بابری مسجد، رام جنم بھومی : فیصلہ یا سمجھوتہ؟

Share Article

عامر صابری
بابریمسجد مقدمہ کافیصلہ بظاہر 30 ستمبرکوالہ آبادہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے سناتودیالیکن چھوڑگیاایسے کئی سوال جس کا جواب نہ توکسی بڑے لیڈر کے پاس ہے اورنہ ہی کسی ماہر قانون کے پاس۔صاف صاف اور سیدھے سیدھے اس فیصلے پر کوئی بھی شخص اپنی رائے ظاہر کرنے سے بچ رہاہے۔
جہاںتک سوال ہے عدالت کے فیصلہ کاتواس سے پہلے بھی ایک فیصلہ عدالت کا1986میںآیاتھا جوضلع جج نے کیاتھا کہ تالا کھلوادیا جائے اورتالا کھل گیا اورتالا کھلتے ہی شروع ہوگئے فرقہ وارانہ فسادات۔ جس کاخمیازہ بھی مسلمانوں کوبھگتنا پڑا اور نقصان بھی ہرطرح سے مسلمانوں کا ہی ہوا اور اب پھر عدالت کا سب سے بڑا اور تاریخی فیصلہ30ستمبر 2010 کو آیا کہ جہاںمورتیاں رکھیں ہیں وہی رام جنم استھان ہے۔ اب یہ فیصلہ کوئی چھوٹی موٹی عدالت کانہیں بلکہ ہائی کورٹ بنچ کا ہے بہرحال فیصلہ توآناہی تھا اوریہ بھی پہلے سے طے تھاکہ فیصلہ کیاآئےگا؟
حیرت فیصلہ پر نہیں ہوئی حیرت اس بات پر ہوئی ہے کہ فاضل جج صاحب نے اپنے فیصلہ میںجو الفاظ استعمال کئے ہیںوہ اپنے پیچھے ایسے سیکڑوں سوال چھوڑ گئے ہیں جس کا جواب آنے والے وقتوں میں نہ تو عدلیہ کودیتے بنے گا اورنہ ہی ایگزیکیٹیو ہی دے پائے گی کیونکہ فاضل جج نے لکھاہے کہ وہ دیواستھلی ہے اور وہی رام جنم استھان ہے۔ ایسا ہندوئوں کا ماننا ہے۔
یہ (بھاشا) زبان جوفاضل جج نے استعمال کی ہے وہ ایک جج کی کم ایک وشوہندوپریشد،آرایس ایس کے کارکن کی زیادہ معلوم ہوتی ہے جبکہ جسٹس ایس یوخاں  اور جسٹس سدھیر اگروال نے صاف طورپر تاریخ کے حوالے سے کوڈ کیاہے کہ ایسی کوئی بھی نظیر نہیں ملتی ہے جس سے پتہ چلے کہ مندر توڑ کر مسجد بنائی گئی،ہاں اس کے برعکس پوری دنیا نے آنکھوں سے دیکھاکہ جہاں مسجد تھی اور مسجد میں مورتیاں رکھیں گئیں اوراس کے بعد قانونی دائو پیچ کے ذریعہ اس کا تالا کھلوایا گیا اورپھرغنڈہ گردی کے دم پر آستھا اورمانیتا کی جے کار کرتے ہوئے دہشت گردی کاماحول پیدا کرکے مسلمانوں کو خوف وہراس میں دھکیل کروہ تاریخی مسجد جو بابری مسجد کے نام سے جانی جاتی تھی 6دسمبر 1992 کو شہید کردی گئی اورپھر دنیا کے ہرمذہب و ملت کے لوگوں نے دیکھا کس طرح وہاں مسجد شہید کرنے کے بعد 48 گھنٹہ تک مندر کاکام چلتارہا۔ دنیا نے یہ بھی دیکھا ملک میں کس طرح مسلمانوں کودہشت گردی کانشانہ بنایا گیا۔ ہزاروں بے قصور لوگوںکو اپنی جانیں گنوانی پڑیں۔
یہی ماحول اس بار بھی فیصلہ سے پہلے وشوہندوپریشد، آرایس ایس کے علاوہ دیگر ہندوفرقہ پرست تنظیموں نے بنانا شروع کردیا تھاکہ یہ فیصلہ عدالت نہیں کرسکتی ہے ۔یہ آستھا کاسوال ہے اوریہ بات چیت کے ذریعہ ہی طے ہوناچاہئے اس طرح کے بیانات فیصلہ کے ٹھیک ایک دن پہلے تک آتے رہے اور مسلمان ایک دم سہما سہما سارہا اور پھر 30ستمبر کوٹھیک 4:40 منٹ پرفیصلہ آیا اورفیصلہ آتے ہی ملک کامسلمان ہکابکا سارہ گیا اوروہ سارے لوگ جوایک دن پہلے تک ہرسطح پر عدلیہ کے فیصلہ کی مخالفت کررہے تھے اچانک سب کی زبانیں بدل گئیں اورایک آواز میں سب نے اس فیصلہ کااستقبال کیا اور مسلمانوں کو مشورہ دیناشروع کردیاکہ’’ اب ایک نئے بھارت کا نرمان (تعمیر) کریںایک نئے بھارت کا اُدَے کریں اورامن وشانتی بنائیں رکھیں۔‘‘ملک کا ہرذی شعور آدمی کہیں نہ کہیں اس فیصلہ کے تئیں دبے ہی لفظوں میں سہی تنقید کرتے ہوئے  دیکھاگیا ۔ وہ جان رہاہے کہ یہ فیصلہ نہ ہوکر ایک سمجھوتہ ہواہے اوراس سمجھوتے کے پیچھے کہیں نہ کہیں سیاسی کھیل ضرور ہواہے اوراس کیس پرہرہوش مند آدمی کانگریس کومنھ بھر بھر کر کوس رہاہے کیونکہ اب تک تاریخی اعتبار سے بابری مسجد کے متعلق جتنے بھی حادثات یامسلمانوں کے خونریزی کے جتنے بھی واقعات پیش آئے وہ سب کے سب کانگریس کے ہی دورِ حکومت میں پیش آئے وہ بھی  جب، جب مسلمانوں نے کانگریس  کی حکومت بنوانے میں پوری محنت کی جیساکہ اس مرتبہ بھی ہندوستان کے سب سے بڑے صوبہ اترپردیش میںمسلمانوں کی ہی بدولت آج کانگریس اتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی، بہرحال فیصلہ تین رکنی بنچ کاتھا اورانہیں میںسے دوججوں نے کھل کر اپنی اپنی بات کہی یافیصلہ میں لکھیں اگرڈی وی شرما نے کھل کر وشوہندوپریشد اورآر ایس ایس کی بولی بولی تووہیںجسٹس ایس یو خاںنے شرافت اورقانون کے دائرے اوراسلامی نقطہ کے مدنظر وہ ساری باتیں بھی کہہ ڈالیں جوایک منصف کوکہنا چاہئے۔ مسٹرخان نے صلح حدیبیہ کاذکر کرتے ہوئے مسلمانوںسے بہت ہی مختصر لفظوںمیں نصیحت کرتے ہوئے علامہ اقبال کے شعرکو کوڈ کیا۔ انہوںنے باور کرایا کہ یہ فیصلہ آخری نہیں اورتمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ چلو بظاہر صلح حدیبیہ کی صلح بہت دب کر ہوئی تھی لیکن اس کے اثرات ایسے ہوئے کہ یہ بغیر لڑے ہی مکہ فتح ہوگیا۔
جسٹس خان اورجسٹس اگروال  نے ایک بات توبہت صاف لکھ دی جوبرحق ہے کہ ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ مندر توڑ کر مسجد بنائی گئی۔دنیا کی ہر عدالت گواہوں اورثبوتوں کے بناپرہی فیصلہ کرتی ہے اوراس کیس میں اس بات کاکوئی ثبوت نہیں ملاکہ بابریااس کے وزیر میرباقی نے کسی مندر کوتوڑ کر مسجد تعمیر کرائی ہو جبکہ اس بات کی پوری دنیا گواہ ہے کہ 6دسمبر1992 کو کورٹ کے اسٹے کے باوجود مسجدشہید کرکے 48گھنٹے تک مندر بنایاگیا۔ اس کے برعکس ثبوتوں اورگواہوں کو درکنار کرکے مندر کے حق میں فیصلہ سنایا گیا جو نہایت ہی شرمناک اورقانون کاگلاگھوٹنے والاہے جوکھلے طورپر آئین کی خلاف ورزی توہے ہی ساتھ ہی ایک فرقہ کے ساتھ کھلا سوتیلا سلوک بھی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *