بدعنوانی کی اڑان پناما سے اٹلی تک

Share Article

دین بندھو کبیر
p-1کالے دھن کی جانچ کرنے اور نگرانی رکھنے کے لےے بنی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کو پناما معاملے کی بھنک کیوں نہیں لگ پائی؟ اخباروں کی سرخیاں بننے کے بعد ہی پی ایم او کو اس بارے میںجانکاری ہوئی اور جانچ کا حکم جاری ہوا۔ پی ایم او نے اس پر توجہ کیوں نہیں دی کہ آخر ایس آئی ٹی کیا کررہی تھی؟ یہ سوال اہم ہے، لیکن اسے پوچھنے اور اس کی وجہ جاننے کے بجائے پورا ملک بے معنی کی بحث میں لگا ہے۔ ملک کے کالے دھن معاملے کی جانچ کتنے صحیح طریقے سے چل رہی ہوگی، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لوگوں کا اس پر دھیان نہیںجا رہا کہ کتنے شاطرانہ طریقے سے پانی کی قلت اور کسانوں کی تباہی کے مسئلے کو بحث کے مرکز سے کھسکا کر پناما ہوتے ہوئے اٹلی لے جایا گیا۔
بہرحال، رشوت لے کرہیلی کاپٹر خریدنے اور کالے دھن کو غیر ممالک میں سرمایہ کاری کرنے کے دو پرانے لیکن تازہ کھلے معاملوں پر چل رہی بحث میںپورا ملک مبتلا ہے۔ پناما لیکس کا مسئلہ ہو یااگسٹا ہیلی کاپٹر ڈیل میںہوئی بھاری رشوت خوری کا، ایسے معاملوں کو الگ الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ بدعنوانی کے معاملوںمیں امتیاز برت کر ملک کو بدعنوانی سے نجات نہیں دلائی جاسکتی۔ پناما لیکس معاملے میںکون کون سی بڑی ہستیاں ملوث ہیں، ان کے نام ابھی ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔ امیتابھ بچن ، ایشوریہ رائے بچن اور کچھ بڑی کمپنیوں کے نام اجاگر ہوئے ، لیکن جیسے ہی بی جے پی لیڈر اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ کے بیٹے ابھشیک سنگھ کا نام سامنے آیا، ویسے ہی بحث کا موضوع بدل گیا۔ اب اگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر ڈیل پھر سے سامنے آگئی اور اس میںاُس دور کی کانگریس سرکار کے علمبرداروں کا نام باضابطہ طور پرسامنے آگیا۔ مختلف ریاستوںمیں اسمبلی انتخابات کے عمل سے گزر رہا ملک، اصلی مدعوں سے بھٹکا ہوا، گھپلوں- گھوٹالوں کی الزام تراشیوں میںہی الجھا ہوا ہے۔ کسی بھی گھوٹالے میں فیصلہ کن کارروائی قانونی کارروائی کی شکل میںآتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مرکز کی سرکار پر قابض بھارتیہ جنتا پارٹی بھی گھپلوں-گھوٹالوں کا سیاسی فائدہ اٹھانے سے آگے قدم بڑھاتے ہوئے دکھائی نہیں دیتی ہے۔
ملک کی مین اسٹریم میںچل رہی بحث میں شامل ہوتے ہوئے ہم پہلے پناما لیکس کے بارے میںاور پھر اگسٹا- ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر ڈیل کی پرتیںکھولیں گے۔ پناما لیکس پر بات کرنے کے لےے جون ڈو کے عرفیت سے مشہور شخص کے ارد گردجانا ہوگا، جس نے سال 2015 کی شروعات میں جرمنی کے ایک اخبار کو کچھ کاغذات دستیاب کرائے، جو پناما ملک اور اس کے ذریعہ ہونے والے ایک بڑے عالمی گھوٹالے کی دستاویز تھیں۔ اس معاملے نے ایک ہی جھٹکے میں پناما کا نام پوری دنیا میں اورخاص طور سے ہندوستان میں زبردست چرچا میںلادیا۔ پناما لیکس سوا کروڑ سے بھی زیادہ خفیہ دستاویزوں کا پلندہ ہے، جس میں2.14 لاکھ کمپنیوںکے بارے میں سنسنی خیز جانکاریاں شامل ہیں۔ ان دستاویزوں کو موسسیک فونسیکا نام کی کمپنی نے مرتب کیا ہے۔ ان میں کمپنی کے شیئر ہولڈرس اور ڈائریکٹرس کی پہچان بھی ہے۔ ان دستاویزوں میںبتایاگیاہے کہ کس طرح رئیسوں اور سرکاری افسروں نے لوگوں کی نظروںسے جائیداد چھپائی۔ جب یہ دستاویزات پہلی بار شائع ہوئیں، تو ان میںپانچ ملکوں ارجینٹینا، آئس لینڈ، سعودی عرب، یوکرین اور متحدہ عرب امارات کے سربراہ شامل تھے۔ ان کے ساتھ40 دوسرے ملکوںکے سربراہان کے نزدیکی رشتہ دار، سرکاری افسران اور ان سربراہان کے نزدیکی معاون شامل تھے۔ ان میں شامل کمپنیوں میں سے آدھی برٹش ورجن آئیلینڈ سے ہیں اور زیادہ تر بینک، قانونی کمپنیاں اور دلال ہانگ کانگ میںہیں۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ موسسیک فونسیکا کے ذریعے وجود میں آئیں کچھ کمپنیاں متعلقہ ملکوں اور بین الاقوامی سطح پر بھی نشیلے مادوں، دھوکہ دہی اور ٹیکس چوری میںشامل رہی ہیں، ایک انجانے وہسل بلوور کے ذریعہ فراہم کرائے گئے کل کاغذات 2.6 ٹیرا بائٹ کے تھے او راس میں1970 تک کے سودوں کا بیورا ہے۔ اس لیک کی دستاویزوں کی بھاری بھرکم شکل دیکھ کر اخبار نے اس کے لےے انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کے انٹر نیشنل گروپ کی خدمات حاصل کیں اور 76 ملکوں کے 400 صحافیوں اور 107 میڈیا تنظیموں کو دستاویزوں کی جانچکرنے کا کام سونپا۔ اس کی پہلی رپورٹ 3اپریل 2016کو شائع ہوئی۔ مئی 2016 تک پوری دستاویز شائع کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہندوستان سے جو کچھ بڑے نام اجاگر ہوئے، ان میںامیتابھ بچن، ایشوریہ رائے بچن، ڈی ایل ایف کے سی ای او کشل پال سنگھ، انڈیا بُلس کے سمیر گہلوت، گوتم اڈانی کے بڑے بھائی ونود اڈانی اور لیڈروں میں مغربی بنگال کے ششر باجوریا، دہلی لوک ستا پارٹی کے انوراگ کجریوال، چھتیس گڑھ کے بی جے پی لیڈر رمن سنگھ کے صاحبزادے ابھشیک سنگھ وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ پناما معاملے میں ہندوستان کے 50 بڑے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ آپ حیرت کریںگے کہ ان بڑے لوگوں کی لسٹ میںاقبا ل مرچی کا نام بھی شامل ہے، جو انڈرورلڈ ڈان داو¿د ابراہیم کا خاص مانا جاتا تھا، جس کی موت تین سال پہلے ہوگئی تھی۔ یعنی پناما لیکس کی وسعت بحرالکاہل سے بھی زیادہ ہے اور گہری ہے، جس نے زمین کے بہت بڑے حصہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ عوام کے دباو¿ پر آئس لینڈ کے وزیر اعظم کا استعفیٰ اور برطانیہ کے وزیر اعظم کی صفائی ہم دیکھ چکے ہیں، لیکن ہندوستان میں اس طرح کی امید نہیں کی جانی چاہےے۔ ہندوستان میں سارا اثر چرچا سے زیادہ نہیںجاتا۔ زیادہ سے زیادہ کینڈل مارچ تک جاسکتا ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جانچ کا حکم دے دیا ہے او رکئی ایجنسیوں کو ملاکر مرکزی سرکار نے انکوائری گروپ بھی بنایا ہے، جس میں مرکزی براہ راست ٹیکس بورڈ (سی بی ڈی ٹی) کی جانچیونٹ ، اس کے فارن ٹیکس اور ٹیکس ریسرچ ڈویژن، فائننسیل انویسٹی گیشن یونٹ اور ریزرو بینک آف انڈیا وغیر ہ شامل ہیں۔ لیکن ہندوستان میںہونے والی جانچ او راس کے نتیجے کو لے کر کوئی امید نہیں جاگتی۔ بوفورس سے لے کر ویاپم تک جانچوں کا کیا حشر ہوا یا ہورہاہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس خلاصے میں جن ہندوستانی ہستیوںکے نام سامنے آئے ہیں، ان کی عزت پر تھوڑا داغ لگنے کے علاوہ قانونی کارروائی کتنی آگے بڑھے گی، اس بارے میںکچھ نہیںکہا جاسکتا۔
ہندوستان میںکارروائی کے نام پر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے پناما پیپرس معاملے میںسپر اسٹار امیتابھ بچن کو سوالوں کی نئی فہرست بھیجی ہے۔ بچن نے بیرون ملک کمپنیاںکھولنے کے الزام سے انکار کیا تھا، جن کا ذکر پناما پیپرس میںتھا۔ امیتابھ بچن نے حال ہی میںانکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کوبھیجے اپنے جواب میںاُن چار کمپنیوں سے کسی طرح کا تعلق ہونے یا ان میں حصہ داری ہونے سے انکارکیا تھا، جن کے بارے میںپناما کی قانونی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی موسسیک فونسیکا کے لیک دستاویزوں میں دعویٰ کیا گیا تھا۔ امیتابھ نے کہا تھا کہ ان کے نام کا غلط استعمال کیا گیا ہے او روہ سی بلک شپنگ کمپنی لمٹیڈ ، لیڈی شپنگ لمٹیڈ، ٹریزر شپنگ لمٹیڈ اور ٹریمپ شپنگ لمٹیڈ کے بارے میںکچھ نہیں جانتے۔ وہ کبھی بھی ان میں سے کسی کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں رہے۔ لیکن بعد میںپناما لیکس سے ملے کاغذات کی بنیاد پر امیتابھ بچن کے یہ دعوے غلط پائے گئے۔ امیتابھ بچن کی اے بی سی ایل لانچ ہونے سے دو سال پہلے ہی مذکورہ چاروں کمپنیاں رجسٹرڈ وہوئی تھیں۔ چاروں کمپنیاں امیش سہائے اور ڈیوڈ مائیکل پیٹ نے قائم کی تھیں۔
اسی طرح امیتابھ بچن کی بہو اور فلم اداکارہ ایشوریہ رائے کا نام بھی پناما معاملے سے جڑا پایا گیا۔ موسسیک فونسیکا کے ریکارڈ سے انکشاف ہوا کہ ایشوریہ رائے رجسٹرڈ کمپنی کی ڈائریکٹر تھیں۔ پرائیویسی برتنے کے ارادے سے نام کواے رائے کر دیا گیا تھا۔ ایشوریہ رائے اور ان کا خاندان تین سال تک ایسی کمپنی کا حصہ رہے ، جو کہ ٹیکس ہیون برٹش ورجن آئیلینڈ میں رجسٹرڈ کی گئی تھی۔ ایشوریہ رائے ، ان کے والد کرشن راج رائے، ماں ورندرا رائے اور بھائی آدتیہ رائے 14 مئی 2005 کو ایمک پارٹنرس لمٹیڈ نام کی کمپنی میں ڈائریکٹر بنائے گئے تھے۔ 18 جون 2005 کو ایمک پارٹنر س لمیٹڈ میںبورڈ پروپوزل لاکر ایشوریہ رائے کو شیئر ہولڈر بنادیا گیاتھا۔ 5 جولائی 2005 کو فونسیکا کے ملازمین کی اندرونی بات چیت میںبھی ایشوریہ رائے کے نام کا ذکر آیا،جس میںرازداری بنائے رکھنے کے لےے ان کا نام چھوٹا کرکے اے رائے کیا گیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق سال 2008 میں ابھشیک بچن سے شادی کے بعد کمپنی کو بند کرنے کا عمل شروع کردیا گیا تھا۔ دستاویزوں میں ایشوریہ رائے اور ان کے خاندان کے ممبران کی جانب سے 18 جون 2005 کو دبئی میںہوئی بورڈ کی میٹنگ میں پاس کےے گئے ایک پروپوزل کا بھی ذکر ملتا ہے، جس میںایشوریہ رائے اور ان کی ماں نے ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن وہ شیئر ہولڈر بنے رہے تھے۔ اس میٹنگ کی صدارت ایشوریہ رائے کے والد نے کی تھی اور پروپوزل پر سبھی نے دستخط کےے تھے۔
ہیلو، میں جون ڈو بول رہا ہوں
پناما لیکس کا معاملہ اس پیغام کے ساتھ شروع ہوتا ہے کہ ہیلو، میں جون ڈو بول رہا ہوں۔ پناما پیپرس نے جرمن اخبار زیوئڈّوئچے-تسائنٹنگ کے دو نوجوان صحافیوں کو دنیا میں مشہور کردیا۔ جنوبی جرمنی میںمیونخ سے شائع ہونے والا یہ روزنامہ جرمنی کے سب سے بڑے اخباروں میںسے ایک ہے ۔ 38 سالہ باسٹیان اوبرمائر اور 32 سال کے فریڈرک اوبرمائر کا نام بھائیوں جیسا ہے، لیکن وہ بھائی نہیں، بلکہ ساتھی کارکن ہیں۔ 3اپریل 2016 کو 76 ملکوں کے 109 اخباروں، ٹیلی ویژن چینلوں او رآن لائن میڈیا میں’پناما پیپرس‘ کی ایک ساتھ اشاعت شروع ہونے سے پہلے سال بھر کی چھان بین اور تیاریوںپر دونوں صحافیوں نے مل کر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ 350 صفحات کی اس کتاب کے جرمن نام کا اردو مطلب ہے، ایک عالم گیر بھانڈہ پھوڑ کی کہانی۔ اپنے کام والے کمرے کو دونوں صحافی وار روم کہتے ہیں۔ اسی وار روم میں موجودہ اور سابق صدور، وزرائے اعظم سمیت دنیا کے 143 ملکوں کے لیڈروں، 50 ارب پتی سرمایہ داروں، سیکڑوں بڑے بڑے منیجروں، کئی نامی کھلاڑیوں، اداکاروں، فنکاروں، اسمگلروں، مافیاو¿ں اور کاروباری بینکوں کی پول کھولنے کا رول تیار ہوا۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں 1941 میںبنی جون ڈو نام کی ایک فلم بہت مقبول ہوئی تھی۔ تبھی سے اپنے آپ کو گمنام رکھ کر خفیہ کاموںمیںلگے امریکی لوگ اپنا تعارف اکثر اسی نام سے کراتے ہیں۔ دونوں صحافیوں کو 21 ملکوںمیں چل رہی 2,14,000 ہزار فرضی فرموں کی پول کھولنے والی ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویز مفت سونپنے والے کون لوگ تھے، اس بارے میںوہ کچھ نہیں بتاتے۔باسٹیان اوبرمائرکا کہنا ہے کہ انھوںنے بالکل نہیں سوچا تھاکہ جس نامعلوم ذرائع نے پیغام بھیجا تھا وہ نہ صرف بدلے میں ایک پیسہ تک نہیں لے گا، بلکہ طرح طرح کی ایسی غیر معمولی جانکاریوں کا انبار لگا دے گا کہ دنیا میںزلزلہ آجائے گا۔ انھوں نے یہ قطعی نہیں سوچا تھا کہ وہ کچھ ایسا کرنے جارہے ہیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے انھیں دنیا بھر میںمشہور کردے گا۔ باسٹیان اور فریڈرک اوبرمائر نے واشنگٹن میں واقع انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کے انٹرنیشنل کولیشن (انٹر نیشنل کنسورٹیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس-آئی سی آئی جے) سے رابطہ کیا۔ آئی سی آئی جے 65 ملکوں کے تقریباً 200 صحافیوں کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے، جوانویسٹی گیٹو جرنلزم کے اجتماعی مفاد میں 1997 میںبنا تھا۔
دیکھےے چوروں کے چہرے
دنیا میں سب سے زیادہ خفیہ ڈھنگ سے کام کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک پناما کی موسسیک فونسیکا کی ایک کروڑ 10 لاکھ خفیہ دستاویز لیک ہوگئیں۔ ان دستاویزوں میں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے خاند ان کے ممبر، روس کے صدر بلادی میر پُتن، آئس لینڈ کے وزیر اعظم سگمنڈر گُنلانگسان، پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف، چین کے صدر شی ژن پنگ کے قریبیوں سے لے کر مصر کے سابق صدر حسنی مبارک سمیت دنیا کے کئی بڑے لیڈروںکے نام ہیں۔ ان لوگوں نے ٹیکس ہیون ملکوںمیں بے شمار املاک جمع کی۔ ان میںقریب 500 ہندوستانیوں کے بھی نام ہیں۔ ان خفیہ دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ امیر او رطاقتور لوگ کس طرح ٹیکس کی چوری کرتے ہیں یا ان طریقوں کا استعمال کرتے ہیں، جن سے انھیںکم ٹیکس بھرنا پڑے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ موسسیک فونسیکا نے کس طرح اپنے گاہکوں کے کالے دھن کو جائز بنانے، پابندی سے بچنے او رٹیکس چوری میںمدد کی۔ لیک ہوئی دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ موسسیک فونسیکا نے کس طرح اپنے گاہکوں کو غیر قانونی دھندوںکی سیکھ دی اور تحفظ دیا۔ یہ کمپنی گزشتہ 40 سال سے بے دھڑک کام کررہی تھی۔ موسسیک فونسیکا کی لیک ہوئی دستاویز 70 سے زیادہ موجودہ اور سابق ملک کے صدور اور تاناشاہوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ دستاویزوں سے پتہ چلا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹے حسین شریف اور حسن شریف اور بیٹی مریم صفدر نے ٹیکس ہیون مانے جانے والے برٹش ورجن آئیلینڈمیںکم سے کم سے کم چار کمپنیاں کھولیں۔ ان کمپنیوںنے لندن میںکم سے کم چھ بڑی پراپرٹیز خریدیں۔ شریف خاندان نے ان پراپرٹیز کو گروی رکھ کر ڈوئچے بینک سے سات ملین گریٹ برٹین پاو¿نڈ یعنی قریب70 کروڑ روپے کا لون حاصل کیا۔ اس کے علاوہ دیگر دو اپارٹمنٹ خریدنے میں بینک آف اسکاٹ لینڈ نے مالی مدد کی۔
ٹیکس چوروں کی جنت
کیمن جزیرہ گروپ: یہ جزیرہ گروپ، دنیا کی کل بینکنگ جائیداد کے مدنظر پندرہویں مقام پر آتاہے اور بڑی ہستیوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں، دونوں کے لےے ٹیکس چوری کے قانونی راستہ مہیا کراتا ہے۔
سویٹزرلینڈ : یہ ملک طویل عرصہ سے کالے دھن کے لےے خفیہ بینکنگ سہولیات فراہم کراکے پوری دنیا کے کالے دھن کا ذخیرہ بن گیا ہے۔ ہندوستان کی بے شمار دولت بھی سویٹزرلینڈ کے بینکوں میں جمع ہے، لیکن ہندوستان کی سرکاریں اسے نکالنے میںنہیں، بلکہ انتخابی مدعا بنانے میں دلچسپی لیتی رہتی ہیں۔
جرسی: انگلینڈ اور فرانس کے بیچ واقع یہ جزیرہ اپنے کم سے کم ٹیکس ڈھانچے کے سبب برطانیہ اور امریکہ کے ٹیکس چوروں کے بیچ خاصامقبول ہے۔ یہاں کارپوریٹ ٹیکس، وراثتی ٹیکس او رکیپٹل گین جیسے ٹیکس تقریباً صفر ہیں۔
آئرلینڈ: ٹیکس چوری کے لےے آئر لینڈ کا نام تب چرچا میںآیا، جب امریکہ کی کچھ بڑی کمپنیوں جیسے فائزر اور ایپل نے آئرلینڈ کی کمپنیوں کے ساتھ ساجھیداری کی اور اس طرح سے سیکڑوں بلین ڈالر کا ٹیکس بچانے میں کامیاب ہوگئےں۔
موناکو: چھوٹا سا ملک موناکو اپنے ٹیکسقوانین کے سبب بے شمار املاک سے بھرگیا ہے۔ وہاں کے ٹیکس قانون کے مطابق اگر آپ وہاں کے رہنے والے ہیں، تو آپ اپنی ساری دولت اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اوراسی قانون نے کچھ ہزار کی شہریت والے اس ملک کو اقتصادی طور پر سپر پاور بنا دیا ہے، جہاں دنیا کا سب سے مہنگا ریئل اسٹیٹ بازار ہے۔
برموڈا: اس کے لچیلے ٹیکس قوانین کے سبب 2014 کے اعدادوشمار کے مطابق فارچیون 500 کمپنیوں میں سے ایک چوتھائی نے وہاں اپنی معاون کمپنیاں کھول کر ٹیکس چوری کاذریعہ تلاش کررکھا ہے۔
ماریشس: بحرہند کا یہ چھوٹا سا ملک دویکر معاہدہ کے ذریعہ کارپوریٹ ٹیکس میںچھوٹ اور کیپٹل گین اورانٹرسٹ کو ٹیکس سے باہر رکھ کر پوری دنیا کے ٹیکس چوروں کے لےے کشش کا مرکز بنا ہوا ہے۔
بہاماس: کیپٹل گین ٹیکس، وراثت ٹیکس، ذاتی انکم ٹیکس او رگفٹ ٹیکس میںچھوٹ کے سبب بہاماس ٹیکس بچانے کا ایک بڑھیا ذریعہ بنا ہواہے۔ بڑی تعداد میں بڑی عمر کے لوگ جن کے پاس بے شمار املاک ہے، یہاں سرمایہ کاری کرکے اپنا عالیشان ریٹائر منٹ پلان بناتے ہیں۔
آئل آف مین: بہت کم ٹیکسوںکی وجہ سے انگلینڈ او رآئر لینڈ کے بیچ کا یہ جزیرہ گروپ کالے دھن کے ایک جانے مانے گڑھ کی شکل میں تیار ہوگیا ہے۔
اگسٹا-ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر ڈیل میںبھاری کمیشن خوری کی تصدیق  ہندوستان ٹٹولتا رہ گیا، اٹلی نے مہر لگادی
اگسٹا – ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر ڈیلپر کمیشن خوری کی الزام تراشیاںہوتی رہیں اور اس پر سیاست بھی ہوتی رہی، لیکن حکومت کوجانچ میںکچھ ٹھوس ثبوت حاصل نہیںہوپائے۔ ہندوستانی ایجنسیاںاندھیرے میںٹٹولتی رہ گئیں اوراٹلی کی عدالت نے سرکاری طور پر یہ مان لیا کہ اگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں 125 کروڑ روپے کمیشن کے طور پر لےے گئے تھے۔ عدالت نے اگسٹا -ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر کمپنی کے مالک اُرسی اور کمپنی فنمیک کینکا کو رشوت دینے کا مجرم قرار دیا ہے۔اُرسی کو ساڑھے چار سال کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ اگسٹا- ویسٹ لینڈ کمپنی نے سال 2010 میں ہندوستان سے 3600 کروڑ میں 12 وی وی آئی پی ہیلی کاپٹروں کا سودا کیا تھا۔
اٹلی کی میلان کورٹ آف اپیلس نے مانا ہے کہ ہیلی کاپٹر ڈیل میں بدعنوانی ہوئی اور اس میں ہندوستانی فوج کے اس دور کے سربراہ ایئر چیف مارشل ایس پی تیاگی بھی شامل تھے۔ سرکار نے اب روم میں واقع انڈین ایمبیسی سے کورٹ کے فیصلے کا پورا بیورا مانگا ہے۔ یہ ثابت ہوگیاہے کہ ہیلی کاپٹر ڈیل میں ہندوستانی افسروں کو 10سے 15 ملین ڈالر کی رشوت دی گئی تھی۔ اٹلی کی عدالت کے 225 صفحات کے فیصلے میں الگ سے 17 صفحات صرف سابق ایئر چیف ایس پی تیاگی کے بارے میں ہیں۔
اٹلی کی عدالت نے یہ ثابت کردیاکہ تین سال تک جس گھوٹالے کی حکومت ہند کو بھنک تک نہیں لگی، اس معاملے کے اہم کردار آخر کون کون لوگ تھے۔ اگسٹا- ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر ڈیل معاملے کا پہلا کردار کرشچین مشیل ہے۔ برطانیہ کارہنے والا مشیل ہتھیاروں کا ایجنٹ ہے او راگسٹا – ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میںبچولیا تھا۔ مشیل فی الحال فرار ہے۔ اس معاملے میں دوسرا اہم کردار اگسٹا- ویسٹ لینڈ کی اصل کمپنی فنمیک کینکاکا سابق سی ای او جوسیپّے اُرسی ہے۔ ہیلی کاپٹر ڈیل میں رشوت دینے کے الزام میں اُرسی کو ساڑھے چار سال کی قید کی سزا ملی ہے۔ ہیلی کاپٹر معاملے میںتیسرا اہم رول برونو اسپینیولینی کا تھا۔ اگسٹا- ویسٹ لینڈ کا سابق سی ای او برونو ہیلی کاپٹر ڈیل کے معاملے میںہی گرفتار ہوا تھااور اسے چار سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ ہیلی کاپٹر ڈیل معاملے کے چوتھے اہم کردار اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ ہیں۔ فنمیک کینکا کے سابق سی ای او جوسیپّے اُرسی نے اپنے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اٹلی کے اس وقت کے وزیر اعظم ماریو مونٹی یا ایمبیسڈر ٹیراسیانو سے رابطہ کریں، جو ان کی طرف سے منموہن سنگھ سے سودے کے بارے میںبات کرسکتے ہیں۔ اٹلی کی عدالت میں چلی کارروائی میں کانگریس اور یو پی اے چیئر پرسن سونیا گاندھی کا نام اہمیت کے ساتھ آیا۔ عدالت کے فیصلے میں چار جگہ سونیا گاندھی کے نام کا ذکر ہے۔ کرشچین مشیل نے اگسٹا- ویسٹ لینڈ کو لکھے خط میں کہا ہے کہ سونیا گاندھی ہی نئے ہیلی کاپٹرس کے پیچھے اصلی ڈرائیونگ فورس ہیں۔ اس وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر ڈیل میںچھٹے اہم کردار کے طور پر کانگریسی لیڈر اور سونیا گاندھی خاندان کے وفادار احمد پٹیل کا نام آیا ہے۔ اٹلی کی عدالت میںچلی کارروائی میں احمد پٹیل کا نام تین بار آیا ہے۔ ساتویں کردار کے طور پر کانگریسی لیڈر اور سونیا گاندھی کے قریبی آسکر فرنانڈیز کا نام آیا ہے۔ ہیلی کاپٹر ڈیل میں بچولیا رہے گائیڈو ہیشکے نے اٹلی کی عدالت میںکہا کہ آسکر فرنانڈیز بھی سودے کا حصہ تھے۔ قابل ذکر ہے کہ ڈیل کے تحت اگسٹا- ویسٹ لینڈ کے تین ہیلی کاپٹر ہندوستان آچکے تھے، لیکن تنازعہ کے سبب تینوں ہیلی کاپٹرس کو استعمال میں نہیںلایا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ دفاعی شعبے سے جڑی اٹلی کی مشہور کمپنی فنمیک کینکا کی معاون کمپنی اگسٹا- ویسٹ لینڈ سے یو پی اے سرکار نے سال 2010 میں 12 ہیلی کاپٹر خریدنے کا سودا کیا تھا۔ درجن بھر ہیلی کاپٹر کے بدلے 36 سو کروڑ روپے دینے کامعاہدہ کیا گیا تھا۔ تین ہیلی کاپٹرس کی ڈلیوری بھی ہوگئی ۔ لیکن آسمان میں جانے سے پہلے ہی اس کی اڑان پر بریک لگ گیا۔ 2013 میںفنمیک کینکا کے سی ای او جوسیپّے اُرسی کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان پر ہندوستانی فوج سے ہیلی کاپٹر سودا طے کرنے کے لےے رشوت دینے کا الزام تھا۔ اٹلی کی پولیس نے اُرسی کی فون پر بات چیت کو ٹیپ کیا تھا، جس سے رشوت کے معاملے کا انکشاف ہوا۔ اگسٹا- ویسٹ لینڈ کے سی ای او برونو اسپینیولینی کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ اسپینیولینی کی گرفتاری کے بعد یو پی اے سرکار نے ہیلی کاپٹر کی خرید پر روک لگادی اور وزیر دفاع اے کے انٹونی نے جانچ بٹھادی تھی۔
اگسٹا-ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر ڈیل میںکانگریسی لیڈروں کی ملی بھگت پر اٹلی کی عدالت کے ذریعہ مہر لگا دینے سے ہندوستان میں سیاست اچانک گرما گئی ہے۔ لوک سبھا سے راجیہ سبھا اور راج پتھ سے لے کر جن پتھ تک اسی کو لے کر بحث مباحثہ اور گرماگرمی ہورہی ہے۔ بات بہادری میں ماہر کانگریسی لیڈر دگوجے سنگھ تو یہاںتک بول گئے کہ یو پی اے کی سرکار نے ہی اگسٹا- ویسٹ لینڈ کمپنی کو بلیک لسٹ کیا تھا، جبکہ مودی سرکار نے چارج سنبھالنے کے بعد کمپنی پر پابندی لگانے کی رسم آگے بڑھائی۔ اسی طرح راجیہ سبھا میں کانگریسی لیڈر غلام نبی آزاد نے بھی کرشچین مشیل کے لکھے خط کا حوالہ دیتے ہوئے جھینپ مٹانے کی کوشش کی۔ کانگریس کی چیئر پرسن سونیا گاندھی نے بھی کہا کہ وہ الزامات سے نہیںڈرتیں۔ سونیا کہتی ہیںکہ اس معاملے میںصرف جھوٹ بولا جارہا ہے، اگر سرکار کو سچائی سامنے لانا ہوتی، تو دو سال میںجانچ پوری کرلی گئی ہوتی۔
فضائیہ کی پیٹھ میںچھرا گھونپا تھا تیاگی نے
اگسٹا- ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹرڈیل کے معاملے میں اٹلی کی عدالت نے اپنے فیصلے میںیہ ماناہے کہ ڈیل میںہوئی بدعنوانی میںہندوستان کے اس دور کے فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ایس پی تیاگی بھی شامل تھے۔ فضائیہ کے سربراہ رہتے ہوئے تیاگی نے وی وی آئی پی ہیلی کاپٹروں کی زیادہ سے زیادہ فلائنگ ہائٹ 6,000 سے گھٹاکر 4,500 میٹر کرنے کی منظوری دی تھی۔ فلائٹ ہائٹ کم کرنے کی وجہ سے ہی اگسٹا- ویسٹ لینڈ کو کانٹریکٹ ملا، لیکن یہ منظوری حفاظتی معیا رکے مطابق غلط اور غیر قانونی تھی۔ اگر فلائٹ ہائٹ کم نہیںکی جاتی، تو اگسٹا-ویسٹ لینڈ کمپنی بولی میں شامل ہی نہیں ہوپاتی۔ انڈین ایئر فورس وزارت دفاع سے لگاتار یہ مانگ کر رہا تھا کہ اسے ایسے ہیلی کاپٹر دےے جائیں، جو سیاچن جیسے اونچے پہاڑی علاقوں میںجانے کی اہلیت رکھتے ہوں اور 6000 میٹر تک کی اونچائی پر اڑان بھر سکیں۔ ٹیسٹ میںپایا گیا کہ اگسٹاکے ہیلی کاپٹر 6000 میٹر کے بجائے 4,572 میٹر تک ہی جاپارہے تھے۔ بچولیوں نے 6000 میٹر تک اڑ پانے میں اہل پائے جانے کے باوجود فضائیہ کے سربراہ کو رشوت دے کر منظوری حاصل کرلی۔ تیاگی کو فضائیہ کی پیٹھ میںچھرا گھونپتے ہوئے نہ تو دیر لگی اور نہ ہی شرم آئی۔ تکنیکی شرائط میںتبدیلی کے لےے اگسٹا- ویسٹ لینڈ نے مختلف سطحوں پر تین کروڑ یورو کی رشوت دی۔ آج یہ رقم 225 کروڑ روپے کے قریب ہے۔
اٹلی کی عدالت نے کہا کہ اس سودے کے دوران ایک سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا غیر قانونی فنڈ صرف افسروں تک پہنچا۔ عدالت کے 225 صفحات کے فیصلے میں17 صفحات میں بتایا گیا ہے کہ فضائیہ کے سابق سربراہ ایس پی تیاگی کے خاندان کورشوت کے پیسے نقد اور وائر کے ذریعہ دےے گئے۔ ا س میںتیاگی کے تین رشتہ دار شامل تھے۔ حالانکہ اٹلی کی عدالت نے تیاگی کو پیشی کے لےے اس لےے نہیں بلایا، کیونکہ ہندوستان میںانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی ان کے خلاف بدعنوانی کی جانچ کر رہی تھی۔ اٹلی کے میلان کورٹ میںیہ ثابت نہیں ہوا کہ ہندوستان میں رشوت کسے کسے دی گئی، لیکن الزام ہے کہ رشوت کا اچھا خاصا حصہ فضائیہ کے سابق سربراہ ایس پی تیاگی کے ساتھ ان کے تین رشتہ داروں کو دیا گیا۔ شروعاتی جانچ میں الزام لگا کہ تیاگی کے قریبی رشتہ دار جولی، سندیپ اور ڈاسکا کے ذریعہ رشوت دی گئی۔ رشوت کی رقم سیدھے نہ دے کر دو کمپنیوںآئی ڈی ایس ٹیونیشیااور آئی ڈی ایس انڈیا کی معرفت د ی گئی۔ اٹلی کے میلان کی عدالت کے تازہ فیصلے میں تیاگی کا نام کئی بار لیا گیا ہے۔ اٹلی کی عدالت کے 225 صفحات کے اس فیصلے میں الزام لگایا گیا ہے کہ سودے کے لےے تیاگی خاندان کوسیدھے ایک کروڑ پانچ لاکھ یورو یعنی تقریباً 80 کروڑ روپے دےے گئے تھے۔
دلالی میں سابق کانگریسی وزیر کا بھائی بھی شامل
ہیلی کاپٹر ڈیل گھوٹالے میں سابق مرکزی کوئلہ وزیر مملکت سنتوش باگروڈیا کے بھائی ستیش باگروڈیا کا نام بھی آیا ہے۔ ستیش باگروڈیا چنڈی گڑھ کی اس کمپنی میںڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات ہیں، جس نے اگسٹا- ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر ڈیل میں رشوت دینے کے لےے پیسے لےے تھے۔ ستیش باگروڈیا چنڈی گڑھ کی سافٹ ویئر کمپنی آئی ڈی ایس انفوٹیک کے ڈائریکٹر ہیں۔ اٹلی کے تفتیش کاروں نے آئی ڈی ایس کو اگسٹا- ویسٹ لینڈ سے ہوئے سودے میںرشوت کی رقم ہندوستان پہنچانے کے لےے ذمہ دار بتایا ہے۔ الزام ہے کہ کمپنی نے فرضی سافٹ ویئر اور انجینئرنگ پروجیکٹ بناکر اٹلی کی کمپنی سے ہندوستان میں پیسہ منگوایا تھا۔ اٹلی کے جانچ کرنے والوں کا ماننا ہے کہ ایک مارچ 2007کو دونوں فرموں کے بیچ ہوا قرار دلالی کی رقم کو ہندوستان پہنچانے کے لےے کیا گیا تھا۔
۔۔۔اور اس طرح پروان چڑھا ہیلی کاپٹر ڈیل گھوٹالہ
اگست 1999 میں اٹل بہاری واجپئی کی سرکار نے ایم آئی 8- ہیلی کاپٹروں کے پرانے ہونے کے سبب نئے ہیلی کاپٹرس خریدنے کی تجویز رکھی تھی۔
مارچ 2002 میںہیلی کاپٹرس خریدنے کے لےے گلوبل ٹینڈر ڈالا گیا، تاکہ نئے وی وی آئی پی ہیلی کاپٹرس خریدے جاسکیں۔ ان ہیلی کاپٹروں کا استعمال ہندوستان کی انتہائی اہم ہستیوں (وی وی آئی پی) کے لےے ہونا تھا۔
2004 میںاٹل سرکار جاتی رہی۔ مرکز میں آئی کانگریس سرکار نے وی وی آئی پی ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا عمل شروع کیا۔اسی سال یو پی اے سرکار ایک پروویژن (انٹےگریٹی کلاز) لاگو کرتی ہے، جس کے مطابق ہر دفاعی سودے سے پہلے کلاز پر سائن کیاجاناضروری کیا گیا کہ ڈیل کے دوران اگر کسی بچولےے کا استعمال ہوا، تو ڈیل رد کردی جائے گی۔ یہی کلاز آگے جاکر یو پی اے کے پھنسنے کی بڑی وجہ بنا۔
2005میں شروع ہوا عمل رفتہ رفتہ آگے بڑھتا رہا، لیکن اسے سال 2010 میں تب ہری جھنڈی ملی، جب یو پی اے کیبنٹ کمیٹی نے 12 ہیلی کاپٹروں کی خریداری کی تجویز پاس کردی۔
تجویز پاس ہونے کے بعد وزارت دفاع نے 2010 میں اٹلی کی ہیلی کاپٹر کمپنی اگسٹا- ویسٹ لینڈ سے سودا طے کیا۔ اگسٹا-ویسٹ لینڈ نے یہ ٹھیکہ امریکی کمپنی سیکوسرکی ایئر کرافٹ سمیت کئی کمپنیوں کو پچھاڑ کر حاصل کرلیا۔
فروری 2012 میںاٹلی کی جانچ ایجنسی نے کہا کہ اگسٹا- ویسٹ لینڈ کی اصلی کمپنی فنمیک کینکا نے ڈیل حاصل کرنے کے لےے ہندوستان کے کچھ لیڈروں اور افسروں کو رشوت دی ہے۔ اٹلی کے جانچ افسروں نے ڈیل کو غیر قانونی بتایا۔ ڈیل کرانے میں تین دلالوں کرشچین مشیل، گائیڈو ہیشکے اور پیٹر ہولیٹ کے شامل ہونے کا پتہ چلا۔ یعنی مقررہ پروویژن کے مطابق پہلی نظر میں ہی ڈیل غلط ثابت ہوئی۔ حالانکہ بچولیا گائیڈو ہیشکے نے گھوٹالے سے جڑی سبھی اطلاعات اور حقائق اپنے کمپیوٹر سے مٹا دےے تھے، لیکن اطالوی جانچ کرنے والوں نے اس کی ہارڈ ڈسک سے ان سبھی جانکاریوں کو حاصل کرلیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی ماںکے گھر میں چھپائی گئےں کئی دیگر اہم دستاویز برآمد کی تھیں۔ اطالوی تفتیش کاروں نے اس کے کمپیوٹر ڈرائیو میںملی دستاویز ات کوبھانومتی کا پٹارہ قرار دیا تھا۔ اس میں گائیڈو ہیشکے نے اٹلی اور لُگانو میںہندوستانی ثالثوں سے ملاقات اور فنمیک کینکا سمیت مختلف بین الاقوامی لین دین کا تفصیل کے ساتھ درج کر رکھا تھا۔
-7اٹلی کی عدالت میں 2012 میں مقدمہ درج ہوا۔

فروری 2013 میں اگسٹا- ویسٹ لینڈ کی اصلی کمپنی فنمیک کینکا کے سی ای او برونو اسپینیولینی کو اٹلی کی پولیس نے گرفتار کرلیا۔ کمپنی پرالزام لگا کہ کانٹرکیٹ حاصل کرنے کے لےے قریب 375 کروڑ روپے رشوت میں دےے گئے۔
آگے کی جانچ میں پتہ چلا کہ کمپنی اور حکومت ہند کے بیچ سودا کرانے کے لےے دلالوں نے کچھ کوڈ – ورڈ استعمال کےے، جو ہندوستان کے سیاستدانوں، افسروں، رشتہ داروں او ردلالوں کی عکاسی کرتے تھے۔
2013 میں اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو دی گئی۔ سی بی آئی نے گیارہ لوگوں کے خلاف جانچ شروع کی۔ فضائیہ کے سابق سربراہ ایس پی تیاگی سمیت 12 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔ لیکن سی بی آئی کی جانچ کافی سست رفتارسے چلتی رہی۔
جنوری 2014 میں یوپی اے 2- سرکار نے اگسٹا- ویسٹ لینڈ کے ساتھ سودا منسوخ کردیا۔
اکتوبر 2014 میں اٹلی میں گرفتار فنمیک کینکا کے سی ای او برونو اسپینیولینی کو بری کردیاگیا۔ کہا گیا کہ ڈیل میں ہوئی رشوت بازی معاملے میں برونو بے قصور ہیں۔
اپریل 2016 میں اٹلی کے میلان کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کردیا۔ میلان کورٹ نے فنمیک کینکا کے سی ای او اسپینیولینی کو قصوروار مانا۔ اگسٹا- ویسٹ لینڈ کے سابق چیف کو بھی قصوروار مانا گیا۔
اپریل 2016 کو اٹلی کے میلان کورٹ سے اس معاملے میںآخری فیصلہ آیا،جس نے اگسٹا- ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر ڈیل کی پوری کہانی کو اجاگر کرکے رکھ دیا۔

آر بی آئی قانون کا سہارا لے کر کھولی گئیں کمپنیاں
پناما لیکس سے سامنے آئے ہندوستانیوں کے کل کھاتوں میں سے 90 فیصد آر بی آئی کی لبرلائزڈ ریمیٹنس اسکیم (ایل آر ایس)کے تحت کھولے گئے ہیں۔ پناما پیپرس کے ذریعہ سامنے آئے تقریبا ً500 ہندوستانیوں کے غیر ملکی کھاتوں میں سے تقریباً 90 فیصد کھاتے قانون کے تحت صحیح پائے گئے ہیں۔ ابتدائی جانچ میں پایا گیا ہے کہ خدشات کے برعکس اس معاملے میں بڑے پیمانے پر ویسی گڑ بڑی نہیں ہے۔ پناما پیپرس سے سامنے آئے زیادہ تر غیر ملکی کھاتوں کے معاملے میں آر بی آئی کے قانون کا فالو کیا گیا ہے۔ سرکاری طور پر کہا گیا ہے کہ تقریباً 90 فیصد کھاتوں میں آر بی آئی کی لبرائزڈ ریمیٹنس اسکیم ( ایل آر ایس ) کا استعمال کیا گیا ہے۔ باقی بچے ہوئے جو کھاتے قانون کے برخلاف کھولے گئے ہیں، ان کے کھاتہ ہولڈروں پر ہی اب کارروائی کی جائے گی۔ 2004 میں لاگو کی گئی ایل آر ایس اسکیم کے تحت ہندوستانی شہری اپنی آمدنی کا وہ حصہ غیرملک بھیج سکتے ہیں جس پر ہندوستان میں انکم ٹیکس چکا دیا گیا ہو۔ اس پیسے سے غیر ملکوں میں کھاتے کھولے جاسکتے ہیں، جائیداد خریدی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی غیر ملکی شیئر بازاروں میں سرمایا کاری کی جاسکتی ہے۔ حالانکہ اس اسکیم کے تحت غیر ملکوں میں پیسہ بھیجنے کی کچھ حدیں بھی ہیں۔ 2004 میں جب وہ اسکیم شروع کی گئی تھی، تب ایک مالی سال میں صرف 25 ہزار ڈالر یعنی 15 لاکھ روپے ہی باہر لے جائے جاسکتے تھے۔ اب اسے بڑھا کر دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر یعنی 1.63 کروڑ روپے کیا جا چکا ہے۔
اس سے پہلے پنامہ لیکس پر ہو رہے ہنگامے کے درمیان ریزرو بینک آف انڈیا ( آر بی آئی ) کے گورنر رگھو رام راجن نے بھی کچھ ایسے ہی اشارے دیتے ہوئے کہا تھا کہ جلد بازی میں کوئی نتیجہ نہیں نکالا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات پر دھیان دیا جائے کہ غیر ملک میں کھاتے کھولنے کی واجب وجہ بھی ہوتی ہے اور یہ قانون کے تحت کھولے جاسکتے ہیں۔ پناما لیکس معاملے میں سرکار کے ذریعہ بنائی گئی جانچ ٹیم میں آر بی آئی بھی شامل ہے۔ وہیں ان لوگوں پر سرکار کے ذریعہ سخت کارروائی کئے جانے کے اشارے ملے ہیں، جنہوں نے ملک میں کالا دھن قانون لاگو ہونے سے پہلے ون تائم امنیسٹی اسکیم کے تحت غیر ملکوں میں رکھی اپنی غیر اعلانیہ جائیداد کا خلاصہ نہیں کیا تھا۔ گزشتہ سال جولائی سے ستمبر تک چلی اس اسکیم میں ہندوستان کی سرکار نے لوگوں کو غیر ملکوں میں رکھی اپنی غیر اعلانیہ جائیداد کے بارے میں اعلان کرنے کا موقع دیا تھا۔ اس اسکیم کے ذریعہ لوگ اپنی غیر اعلانیہ جائیداد پر 30فیصد ٹیکس اور 30 فیصد پنالٹی دے کر سزا سے بچ سکتے تھے۔ سرکار نے یہ بھی کہا تھا کہ جو لوگ اس اسکیم کے تحت اپنی غیر اعلانیہ جائیداد کا اعلان نہیں کریں گے، انہیں کالا دھن قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ 10سال کی سزا ہو سکتی ہے۔
عوامی ہوں گے پناما لیکس کے دستاویز
دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا خلاصہ کرنے والے پناما لیکس سے جڑے دستاویزوں کے ذخیرے کو 9مئی کو عوامی کئے جانے کا امکان ہے۔ انٹرنیشنل کنسورٹیم آف انویسٹی گیٹوجنرلسٹ ( آئی سی آئی جے) نے کہا ہے کہ ڈاٹا بیس میں ہانگ کانگ سے لے کر امریکہ کے نواڈا تک 21 ٹیکس پناہ گاہوں ( ٹیکس ہیون) میں 2,00,000 خفیہ کمپنیوں، ٹرسٹوں اور فاﺅنڈیشنوں کے بارے میں اطلاع ہے۔ اپریل کی ابتدا میں تقریبا ً100 میڈیا آرگنائزیشن کے ذریعہ سے آئی سی آئی جے کورڈینیٹیڈ لمیٹیڈ کے ذریعہ پناما کاغذاتوں کو جاری کئے جانے سے دنیا بھر کا گھوٹالہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد کئی ملکوں میں جانچ بیٹھائی گئی اور آئس لینڈ کے وزیر اعظم اور اسپین کے وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔ پناما کالاءفارم’ موس سیک فونسیکا‘ کے لیک ہوئے 1.15 کروڑ دستاویزوں سے ٹیکس چرانے کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کا خلاصہ ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *