بابری مسجد،رام جنم بھومی تنازعہ پر فیصلہ : سیکولرازم کے لئے ایک چیلنج

Share Article

سنتوش بھارتیہ
تاریخی واقعات چیلنجز لے کر آتے ہیں ۔ بابری مسجد – رام جنم بھومی تنازعہ آزاد ہند کا پہلا ایسا واقعہ ہے، جس نے ہماری قومیت اور سیکولرازم کو ایک ساتھ چیلنج دیا ہے۔ 60برس سے چل رہے تنازعہ کی سماعت ختم ہو گئی ہے۔ اب فیصلہ کا وقت آگیا ہے۔ حالانکہ یہ بھی طے ہے کہ فیصلہ آتے ہی معاملہ سپریم کورٹ پہنچ جائے گا۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد جیسی ہندو تنظیمیں فیصلہ آنے سے قبل ہی یہ کہنے لگی ہیں کہ اگر فیصلہ ان کی حمایت میں نہیں آتا ہے تو وہ اسے قبول نہیں کریں گی۔آر ایس ایس اس فیصلہ کو تنظیم کی کھوئی ہوئی زمین واپس جیتنے کا ذریعہ مان رہی ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر فیصلہ ان کی حمایت میں نہیں آتا ہے تو آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد ملک میں مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کریں گی اگر وہ اپنی سازش میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ملک کے کئی علاقوں میں گجرات جیسا ماحول بن سکتا ہے۔آل انڈیا بابری ایکشن کمیٹی یا مسلم تنظیموں کی طرف سے کوئی بیان نہیں آ رہا ہے ، وہ خاموش ہیں۔
بابری مسجد- رام جنم بھومی تنازعہ پر الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کیا ہوگا،یہ ایسا سوال ہے، جس کے حوالہ سے لوگوں کے ذہن میں خدشات ہیں، خوف ہے، عدالت کا فیصلہ یہ طے کرے گا کہ اجودھیا کی متنازع زمین پر کس کا حق ہے۔ہندو تنظیموں کا، یا پھر مسلم وقف بورڈ کا۔ کسی عام ہندو یا مسلم شخص کی زندگی پر اس فیصلہ کا کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، لیکن فیصلہ کے بعد پیدا ہونے والے ماحول سے لوگ پریشان ہیں۔ یہ بات بھی طے ہے کہ فیصلہ جو بھی ہو معاملہ سپریم کورٹ پہنچے گا، لیکن ڈر اس بات کا ہے کہ فیصلہ کے بعد ملک میں قانونی نظم و نسق کا مسئلہ پیدا نہ ہو جائے۔ اسی خطرہ کو دیکھتے ہوئے اتر پردیش کی حکومت نے مرکز سے زائد حفاظتی دستوں کی مدد طلب کی ہے اورکئی سال سے بیرک میں بیٹھے پی اے سی کی بھی تعیناتی کر دی گئی ہے۔وزیر اعظم نے بھی ذمہ دار وزراء اور خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔لال کرشن اڈوانی نے بھی اپنی جماعت کے لیڈران سے یہ اپیل کی ہے کہ فیصلہ سے متعلق کوئی بھی بیان سوچ سمجھ کر دیں۔ہر طرف ایک انجانے خوف کا منظر ہے۔یہ فیصلہ مرکزی حکومت، ریاستی حکومت، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور ملک کے عوام کے لئے آزمائش کی گھڑی ہے۔ سب کے سامنے الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک چیلنج کی شکل میں ابھر کر سامنے آنے والا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج الہ آباد ہائی کورٹ کے سامنے ہے۔ بابری مسجد – رام جنم بھومی تنازعہ پر کورٹ کا فیصلہ نہ صرف انصاف پر مبنی ہو بلکہ وہ انصاف پر مبنی نظر بھی آنا چاہئے تاکہ ملک کے عوام عدالت کے فیصلہ کو صحیح مان کر جذبات بھڑکانے والوں کو خاموش کرا سکیں۔اس فیصلہ پر دنیا بھر کی نظر ہے۔اس فیصلہ سے سیکولرازم، اقلیتوں کے حقو ق کے بارے میں دنیا بھر میں ہندوستان کی بہتر شبیہ بنے گی۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوگا۔اس کے لئے ضروری ہوگا کہ فیصلہ صاف صاف الفاظ میں ہو تاکہ اس کی کوئی اپنے حساب سے تشریح نہ کر سکے۔ 1992میں سپریم کورٹ کے کارسیوا کو آر ایس ایس اور بی جے پی لیڈروں نے اس کا مطلب اپنے حساب سے نکال لیا تھا۔
اتر پردیش کی مایاوتی کی حکومت کے سامنے بھی بڑا چیلنج ہے۔ اس فیصلہ کا سب سے زیادہ اثر اتر پردیش میں ہی ہوگا۔ جس طرح سے وشو ہندو پریشد نے لوگوں کو متحد کرنے کے لئے ہنومت جاگرن مہم چلائی ہے اور جس طرح سے اس تنظیم سے وابستہ مذہبی لیڈروں کے بیان آ رہے ہیں، اس سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کورٹ کا فیصلہ اگر ان کے خلاف جاتا ہے تو وہ کورٹ کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیں گے۔ ایسے میں اتر پردیش میں قانونی نظم و نسق کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ایسا دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں جب بھی اس طرح کا ماحول بنتا ہے تو سماج میں موجود شرارتی عناصر جذبات بھڑکانے سے نہیں چوکتے۔ کورٹ کے فیصلہ کے بعد تشدد کو روکنے کی پہلی ذمہ داری حکومت اتر پردیش کی ہوگی۔
مرکزی حکومت کے لئے بھی یہ امتحان کی گھڑی ہے۔ 1992میں نرسمہا رائو کی حکومت سوتی رہی۔ 6دسمبر کے دن سابق وزیر اعظم چندر شیکھر جی نے وزیر اعظم سے بات کرنے کے لئے فون کیا تھا تو ان کی رہائش سے یہ بتایا گیا کہ وزیراعظم سو رہے ہیں۔نرسمہا رائو کی حکومت میں رہے وزراء کے ذریعہ اب تو یہ بھی باتیں سامنے آ چکی ہیں کہ خفیہ جانکاری ہونے کے باوجود مرکزی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ مرکزی حکومت کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ کورٹ کے فیصلہ کو اجودھیا میں نافذ کیا جائے۔ مرکز کو پورے ملک پر نظر رکھنی ہوگی۔ فیصلہ کے بعد اگر کہیں تشدد بھڑکتا ہے تو ایسے حالات میں بلا تاخیر فیصلہ لے اور تشدد سے نمٹنے کے لئے سخت فیصلے لینے سے پیچھے نہ ہٹے۔سیاسی فائدے سے زیادہ ملک کے مستقبل پر زیادہ توجہ دے کر فیصلہ لینے کا چیلنج ہے۔
بی جے  پی نے اس تنازع کو پورے ملک میں پھیلایا اور پھر اسی تنازع کی وجہ سے ملک کے عوام نے بی جے پی کوہی خارج کر دیا۔ لال کرشن اڈوانی نے پارٹی کے لیڈران سے یہ اپیل کی ہے کہ بابری مسجد- رام جنم بھومی تنازع پر متواز ن بیان دیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آج کی بی جے پی میں اڈوانی کوکون ترجیح دیتا ہے۔یہ یقین کرنا تھوڑا مشکل ہے کہ برعکس فیصلہ پر بی جے پی کے لیڈر کورٹ کے فیصلہ کو مان لیں گے اور آر ایس ایس کے ایجنڈے سے خود کو الگ کر لیں گے۔ آر ایس ایس، وشو ہندو پرشید، بجرنگ دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ، کارکنان اور حامی ایک ہی نظریے کو ماننے والے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آر ایس ایس نے بی جے پی کو اپنے نظریے پر لانے کے لئے ہی نتن گڈکری کو صدر بنایا ہے۔اتر پردیش میں بی جے پی حاشیہ پر چلی گئی ہے اور یہی اس کے لئے سب سے  بڑا خطرہ ہے۔
عقلمندی و ہمدردی کا دریا بہے گا یا پھر ماحول زہر آلود ہوگا۔ فیصلہ کے بعد ملک کا کیا منظر ہوگا یہ تو کہنا مشکل ہے۔ معاملہ کورٹ میں تھا تو کسی دن فیصلہ آنا ہی تھا ۔ اس فیصلہ کے بعد میڈیا کا رول بھی چیلنج سے بھرپور ہوگا۔یہ کہتے ہوئے بھی دکھ ہوتا ہے کہ میڈیا کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے ملک میں فسادات بھی ہوئے ہیں۔گجرات فساد ات ہوں یاا ڈوانی کی رتھ یاترا۔میڈیا کے کچھ طبقوں نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا تھا۔ ایک بار پھر سے ایسا موقع آیا ہے ۔ میڈیا کے سامنے بھی یہ چیلنج ہے کہ وہ کس طرح سے ملک کے لوگوں کی ذہن سازی کرتی ہے، امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے یا پھر سماج میں نفرت پھیلانے کا کام کرتی ہے۔
یہ امتحان کی گھڑی ہے، ممکن ہے کہ عدالت آنکھوں پر پٹی باندھ کر ثبوتوں اور بیانات پر فیصلہ سنائے گی۔ سیاسی جماعتیں اپنا کھیل کھیلیں گی، لیڈر اپنا فائدہ ونقصان دیکھیں گے، حکومتیں اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کریں گی، شر پسند عناصر سماج میں زہر گھولیں گے، لیکن ان لوگوں کی کرتوت کو سمجھنا ہی ہمارے اور آپ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *