامی شدت پسندوں پر شکنجہ کستی ہوئی دکھائی دے رہی ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان شدت پسندوں کے پاﺅں اتنے مضبوط ہیں کہ حکومت کی کوششیں ناکام ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔اس لئے حکومت کو ملک میں اظہار رائے کی آزادی اور جمہوریت کی بقا کے لئے شدت پسندی کو ختم کرنے کی خاطر کوئی کارگر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *