بڑوانی:نرمدہ سیلابی علاقوں کے گائوں کا کیا ہوگا

Share Article

چوتھی دنیا بیورو
p-4bسردار سرووَر پروجیکٹ سے متاثر خاندانوں کی باز آبادکاری کی مانگ آج تک پوری نہیں ہوئی ہے۔مدھیہ پردیش کے بڑوانی کے کھاریا بھادل سمیت کئی گائوں پر پانی کا قہر ٹوٹا ہوا ہے۔ اس گائوں کو بچانے کے لئے کئی تنظیمیں آندولن کررہی ہیں۔ نرمدہ بچائو آندولن کے بینر تلے میدھا پاٹکر کی قیادت میں گائوں والوں نے’ جل، جنگل اور زمین حق ستیہ گرہ‘ 30 جولائی سے شروع کیا۔ 7اگست تک آتے آتے گائوں کا کئی حصہ سیلاب میں ڈوب گیا تھا،لیکن ریاستی سرکار کی طرف سے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف 9اگست 2016 کو وزیر اعظم نریندر مودی مدھیہ پردیش کے علی راجپورضلع میں تھے۔آزادی کے 70برس پورے ہونے پر وہ شہید چندر شیکھر آزاد کی جائے پیدائش بھابرا گئے تھے۔وہاں سے تقریباً 70کلو میٹر دور بڑوانی ضلع اور تحصیل کے کھاریا بھادل گائوں میں پانی بھرنا شروع ہو گیا تھا۔
غور طلب ہے کہ کھاریا بھادل مدھیہ پردیش کے بڑوانی تحصیل کے 7 فوریسٹ ویلیج میں سے ایک ہے۔30 برسوں سے یہاں کے لوگ باز آبادکاری کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ نرمدہ سیلابی علاقہ کے کسانوں اور آدیواسیوں کو ابھی تک مناسب رہائشی سہولت نہیں ملی ہے۔ دوسری طرف سرکار کی طرف سے سردار سرووَر گیٹ بند کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ اس سے پورے گائوں اور علاقہ پر سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ اسی بات کو لے کر سردار سرووَر باندھ سے متاثر گائوں کے لوگ بڑوانی کے راج گھاٹ پر 30جولائی سے ہی غیر معینہ مدت کے لئے ’جل حق ستیہ گرہ‘ کررہے ہیں۔ میدھا پاٹکر کا کہنا ہے کہ اس سیلابی علاقہ کے کئی گائوں کی اب تک بازآباکاری نہیں ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سرکار سالوں سے ڈوبے گائوں کو اب ڈوبنے سے باہر بتا رہی ہے، لیکن مسئلہ اب بھی جون کا توں بنا ہوا ہے۔ ان کا کہناہے کہ اسی وجہ سے سردار سرووَر ڈیم کے گیٹ لگانے کی مخالفت کی جارہی ہے۔
کھاریا بھادل گائوں کی زمین 7 اگست سے ہی ڈوبنے لگی تھی۔ اس سے ’نرمدہ والی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ‘کا جھوٹ بھی سامنے آگیا جس میں اتھارٹی نے بتایا تھا کہ یہ سیلابی علاقہ نہیں ہے جبکہ یہاں کے خاندانوں کو 2006 سے لے کر اس سال بھی ڈوبنے کے مسائل جھیلنے پڑ رہے ہیں۔ اس بار بھی اگر نرمدہ کی آبی سطح اور بڑھی تو بھادل کے ساتھ ہی آس پاس کے تور کھیرا، کرہی، دھجاڈا، بکرانا کے بھی سیلاب کی زد میں آنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ نرمدہ کی آبی سطح بڑھنے کے ساتھ ہی کھریا بھادل گائوں کے مکمل طور سے ڈوب جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ کئی مکان، زمین اور دکان پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ میدھا پاٹکر کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش سرکار کہتی ہے کہ سردار سروَر باندھ کی زد میں آنے والے سبھی گائوں اور خاندانوں کی بازآبادکاری ہو چکی ہے، لیکن ان کا یہ دعویٰ پوری طرح سے جھوٹا ہے،کیونکہ اب بھی سیلاب سے متاثر علاقوں میں 48ہزار خاندان بس رہے ہیں۔ان کی کوئی خبر نہیں لی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگائے کہ مدھیہ پردیش اور گجرات سرکار کی یہ پالیسی ہے کہ باندھ کے پورا بھرتے ہی جب سیلاب آئے گا تو متاثر لوگ خود ہی گھر زمین چھوڑدیں گے اور سرکار کو بازآبادکاری کا بندوبست نہیں کرنا پڑے گا۔ اگر ایسا ہوا تو 244گائوں اور ایک شہر کو ڈوبوئے جانے کی تیاری سرکار نے کرلی ہے۔
بازآباکاری کے نام پر کھاریا بھادل کے کل 11لوگوں کو کھل گھاٹ میں کھیت ملے، لیکن انہیں آج تک گھر بنانے کے لئے زمین نہیں ملی۔ کھیتی کے لئے جو زمین ملی تھی، اسے لے کر بھی مسئلہ تھا۔ اس گائوں کے لوگوں کو مہیشور تحصیل کی رابرگھاٹی گائوں کی زمین دی گئی تھی۔ بھادل گائوں کے لوگ اس کی مخالفت کررہے تھے۔ جب بازآبادکاری آفیسر نے ان لوگوں کے ساتھ فیلڈ میں جاکر براہ راست انکوائری کی تو پتہ چلا کہ رابرگھاٹی میں 34.350 ہیکٹیئر زمین میں سے 19.350 ہیکٹیئر زمین تو کھیتی لائق ہی نہیں ہے اور باقی زمین پر سالوں پرانے آدیواسیوں کی کھیتی ہیں جس پر ان کا قانونی حق ہے، اس لئے انہیں اس زمین سے ہٹانا ممکن نہیں ہے۔ کھاریا بھادل کے کل خاندانوں میں سے تقریباً 19 ڈکلیئرڈ ٹرائبس کو آج بھی زمین ملنا باقی ہے۔ 2006 سے ہی یہ علاقہ سیلابی علاقوں میں آتا ہے جس سے یہ لوگ بارش میں کھیتی بھی نہیں کر پاتے ہیں۔
باکس:
کیا ہے مطالبہ
۔ زمین کے بدلے زمین فراہم کرائی جائے
۔بازآبادکاری کے بغیر باندھ کی اونچائی نہ بڑھائی جائے
۔ سردار سرووَر کے گیٹ نہیں بند کئے جائیں
۔جھا کمیشن کی رپورٹ عام کی جائے
۔زیرو بیلنس بتایا جارہاہے، جبکہ گائوں میں لوگ رہ رہے ہیں۔
۔باندھ کی اونچائی بڑھانے پر سیلابی علاقہ کم کیسے ہوا،یہ صاف کیا جائے۔
۔ سبھی بازآبادکاری کی جگہوں پر بنیادی سہولت دی جائے۔
۔ مچھواروں کو مچھلی پر حق دیا جائے۔
۔ بے زمین لوگوں کو کاروبار شروع کرنے کے لئے تعاون دیا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *