بچیوں کی جسم فروشی

Share Article

سامعہ جمال
کینیا وہ ملک ہے جہاں پر لوگ چھٹیاں منانے جاتے ہیں۔یہ ملک اپنی خوبصورتی کے اندر ایک نہایت ہی کالا سچ چھپائے ہوا ہے۔یہاں پر کئی یوروپین مرد12 سال تک کی چھوٹی بچیوں کے ساتھ جسمانی تعلق بنانے کی نیت سے آتے ہیں۔بعض دفعہ تو 6سال تک کی چھوٹی بچیاں بھی اس دلدل میں پائی جاتی ہیں۔ایک صاحبہ نے بتایا کہ یوروپین مرد یہاں آکر سوچتے ہیں کہ وہ جو چاہے کر سکتے ہیں کیونکہ انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔
ممباسا میں رات ہوتے ہی یہاں کے کلب گورے آدمیوں اور کالی لڑکیوں سے بھر جاتے ہیں۔لڑکیاں زیادہ تر15 سال سے کم عمر کی ہوتی ہیں۔ یہ لڑکیاں اونچی ایڑی کی چپل پہنتی ہیں تاکہ دیکھنے میں بڑی لگیں۔یہ عام طور پر دربانوں کو رشوت دے کر اندر چلی جاتی ہیں۔ کیونکہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو نائٹ کلب میں اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔یہ لڑکیاں گورے آدمیوں کو رجھاتی ہیں کیونکہ کینیا کے آدمی  انہیںجو پیسہ دیں گے اسی کام کا ایک یوروپین آدمی پانچ گنا زیادہ پیسے دیتے ہیں۔ لیکن رقم کے بدلے یہ لڑکیاں جو کر رہی ہیں  یہ زیادہ خوفناک ہے۔وہ ہے ان کے بچپن کا چھن جانا۔ان میں سے ہی ایک لڑکی انتاسیا نے بتایا ’’میں 13سال کی ہوں۔میرا پہلا جسمانی تعلق ایک برٹش آدمی کے ساتھ بنا۔ اس وقت میں 10 سال کی تھی۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ جو اس آدمی نے میرے ساتھ کیا وہ اس کے ملک میں ریپ کہلائے گا۔ میرے ماں باپ میرے لئے جوتے تک نہیں خرید سکتے تھے۔ مجھے اپنے لئے زندگی بہتر چاہئے تھی۔ مجھے اپنا مستقبل ممباسا کے نائٹ کلب کی روشنی میں خوبصورت نظر آتا تھا۔میں اپنی سہیلی لیلیٰ کے ساتھ رہتی ہوں۔ لیلی 14 سال کی ہے۔ وہ بھی میری طرح طوائف ہے‘‘۔جب لیلیٰ سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ میں جسم فروشی کے کام میں 12 سال کی عمر میں آئی۔ جب میں اندر جاتی تھی تب دس یا بیس ہی ایسی لڑکیاں ہوتی تھیں، لیکن اب تو کافی زیادہ ہیں۔میرے جیسی لڑکیوں کی تعداد روز بڑھ رہی ہے۔ میں کبھی کبھی خود سے  اور کبھی  خدا سے پوچھتی ہوں کہ میں تو خود چھوٹی ہوں اور میں کس کام میں آ گئی ہوں‘‘۔

کینیا میں ایک چرچ کے احاطے میں ایک یتیم خانہ ہے۔اس یتیم خانے میں ایک 6سال کی بچی رہتی ہے۔ اس بچی کے بارے میں یتیم خانہ کی انچارج نے بتایا کہ اس کے ساتھ جنسی تشدد ہواہے۔ یہ تشدد اس کے ساتھ 3 سال کی عمر میں ہوا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا ’’ جب یہ ہمارے پاس آئی تب اس کی پیٹھ پر ڈنڈے کی چوٹ کے نشان تھے۔ اس کے دیگر اعضاء پر کافی گہرے زخم تھے۔ پوچھ تاچھ کرنے پر اس نے جو باتیں بتائیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ باقاعدہ اس کا ویڈیو بھی بنا تھا۔ یہ تب کچھ بھی کھاتی نہیں تھی۔ بات نہیں کرتی تھی، لیکن آج تین سال بعد یہ سب کے ساتھ مل کر رہتی ہے، کھیلتی ہے۔ آج جب ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ تمہیں یہاں کیسا لگ رہا ہے تو کہتی ہے کہ اب اسے رات بھر جاگنا  نہیں پڑتا ہے ۔

تین سال پہلے یونائٹیڈ نیشن کے تحت یونیسیف نے بچوں پر ایک ریسرچ کیا۔اس سے پتہ چلا کہ ہزاروں کی تعداد میں لڑکیاں اس دلدل میں دھکیل دی گئی ہیں۔یہ اعداد و شمار اس وقت کے ہیں جب کینیا میں سیاسی مسئلے نہیں اٹھے تھے، نہ ہی اس وقت اقتصادی پریشانیاں تھیں اور نہ ہی قحط، لیکن اب حالات دوسرے ہیں۔ آج تقریباً دس لاکھ لڑکیوں کے پاس سلیقے کے کپڑے نہیں ہیں۔اعدا دو شمار سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ تقریباً 30فیصد بچیاں جنسی تشدد جھیلنے کی وجہ سے اس طرح کے کاموں میں مبتلا ہیں۔ ان لڑکیوں کی زیادہ تر عمر 13سے 15 کے بیچ ہوتیہے۔ جن لوگوں نے یہ ریسرچ کیا ان کے پاس کافی ایسے ثبوت ہیں جو ان اعدا دو شمار کو ثابت کر سکتے ہیں۔ کئی خاندان کے لوگ تو اپنی بیٹیوں کو سمندر کنارے جانے ہی نہیں دیتے کیونکہ اگر وہ ادھر جاتی ہیں تو والدین خوفزدہ رہتے ہیں کہ کوئی گورا آدمی ان کی بچیوں کے ساتھ زیادتی نہ کرے۔ممباسا کے قریب ایک مالندی نام کی جگہ ہے۔ یہ جگہ ایسے کاموں کے لئے کافی مشہور ہیں۔ سب سے زیادہ حیران کرنے والی بات تو یہ ہے کہ وہاں کی بچیاں گھومنے آئے یوروپین سیلانی کے لئے خود کو تیار کرتی ہیں۔
ایک لڑکی نے کافی تکلیف میں بتایا کہ اس کو بھوک لگتی تھی اور کھانے کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا اور پھر جب ایک دفعہ بھوک برداشت نہیں ہوئی تو وہ سمندر کے کنارے چلی گئی۔ وہاں اسے اندیر اور تھومس نام کے دو آدمی ملے۔ انہوں نے اسے جسمانی تعلق بنانے کے لئے تقریباً 500 روپے دیے۔ اس وقت وہ صرف 11سال کی تھی۔ جب اسی بچی کی ماں سے بات کی تو انہوں نے بتایا ’’ میں اپنی بیٹی کو گھر نہیں بیٹھا سکتی ۔ میرے پاس گھر میں کھانے کو نہیں ہوتا۔میں چاہتی ہوں کہ وہ زندگی میں آگے بڑھے پیچھے نہیں ،وہ اسکول بھی جاتی رہے‘‘۔
کچھ ایسے لوگ ہیں جو اس برائی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مالندی میں ہیلڑکیوں کے لئیایک فٹبال ٹیم بنائی گئی ہے۔ یہ فٹبال ٹیم ایک اسکول میں بنائی گئی ہے۔ اس ٹیم کا نظریہ ہے ’میرا خدا میری طاقت ہے،کوئی گورا نہیں‘لیکن اسی اسکول کی ٹیچر نے بتایا کہ جتنی لڑکیاں اس ٹیم میں شامل ہوئی تھیں، ان میں سے 30 فیصد لڑکیاں واپس سمندر کے کنارے جانے لگی ہیں۔ ٹیچر نے کہا کہ گورے آتے ہیں۔ ہمارے گھر کی بچیوں کو استعمال کرتے ہیں، صرف اس لئے کیونکہ ہم غریب ہیں۔ اس سے مجھے کافی تکلیف ہوتی ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ کوئی بھی فارنر اگر کینیا کے بچے کے ساتھ غلط کام کرتا ہوا پکڑا جائے تو اسے واپس اس کے ملک بھیج دینا چاہئے اور بھیجنے کے بعد اس کا کینیا میں آنا منع ہو جانا چاہئے‘۔
ممباس میں ہی ایک اسپتال ہے جہاں جنسی تشدد کا علاج کیا جاتا ہے۔اگر آپ ان کے رجسٹر کا ریکارڈ دیکھیں تو آپ کو یونیسیف کی رپورٹ پر شاید یقین نہ ہو۔ یہ اس لئے کیونکہ دھیرے دھیرے جنسیت سے متعلق لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ ہوئے تشدد کی عمر گرتی ہی جا رہی ہے۔ اب تو 6اور 8 سال تک کے بچے بھی علاج کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔15سال سے کم عمر میں ریپ کیسیز کا اوسط 78فیصد ہے۔ کئی ڈاکٹر کا ماننا ہے کہ یونیسیف نے تو اپنا کام کر دیا ہے۔ ڈاکٹر بھی اپنا کام کر رہے ہیں لیکن کئی معاملے تو سامنے آتے ہی نہیں۔
کینیا میں ایک چرچ کے احاطے میں ایک یتیم خانہ ہے۔اس یتیم خانے میں ایک 6سال کی بچی رہتی ہے۔ اس بچی کے بارے میں یتیم خانہ کی انچارج نے بتایا کہ اس کے ساتھ جنسی تشدد ہواہے۔ یہ تشدد اس کے ساتھ 3 سال کی عمر میں ہوا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا ’’ جب یہ ہمارے پاس آئی تب اس کی پیٹھ پر ڈنڈے کی چوٹ کے نشان تھے۔ اس کے دیگر اعضاء پر کافی گہرے زخم تھے۔ پوچھ تاچھ کرنے پر اس نے جو باتیں بتائیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ باقاعدہ اس کا ویڈیو بھی بنا تھا۔ یہ تب کچھ بھی کھاتی نہیں تھی۔ بات نہیں کرتی تھی، لیکن آج تین سال بعد یہ سب کے ساتھ مل کر رہتی ہے، کھیلتی ہے۔ آج جب ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ تمہیں یہاں کیسا لگ رہا ہے تو کہتی ہے کہ اب اسے رات بھر جاگنا نہیں پڑتا ہے ۔ یہ سن کر ہماری آنکھیں بھر آتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *