پاکستانی سپریم کورٹ سے بری پھر بھی آسیہ بی بی کی جان خطرے میں

Share Article

پاکستان کے ہزاروں مرد اور بچے تقریباً ایک ہفتہ سے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک غریب، نحیف، مسیحی خاتون کو سولی پر چڑھادیا جائے جو تقریباً 8 برسوں تک جیل میں رہی۔ سڑک پر اترے ہوئے ان لوگوں کا خیال ہے کہ آسیہ بی بی نامی ان خاتون نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی تھی اس لیے ان کا سر تن سے جدا ہونا چاہیے، اسے سولی پر چڑھا دینا چاہئے،کیونکہ اب اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
پاکستان میں پچھلے 25 سال میں 60 سے زیادہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے جن پر توہین مذہب یا پیغمبر اسلام کی توہین کا الزام تھا۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ذاتی رنجشوں حتی کہ جائیداد کے تنازعات میں بھی توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے۔ توہین مذہب کا یہ قانون آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کیس میں بری کئے جانے کے بعد دوبارہ سرخیوں میں ہے۔
یہ بات اپنی جگہ بالکل سچ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمان اپنے نبی کی شان کے معاملے میں بجا طور بہت حساس ہوتے ہیں،لیکن عموماً اس سلسلہ میں ایک کمزور پہلو یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی نے کوئی گستاخی کی ہو یا نہ کی ہو، اگر کسی نے کسی کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ اس نے گستاخی کی ہے بس مسلمان آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔خاص طور پر پاکستان میں یہ چیزیں زیادہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔وہاںاس طرح کے معاملوں میں خبر کی تصدیق کرنے کے بجائے سنی سنائی باتوں پر یقین کرلینا اور پھر نعرے بازی، مظاہرے اور سڑکوں پر نکل جانا ایک فیشن کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے ۔اس کے بعد تو بیچارہ انسان جس پر الزام عائد کیا گیا ، وضاحتیں دیتے دیتے مر جاتا ہے کہ بھائی میں کیسے اتنی بڑی ہستی کی شان میں گستاخی کر سکتا ہوں؟ لیکن کوئی ماننے کو تیار نہیں ،بس بضد ہوتے ہیں کہ کہا ہے یا نہیں کہا، بس الزام لگ گیا تو سر تو تن سے جدا ہو گا ہی ہوگا۔

 

 

 

پاکستان کی جو صورت حال ہے ،اس کو دیکھتے ہوئے یہ تو سوچا ہی جاسکتا ہے کہ پاکستان کی اقلیتیں جتنی کمزور ہیں اور جس طرح کا رویہ وہاں کے لوگ ان کے ساتھ روا رکھتے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے کیا کوئی سالم شعور انسان سمجھ سکتا ہے کہ ان کی ایسی ہمت ہو گی کہ وہ مسلمانوں کے نبی کی شان میں گستاخی کا سوچ بھی سکیں؟۔ اقلیتی طبقہ چاہے وہ کسی بھی ملک میں ہو ڈرا سہما رہتا ہے ، ایسے میں کوئی اقلیتی شخص مکمل پاگل ہی ہوگا جو نبی کی شان میں گستاخی کرنے کی جرأت کرے گا۔
یہ مظاہرین جو پاکستان کی سڑکوں پر منڈلاتے پھر رہے ہیں اور چیخ چیخ کر آسیہ بی بی کے قتل کا مطالبہ کررہے ہیں، ان میں سے بہتوں کو ذاتی طور پریہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ آسیہ بی بی نے گاؤں اٹاں والی میں اپنی پڑوسن سے کیا کہا تھا جس کی وجہ سے اس پر گستاخ رسول کا الزام لگا؟ کیا کسی کے الزام عائد کرنے سے کوئی شخص مجرم ہو جاتا ہے؟ کتنی ایف آئی آر جھوٹی لکھی جاتی ہیں، کتنے بیانات دھونس اور زبردستی سے لیے جاتے ہیں؟ کتنے سرکاری اہلکار خوف یا بدنیتی کی بنیاد پر معامالات کی غلط تشریح کرتے ہیں؟سوال یہ بھی ہے کہ یہ سب جانتے ہوئے بھی آخر آسیہ بی بی کے سر کی خواہش رکھنے والے کیسے اس الزام کو یکطرفہ طور پر دیکھ رہے ہیں؟
سب سے اہم بات یہ ہے کون مجرم ہے اور کون نہیں ہے ،اس کا فیصلہ لوگوں کا بے ہنگم ہجوم کرے گا یا ثبوت اور شہادتوں سے واقفیت رکھنے والے اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کریں گے؟ پاکستان کے چیف جسٹس نے بڑی زبردست بات کہی کہ’ وہ صرف مسلمانوں کے جج نہیں سب کے ہیں اور وہ فیصلے ثبوت کی بنیاد پر کریں گے نہ کہ لوگوں کی مرضی کے مطابق‘۔پاکستان کے جج صاحبان نے بالکل بجا فرمایا کہ عوامی جذبوں، عقائد اور آستھا کی بنیاد پر عدالتیں فیصلہ کرنے لگیں تو پھر آئین و قانون کی معنویت ظلم و بربریت کی قبر میں دفن ہو جائے گی اور ملک کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہاں کی اقلیتیں خوف و ڈر کے سائے میں چلی جائیں گی۔
آج کل کسی کو صرف بند کرانا تو بہت ہی معمولی بات ہو گئی ہے۔ کسی کو بھی سر تن سے جدا کی دھمکی مل سکتی ہے، بس کسی مذہبی اور جذباتی ایشو کو اچھال دیا جائے۔دھمکی دینے والے ذرا یہ تو سوچیں کہ کسی کو معاف کرنے، سزا دینے کا حق ثبوت و شواہد کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان رکھتے ہیں ،نہ کہ ہجوم یہ فیصلہ کرے کہ کون مجرم ہے اور کون غلط مقدمے میں 8 برس تک جیل کی سزا کاٹ چکا ہے؟ کسی شخص کو ناانصافی کی بنیاد پر سولی چڑھانے سے ہمارے نبی کیا واقعی ہم سے بہت خوش ہوں گے؟
اب آئیے ذرا جانیں کہ آسیہ بی کون ہیں؟مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ نورین بی بی پنجاب کے ضلع ننکانہ کے ایک گاؤں اِٹاں والی کی رہائشی تھیں جو لاہور سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔2009 میں اسی گاؤں میں فالسے کے ایک باغ میں آسیہ بی بی کا گاؤں کی چند عورتوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کے دوران مبینہ طور پر انھوں نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف تین توہین آمیز کلمات کہے تھے۔استغاثہ کے مطابق اس واقعے کے چند روز بعد آسیہ بی بی نے عوامی طور پر پنچایت میں خود پر لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے معافی طلب کی۔
الزام لگنے کے چند روز بعد آسیہ کو اِٹاں والی میں ان کے گھر سے ایک ہجوم نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد وہ پہلے شیخوپورہ اور پھر ملتان جیل میں قید رہیں۔جون 2009 میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا جس میں توہینِ رسالت کے قانون 295 سی کے تحت الزام لگایا گیا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف تین توہین آمیز کلمات کہے تھے۔اس مقدمے کے مدعی ننکانہ صاحب کی مسجد کے امام قاری محمد سالم تھے۔تاہم ملزمہ نے اپنے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران بیان دیا تھا کہ ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کرنے پر یہ مقدمہ درج کروا دیا گیا۔
2010 میں ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنا دی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی خاتون بن گئیں۔آسیہ بی بی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی۔ چار سال بعد اکتوبر 2014 میں عدالت نے سزا کی توثیق کر دی۔آسیہ بی بی نے جنوری 2015 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف درخواست پر ابتدائی سماعت جولائی 2015 میں شروع کی اور ان کی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اپیل پر حتمی فیصلہ تک سزا پر عمل درآمد روک دیا۔

 

 

 

 

8 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی تین گھنٹے طویل سماعت کی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔31 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر آسیہ بی بی کے خلاف کیس خارج کرنے اور ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔قانونی ماہرین کے مطابق آسیہ بی بی کے بری ہونے کے فیصلے کی بنیاد چار وجوہات پر ہے۔ایف آئی آر درج کرنے میں دیر جس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں۔گواہان کے بیانات میں عدم مطابقت۔آسیہ بی بی کے غیر عدالتی اعترافِ جرم پر انحصار ۔عدالتوں کی جانب سے آسیہ بی بی پر لگائے جانے والے الزامات کی صحت اور ان کے ماحول کے تناظر کو نظر انداز کرنا۔
توہین مذہب کا الزام تو آسیہ پر لگا تھا تاہم ان کے خاندان کا بھی اِٹاں والی میں رہنا مشکل ہو گیا۔ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف چلے گئے اور بالآخر برطانیہ میں انھیں پناہ مل گئی۔آسیہ بی بی کے مقدمے نے ملک کی رائے عامہ کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے جیل جا کر ملاقات کی تھی اور ان کے حق میں بات کی تھی، جس کی پاداش میں ان کے اپنے محافظ پولیس اہلکار ممتاز قادری نے 4 جنوری 2011 میں اسلام آباد کی مصروف کوہسار مارکیٹ میں انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
یہ کیس بین الاقوامی طور پر بھی زیرِ بحث آیا۔اس وقت کے رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ آسیہ بی بی کو رہا کرے، جبکہ موجودہ پوپ فرانسس نے آسیہ بی بی کے گھر والوں سے ملاقات کی تھی۔24 فروری 2018 کو آسیہ بی بی کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے خلاف اٹلی کے شہر روم میں سینکڑوں افراد کولوسیئم تھیئٹر کے سامنے جمع ہوئے۔ اس دوران اس قدیم عمارت کو سرخ رنگ میں رنگ دیا گیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ایشیا پیسیفک ڈائریکٹر ڈیوڈ گرفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سنگین ناانصافی ہے۔ آسیہ بی بی پر شروع میں فردِ جرم ہی عائد نہیں کرنی چاہیے تھی، سزائے موت دینا تو دور کی بات ہے۔اس کے علاوہ امریکہ کے محکمہ خارجہ نے بھی کئی بار اس کیس کا ذکر کیا ہے۔
آسیہ بی بی عدالت کے فیصلے کے بعد رہا ہوچکی ہیں مگر انہیں یہ خوف ستا رہا ہے کہ کوئی بھی شدت پسند انہیں یا ان کے خاندان والوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔وہ یوروپ کے کئی ملکوں سے پناہ کی درخواست بھی کرچکی ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *