بابری مسجد ٹائٹل سوٹ:نرموہی اکھاڑے کے چبوترے پر پوجا کرانے کا حق پجاری کو ہے لیکن مالکانہ حق نہیں: راجیو دھون

Share Article

آج مسلم فریقوں ( مسلم پرسنل لا بورڈ و جمعیۃ علماء ہند) کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے اپنی کل کی بحث کو جاری رکھتے ہوئے سب سے پہل کل فیض آباد میں اس کیس کے ایک اہم فریق پر ہوئے حملہ کی کورٹ کو اطلاع دی جس پر کورٹ نے یہ یقین دہانی کروائی کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لے گا۔ اس کہ بعد بنچ نے ڈاکٹر دھون سے کہا آپ کو جو دھمکیاں مل رہی ہیں اس تعلق سے کورٹ آپ کے پروٹیکشن کے لئے آرڈر کرسکتا ہے اس پر دھون صاحب نے کہا کہ مجھے کسی پروٹیکشن کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے گھر کے دروازے تو چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔

اس کے بعد باضابطہ مقدمہ سے متعلق کاروائی شرو ع ہوئی۔ سوٹ نمبر 3 پر گفتگو کرتے ہوئے دھون صاحب نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ نرموہی اکھاڑے کے چبوترے پر پوجا کرانے یعنی پوجاری کا حق ہے البتہ ان کا مالکانہ حق نہیں ہے۔ البتہ ان کا یہ دعوی سوٹ نمبر 5 کے خلاف کہ جنم بھومی پر رام للا کی مورتی کے دوست دیو کی نندن اگروال میں کی قانونی حیثیت نہیں ہے اس لئے کہ وہ سناتن دھرنے ہیں جو مورتی پوجا نہیں کرتیْ بالکل صحیح ہے اورْیہ بات خود دیو کی نندن اگروال نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اپنے حلف نامے میں مانی ہے۔ یہ بات بھی یہان صاف ہوجانی چاہیے کہ نرموہی اکھاڑہ کا پجاری کا جو حق چبوترے پر ہے وہ صرف 1885 کے سوٹ کے تحت ہی ہے۔ جسے اس وقت کے سب سے بڑے کورٹ نے طے کردئے تھے۔ اس کے علاوہ نرموہی اکھاڑے کا کوئی حق نہیں ہے۔ آگے اپنی بات رکھتے ہوئے ڈاکٹر دھون نے کہا جہان تک مسجد کے اندرونی حصہ کا تعلق ہے وہان ہندوو?ں کا کوئی حق اور دعوی کبھی نہیں رہا اور وہان مسلمان ہمیشہ سے نماز پڑھتے رہے ہیں جب تک کہ 1949 مسجد کے تقدس کو پامال نہیں کیا گیا۔

حالانکہ نرموہی اکھاڑے کے کیس کو الہ آباد ہائی کورٹ نے قبضہ مخالفانہ اور maintainability کی بنیاد پر خارج کردیا تھا لیکن پھر بھی انہیں ایک تہائی کا حقدار بنا دیا۔ حالانکہ کے انہوں نے کبھی بھی مالکانہ حق نہیں مانگا تھا صرف پوجا کا اختیار مانگا تھا اور وہ بھی 1934 سے۔ انہون نے کورٹ سے جو ریلیف مانگی ہے وہ سرکار کے خلاف ہے مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔اسی طرح عدالت میں نرموہی اکھاڑے کی طرف سے کیس داخل کرنے کے بعد مورتی کی طرف سے کیس داخل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ ایک سبجیکٹ میٹر پر دو سوٹ نہیں داخل ہوسکتے۔

اس کے بعد دھون نے سیاحوں کے سفرناموں پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ جہان تک Tiffen Theller کی بات ہے جس پر سوٹ 5 بنیاد رکھ رہا ہے اس نے واضح طور پر ویدی( چبوترے) کو رام جنم بھومی مانا ہے۔ اس سفرنامے کو بھی اگر مان لیا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ مسجد پر ان کا دعوی بالکل ہی بے بنیاد ہے۔ Tiffen Theller بھی چبوترے کی ہی بات کررہا ہے جو کہ مسجد سے باہر تھا۔ Tiffen Theller کے علاوہ جو ثبوت انہون نے پیش کئے اس کو ہائی کورٹ نے ثبوت ہی نہیں مانا ہے۔ اپنے بات کی تائید میں دھون صاحب الہ آباد کے فیصلہ سے اقتباسات پڑھ کر سنائے۔آج کی بحث یہیں پر ختم ہوگئی جو کل بھی جاری رہے گی۔

کورٹ میں ڈاکٹر دھون کے علاوہ مسلم پرسنل بورڈ کی سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑہ اور بورڈ کے سیکریٹری سینئر ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی بھی موجود تھے۔ اسی طرح بورڈ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے طور پر ایڈوکیٹ شکیل احمد سید، ایڈوکیٹ ایم ا?ر شمشاد، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ ارشاد احمد اور ایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی بھی موجود رہے ان کے علاوہ ان کے جونیئر وکلاء بھی موجود تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *