بچوں کا نشری و شعری ادب اور ہماری بے حسی

Share Article

فیروز بخت احمد
مایہ ناز بچوں کے ادیب سراج انور نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا، ــ’’بچوں کے لیے لکھنا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کے لیے لکھنا ایک بے حد دشوار کام ہے۔ بڑے ادیبوں سے جب بچوں کے لیے لکھنے کو کہا جاتا ہے تو وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ وجہ محض یہ ہے کہ بچوں کے ادیب کو دراصل اس کی انگلی پکڑ کر اس کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ اسی کی طرح اپنے ذہن کو کچا بنا کر سوچنا پڑتا ہے۔ اسی کی طرح آسان لفظوں میں بات کرنی پڑتی ہے اور اسی کی طرح جس چیز کو دیکھ کر بچہ خوش ہو، اسے بھی خوش ہونا پڑتا ہے۔ شمس العلماء مولوی محمد حسین آزاد نے لکھا ہے کہ جب تک آدمی خود بچہ نہ بن جائے، تب تک وہ بچوں کے لیے اچھی چیز لکھ ہی نہیں سکتا۔‘‘
بچوں کے ادب کے تعلق سے انگریزی کے نقاد ہنری اسٹیل کومیگر نے تحریر کیا ہے کہ دراصل بچوں کا ادب وہ ہے جسے نہ تو والدین، نہ استاد اور نہ مصنف بلکہ خود بچے ہی اپنے لیے طے کریں۔ کومیگر کی اس بات کی تصدیق الف لیلہ کتاب سے بھی ہو جاتی ہے جو لکھی تو بڑوں کے لیے گئی تھی مگر جسے دنیا کا ہر بچہ آج بھی بڑے مزے لے لے کر پڑھتا ہے۔ وہ بھی کیا دور تھا جب کرشن چندر نے ’چڑیوں کی الف لیلہ، الٹا درخت، بیوقوفوں کی کہانیاں، سونے کی صندوقچی‘ وغیرہ جیسی کہانیاں لکھی تھیں۔ صحیح معنوں میں تو ایک دور میں یہی بچوں کا ادب ہوا کرتا تھا۔
آزادی سے قبل بچوں کے ادیبوں اور شاعروں میں امیر خسرو، میر تقی میر، غالب، نظیر اکبر آبادی، تاجور نجیب آبادی، الطاف حسین حالی، محمد حسین آزاد، اقبال، پریم چند، مولوی اسماعیل، برج نارائن چکبست، تلوک چندمحروم، صوفی تبسم، حامد اللہ افسر وغیرہ کا بول بالا تھاجو اچانک معدوم ہوگئے۔ پھر اس کے بعد ایک نئی نسل ابھری جس میں ڈاکٹر ذاکر حسین، شفیع الدین نیر،یکتا امروہی، راجہ مہدی علی خاں ، ڈاکٹر اطہرپرویز، پروفیسر جگن ناتھ آزاد، کرشن چندر، سراج انور، عصمت چغتائی، عفت موہانی، جیلانی بانو، اظہر افسر، راج نارائن راز، رام لعل، مظہرالحق علوی، ذکی انور، ابرار محسن،منظر حنفی، مخمور سعیدی،اندرجیت لال، انور کمال حسینی، شکیل انوار صدیقی، انیس مرزا، خلیق انجم اشرفی، غلام حیدر، افتخار احمد اقبال، محبوب راہی،کالیکا پرشاد، قاسم صدیقی، میم ندیم،عشرت امیر، عدیل عباسی جامعی چریاکوٹی وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر حسین نے بھی بچوں کے لیے بہت زیادہ تو نہیں لکھا مگر جو کچھ بھی لکھا وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔ ان کی کہانیاں ’ ابو خاں کی بکری‘،’ مرغی اجمیر چلی‘ اور ’کچھوا اور خرگوش‘ بہت مشہور ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اسکول سے ہی نامور استاذ جناب شفیع الدین نیر صاحب نے بچوں کی نفسیات سے بہتر واقفیت رکھتے ہوئے جو نظمیں اور کہانیاں ان کے لیے لکھیں وہ بھی امر ہوگئیں۔ اردو میں بچوں کے ادب کو ’’ایج گروپ‘‘ میں تقسیم کرنے کا سہرا بھی نیر صاحب کے ہی سر ہے۔ انھوں نے بچوں کی کہانیوں اور نظموں کو ان کی عمر کے لحاظ سے لکھا جیسے پانچ چھ برس کے بچوں کے لیے ’گُلگُلے کی دوڑ‘، ’مکھّن کا ڈبہ ‘، ’ہوشیار جِن‘ وغیرہ۔ سات آٹھ سال کے بچوں کے لیے انھوں نے ’تارہ کا ڈنڈہ‘، ’پرستان کی سیر‘، ’انار راجا‘، ’بطخ شہزادی‘ وغیرہ جیسی کہانیاں تحریر کیں۔ آٹھ سے گیارہ سال کے بچوں کے لیے انھوں نے ’چُنن مُنن‘، ’ٹلّو میاں‘ وغیرہ، اسی طرح گیارہ سے پندرہ سال تک کے بچوں کے لیے انھوں نے ’شیر خاں کے معرکے‘، ’مزدور کا بیٹا‘، ’پیسے کا صابن‘، ’ریڈیو کا بھوت‘، ’بونے کا انصاف‘ اور ’غالب کی کہانی‘ جیسی کہانیاں لکھیں۔
اسی طرح سے رام لعل نے بچوں کے لیے ایک دور میں بڑی پابندی سے لکھا ہے۔ ان کی کہانیاں بچوں کے اس طبقے کے لیے لکھی گئی ہیں جو بچپن کی دہلیز پار کرکے لڑکپن کی سرحد میں داخل ہورہے ہیں۔ ان کی ہر کہانی کا یہ کردار ہے کہ اسے پڑھ کر ہر بچّہ میں کچھ کر گزرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ ’بہادر ڈرائیور‘، ’لیٹر بکس‘، ’میرے بچے‘، ’پھولوں کا چور‘ اور ’انوکھے چور‘ جیسی عمدہ کہانیاں ان کے قلم سے نکل چکی ہیں۔ اسی طرح سے انیس مرزا نے بھی بچوں کے لیے بڑے اچھے لٹریچر کی تخلیق کی ہے۔ ان کی کہانیوں کی کتابیں ’مقدس کھوپڑی‘ ، ’کالی گھوڑی کا سوار‘، ’تہہ خانے کا قیدی‘، ’سمندر کا بھیڑیا‘، ’دیوتا کی آنکھ‘ ، ’قصہ چہار دُرویش‘، ’سمندر کا خزانہ‘، ’گم شدہ شہزادی‘ اور ’چار دن کا شہزادہ‘ بڑی مقبول ہوئیں۔ بچوں کے لیے عمدہ کہانیاں لکھنے والوں میں جناب خلیق انجم اشرفی کا نام بھی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ جناب انور کمال حسینی نے بھی اچھی اچھی کہانیوں کی تخلیق کی ہے جن میں ’پھول اور شہد‘، ’مورا‘، ’سب کا ساتھی‘ اور ’نمک کا تھیلا‘ جیسی کاوشیں آئینہ دار ہیں۔ یہاں ان اداروں کا تذکرہ بھی ضروری ہے جنھوں نے بچوں کے ادب کو فروغ دیا ہے۔ ان میں کھلونا بک ڈپو کا ماہنامہ ’کھلونا‘ ،’پیام تعلیم‘، ’ٹافی‘، ’ نور‘، ’جنت کا پھول‘، ’شریر‘، ’چندا نگری‘کے علاوہ ماہنامہ ’امنگ‘، ماہنامہ ’سائنس‘ اور ماہنامہ ’گُل بوٹے‘ کے نام نمایاں ہیں، جنھوں نے لگ بھگ ہر ادیب اور شاعر سے اپنے بچوں کے لیے لکھوایا ہے۔ اسی طرح سے نسیم بک ڈپو، لکھنؤ نے بھی بچوں کی انگنت کہانیاں کتابی شکل میں شائع کی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مظہر الحق علوی، عفت موہانی اور انجم اعجاز کی طویل کہانیاں ہیں۔ مظہرالحق علوی کی کہانیاں متنوع موضوعات سمیٹے ہوتی تھیں جن میں ’سمندری لٹیرے‘، ’فرعون کا خزانہ‘، ’گھر کا بھیدی‘، ’سمندری شیطان‘، ’تین جاسوس‘، ’’دوسری دنیا کی تلاش‘ اور ’ہکلا طوطا‘ بہت پسند کی گئیں۔
افسوس کا مقام ہے کہ آج بہت کم لوگ بچوں کا لٹریچر لکھ رہے ہیں۔ جن حضرات نے موجودہ دور کی مصروفیات سے ہٹ کر بچوں کے ادب کے ساتھ انصاف کیا ہے، ان میں جناب عادل اسیر دہلوی، جناب فاروق سید، ڈاکٹر قاسم امام اور ڈاکٹر خوشحال زیدی پیش پیش ہیں۔ اسی طرح سے دہلی اردو اکیڈمی کی جانب سے بچوں کے ماہنامہ ’امنگ‘ میں جناب مخمور سعیدی ، پروفیسر قمر رئیس، سید شریف الحسن نقوی اور جناب مرغوب حیدر عابدی کی بڑی کاوشیں ہیں۔  ضرورت اس بات کی ہے کہ جو ہمارے اردو اخبارات کے کالم نگار ہیں، انھیں اپنی توجہ اس جانب مرکوز کرنی چاہیے کہ وہ اپنے قیمتی وقت میں سے تھوڑا بہت وقت نکال کر بچوں کا لٹریچر بھی تحریر کریں۔

Share Article

2 thoughts on “بچوں کا نشری و شعری ادب اور ہماری بے حسی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *