اجودھیا معاملہ:سپریم کورٹ میں اگلی سماعت15مئی کو،وکلاء کی بحث پرمولاناارشدمدنی کا اظہاراطمینان

Share Article
babri-masjid
اجودھیا معاملے کی سماعت 27اپریل کو 2 بجے چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ میں سماعت ہوئی۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئروکیل راجو رام چندرن نے بحث کی۔ اب اجودھیا معاملے پر سپریم کورٹ میں اگلی سماعت15مئی کو ہوگی۔ مسلم فریقوں کی طرف سے اس کیس کی سماعت پانچ ججوں کی بینچ کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کرنے والے سینئر وکیل راجیو دھون طبیعت ٹھیک نہیں ہونے کی وجہ سے آج موجود نہیں تھے۔ عدالت نے انہیں15مئی کو اپنی دلیلیں رکھنے کا پورا موقع دے گا۔سماعت کے دوران سنی وقف بورڈ کے وکیل راجو رام چندرن نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس پر زور دیا کہ اس معاملہ کو بڑی آئینی بینچ کے سپرد کیا جائے۔
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے وکلاء کی بحث پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا ہے بلکہ اس موقف کی تائید بھی کی ہے کہ اس معاملہ کو ایک کثیر رکنی بینچ کے حوالہ کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم قانون اور عدلیہ پر مکمل اعتمادرکھتے ہیں۔مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ بلاشبہ اس مقدمہ سے مسلمانوں اور ملک کے تمام انصاف پسند لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں ، اس لئے فریق مخالف کے وکیل کا یہ کہنا سراسر غلط بات کہ اب یہ معاملہ زیادہ اہمیت کاحامل نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ معاملہ کی اہمیت آج بھی اتنی ہی ہے جتناکہ روز اول تھی ، اس لئے کہ یہ تنہا ایک مسجد کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے سیکولر اور جمہوری کردارسے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
بہرکیف رام چندرن نے عدالت سے اپیل کی یہ قومی اہمیت کے حامل اس معاملہ کی بڑے پیمانے پر منظوری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ کیس انوکھا کیس ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ سے کوئی خوش نہیں ہے اور سبھی فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں۔ پہلی اپیل کا یہ پہلاکیس تھا جس کیس پر سماعت کے لئے ہائی کورٹ کی فل بینچ تشکیل کی گئی تھی۔ اس لئے اس معاملے کو پانچ ججوں کی بینچ کے پاس سماعت کے لئے بھیجا جانا چاہئے۔راجو رام چندرن نے کچھ فیصلوں کو مثال کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ یہ کیس اتنا ہی اہم ہے کہ چھوٹی بینچ اسے ہینڈل نہیں کرسکتاہے۔ یہ کیس قوم کے لئے کافی اہم ہے۔ادھر ہندو مہا سبھا کے وکیل وشنو شنکر نے کیس کو آئینی بینچ کو بھیجے جانے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ آئین کا نہیں ہے ، صرف ایک جائیداد تنازع ہے ، اس لئے اسے بڑی بینچ کو بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کے بعد معاملہ کی اگلی سماعت کیلئے 15 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔دریں اثنا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے ، جو ملک کے سماجی تانے بانے پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے، اس لئے اس معاملہ کو بڑی بینچ کو سونپا جائے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *