بہار:ڈگر ہے کٹھن بی جے پی ضلع صدور کی

بالمیکی کمار
9بہار اسمبلی انتخاب 2016 کے بعد بی جے پی ضلع صدر کے انتخاب میں پارٹی کی ریاستی قیادت نے ہوش سنبھالا ہے۔پارٹی مفاد کو بنیاد مانتے ہوئے پارٹی کے اندر نسلی تسلط کی سیاست کو درکنار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ ضلع کی پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے کی سمت میں بھی ایک تجربہ کا اشارہ دیا ہے۔ پارٹی کے اندر ابھرے نسلی گروہ بازی کی رفتار پر بھی لگام لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ باوجود اس کے نومنتخب بی جے پی ضلع صدور کے لئے پیشہ ورانہ طور پر اپنے دور کار کو پورا کرنا ایک چیلنج سے کم نظر نہیں آرہا ہے۔
اب ایک نظر بی جے پی ضلع صدرکے انتخاب پر ڈالا جائے تو ٹھیک رہے گا۔ گزشتہ 21جولائی کو شہر کے ریڈ کراس بھون کے آڈیٹوریم میں منعقد نامزدگی کے عمل کے دوران سیتا مڑھی ضلع میں بی جے پی ضلع صدر عہدے کے لئے کل 14 نام داخل کئے گئے تھے۔تب ڈسٹرکٹ الیکشن کے انچارج انتہائی پسماندہ طبقہ کے صدر پرمود چندر ونشی بھی موجود تھے۔ چندر ونشی کی موجودگی میں ریگا کے سابق بی جے پی ایم ایل اے موتی لال پرساد، ڈومرا ڈویژن کے سابق چیف دنکر پنڈت، اس وقت کے ضلع صدر منوج کمار، منیش کمار، سبودھ کمار سنگھ، سنجیو چودھری، منوج کمار سنگھ، ماگھ وندر کمار، شیام چند سنگھ ،امیتابھ، اشوک ٹھاکر، وشو ناتھ مشر اور اومیش چندر جھا سمیت 14 پارٹی کارکنوں نے نام داخل کئے تھے۔ جبکہ اس سے پہلے شیوہر ضلع میں 6جولائی کو ضلع انتخاب کے انچارج کو ایم ایل سی ارجن سہنی کی موجودگی میں ضلع صدر ڈاکٹر دھرمیندر کیشور مشر، ضلع مہا منتری رام کرپال شرما، یوا مورچہ کے ریجنل انچارج سنجیو کمار پانڈے، راجیو کمار سنگھ اور دنیش پرساد نے نامزدگی کی تھی۔ نامزدگی کے عمل کے بعد ڈسٹرکٹ الیکشن انچارجوں نے فیصلہ پارٹی کی ریاستی قیادت کے حوالے کر دیا تھا۔ تقریباً ایک ماہ کے بعد ریاستی قیادت نے نامزدگی کرنے والوں کی کونڈلی کنگھالنے کے بعد ضلع صدور کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ اس درمیان ضلع پارٹی تنظیم کے کئی لیڈر اپنے چہیتوں کو مذکورہ عہدے پر بیٹھانے کو لے کر قواعد کرتے رہے، لیکن ریاستی قیادت نے اب کی بار سبھی کے منصوبوں پر پانی پھیرتے ہوئے سیتا مڑھی اور شیو ہر ضلع میں ناقابل تصور طریقے سے نئے چہروں کے حوالے پارٹی کی کمان دے دی ہے۔سیتا مڑھی ضلع کی کمان بھومیہار برادری کے سبودھ کمار سنگھ تو شیوہر میں برہمن برادری کے سنجیو کمار پانڈے کو تھمائی ہے۔
سیتا مڑھی ضلع میں سبودھ کمار سنگھ 10 ویں بی جے پی ضلع صدر کی شکل میں چنے گئے ہیں۔ اب تک کے نسلی اعدادو شمار پر غور کریں تو سیتا مڑھی ضلع میں بھومیہار برادری کو سب سے زیادہ چار بار ضلع صدر کا عہدہ سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔ جبکہ ویشہ کو 2 اور برہمن ، دلت ، یادو اور راجپوت برادری کو ایک ایک بار ضلع صدر کا عہدہ سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔ ان میں بھومیہار برادری کے جے ینت پرساد سنگھ عرف بڑکو بابو، للت تیشور، پرساد سنگ اور کرشن موہن سنگھ، راجپوت برادری کے پروفیسر رام چندر پرساد سنگھ، یادو بادری کے اوپندر شکل، دلت سے سونوپ راوت،برہمن سے سوفل جھا کے علاوہ ویشہ برادری سے راما شنکر پرساد اور منوج کمار بی جے پی ضلع صدر رہے ہیں۔ وہیں شیو ہر ضلع میں سنجیو کمار پانڈے آٹھویں ضلع صدر کے طور پر عہدہ سنبھال چکے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ شیو ہر ضلع میں نسلی اعدادو شمار کے مطابق سب سے زیادہ پانچ بار راجپوت برادری کو ضلع صدر کا عہدہ سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔ جبکہ اضافی دور کار برہمنوں کا رہا ہے۔ ان میں راجپوت برادری کے جے رام سنگھ، شیش بھوشن پرساد سنگھ، سرنیدر پرساد سنگھ، نیرج کمار سنگھ اور برہمن برادری کے ڈاکٹر دھرمیندر کیشور مشر رہے ہیں۔ ان میں شیش بھوشن سنگھ اور ڈاکٹر دھرمیندر کیشور مشرا کو دو دو باریہ موقع ہاتھ آیا۔
اب دونوں ہی ضلع کے نو منتخب ضلع صدور کے ممکنہ چیلنجوں پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔ سیتا مڑھی ضلع میں بی جے پی کی حامی رالوسپا کے ٹکٹ پر انتخاب جیتے ممبر پارلیمنٹ رام کمار شرما ہیں تو شیو ہر میں بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ رما دیوی ہیں۔ شیو ہر میں مقامی ایم ایل اے جنتا دل (یو) کے ہیںتو سیتا مڑھی میں بی جے پی کے دو ایم ایل اے ہیں۔ چرچا ہے کہ سیتا مڑھی میں سابق ضلع صدر راما شنکر پرساد کے دور کار کے بعد پارٹی تنظیم نسلی پارٹی ، پارٹی میں داخل ہونے لگی۔ پارٹی کے قریبی ذرائع پر یقین کریں تو عالم یہ ہوا ہے کہ ایک خاص برادری نے پارٹی تنظیم کو مکمل طور پر اپنی جاگیر بنا ڈالی۔نتیجتاً ضلع تنظیم سے جڑے کئی لیڈروں کو ریاست کی جھولی میں جانا پڑا۔ وہیں ضلع تنظیم کے اندر ویسوں کو ترجیح دی جانے لگی جسے پارٹی تنظیم سے کوئی خاص لینا دینا نہیں رہا ۔اب ریاستی قیادت نے اچانک پانسا پلٹ دیا ہے۔ دو محوروں پر گھوم رہی ضلع پارٹی تنظیم کے لئے ایک راستہ بنا دیا ہے۔ ممکن ہے بہتوں کو پارٹی قیادت کافیصلہ صحیح نہیں لگے۔ ایسے میں نو منتخب صدر کو کئی مورچہ پر چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے۔ کم و بیش یہی حال شیو ہر ضلع کا بھی مانا جارہاہے۔
سیاسی پانسا کھیلنے والوں کا ماننا ہے کہ دونوں ہی ضلعوں میں نو منتخب صدور کو وقت کے ساتھ پارٹی کارکنوں سے تال میل کر کے تنظیم کو مضبوط بنانے کی سمت میں پہل کرنی ہوگی۔ اگر نسلی پارٹی،پارٹی سے خود کو کنارہ نہیں کیا تو پارٹی تنظیم کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتاہے۔ وہیں ریاستی قیادت کو بھی ضلع تنظیم پر پینی نظر رکھنی ہوگی۔ صرف کانوں سے سننے کے بجائے زمینی سچائی بھی سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ سڑک پر چائے اسٹال لگا نے والے کارکنوں کے فوٹو سوشل میڈیا پر دیکھنے اور اخباروں کی کلپ جمع کرنے بھر سے ہی تنظیم کی مضبوطی کا خواب دیکھنے سے باز آنا ہوگا۔ شہر میں بڑا بڑا ہورڈنگ اور بینر لگانے کے بجائے گائوں کی گلیوں میں کارکن اور عام آدمی کے بیچ وقت دینا ہوگا۔ ویسے نو منتخب ضلع صدر پارٹی کا جھنڈا کس اونچائی تک لہرا پاتے ہیں اس پر سبھی کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

ہائٹ لائٹ:
ضلع کی پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے کی سمت میں بھی ایک تجربہ کا اشارہ دیا ہے۔ پارٹی کے اندر ابھرے نسلی گروہ بازی کی رفتار پر بھی لگام لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ باوجود اس کے نومنتخب بی جے پی ضلع صدور کے لئے پیشہ ورانہ طور پر اپنے دور کار کو پورا کرنا ایک چیلنج سے کم نظر نہیں آرہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *