آزاد اور میر کو سرینگر ہوائی اڈے پر روکا گیا، کارگل میں لاٹھی چارج

Share Article

 

۔عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے سرکاری سہولیات اور عملے ہٹانے کا فیصلہ
۔کارگل میں بند کا اعلان کے درمیان شدید مظاہرے کو پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے روکا
۔ وادی کشمیر میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے درمیان آہستہ آہستہ حالات معمول پر، دکانیں کھلیں
۔ وادی کا امن تحلیل کرنے کا خدشہ میں تقریباً 400 افراد کو حراست میں لیا گیا
۔جموں ڈویژن میں موبائل انٹرنیٹ بند، تعلیمی ادارے بند، امتحانات منسوخ
۔لیہہ-لداخ میں معمولات زندگی عام دنوں کی طرح عام، اسکول، کالج کھلے

 

مرکزی حکومت کے ذریعہ جموں و کشمیر میں دفعہ۔ 370 کو ختم کرنے اور جموں و کشمیر اور لداخ کو دو مرکز کے زیر انتظام صوبہ بنا دیے جانے کی وجہ سے جمعرات کو بھی جموں و کشمیر اور کارگل میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کی وجہ سے اسکول کالج بند ہیں۔ آج کچھ تنظیموں نے کارگل بند کا اعلان کیا تھا جس کے درمیان کچھ شرارتی عناصر نے مشتعلمظاہرے کئے جسے روکنے کے لئے پولیس نے طاقت کا استعمال بھی کیا۔ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹنے کے بعد پہلی بار پہنچے کانگریس ممبر پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد اور جموں و کشمیر کے کانگریس کے سربراہ غلام احمد میر کو سرینگر ہوائی اڈے پر روک دیا گیا۔

کشمیر اور جموں میں چپے چپے پر سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈوڈہ، کشتواڑ، بانہال اور رام بن میں 10 بجے سے شام 4 بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی ہے۔ نظم ونسق کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے حفاظتی دستوں کی 40 کمپنیاں جموں کے جموں، ڈوڈہ، اودھم پور، رام بن، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ اضلاع میں اب بھی تعینات ہیں۔ حالات کو معمول رکھنے کے پیش نظر اور ہر طرح کے حالات پر نظر رکھنے کے لئے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال بھی ابھی وادی کشمیر میں ہی ہیں۔ وادی کشمیر میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے درمیان آہستہ آہستہ حالات معمول پر آر ہے ہیں۔ جمعرات کی صبح سرینگر کے بازاروں میں لوگ ضروری سامان خریدتے دکھائی دیے۔ سری نگر میں پھل کی دکانیں، ڈیری، پٹرول پمپ اور میڈیکل دکانیں کھلی ہوئی ہیں اور عام لوگ آسانی سے آ جا رہے ہیں۔

مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر میں دفعہ۔ 370 کو ختم کرنے سے کشمیر وادی کے سب سے زیادہ لوگوں کو اس بات کی خوشی بھی ہے کہ اب وہ راحت کی سانس لیں گے۔ وادی کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں وادی کشمیر میں امن اور سلامتی چاہئے۔ 12 اگست کو عید کے سبب انتظامیہ وادی میں نرمی کا اعلان کر سکتا ہے اور ساتھ ہی لینڈ لائن سروس کو بھی بحال کیا جا سکتا ہے تاکہ لوگ عید پر اپنے رشتہ داروں سے بات کر سکیں۔ وادی کشمیر میں 20 اگست تک پابندیاں جاری رہ سکتی ہیں۔

پیر دیر شام ہی نیشنل کانگریس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون اور عمران انصاری پولیس حراست میں ہی ہیں۔ نیشنل کانگریس صدر و سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ سمیت ایک درجن مرکزی دھارے کے رہنماؤں اور علیحدگی پسندوں میں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ مولوی عمر فاروق سمیت اہم علیحدگی پسند لیڈر بھاری پولیس فورس تعینات ہونے سے اپنے اپنے گھروں میں ہی نظربند ہیں۔ اس سب کے درمیان انتظامیہ نے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے سرکاری سہولیات اور عملے ہٹانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اسی درمیان تقریباً 400 لوگوں کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لئے گئے افراد میں سیاسی رہنما، کارکن اور کئی دیگر شامل ہیں۔

حراست میں لئے گئے لوگ وادی کشمیر کے امن کو تحلیل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

دوسری طرف جموں میں بھی دفعہ 144 نافذ ہے اورسیکورٹی فورسز کو گزشتہ تین دنوں کی طرح ہی بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز جموں کے زیادہ تر اضلاع میں بیشتر بازار کھلے ہوئے ہیں۔ لوگ بغیر کسی خوف کے خریداری کرتے نظر آئے اور سڑکوں پر محدود تعداد میں ذاتی اور عوامی گاڑیاں دوڑتی نظر آئیں۔ سیکورٹی فورسز نے جموں کی سڑکوں سے خاردار تاروں کو بھی ہٹا لیا ہے۔ فی الحال جموں کے راجوری، پونچھ، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں موبائل کے ساتھ موبائل انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

سری نگر میں بھی نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لئے موبائل، انٹرنیٹ اور براڈبینڈ سروس فی الحال بند رکھی گئی ہے۔ ریاست میں جمعرات کو بھی تمام تعلیمی اداروں کو اگلے حکم تک بند رکھا گیا ہے۔ جمعرات کو ہونے والی تمام امتحانات کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف لیہہ-لداخ میں معمولات زندگی عام دنوں کی طرح معمول پر ہے جبکہ کارگل میں جمعرات کو بند کے اعلان کے سبب دفعہ 144 نافذ ہے۔ کارگل میں کچھ لوگوں نے لداخ کو مرکز کے زیر انتظام ریاست بنائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے مظاہرہ کیا۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا ۔ لیہہ-لداخ میں جمعرات کو بھی اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے عام دنوں کی طرح کھلے رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *