ہالینڈ : ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا میں بھی نقاب پر پابندی کا بل منظور

Share Article
burqa-ban-in-holland
ہالینڈ کے ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا نے بھی نقاب پر پابندی کا بل منظور کر لیا جس کے بعد کئی عوامی مقامات پر نقاب پر پابندی لگا دی گئی ہے۔میڈیارپوٹس کے مطابق،ہالینڈ میں ایوان زیریں کے بعد سینیٹ نے بھی عوامی مقامات پرچہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون منظورکرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہالینڈ کے ایوان زیریں نے 2016 میں عوامی مقامات پرچہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون منظور کیا تھا، قانون کے اطلاق کے لیے اسے سینیٹ سے بھی منظوری درکارتھی اور2 سال بعد ملک کے ایوان بالا (سینیٹ) نے بھی اس قانون کی منظوری دے دی ہے۔بہرکیف بل کی منظوری کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ، تعلیمی ادارے، صحت کے ادارے اور اسپتالوں میں نقاب پر پابندی ہوگی۔
میڈیاپورٹس کے مطابق،دائیں بازو کے لیڈر گیرٹ ولڈرز نے نقاب پر پابندی سے متعلق بل کی منظوری کے بعد ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک میں ڈی اسلامائزیشن کی جانب پہلا قدم ہے، اگلا اقدام نیدرلینڈز کی تمام مساجد کو بند کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ بیلجیم، فرانس، ڈنمارک اور اسپین سمیت 13 یوروپی ممالک پہلے ہی نقاب پر پابندی لگا چکے ہیں۔اس سے پہلے سوئٹزر لینڈ میں خواتین کے چہرے کے نقاب پر پابندی کے لیے بل کی معمولی اکثریت سے منظوری دے دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سوئٹزر لینڈ کی تقریباً پانچ فی صد آبادی مسلمان ہے اور ان میں بہت کم خواتین مکمل نقاب یا برقع اوڑھتی ہیں۔یہ بل دائیں بازو کے سیاست دان والٹر ووبمین نے پیش کیا تھا۔ یہ وہی لیڈر ہیں جنھوں نے 2009ء میں سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے نئے میناروں کی تعمیر پر پابندی کے لیے کامیابی سے مہم چلائی تھی۔
بہرکیف ہالینڈ میں ایوان زیریں کے بعد سینیٹ نے بھی عوامی مقامات پرچہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون منظورکرلیا ہے۔ قانون کے مطابق ہالینڈ میں ایسے مقامات پرچہرے کونہیں چھپایا جاسکے گا، جہاں شناخت لازمی ہے۔ ان مقامات میں سرکاری دفاتر، پبلک ٹرانسپورٹ، اسکولزاوراسپتال شامل ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی خاتون کو 500 یورو تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ یورپ کے کئی ممالک میں خواتین کے چہرے کے نقاب پر پابندی کے قوانین منظور ہوچکے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *