بات سے بات چلے

انجم عثمانی
گزشتہ دنوں جنوبی ہند کا طویل سفر درپیش رہا۔ اس سفر کی وجہ سے شمالی ہندخاص طور پر دہلی میں منعقد ہونے والے کئی اہم سمیناروں، مذاکروں اور دوستوں کی ادبی محفلوں میں شرکت سے محرومی رہی لیکن اس سفر میں یہ ضرور ہوا کہ سفر میں جو چند کتابیں ساتھ تھیں ان میں افسانوںکاایک ایسا مجموعہ بھی تھا جس کے بارے میں پہلے ہی کچھ بات کرنا چاہتاتھا۔ اس سفر میںکچھ افسانے پھر پڑھنے کی توفیق ہوئی تو کئی ایسے پہلو نمایاں ہوئے جن پر گفتگو اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان سے مجموعی طورپر اردو کہانی کے واضح رجحان اور نئے افسانے کی کچھ مزید پر تیں کھلتی ہیں… اس مجموعے کانام ہے ’’نالینڈرا‘‘ اور افسانہ نگار ہیں ڈاکٹراسلم جمشیدپوری۔
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، کے صدر ڈاکٹراسلم جمشیدپوری موجودہ ادبی منظرنامے کی ایک ایسی شخصیت ہیںجنہوں نے بہت کم وقت میں ادبی دنیا میں اپنا اعتبار قائم کرلیا ہے۔ فی الحال ان کے تازہ افسانوی مجموعے کے کچھ نمایاں پہلوئوں کے حوالے سے کچھ گفتگو۔ہر دور کی تخلیقات کے اجتماعی رنگ ورجحان اور مجموعی صورت حال میں کسی بھی تخلیق کار کی انفرادیت مستحکم ہونے کی کچھ خاص وجہیں ہوتی ہیں جن کی مداوات سے تخلیق کار کا اسلوب، نظریہ اور ذہنی انسلاکات اس کی تخلیقیت میںجگہ پاتے ہیں۔ ہر لکھنے والے کااپنا مزاج، طریقہ کار، زندگی، سماج اور اپنے تئیںکوئی خاص رویہ ہوتا ہے۔ پھر کہانی کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، لیکن ان سب کے باوجود کسی خاص طریقہ تحریر میں مصنف زیادہ کھلتا اور زیادہ موثر انداز سے اپنی بات پہنچاپاتا ہے۔
’’گذشتہ چار دہائیوں کی معتدل افسانوی تاریخ میں اپنے حصے کے برسوں میں ڈاکٹراسلم جمشیدپوری نے تقریباً ہر طرح کے افسانے تحریر کیے۔ طویل، مختصر، بہت مختصرافسانے مختلف رنگوں میں، واقعاتی بھی، کردار کے حوالے سے بیان کیے گئے قصے بھی اور چند ایسے شاہکار بھی جنہیںکسی زاویے سے پر کھ لیں ان کا تاثر کم نہیںہوتا۔
ڈاکٹراسلم جمشیدپوری کے افسانوں میں تنوع ہے مگر ان کی افسانہ نگاری کے جوہر ان افسانوں میں زیادہ بہتر، موثر اور گہرے انداز میں سامنے آئے ہیں جن افسانوں کی بنت بنیادی طورپر کسی زمینی قصے یا کسی کردار کے توسط سے تخلیق پائی ہے۔ اس کی وجہ ان کے مشاہدے کی گہرائی اور وسعت ہے جو مطالعے سے زیادہ تجربے اور فکر سے زیادہ جذبے کی شدت سے وجود میں آتی ہے۔ وہ عام طورپر قصے، واقعات کی تفصیل اور کردار کی تشکیل سے افسانے کو سجاتے اور راست بیانیہ کے ذریعے قاری تک پہنچتے ہیں۔ ان کےا فسانوں کے بیشتر واقعات حقیقت سے قریب ہی نہیں بلکہ حقیقی واقعات ہیں اس لیے ان میں تخیل کی کارفرمائی اسی حدتک ہے جس حد تک واقعات کی حقیقت اجازت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعے کی فضا سا افسانے کو بوجھل نہیںہونے دیتی بلکہ واقعے کی تاثر میں اضافہ کرتی ہے:
’’رات تاریک تھی۔ چاروں طرف ایک ہوکاعالم تھا، آسمان کالے کالے بادلوں سے بھراتھا، لیکن بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج ماحول کو پرہول بنارہی تھی۔ ملکھان سنگھ کی بیٹھک پر گہماگہمی تھی۔ گائوں کے نوجوان اور بوڑھے جمع تھے۔ شبرائی نے سرپر منڈاسا (پگڑی) اور دھوتی کو لنگوٹ کی صورت پہن رکھا تھا۔ اس کے پورے جسم پر سیاہی ملی ہوئی تھی، چہرہ بھی کالک سے پوت دیاگیا تھا۔ دس ہٹے کٹے نوجوان بھی کچھ اسی قسم کا حلیہ بنائے ہوئے تھے۔ ان سب کے ہاتھوں میںلاٹھی اور بلم تھے، تیاری مکمل تھی بس مکھیا کی اجازت دینے کی دیر تھی۔ تھوڑی دیر بعد مکھیا کی آواز گونجی۔ ہے بھگوان ہم تیرونام لے کے اپنے گائوں میں گھسے دکھ کو نکال رہے ہیں۔‘‘ (افسانہ ’’شبراتی‘‘)
اس افسانے کی واقعاتی درد ناکی اور موضوع کی اہمیت اپنی جگہ مگراس افسانے کے مرکزی کردار شبراتی کو جس طرح افسانہ نگار نے تشکیل دیا ہے وہ ان کے مشاہدے کی گہرائی کا ادبی ثبوت ہے۔کردار کے حوالے سے بیان کیے گئے واقعات میں خاکہ نگاری کے عنصر کی وجہ سے یہ اندیشہ بنارہتا ہے کہ کہانی صرف خاکہ نگاری ہوکر نہ رہ جائے۔ اسی طرح کسی واقعے کو مرکزی جگہ دینے میں یہ خدشہ رہتا ہے کہ واقعہ صرف واقعے کی حدتک نہ رہاجائے اور کہانی نہ بن پائے۔ گویا یہ دونوں طریقے بظاہر بڑے سادے اور آسان نظر آتے ہیں لیکن یہ ایک مشکل کام ہے اورافسانہ نگار سے خاص طرح کی ژرف نگاہی اور صلابت ذہنی کے طلب گار ہیں۔ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری اپنی بیشتر کہانیوں میں ان مشکل مراحل سے بہت کامیاب گزرے ہیں:
’’جسے ہی انہوںنے باورچی خانے میں قدم رکھا ہوا کے ایک تیز جھونکے نے لالٹین بجھادی۔ ڈرکی ایک لہر ان کے جسم میں سرایت کرگئی، ان پر کپکپی طاری ہوگئی، اگلے ہی لمحے انہیں احساس ہوا کہ باورچی خانے کی کھڑکی کھلی ہے۔ انہوںے ٹٹول کر لالٹین میں پھنسی ماچس نکالی، جیسے ہی جلانا چاہا نہ جانے کیسے تیلی ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گرگئی، خوف نے جسم پر لرزہ طایر کردیا…‘‘ (افسانہ ’’وہم کے سائے‘‘)
واقعے کی پراسراریت کردار کی نفسیات اور بیان کی ندرت نے اس طرح کے افسانوں میں تاثرکی ایک ایسی لہر پیدا کردی ہے جو نہ صرف قاری کو متاثر کرتی ہے بلکہ افسانے کی حقیقت اور حقیقی افسانے کے درمیان ادبی تطبیق کی صورت بھی پیدا کرتی ہے۔
موضوعات کےا عتبار سے بھی ان کے افسانوں میں تنوع ہے اور کئی افسانے منفرد بھی ہیں۔ ان منفرد موضوعات والے افسانوں میں ’’لینڈرا‘‘ ’’موت کا کنواں‘‘ ’’یہ دلی ہے میری جان‘‘ وغیرہ شمارکئے جانے چاہیں۔
’’لینڈرا‘‘ ان کےا فسانوں کے مجموعے کانام بھی ہے۔ اس عنوان کو کہانی ’’تنافرصوتی‘‘ سے قطع نظر موضوع کے اعتبار سے بالکل اچھوتی کہانی ہے، بلکہ یہ شاہد اس موضوع پر پہلی اور اکیلی کہانی ہے (تادم تحریر میری نظر سے اس موضوع پر کوئی دوسرا افسانہ نہیں گزرا) ’’لینڈرا‘‘ مغربی یوپی کے کچھ علاقوں میں ایسے بچے کو کہتے ہیں جسے کوئی بیوہ یا مطلقہ اپنی دوسری شادی کے وقت ساتھ لائی ہو۔ یہ بڑی عجیب و غریب کہانی ہے۔اس افسانے میں مصنف نے اپنے قلم کے سارے جوہر کھول دیئے ہیں۔ اس کردار کو تشکیل دینے میں مشاہدے، جذبے، نفسیات اور ماحول سازی کے ایسے کمال دکھائے ہیں کہ یہ افسانہ اردو کے شاہکار افسانوں میں جگہ پاسکتا ہے۔
ڈاکٹراسلم جمشیدپوری نے اکثرکردار چھوٹے شہروں، قصبوں اور گائوں سے اٹھائے ہیں اوران کرداروں کو اسی ماحول میں پوری طرح زندگی کرنے کا موقع دیا ہے۔ کرداروں اور ماحول کی مقاسیت نےانہیں سماجی زندگی سے اور بھی قریب کردیا ہے اور مشاہدے کی آنچ نے ان میں وہ صداقت پیدا کردی ہے کہ قاری ان کرداروں کو جینے لگتا ہے۔
افسانے کی بنت، موضوع، گہرائی وگیرائی کے اعتبار سے ایسے کئی افسانےہیں جنہیں ڈاکٹراسلم جمشیدپوری نے اپنی خلاقانہ تکنیک سےاردو کے بہترین افسانے بنادیےہیں خاص طورپر وہ افسانے جنہیں کردار کے توسط سے بیان کیاگیا ہے۔ مروجہ تنقیدی زبان میں کہاجائے تو یہ کہ موجودہ دور میں افسانے میں کردار کی واپسی کے عمل میں ان کے افسانوں نے اہم کردار اداکیا ہے۔ ادب کی تاریخ میں تخلیقی فن کے قدم اسی طرح سنگ میل قائم کرتے ہیں اور سچی تخلیق ایک سعادت ہے ۔ اس مرتبہ بس اتنا ہی اگلی ملاقات میں پھر کسی بات سے بات چلے گی کہ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *