کانگریس کے ساتھ نہیں بنی ’آپ‘کی بات!،ساتویں امیدوار کااعلان

Share Article

bs-jakhad

عام آدمی پارٹی نے مغربی دہلی پارلیمانی حلقہ کے لئے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے۔ بلبیر سنگھ جاکھڑ کو پارٹی نے اپنا امیدوار بنایا ہے۔اس کے ساتھ ہی دہلی کی تمام سات لوک سبھا سیٹوں کے لئے ’آپ ‘کے امیدوار پورے ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا انتخابات کے لئے دہلی میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد کے امکانات کمزور پڑ گئی ہیں۔ کیونکہ عام آدمی پارٹی نے اپنے ساتویں امیدوار کا اعلان کر دیا ہے۔ ویسٹ دہلی لوک سبھا سیٹ سے بی ایس جاکھڑ کو امیدوار بنایا ہے۔

قابل ذکرہے کہ بلبیرسنگھ جاکھڑ انّا تحریک سے بھی منسلک رہے اور شروع سے ہی عام آدمی پارٹی کے ساتھ ہیں۔جاکھڑ دہلی کے بار ایسوسی ایشن کی کورڈنیشن کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔عام آدمی پارٹی نے لوک سبھا کی سات سیٹوں میں سے چھ پر امیدوار پہلے ہی اعلان کر دیا تھا۔بہرکیف عام آدمی کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے بی ایس جاکھڑ کے نام کا اعلان اتوار کو پریس کانفرنس کے دوران کیا اور عام آدمی پارٹی نے اس کی اطلاع اپنے آفشیل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی دی ہے۔

 

 

ادھر دہلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کو لے کر عام آدمی پارٹی کے لیڈر مسلسل کہہ رہے ہیں کہ دہلی میں اب اتحاد کا وقت نکل چکا ہے، لہٰذا وہ تمام سیٹوں پر اپنے پروپیگنڈے میں لگ گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی کنوینر گوپال رائے نے کہا کہ ہمارے سروے میں کانگریس کا ووٹ شیئر 7 سے 7.5 فیصد ہے۔ کانگریس کا رویہ ڈھلمل ہے۔ لوگوں میں کانگریس کے تئیں بے حسی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا، ہندو سماج تو ویسے بھی کانگریس کو ووٹ نہیں دے رہا تھا، لیکن جس طرح سے کانگریس نے تین ریاستوں میں کامیابی حاصل کی مسلم سماج میں کانگریس کے تئیں امید جاگی تھی لیکن اب وہ بھی نہیں ہے۔ کانگریس کا رویہ غیر ذمہ داران ہے۔ اب لوگ مان رہے ہیں کہ دہلی میں تمام ساتوں سیٹوں پر بی جے پی کو صرف عام آدمی پارٹی ہرا سکتی ہیں۔

وہیں دوسری طرف ذرائع کے مطابق کانگریس ابھی عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا تھا کہ کانگریس نے ایک سروے اور ایک اپنین پول کروایا ہے، جس میں کانگریس کو عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے پر فائدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈروں نے اس بارے میں کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کی اور ان سے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کے لئے کہا۔ وہیں اتحاد کے خلاف لیڈروں کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *