بابری مسجد ٹائٹل سوٹ

Share Article

سپریم کورٹ کی 5رکنی بنچ جس کی صدارت چیف جسٹس رنجن گگوئی کررہے ہیں، میں سوٹ نمبر ۱ کے پٹیشنر گوپال سنگھ کی جانب سے مداخلت کرتے ہوئے اس کیس میں ان کی جانب سے داخل کاغذات کی بنیاد پر چند دعوے پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ایک گواہ عبدالغنی نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ مسجد مندر کو ڈھا کر تعمیر کی گئی تھی۔ لیکن مندر منہدم ہونے کے باوجود ہندوؤں نے پوجا ارچنا جاری رکھی۔ مسٹر رنجیت کمار نے اسی طرح اور حلف نامے بھی پڑھ کر سنائے۔ بنچ نے رنجیت کمار سے پوچھا کیا ان حلف نامے داخل کرنے والوں سے کورٹ میں جر ح ہوئی تھی۔ مسٹر رنجیت کمار نے کہا کہ ان سے جرح نہیں ہوئی۔ بنچ نے پوچھا کہ یہ حلف نامے کورٹ کے ریکارڈ میں کیسے آگئے اس پر وکیل صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے سوٹ کے ساتھ ہائی کورٹ کوُمنتقل ہوگئے۔

اس کے بعد وکیل صاحب نے کہا کہ میں یہ نہیں کہ رہا ہوں کہ اسے وحی الہی تسلیم کیا جائے۔ اس کے بعد ایڈوکیٹ رنجیت کمار نے مختلف عدالتوں کہ وہ فیصلے پیش کئے جس میں ھندو دھرم کی وسعت کو تسلیم کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ بت پرستی، رسومات، اور عبادتوں کے طریقوں میں کافی وسعت ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر آدمی اس پر عمل بھی کرے۔ اس کے باوجود بھی وہ ھندو دھرم کے ماننے والے ہوں گے۔ اس مقام پر پوجا کرنے کا میرا حق تسلیم شدہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر صدیوں سے پوجا ہورہی ہے۔اس طرح ایڈوکیٹ رنجیت کمار کی بحث مکمل ہوئی۔ اس کے بعد ایڈوکیٹ سنہا نے اپنی بحث دوبارہ شروع کرتے ہوئے کہا کہ یہ متنازع زمین انگریزوں کے زمانے میں سرکار کی تحویل میں چلی گئی تھی۔

جب تک یہ زمیں کسی کو لیز پر نہ دی جائے اس وقت تک سرکار کی تحویل میں ہی رہے گی۔ اس کے بعد نرموہی اکھاڑے کے وکیل سشیل کمار جین نے اپنی نا مکمل بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ سوٹ نمبر4میں ہائی کورٹ نے ان کے قبضہ مخالفانہ کو مسترد کردیا تھا۔ اس لئے کہ ان کا قبضہ1943 سے1949 تک تھا۔ ان کی بحث کل بھی جاری رہے گی۔اس موقع پر مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمیعت علماء کے مشترک سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون کے علاوہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی سینئر ایڈوکیٹ میناکشی ارورہ بھی کورٹ میں موجود تھیں۔ ان کے علاوہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ جناب شکیل سید، جناب ایم آر شمشاد، جناب اعجاز مقبول، جناب ارشاد احمد اورُ فضیل احمد ایوبی اور ان کے جونیئر بھی کورٹ میں موجود تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *