سنت سماج کی نظروں میں بابا رام دیو

Share Article

راجکمار شرما
بابا  رام دیو سے ناراض سنت سماج کے سربراہ اور اٹل جی کی حکومت میں وزیر مملکت برائے داخلہ رہے سوامی چنمیا نند سرسوتی(صدر، پرامارتھ نکیتن ہردوار) نے بابا کو غریب مخالف بتا کر ان کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ چنمیانند جی کہتے ہیں کہ بابا رام دیو نے غریبوں کی بہبود کے نام پر کروڑوں روپے 8 سال میں اکٹھے کیے، لیکن غریبوں کی بہبود کا کوئی کام نہیں کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ بابا چیریٹی کے نام پر اپنی تقریباً سبھی مصنوعات پر ٹیکس نہ دے کر کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بابا رام دیو عوامی بہبود کے نام پر بغیر مفاد کے مصنوعات بناتے ہیں تو ان کی مصنوع اتنی مہنگی کیوں ہے؟ اتنی کم مدت میں اتنا فائدہ کما کر انہوں نے ہری دوارسے اسکاٹ لینڈ تک سامراج کیسے کھڑا کیا؟ اس کی سی بی آئی کے ذریعہ جانچ ہونی چاہیے۔ سابق وزیر مملکت برائے داخلہ چنمیا نند نے کہا ہے کہ بابا رام دیو یوگ کو بیچتے ہیں۔ انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ اگر اسٹیج شو کے پروگرام کرنے پر اس ملک کے فلم اداکاروں کو کروڑوں روپے ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں تو بابا کے یوگ شو کو حکومت نے ٹیکس کے دائرے سے باہر کیسے رکھا ہے؟ انہیں بھی ٹیکس کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔ ان کا براہ راست الزام ہے کہ بابا نے عوامی بہبود کے نام پر ملک کے عوام سے فریب کر کے کروڑوں روپے کی کمائی کی ہے۔ انہوں نے صاف کیا کہ آیورویدک دوا تو ڈابر، چرک جھنڈو فارما سمیت بہت سی کمپنیاں بناتی ہیں، جو ہر طرح کا ٹیکس ادا کرتی ہیں۔ اس کے باوجود ان کی مصنوعات دویا یوگ پیٹھ فارمیسی کی دواؤں سے کم دام پر فروخت ہوتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی سبھی مصنوعات پر ٹیکس لگایا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ رام دیو سچے محب وطن ہیں تو انہیں وہ سبھی ٹیکس ایمانداری سے جمع کردینے چاہئیں جن کی انہوں نے اب تک چوری کی ہے۔انہوں نے رام دیو سے سوال کیا کہ وہ واضح کریں کہ دوائی کی آمدنی اوریوگ کی آمدنی کی کتنی فیصد رقم غریبوں کی فلاح پر اب تک خر چ کی؟ان کا اشارہ تھا کہ بابا پچاس کروڑ روپے کی موٹی رقم غریبوں کی فلاح کے لیے گرانٹ کے طور پر حکومت ہند سے منظور کرا چکے ہیں۔جس میں سے تیس کروڑ روپے حاصل کر چکے ہیں۔بیس کروڑ روپے نکالنے کی فراق میں ہیں۔جسے آگے سرکار کو جاری کر نے سے روک دینا چاہئے۔سوامی نے بابا کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ بابا کے پاس بلیک منی ان کے دماغ کو خراب کر رہی ہے۔جس کے سبب ہی وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔انہوں نے اشارے اشارے میں کہا کہ’’ بدھی شدھی یگیہ‘‘بابا کو اپنے لیے بھی کروالینا چاہئے۔یوگ گرو رام دیو کے خلاف اب تک ایک درجن سے زیادہ سنت،مہاتما،مذہبی نگری ہری دوار میں ناراض ہو کر انہیں لا مذہبی کہہ کر اور ان کی شدید مخالفت کر کے انہیں آئینہ دکھانے کا کام کررہے ہیں۔اس میں ہٹ یوگ کے لیے مشہور ہٹ یوگی جی نے کہا ہے کہ رام دیو نے سنتوں کے لباس کا فائدہ اٹھا کر ،باباؤں سے جھوٹ بول کر بھگوا لباس کو داغدار کیا ہے۔ان کا الزام ہے کہ وہ سادھو نہیں ایک تاجر ہیں۔سادھو بابا تو وہ ہیں جو زندگی کا سکھ تیاگ کر مذہب کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ہٹ یوگی جی کہتے ہیں کہ رام دیو میں سچائی ہے تو اپنے گرو کو تلاش کرکے کیوں نہیں سماج کے سامنے پیش کرتے؟ان کا الزام ہے کہ اپنے گرو کو ٹھکانے لگانے میں ان کا کردار رہا ہے۔پورا سماج اس سچ کو جان چکا ہے کہ جو اپنے گرو کانہیں ہوا وہ ملک اور سماج کا کیا ہوگا؟ان کا الزام ہے کہ بلیک منی سے بنی رام دیو کی حکومت ریت کی دیوار کی طرح ہے جو ان کے بڑبولے پن کے چلتے ہی برباد ہو جائے گی۔راجیو دیکشت کی موت کو شک کے دائرے میں لاتے ہوئے کہا کہ رام دیو تو یوگ سے بلاکیج ہٹانے کی لمبی چوڑی تقریر کرتے ہیں تو دیکشت کی موت ہارٹ اٹیک سے کیسے ہوئی؟
ہری دوار کے مشہور سنت رشیشورآنندجی کو رام دیو بابا کے کالے دھن پر نشانہ سادھنے پر بھی دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ بابا رام دیو ایک سیاسی پارٹی کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اس لیے راجیو،اندرا کی شہادت کو بھول کر ان پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔وشو ہندو پریشد کے لوگوں نے رام مندر کے نام پر عوام سے اربوں روپے وصول کیے اور اس میں ہوئے گول مال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بابا کو رام کے نام پر دھوکہ دینے والے لو گ اس لیے نہیں نظر آرہے ہیں کیونکہ وہ انہیں کی جماعت کے ہیں۔رام دیو کو نشانے پر لیتے ہوئے انہوں نے صاف کہا کہ ان کا عمل کہیں سے بھی سنت کا عمل نظر نہیں آتا،اس لیے انہیں اپنے نام کے پہلے بابا لفظ کو ہٹا دینا چاہئے۔ان کا الزام ہے کہ وہ ایک سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہی کالے دھن کے بہانے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جس طرح راون نے ماتا سیتا کا اغوا کرنے کے لیے بھگوا لباس زیب تن کیا تھا اسی طرح رام دیو نے عوام کو اغوا کرنے کے لیے بھگوا لباس کا غلط استعمال کیا ہے،جسے ملک کے عوام ہی بے نقاب کریں گے۔
اس پوری’’ تو تو، میں میں‘‘ میں بی جے پی کے قومی صدر نتن گڈکری کا رام دیو کی حمایت میں کھل کر آنا ،ہری دوار کے سنتوں کا یوگ گرو رام دیو کی مخالفت کرنا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ سیاست میں آنے کو بے چین بابا کا بڑبولا پن ان کے ہی گلے کی ہڈی بنتا جا رہاہے۔بابا اپنے ٹرسٹ کے ٹرسٹیوں اور حامیوں سے چاہے جتنی پیٹھ تھپتھالیں ،ہری دوار کا سنت سماج شدید مخالفت کے ساتھ ان سے کنارا کر رہا ہے۔اندرا نہرو خاندان پر ہاتھ ڈالنے والے با با کو جس طرح کی فضیحت جھیلنی پڑ رہی ہے،اس سے ایک بات تو صاف ہو جاتی ہے کہ ان کی قربانی کے آگے بابا کی باباگیری ٹکنے والی نہیں ہے۔
کنکھل کے دویہ یوگ مندر ٹرسٹ سے شروع ہوئے سوامی رام دیو کی سلطنت آج اسکاٹ لینڈ تک پھیلی ہوئی ہے۔سال 2003میں سوامی رام دیو اور آچاریہ بال کرشن اسی ٹرسٹ کے تین کمروں میں مریضوں کا علاج کرتے تھے۔محض آٹھ سال میں کئی کروڑ کی بیرون ملک تک میں سلطنت کھڑی کرنا دیو بھومی کے لوگوں کو کھلنے لگا ہے۔بابا رام دیو جو بلیک منی پر انگلی اٹھا رہے تھے،وہ شاید یہ بات بھول گئے کہ ان کی ہی چار انگلیاں انہیں پر اسی لمحے اٹھ رہی ہیں۔فی الحال نتن گڈکری کے بعد اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ رمیش پوکھریال نشنک نے بھی بابا کی تعریف کرکے اپنی پالیسی واضح کردی ہے۔رشی کیش سے ٹہری تک بابا کو مخالفت جھیلنی پڑ رہی ہے۔ٹہری کے ممبر پارلیمنٹ وجے بہوگنا نے بابا کی جائیداد کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے۔دھرم نگری میں یوگ گرو کا پتلہ نذر آتش کرکے لوگوں نے اپنی بھڑاس نکالی ۔اسی کی جوابی کارروائی کے تحت رشی کیش کے دون چوراہے پر ہندو جاگرن منچ کے کارکنان نے کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ کا پتلہ نذر آتش کیا۔ رشی کیش کے وید استھانم کے مہنت ونے سارسوت نے بابا رام دیو کو مشورہ دیا ہے کہ بابا کو بی جے پی کی ممبر شپ لے لینی چاہئے۔ ان کا دوغلہ روپ عوام کو ورغلانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ ان کے اس عمل سے بھگوا لباس داغدار ہو رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *