ذاکر نائک کے تبلیغ کرنے پر پابندی

متنازعہ مسلم مبلغ ذاکر نائک کے عوامی مقامات پر تبلیغ کرنے پر ملیشیا کی حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔ پولیس نے یہ معلومات پیر کی دیر شب کو دی۔

ذاکرنائک پر ملیشیا میں رہ رہے ہندوؤں اور چینیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے کا الزام ہے۔ انتظامیہ دو دنوں سے ان سے پوچھ گچھ کر رہا تھا۔ نائک کو پچھلی حکومت کی جانب سے ملیشیا کی مستقل شہریت دی گئی تھی۔ وہ گزشتہ تین سالوں سے ملک میں رہ رہے ہیں۔

ملیشیا پولیس نے پابندی عائد کرنے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ کارپوریٹ کمیونیکیشنس داتوک کے پولیس سربراہ اسماوتی احمد نے مالائی میل کو بتایا کہ ہاں ایسے حکم صادرکئے گئے ہیں۔ یہ قدم قومی سلامتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ نائک نے کہا تھا کہ ملیشیا میں رہنے والی بھارتی کمیونٹی ملیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کے مقام پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے زیادہ حامی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *